بہار: کیا گل کھلائے گا شہاب الدین فیکٹر؟

ارشاد الحق
p-9شہاب الدین تین ہفتہ کے لئے باہر آئے،پھر جیل کی انہی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے جہاں وہ کم و بیش 11 برسوں سے تھے۔ان تین ہفتوںتک وہ میڈیا ، عدالت اور سماج کے ہر طبقے کی چرچا کا موضوع بنے رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سماج کا ایک طبقہ ان کی زبردست مخالفت کرتا ہے۔یہ طبقہ ان کے جرائم ،دبنگ والی شبیہ اور قتل کے سزا یافتہ مجرم ہونے کی بنیاد پر ان کی مخالفت کرتا ہے۔لیکن شہاب الدین کی پہچان صرف یہی مان لینا ان کی حیثیت کو کم کرنے کی بھول کرنے جیسا ہے کیونکہ اسی سماج کا ایک بڑا طبقہ ان کی حمایت کرتاہے۔ یہ طبقہ شہاب الدین کے لئے ہزاروں کی تعداد میں سڑکوںپر اتر سکتا ہے۔ تمام دلائل دے کر یہ ثابت کر سکتا ہے کہ شہاب الدین اس طبقے کے ہیرو ہیں۔
30ستمبر کو سپریم کورٹ نے جب ان کی ضمانت رد کر دی اور انہوں نے بغیر تاخیر کئے خود کو عدالت کے حوالے کر دیا تو اس کے بعد ان کے حامیوں میں ان کے تئیں ہمدردی اپنی انتہا پر پہنچ گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یکم اکتوبر سے ان کے حامی سڑکوں پر آنے لگے۔ پہلے گوپال گنج پھر گیا اور پھر سیوان اور اتنا ہی نہیں دہلی کے جنتر منتر تک ان کے حامی سڑکوں پر کود پڑے۔ گیا میں کئی ضلع پریشدوں کی قیادت میں لوگ سڑک پر آگئے تو گوپال گنج میں کینڈل مارچ میں لوگوں نے اتر کر ان کے تئیں حمایت اور ہمدردی ظاہر کی لیکن 3اکتوبر کو منعقد سیوان کے مظاہرہ نے تو مثال قائم کر دی ۔
حالت یہ ہوگئی کہ 8گھنٹے تک سیوان شہر ان کے حامیوں سے جام ہو گیا۔ 15-20 ہزار لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ اس مظاہرے کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں نتیش کمار کو جم کر نشانہ تو بنایا ہی گیا لیکن ساتھ ہی اس دوران لالو پرساد کے خلاف بھی آوازیں اٹھیں۔ اس دوران شہاب الدین کو دوبارہ جیل بھیجنے کے پیچھے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بنیادی سازش کرنے والا اعلان کیا گیا تو لالو پرساد پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے شہاب الدین کے تئیں مایوس کن رویہ اپنایا اور اسی وجہ سے انہیں دوبارہ جیل جاناپڑا۔
سرکاری طور سے اس مظاہرے میں راشٹریہ جنتا دل تو شامل نہیں تھا لیکن سیوان اور گوپال گنج کے زیادہ تر راشٹریہ جنتا دل لیڈر اور سرگرم کارکن اس احتجاج کا حصہ بنے۔ ان میں کچھ موجودہ اور سابق ایم ایل اے، موجودہ و سابق ضلع کونسل اور راشٹریہ جنتا دل کے مقامی عہدیدار تک شامل تھے۔ اس احتجاج کی قیادت سیوان ضلع راشٹریہ جنتا دل کے صدر پرماتما رام نے خود کی۔
2015 میں اسمبلی انتخاب جیت کر اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب راشٹریہ جنتا دل کو اپنی تنظیم کے اندر ہی اتنی منفی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ راشٹریہ جنتا دل صدر لالو پرساد بھی اس معاملے میں عوامی طور پر ایک لفظ نہیں بول رہے ہیں۔راشٹریہ جنتا دل کے ایک اہم سیاستداں نے مانا کہ شہاب الدین معاملہ پارٹی کے لئے سنگین تشویش کا سبب ہے۔ انہوں نے یہ بھی قبول کیا کہ شہاب الدین کا اثر سیوان اور گوپال گنج میںبہت ہے ، اسی لئے لالو جی خاموش ہیں۔بولیں بھی تو کیا؟ اگر کسی پارٹی کے اندر ناراضگی اور مخالفت کے سُر اتنے مضبوطی سے اٹھیں تو فطری طور سے اعلیٰ کمان اس پر کارروائی تک کر دیتا ہے، لیکن شہاب الدین معاملے میں اعلیٰ کمان بالکل خاموش ہے۔ خاص طور پر تب جب بات سرکار اتحادی کی ہو اور احتجاج میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو شہاب الدین کو جیل بھیجنے میں براہ راست سازش کرنے والا اعلان کیا تو جارہا ہو ،ساتھ ہی دبی زبان میں لالو پرساد پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہوں۔ اس پورے معاملے میں تجزیہ کار یہ مان رہے ہیں کہ لالو پرساد کو اندازہ ہے کہ شہاب الدین حامیوں میں اس غصے کا ابال ان کے حامیوں کے علاوہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے تک پہنچ چکا ہے۔مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں یہ شکوک شبہات ہیں کہ ہائی کورٹ سے ضمانت مل جانے کے بعد جب پرشانت بھوشن، چندا بابو (جن کے بیٹے کے قتل کا الزام شہاب الدین پر ہے) کے لئے بطور وکیل ضمانت خارج کرانے سپریم کورٹ پہنچ گئے تو لگے ہاتھوں بہار سرکار بھی ان کی ضمانت رد کرانے کے لئے سپریم کورٹ کیوں پہنچ گئی؟
شہاب الدین حامیوں کے غصے کا سبب یہی ہے کہ ایسے میں لالو پرساد نے اس معاملے میں نتیش کمار سے مخالفت کیوں نہیں درج کرایا؟ اس طبقے کی ناراضگی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ شہاب الدین کا بچائو کرنے کے لئے راشٹریہ جنتا دل ممبر پارلیمنٹ اور سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے اپنا ہاتھ کیوں پیچھے کھینچ لیا؟ دھیان رہے کہ میڈیا میں پہلے یہ خبر آئی تھی کہ رام جیٹھ ملانی سپریم کورٹ میں شہاب الدین کا بچائو کریں گے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ 30 ستمبر کے بعد سوشل میڈیا پر شہاب الدین حامیوں کی اتحادی سرکار کے خلاف ناراضگی انتہا پر ہے۔ جمیل الدین جدان خاں نے اس معاملے میں لمبا پوسٹ ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ سیکولرازم کے نام پر راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل( یو) مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کررہے ہیں اور یہ بھی لکھا کہ شہاب الدین کو اس لئے جیل جانے دیا گیا کیونکہ وہ مسلمان ہیں جبکہ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگائوں میں دہشت گردانہ حملے میں 68 سے زیادہ لوگوں کے قتل کے الزام اور سنگھ پرچارک اسیما نند کو ضمانت مل گئی تو ان کی ضمانت کے خلاف نہ تو نتیش کمار نے ایک لفط کہا اور نہ ہی لالو پرساد نے۔
شہاب الدین حامیوں کی سوشل میڈیا پر اس جارحیت کو ظاہری طور پر راشٹریہ جنتا دل کے سوشل میڈیا سیل کے ماہرین بڑی باریکی سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں اس کی طرف سے بھی کوئی باضابطہ پوسٹ نہیں آیا لیکن اس معاملے کی سنگینی کو راشٹریہ جنتا دل کاسوشل میڈیا سیل بخوبی سمجھ رہا ہے،لیکن اس کے پاس بھی خاموش رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ہاں گزشتہ دنوں راشٹریہ جنتا دل سے ہمدردی رکھنے والے کسی آدمی نے ایک پوسٹ لکھا اور صفائی دی کہ اقلیت سماج کے بھائیوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ لالو پرساد یادو گزشتہ 25برسوں سے عوام کے مقبول لیڈر رہے ہیں اور ان کے خلاف ہمیشہ میڈیا ٹرائل چلتا ہے اور انہیں خود عدالت کے چکر میں مخالفین نے پھنسا رکھا ہے جبکہ وہ بے قصور ہیں۔ ان سب کے باوجود وہ اپنے لئے کچھ بھی کر پانے کی حالت میں نہیں ہیں۔ حالت یہ ہے کہ اب وہ انتخاب تک نہیں لڑ سکتے ۔ ایسے میں اقلیت سماج کے لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ شہاب الدین سے جڑے عدالتی معاملے میں لالو جی کیسے کچھ کرسکتے ہیں؟
جب اس پوسٹ کو فیس بک پر کسی نے شیئر کیا تو اسے راشٹریہ جنتا دل سے ہمدردی رکھنے والے کئی لوگوں نے کاپی کرکے دوبارہ اپنے اپنے ٹائم لائن پر پوسٹ کیا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ یہ عدالتی معاملہ ہے ، اس لئے اس معاملے میں راشٹریہ جنتا دل یا لالو پرساد پر الزام لگانا صحیح نہیں ہے۔ اس پوسٹ میں لکھے گئے لفظ سے یہ احساس تو ہوتا ہی ہے کہ راشٹریہ جنتا دل شہاب الدین معاملے میں صفائی دینے اور خود کو بچانے کی پوزیشن میں ہے۔ادھر راشٹریہ جنتا دل کے اندر شہاب الدین کے اونچے قد سے کوئی اس لئے بھی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ کچھ مہینے پہلے جب راشٹریہ جنتادل کا تنظیمی طور پر انتخاب ہوا اور لالو پرساد صدر منتخب کئے گئے تو اس وقت جیل میں رہنے کے باوجود شہاب الدین کو قومی کونسل کا ممبر خود لالو پرساد نے بنایا تھا۔ دوسری طرف جیل سے باہر آنے اور پھر جیل میں واپس پہنچ جانے کے بعد بہار کے مسلمانوں کے ایک طبقے میں شہاب الدین کے تئیں زبردست ہمدردی امڈی ہے جبکہ اس کے برعکس اس طبقے میں لالو کے تئیں ناراضگی بھی بڑھی ہے اور اس کا احساس لالو پرساد کو یقینی طورپر ہے، لیکن دیکھنے کی بات ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اس کی بھرپائی کیسے کرتے ہیں۔
فی الحال تو یہ طے ہے کہ شہاب الدین معاملے میں راشٹریہ جنتا دل سنگین الجھن میں ہے۔ایک طرف وہ کھل کر شہاب الدین حامیوں سے کچھ کہہ نہیں پا رہا ہے تو دوسری طرف پارٹی کے اندر یہ پریشانی بھی ہورہی ہے کہ جنتا دل (یو) نے شہاب الدین کو سبق سکھانے کی ٹھان لی، لیکن راشٹریہ جنتا دل کچھ نہیں کر سکی۔
یہاں یہ دھیان دینے کی بات ہے کہ جب 10 ستمبر کو شہاب الدین جیل سے باہر آئے تھے اور انہوں نے نتیش کمار کو ’حالات کا لیڈر‘ بتایا تھا تو اس کے دوسرے ہی دن جنتا دل( یو) ترجمان نیرج کمار نے شہاب الدین کو اپنی زبان پر لگام لگانے کی دھمکی دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ریاستی سرکار ایسی سوئی چبھوتی ہے کہ جس کے درد کا احساس فوری طور پر نہیں ہوتا ہے۔نیرج کے اس بیان میں سبق سکھانے کا اثر شہاب الدین کے حامیوں نے محسوس کیا تھا۔
شہاب الدین معاملے میں راشٹریہ جنتادل اور جنتا دل( یو) کے درمیان ٹکرائو کی حالت بن گئی ہے۔ ایسا یقینی طور سے نہیں کہا جاسکتا،لیکن یہ تو طے ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان اس معاملے پر اندر ہی اندر سرد جنگ جیسے حالات ضرور ہیں۔حالانکہ اس کا مطلب قطعی یہ نہیں لیا جانا چاہئے کہ اس سرد جنگ کا کوئی اثر اتحاد کی صحت پر پڑے گا،لیکن ساتھ ہی اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آنے والے وقت میں اتحاد میں شہ و مات کا کھیل نہیں بڑھے گا۔

ہائی لائٹ:
یہاں یہ دھیان دینے کی بات ہے کہ جب 10 ستمبر کو شہاب الدین جیل سے باہر آئے تھے اور انہوں نے نتیش کمار کو ’حالات کا لیڈر‘ بتایا تھا تو اس کے دوسرے ہی دن جنتا دل( یو) ترجمان نیرج کمار نے شہاب الدین کو اپنی زبان پر لگام لگانے کی دھمکی دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ریاستی سرکار ایسی سوئی چبھوتی ہے کہ جس کے درد کا احساس فوری طور پر نہیں ہوتا ہے۔نیرج کے اس بیان میں سبق سکھانے کا اثر شہاب الدین کے حامیوں نے محسوس کیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *