برصغیر میں قیام امن کے لیے ہندو پاک فیڈریشن ضروری

ڈاکٹر رام منوہر لوہیا
p-6کسی بھی طرح ہندوستان اور پاکستان کے جوڑنے کا سلسلہ شروع کرنا ہوگا۔ میںیہ مان کر نہیںچلتا کہ جب ہندوستان- پاکستان کا بٹوارہ ایک بار ہوچکا ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے ہوا ہے۔ کسی بھی بھلے آدمی کو یہ بات ماننی نہیں چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان کی سرکاروںکا آج یہ دھندہ ہوگیا ہے کہ ایک دوسرے کی سرکاروںکو خراب کہیں اور دونوںہی سرکاریں اپنے اپنے ملک میںدوسرے ملک کے تئیں نفرت کی تشہیر کرتی رہیں۔ دونوں سرکاروں کے ہاتھ میںاس وقت بہت خطرناک ہتھیار ہے،لیکن عوام اگر چاہیںتو معاملہ بدل سکتا ہے۔
ہندوستان – پاکستان کا معاملہ ، اگر سرکاروں کی طرف دیکھیںتو سچ مچ بہت بگڑا ہوا ہے، اس میںکوئی شک نہیں۔ لیکن ایسی صورت میں بھی میںہندوستان، پاکستان کی فیڈریشن کی بات کہنا چاہتا ہوں ۔ ایک ملک تو نہیں،لیکن دونوںکم سے کم کچھ معاملوںمیں شروعات کریں،ایک ہونے کی۔ وہ نبھ جائے تو اچھااور نہیں نبھے تو اور کوئی راستہ دیکھاجائے گا۔ سب باتوں میںنہ سہی، لیکن شہریت کے معاملے میں اور اگر ہوسکے تو تھوڑی بہت خارجہ پالیسی کے معاملے میں، تھوڑی بہت پلٹن کے معاملے میں ایک فیڈریشن کی بات چیت شروع ہو۔
یہ خیال سرکاروںکے پیمانے پر آج شاید اہمیت نہیں رکھتا، مطلب ہندوستان کی سرکار اور پاکستان کی سرکار سے کوئی مطلب نہیں، کیونکہ وہ سرکاریںتو گندی ہیں۔ اس لیے ہندوستان اور پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ اب اس ڈھنگ سے وہ سوچنا شروع کریں۔
اگر ہندوستان، پاکستان کی فیڈریشن بنتی ہے تو جب تک مسلمانوں کو یا پاکستانیوںکو تسلی نہیںہوجاتی، تب تک کے لیے آئین میں قلم رکھ دیا جائے کہ اس فیڈریشن کا صدر اور وزیر اعظم ، دو میں سے ایک پاکستانی رہے گا۔ اس پر لو گ کہہ سکتے ہیں کہ تم اندر اندر رگڑ کیوں پیدا کرنا چاہتے ہو؟ جس چیز کو پرانے زمانے میں کانگریس اور مسلم لیگ والے نہیںکرپائے،کبھی کبھی کوشش کرتے تھے ، رگڑ پیدا ہوتی تھی۔ اب تم پھر سے رگڑ پیدا کرنا چاہتے ہو۔ اس کا میں سیدھا سا جواب دوں گا کہ 15 برس ہم نے یہ باہر والی رگڑ کرکے دیکھ لیا، اب پھر اندر کی رگڑ کیسی بھی ہو، اس سے کم سے کم زیادہ اچھی ہی ہوگی۔ یہ باہر والی ہندوستان،پاکستان کی رگڑ ہے، اس کو ہم نبھا نہیں سکتے۔
ہوسکتا ہے کہ لوگ کشمیر والا سوال اٹھائیں کہ اب تک تو تم نے آسان آسان باتیں کرلیں،لیکن جو معاملہ جھگڑے کا ہے،اس پر تو کچھ کہو۔ تو کشمیر کا سوال الگ سے حل کرنے کی جب بات چلتی ہے تو میںکچھ بھی لین دین کو تیار نہیںہوں۔ میرا بس چلے تو میںکشمیر کا معاملہ اس فیڈریشن کے بغیر حل نہیں کروںگا۔ میںصاف کہنا چاہوںگا کہ اگر ہندوستان، پاکستان کی فیڈریشن بنتی ہے تو چاہے کشمیر، ہندوستان کے ساتھ رہے، چاہے کشمیر پاکستان کے ساتھ رہے، چاہے کشمیر ایک الگ اکائی بن کر اس ہندوستان، پاکستان فیڈریشن میںآئے، لیکن فیڈریشن بنے، جس سے کہ ہم سب لوگ پھر ایک ہی خاندان کے اندر بنے رہیں۔ اس فیڈریشن کے طریقے پر بنیادی طور پر ہندوستان، پاکستان کے عوام سوچنا شروع کریں۔
ہندوستان اور پاکستان تو ایک ہی سر زمین کے ابھی ابھی دو ٹکڑے ہوئے ہیں۔ اگر دونوںملکوںکے لوگ تھوڑی بھی فہم و فراست سے کام کرتے چلے گئے تو دس پانچ برس میں پھر سے ایک ہوکر رہیں گے۔ میں اس خواب کو دیکھتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان پھر سے کسی نہ کسی اکائی میںبندھیں۔ میں پھرکہتا ہوں کہ ہندوستان، پاکستان کے بیچ رشتے سدھارنے کے لیے دونوں ملکوں کے بیچ ایک فیڈریشن بنانے کی ضرورت ہے۔ میںمانتا ہوںکہ ہندو پاک کا بٹوارہ غیر ضروری ہے اور اگر عوام چاہیںتو دونوںملکوںکے بیچ امن قائم ہوسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *