بنگلہ دیش تو قریب ہوگیا پاکستان سے دوری کب ختم ہوگی؟

وسیم احمد
p-8گزشتہ ہفتہ ’چوتھی دنیا‘ نے لکھا تھا کہ سرجیکل اسٹرائک کے باوجود واگہ بارڈر پر ٹرکوں کی آمد و رفت جاری ہے اور ہندو پاک کے بیچ تجارت ختم نہیں ہوئی ہے ،البتہ اس سرجیکل اسٹرائک کی وجہ سے کشمیر میں تجارت ٹھپ پڑی ہے۔اب مرکزی حکومت کے سامنے یہ تجویز آرہی ہے کہ پاکستان کو تجارت کے لئے جو پسندیدہ ملک(ایم ایف این ) قرار دیا گیا تھا اس کو واپس لیا جائے ۔اگر اس تجویز پر عمل ہوتا ہے تو پاکستان کی معیشت پراس کا گہرامنفی اثر پڑے گا۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایم ایف این کو ختم کرنے سے پاکستان سے دہشت گردوں کی دخل اندازی کو روکنے میں مدد ملے گی۔
قابل ذکر ہے کہ 1996 میں ہندوستان نے پاکستان کو تجارت کے لئے پسندیدہ ملکوں(ایم ایف این ) میں شامل کیا تھا۔ تقریبا 20 برس کے اس عرصے میں دونوں ملکوں نے باہمی تجارت میں ترقی کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 2003-04 میں 345ڈالر کی تجارت ہورہی تھی جو کہ 2015-16 تک بڑھ کر 2.61 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔حالانکہ دونوں ملکوں کے مجموعی تجارت کو دیکھتے ہوئے یہ اوسط بہت کم ہے ۔ہندوستان کی 2015-16 میں مجموعی تجارت 651 بلین کی ہوئی ہے جبکہ پاکستان کی تجارت کا اوسط 75 بلین ڈالرہے ۔ ان میں سے 28.3 بلین ڈالر کا سامان ہندوستان نے ایکسپورٹ کیاجبکہ 2.1 بلین ڈالر کی مالیت کا سامان امپورٹ ہوا ۔
ایک پڑوسی ملک ہونے کے ناطے دونوں ملکوں کی آپسی تجارت بہت کم ہوئی ہے۔ہندوستان نے تو پاکستان کے ساتھ کچھ بہتر تجارت کی لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے ہندوستان کو پسندیدہ ملکوں میں شامل نہیں کیا ہے اسی لئے اس نے ہندوستان میں بہت کم تجارت کی۔قابل ذکر ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ جن اشیاء کی تجارت ہوتی تھی، ان میں ہندوستان کپاس، اشیائے خوردنی، کافی، چائے،مسالے اور سبزیاں ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ پاکستان سے میوہ جات، مسالے،سلفر ،ربڑ، اون اور نمک امپورٹ کرتا ہے۔
اب جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان سرجیکل اسٹرائک کے بعد اشتعال ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ باہمی تجارت کی یہ رفتار بھی تھم جائے گی۔کیونکہ عالمی تجارتی منڈی ( ڈبلیو ٹی او ) میں ایک تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان کو پسندیدہ ملکوں کی لسٹ سے خارج کردیا جائے۔دراصل 1994 میں گاٹ معاہدے کے بعد ڈبلیو ٹی ایچ او کے ممبروں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لئے خصوصی رعایت دینے کی بات تھی۔ اس معاہدے کے تحت ممبر ممالک میں ٹیکس اور ٹیریف میں خصوصی رعایت دی جاتی ہے اور نقصان سے تحفظ کی ضمانت دی جاتی ہے۔ اگر پاکستان کو پسندیدہ ملکوں کی فہرست سے خارج کردیا گیا تو ایسی صورت میں پاکستان کو ہندوستان میں تجارت کرنے کے لئے کوئی رعایت نہیں مل پائے گی۔اگر وہ اپنے ملک میںبنا ہوا سامان ہندوستان میں بیچے گا تو اسے اضافی ڈیوٹی چکانی پڑے گی اور اس کے تاجروں کو زیادہ پیسہ خرچ کرنا ہوگا۔ایسے میں پاکستان جو اپنا سامان ہندوستان میںبیچ کر منافع کما رہا ہے اس میں بہت کمی ہوجائے گی۔ظاہر ہے اس کا اثر پاکستان کی معیشت پر پڑے گا۔
بہر کیف اڑی میں پاکستانی حملہ اور اس کے جواب میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد یہ مطالبہ تیزی پکڑتا جارہا ہے کہ پاکستان کو پسندیدہ ملکوں کی فہرست سے خارج کردیا جائے۔ گجرات کے تاجروں کے ایک گروپ نے تو پاکستان سے سبزیوں کی تجارت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو ٹماٹراور مرچ بھیجنا بند کر دیا ہے،ان سبزیوں کے ٹرک واہگہ بارڈ سے پاکستان بھیجے جاتے تھے جو کہ اب بند کر دیئے گئے ہیں۔
دوسری طرف سابق مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات بہتر ہیں اور 1965 سے پہلے ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان ٹرانسپورٹ کا جو سلسلہ جاری تھا ،اب اسی سطح پر اس رابطے کو لوٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اگر دونوں ملکوں کے درمیان ریلوے اور روڈ ٹرانسپورٹ کا رابطہ قائم ہوجاتا ہے تو لازمی طور پر تجارت کے امکانات میں بھی اضافہ ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ تقسیم سے پہلے لوگ گوہاٹی سے کلکتہ (کولکاتا) کا سفر بنگلہ دیش کے راستے سے کیا کرتے تھے۔ لیکن 1947 میں ریل سروس کو ہندوستان اور مغربی پاکستان کے درمیان روک دیاگیاتھا۔لیکن ہندوستان اور مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش کے ساتھ یہ سروس جاری رہا جو کہ 1965 حملے کے بعد بند ہوگیا۔ یہ سروس برطانوی دور میں 1844 میں شروع کیاگیاتھا۔
ہندوستان بنگلہ دیش سے بہتر رابطہ بنائے رکھنے کے لئے ریلوے سروس کو بحال کرنے کی غرض سے پہلے ہی کام شروع کرچکا ہے اور اب آبی راستے سے رابطہ بنانے پر بھی غور ہورہا ہے۔ ہندوستان نے ریلوے کا نیا لنک جوڑکر کولکاتا سے اگرٹلہ تک کہ 1500 کلو میٹر کے سفر کو کم کرکے 499 کلو میٹر کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ظاہر ہے اس کا اثر آمدو رفت کے علاوہ مال برداری کی سہولت پر بھی پڑے گا اور کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ سامان کی نقل و حمل ہوسکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جہاں پاکستان جو کہ ایک پڑوسی ملک ہے اور ہندوستان نے اسے بہترین پسندیدہ ملکوں میں شامل کررکھا تھا ۔وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس سہولت کا فائدہ نہیں اٹھا سکا جبکہ بنگلہ دیش نے اس سمت میں قدم بڑھا کر اپنی مصنوعات کے لئے ہندوستان میں ایک بڑی منڈی کا انتظام کرلیا ہے اور ہندوستان کی مصنوعات کو اپنے یہاں سستی قیمتوں پر امپورٹ کرنے کا راستہ بھی صاف کرلیا ہے۔
خیال رہے کہ 1982 کے بعد ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی رشتے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ان کے باہمی مضبوط رشتے کا ہی اثر ہے کہ 1985-90 کے دوران دونوں کے بیچ سارک ملکوں میں سب سے زیادہ شرح نمو رہا۔بہر کیف پاکستان سے تجارتی رشتے کی ڈور کمزور ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے جبکہ دوسرا پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے تجارتی رشتے کی ڈور مضبوط ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔دوسرے لفظوں میں پاکستان نے دہشت گردی کو فروغ دے کر ہندوستان سے اپنے تجارتی رشتے کو کمزور کردیا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے ہندوستان کی بڑی منڈی سے استفادہ کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کا راستہ صاف کرلیا ہے۔اس طرح یہ بہت ہی دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ غیر منقسم پاکستان کا ایک حصہ ہندوستان کا دور کا پڑوسی ہوگیا ہے تو دوسرا قریب کا۔
عیاں رہے کہ بنگلہ دیش بھی 1975 میں شیخ مجیب کے قتل کے بعد دور کا پڑوسی ہوگیا تھا مگر حالات نے وہاں پلٹا کھایا اور وہ قریب کا پڑوسی بن گیا۔توقع ہے کہ پاکستان سے بھی ایسے ہی خوشگوار تعلقات دیکھنے کو ملیں گے۔ معروف کالم نویس کلدیپ نیر تو ہندو پاک تعلقات کے شیریں ہونے کے تعلق سے خود کو ’لاعلاج امید پرست (Incuralbe Optimist)‘ کہتے ہیں۔کاش 93 سالہ اس بزرگ صحافی کا خواب ان کی زندگی میں پورا ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *