بچوں کی اموات میں ہندوستان کا سرفہرست ہونا تشویشناک

بین الاقوامی شہرت یافتہ برطانوی میڈیکل رسالہ ’ لانسیٹ‘ کے تازہ شمارہ میں 2015 میں پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی اموات کی سروے رپورٹ اور اسٹڈی میں ہندوستان کو سرفہرست دکھایا گیاہے۔یہ تعداد 1.3 ملین ہے۔ویسے یہ الگ بات ہے کہ زچگی میں مرنے والی مائوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے،لیکن اس کے باوجوداس معاملے میں بنگلہ دیش ہندوستان سے آگے اور بہتر ہے۔
مجموعی طور پر صورت حال یہ ہے کہ پہلے پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی اموات بہت زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ جیسے جیسے میڈیکل سہولیات اورتوجہ بڑھی ہے، اس میں کمی آئی ہے۔ مگر کمی کے باوجود اب بھی اموات کی شرح دیگر ممالک کے بالمقابل بہت زیادہ ہے۔ اگر عالمی طور پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی اموات 1990 میں 12.1 ملین ہوئی تھیں جو کہ 2015 میں گھٹ کر 5.8 ملین ہوگئیں۔یہ یقینا قابل تعریف ہے۔اس کاصاف مطلب یہ ہوا کہ 25 برسوں میں اموات میں آدھے سے زیادہ کمی ہوئی ہے ۔
اس کے برعکس ہندوستان میں 1.3ملین بچوں کی اموات کے بعد نمبر آتا ہے نائیجریا (726,600)اور پاکستان (341,700) کا۔ پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی عالمی سطح پر جتنی اموات ہوئی ہیں، ان میں سے 30فیصد صرف جنوبی ایشیا میں ہوئیں۔ جہاں تک پیدائش کے بعد ایک ماہ کے اندر بچوں کی اموات کا تعلق ہے، اس میں پانچ برس سے کم عمر کے عام بچوں کی نسبت کمی ہوئی ہے۔ یعنی عام طور پر 1990 میں 4.6ملین کے بالمقابل2015 میں 2.6 ملین کم ہوئی ۔ پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی اموات 52 فیصد ہے جبکہ ایک ماہ کے اندر کے بچوں کی اموات 42 فیصد ہے۔

پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی اموات کی شرح میں 1990 اور 2015 کے درمیان تین فیصد کی کمی ہوئی۔اس کاصاف مطلب یہ ہوا کہ میلنیئم ڈیولپمنٹ گول ( ایم ڈی جی ) کی شرح 4.4 فیصد سے ہندوستان 1.4 فیصد ابھی پیچھے ہے۔ اگر ہندوستان اس ہدف کو پورا کرلیتا تو یقینا 14ملین بچے بچ جاتے ۔دراصل یہ اعدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ ہندوستان بچوں کے تعلق سے کتنا کم توجہ دے پارہا ہے۔یہ اموات دیہی علاقوں میں زیادہ ہوتی ہیں جہاں میڈیکل سہولیات کا بہت فقدان ہے۔ان دیہی علاقوں میں جہاں مسلم آبادی قابل ذکر ہے، وہاں تو حالت اور بھی زیادہ خراب ہے

پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی اموات کی شرح میں 1990 اور 2015 کے درمیان تین فیصد کی کمی ہوئی۔اس کاصاف مطلب یہ ہوا کہ میلنیئم ڈیولپمنٹ گول ( ایم ڈی جی ) کی شرح 4.4 فیصد سے ہندوستان 1.4 فیصد ابھی پیچھے ہے۔ اگر ہندوستان اس ہدف کو پورا کرلیتا تو یقینا 14ملین بچے بچ جاتے ۔دراصل یہ اعدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ ہندوستان بچوں کے تعلق سے کتنا کم توجہ دے پارہا ہے۔یہ اموات دیہی علاقوں میں زیادہ ہوتی ہیں جہاں میڈیکل سہولیات کا بہت فقدان ہے۔ان دیہی علاقوں میں جہاں مسلم آبادی قابل ذکر ہے، وہاں تو حالت اور بھی زیادہ خراب ہے۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہماری عدم توجہی سے 14 ملین بچے آج اس دنیا میں نہیں ہیں۔ پہلے جو اموات پانچ برس سے کم عمر کے بچوںمیں ہوتی تھیں، ان کا سبب بچے کی پیدائش سے قبل اور پیدائش کے وقت کی دشواریوں سے ہوتا تھا اور یہ مسئلہ عالمی سطح پر تھا جبکہ سانس کی تکلیف کا انفیکشن مجموعی طور پر بچوں کی اموات کا تیسرا سبب تھا۔ اس انفیکشن سے اموات تقریبا 16 فیصد ہوتی تھیں۔ اسی طرح دست سے 9فیصد اموات ہوتی تھیں جو کہ چوتھا سبب تھا۔
پہلی مرتبہ مذکورہ سروے اور اسٹڈی میں پیدا ہونے والے بچوں کا جائزہ لیا گیا ہے جو کہ 2015 میں 2.1 ملین ہے۔ہندوستان میں یہ تعداد 0.61 ملین بتائی گئی ہے۔ جن 195 ممالک کا جائزہ لیا گیاہے، ان میں 122ممالک نے سٹینیبل ڈیولپمنٹ گول (ایس ڈی جی ) کے معیار تک پہنچ بنائی ہے تاکہ حمل کے دوران خواتین کی اموات کو کم کیاجاسکے۔
بنگلہ دیش نے اس طرح کی اموات میں ہندوستان کے بالمقابل زیادہ کمی کی ہے۔ بنگلہ دیش میں 2015 میں 7,663،مائوں کی اموات ہوئی تھیں جو کہ 1990 میں اس کی تعداد 21,789 سے دو تہائی کم تھا جبکہ ہندوستان میں مائوں کی اموات میں 1990 میں 1,32,239 کی بہ نسبت 2015 میں نصف کی کمی ہوئی۔
’لانسیٹ‘ میگزین کی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ 1990 اور 2015 کے درمیان 127ممالک میں 1,870 آزاد ماہرین نے 195 ممالک میں موت کی 249اقسام، 315امراض اور 79 رسک فیکٹر کا تجزیہ کیا ہے۔ہندوستان میں 2015 میں 10,287,692 اموات ہوئی ہیں۔
یہ تحقیق بھی سامنے آئی ہے کہ ہندستان میں مردوں میں اوسط عمر 2015 میں 65.2 برس تک پہنچ گئی ہے جبکہ خواتین کی اوسط عمر 69.5 برس ہے ۔عالمی سطح پر مردوں کے لئے عمر 69.0 برس اور خواتین کے لئے 74.8 برس ہے۔اس سے بھی اس حقیقت کاپتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملک کو سپر پاور بننے کے لئے مجموعی طور پر ترقی کی ابھی بہت ضرورت ہے۔
اس اسٹڈی میں قدرتی آفات سے ہوئی اموات کو بھی کُوَر کیا گیا ہے۔ زلزلے سے 2004 اور 2010 کے درمیان 74,700 افراد ہندوستان اور پاکستان میں ہلاک ہوئے۔ ’لانسیٹ‘ میگزین کے اس تجزیئے میں زلزلے سے ہوئی اموات کو ہندوستان اور پاکستان میں الگ الگ نہیں دکھا کر مجموعی طور پر دکھایا گیاہے۔
’لانسیٹ‘ میگزین کا مذکورہ تجزیہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں بچوں کی اموات سے لے کر دیگر وجوہات سے اموات حتی کہ قدرتی آفات سے ہوئی ہلاکت کو بھی کُوَر کیا گیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں صحت کے معاملے میں ابھی عالمی سطح تک پہنچنے میں کافی محنت اور توجہ کی ضرورت ہے۔توقع ہے کہ مرکزی حکومت اس جانب توجہ دے گی۔ توجہ دینا اس لئے بھی ضروری ہے کہ مذکورہ بالا اعدادو شمار کی روشنی میں ہندوستان 14ملین بچوں کی زندگی کو بچا نہیں پایا اور یہ صرف عدم توجہی کی بناء پر ہوا۔

 

auasif asif

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
auasif asif
Share Article

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *