آرٹیکل 370 کو سختی سے نافذ کیا جائے

کشمیر کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف محاذوں پر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ وہاں زمینی سطح پر جو ہورہا ہے وہ کسی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ پہلے تو انہوں نے پٹھان کوٹ کا حادثہ انجام دیا اور اب اڑی میں حملہ کیا۔ پاکستان کی طرف سے ہمارے فوجی کیمپوں پر حملوں سے ہماری کمزور سیکورٹی تیاریوں کا پتہ چلتا ہے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ حوصلہ پست ہے یا اصل مسئلے کو لے کر قیادت سے چوک ہورہی ہے۔ لیکن جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ منوہر پاریکر ایک بہت ہی ناتجربہ کار وزیر دفاع ثابت ہوئے ہیں۔ اگر اپنی پارٹی کو تنقید سے بچانا چاہتے ہیں تو وزیر اعظم مودی کو اس وزارت کو خود اپنے ہاتھوں میں لے لینا چاہئے۔حالانکہ بہتر یہ بھی ہوگا کہ کسی ایسے مضبوط آدمی کو یہ وزارت سونپی جائے جو ہندوستان اور اس کی پالیسی کی سمجھ رکھتا ہو۔ منوہر پاریکر گوا کے لئے بہتر ہیں ،جو کہ ہندوستان کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔انہیں پھر سے گوا کا وزیر اعلیٰ بنا دینا ایک بہتر فیصلہ ہوگا۔ گوا میں انتخابات ہونے والے ہیں اور یہ انکی پارٹی کے لئے ایک دانشوارانہ قدم ہوگا،لیکن میں یہاں بی جے پی کے امکانات پر بات نہیں کررہا ہوں۔ وزارت دفاع کو واضح طور سے ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔ یا تو یہ وزارت ایک مضبوط متبادل لیڈر کو دیا جائے یا خود وزیر اعظم اسے سنبھالیں۔ سیکورٹی دستوں کے تین سربراہ اپنی اچھی تیاری اور اعلیٰ حوصلہ کے لئے جانے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے گزشتہ دو برسوں میں کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہوا تبھی تو ہم انہیں ان حالات میں پا رہے ہیں۔ جتنی جلدی اس رجحان کو ٹھیک کیا جائے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔
اگلا سوال کشمیر کے حقیقی مسئلے کا ہے۔ مسئلے دو سطحوں پر ہیں جن میں سے ایک ہے کشمیر میں پاکستان کی دخل اندازی۔ لائن آف کنٹرول کی اچھی طرح سے نگرانی کی جائے تو اس مسئلے کو کنٹرول کیا جا سکتاہے۔ لائن آف کنٹرول کے اپنے حصے میں وہ کیا کرتے ہیں یہ ان کا ایشو ہے۔ لائن آف کنٹرول کے ہمارے حصے میں نوجوانوں کے بیچ غصہ ہے۔مرکزی سرکار نے لگاتار انہیں سمجھنے کی غلطی کی ہے۔ ہر کوئی انصاف اور فیئر پلے کی خواہش رکھتا ہے۔ عمر عبد اللہ جب وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے ایک بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کا ہندوستان میں الحاق نہیں ہوا تھا بلکہ ہندوستان کے ساتھ اس کا صرف ایکسیشن ہوا تھا۔ اس بیان کے بعدپورا پاور سینٹر ان کے اوپر ایسے حملہ آور ہوا جیسے انہوں نے کوئی جرم کیا ہو۔ یہاں تک کہ انہوں نے خود اپنے بیان کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ انہوں نے جو بھی کہا وہ سچ تھا اور یہی حقیقی صورت حال بھی ہے۔ دوسری مقامی ریاستیں ہندوستان میں پہلے داخل (ایکسیڈ) ہوئی تھی بعد میں ان کا الحاق ہوا تھا، جبکہ جموں و کشمیر ہندوستان میں داخل ہوا لیکن اس کا الحاق کبھی نہیں ہوا۔ یہ کچھ شرطوں کے ساتھ ہندوستان میں شامل ہوا تھا ۔یہ شرطیں آئین کے آرٹیکل 370 میں درج ہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی سمیت اس کے اتحادی اس دشواری کو نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ 370 کے خاتمے کی مانگ کر کے وہ کشمیر پر اپنے قانونی دعوے کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔ دراصل پاک کے زیر انتظام کشمیر کو پاکستان بغیر کسی قانونی حق کے قبضہ کئے ہوا ہے۔ اگر آپ آرٹیکل 370ختم کر دیں گے تو آپ کی پوزیشن بھی پاکستان جیسی ہو جائے گی۔ دوسری طرف اگر آرٹیکل 370 کو سختی سے نافذ کیا جاتا ہے تو آپ کے حصے والے کشمیر پر آپ کا دعویٰ قائم تو ہوگا ہی، ساتھ میں پاک کے زیر قبضہ کشمیر پر بھی آپ کا دعویٰ مضبوط ہو جائے گا۔ لہٰذا یہ وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ آرٹیکل 370 اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک کشمیر کے عوام چاہیں گے۔
دراصل کشمیر مسئلے کے حل کے لئے جتندر سنگھ پی ایم او میں وزیر مملکت کے عہدہ کے لئے صحیح نہیں ہیں۔ چونکہ وہ بی جے پی سے جڑے ہوئے ہیں ،اس لئے انہیں کوئی اور وزارت دے دینا چاہئے اور کشمیر معاملے پر انہیں اپنی زبان بند رکھنی چاہئے۔ وہ کوئی اچھا کام نہیں کر سکتے۔ کشمیر میں ہماری پوزیشن قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور سے کمزور ہو جائے گی۔ دراصل ہم ان لوگوں کی باتوں کو ثابت کریں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نے فوجی طاقت کے بل پر کشمیر کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ اس خیال کو دور کرنے اور کشمیر میں آپ کی موجودگی قانونی ، اخلاقی اور سیاسی شکل اختیار کرنے کیلئے یہ ثابت کرنا ہوگاکہ مرکزی سرکار اور محبوبہ سرکار 370 کو لے کر بالکل پابند ہیں۔
جب 1975 میں شیخ عبد اللہ دوبارہ وزیر اعلیٰ بنے تھے اس وقت ایک سمجھوتہ ہوا تھا جس کے تحت یہ کہا گیا تھا کہ 1953 (جب شیخ صاحب گرفتا رہوئے تھے)اور 1975 کے بیچ جو بھی قانون کشمیر میں لاگو کئے گئے، ان سب کا تجزیہ کیا جائے گا۔ لیکن یہ تجزیہ کبھی نہیں ہو سکا۔ یہ تجزیہ اب بھی ہو سکتا ہے۔ جموں و کشمیر اسمبلی 1953 اور 1975 کے بیچ ریاست میں لاگو سبھی قانونوں کا تجزیہ کرسکتی ہے اور جو قانون وہ نہیں چاہتے، انہیں مرکزی سرکار جموں اور کشمیر سے ہٹا سکتی ہے۔ ریاست کا اپنا الیکشن کمیشن ہو سکتا ہے۔ آرٹیکل 370 کے تحت ایک کمپٹیبل آٹونومس ورک دینے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست کی سیکورٹی ، خارجہ پالیسی اور مواصلات کی ذمہ داری مرکز کی ہے، اس کا مطلب ہے کہ کشمیر ہندوستان کا حصہ رہے گا۔ مقامی لوگ وہاں مزید اختیارات کی مانگ کررہے ہیں تو اس میں اعتراض کیا ہے؟دوسری طرف اس الزام میں سچائی ضرور ہے کہ آج کشمیر میں کسی دوسری ریاست سے کم خود مختاری ہے۔ یہاں کے معاملوں میں فوج کا بڑا کردار ہے جو کہ ملک کے کسی دوسرے حصے میںنہیں ہے۔ لہٰذا سرکار کشمیر کو طاقت کے بل پر اپنے ساتھ رکھنے کے خیال کو ختم کرنے کے لئے قدم اٹھاتی ہے تو یہ ہندوستان کے لئے اچھا ہوگا۔
تیسرا حصہ پاکستان کا ہے۔اس کے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے کہا کہ وہ امن چاہتے ہیں، لیکن اپنی فوج کے دبائو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوبی ایشیا میں اس وقت تک امن نہیں آسکتا جب تک کشمیر مسئلے کا حل نہیں ہوجاتا۔یہ کیا بکواس ہے۔ کشمیر اتنا بڑا ایشو نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں امن نہیں قائم ہو سکتا۔ دراصل ان کا یہ غلط سوچناہے ۔ہندوستان کی فوج ٹھان لے تو پاک کے زیر انتظام کشمیر طاقت کے بل پر حاصل کیا جاسکتا ہے،لیکن دونوں طرف کے نیو کلیائی اسلحوں کو دیکھتے ہوئے یہ ایک بہتر حل نہیں ہوگا،لیکن پاکستان کی نیوکلیائی صلاحیت کو حقیقت سے زیادہ مشتہر کیا گیا ہے۔ ایسا کہہ کر میں جنگ کا سجھائو نہیں دے رہا ہوں یا کسی نیو کلیائی جنگ کی بات نہیں کررہا ہوں ،ہرگز نہیں۔لیکن ہماری اچھائیوں، انصاف پسندی اور بات چیت کرنے کی خواہش کو ہماری کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے۔ پاکستان اپنے چہرے پر کئی چہرے پہنتا ہے۔سخت رخ اپنانا ہوتا ہے تو فوج بات کرتی ہے،دوستانہ ماحول بنانا ہو تو جمہوری پارٹی بات کرتی ہے، دہشت گردی پھیلانا ہوتا ہے تو کچھ مولانا یا حافظ سعید جیسے کچھ دہشت گرد بات کرتے ہیں۔ ہمیں ایک ایسی پالیسی بنانی ہوگی تاکہ ان سبھی چہروں کو انہی کی زبان میں جواب دیا جا سکے۔ پاکستان کے ساتھ ہمیں اپنے سیاسی رشتے برقرار رکھنا چاہئے،لیکن باہمی بات چیت کے ہمارے لگاتار تجاویز کو وہ یہ سمجھنے کی بھول کرتے ہیں کہ ہم ڈر گئے ہیں۔ وزیر اعظم کو فوج کے کمانڈروں کے ساتھ میٹنگ کرنی چاہئے۔ ہماری فوج اور مسلح دستے اس خیال کو دور کرسکتے ہیں۔ آخر کار ہندوستان اور پاکستان کی افواج کا ایک دوسرے کے تئیں اچھے تاثرا ت ہیں،کیونکہ ان کی اصل ایک ہی ہے۔ آزادی کے بعد وہ الگ ہوئے تھے۔وہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو، ایک دوسرے کی ذہنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کو خوب سمجھتے ہیں،لیکن مجھے موجودہ صورت حال ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔ سرکار ایسی بات کر رہی ہے جیسے سرحدی مسئلہ، پٹھان کوٹ، اڑی کے واقعات فوج کے معاملے ہیں۔ اگر فوج منوہر پاریکر جیسے آدمی کی قیادت میں ہے تو ملک کو خدا ہی بچائے۔
دوسری طرف کشمیر میں طلباء نہ صرف برسراقتدار پارٹی بلکہ اپوزیشن سے بھی بات چیت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے ۔ کل جماعتی وفد اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ کوئی نہ کوئی راستہ نکالا جانا چاہئے ۔سرکار کو سول سوسائٹی کا وفد بھیجنا چاہئے، جس میں کلدیپ نیر، رام جیٹھ ملانی جیسے لوگ شامل ہوں اور جن سے یہ بچے بات کریں۔ جب تک کشمیر مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جائیگا، مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا۔ بہر حال جس طرح آر ایس ایس اور بی جے پی مسئلے کو دیکھتے ہیں،مسئلہ اس میں بھی ہے۔ وہ اپنی زبان سے تو نہیں کہتے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کو ہڑپ لیا جائے۔جو کہ کولونلزم ہے ۔جدید ہندوستان میں یہ نہیں ہوتا۔ میں سول سوسائٹی کے ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو ان کے نظریہ کے ہیں، وہ لوگوں کو مارنے میں یقین رکھتے ہیں۔
کیا ہم زمین چاہتے ہیں؟کیا ہمیں کشمیر میں اور زیادہ زمین کی ضرورت ہے؟ہمارے ملک میں کافی زمین ہے۔ہم ایک اخلاقی رخ اپنانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان دنیا میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ جبکہ پاکستان نہیں ہے۔ اس فرق کو سمجھانا پڑے گا۔ دنیا ہندوستان کی طرف شراکت داری کے لئے اقتصادی تعاون کے لئے دیکھ رہی ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی طاقت اور ذمہ داری دکھاتے ہوئے نپا تُلا رد عمل دینا ہوگا،نہ کہ وزیر دفاع کی طرح غیر ذمہ دارانہ بیان،جو کہ وہ ہر دوسرے دن دیتے رہتے ہیں۔ آج انہوں نے ایک بہت بڑا بیان دیا کہ’’ ظاہر ہے اڑی میں کچھ نہ کچھ غلطی ہوئی ہے‘‘ ۔یہ کس طرح کا بیان ہے؟ایک اسکولی بچہ بھی اس پر ہنسے گا۔ ہماری نیک خواہشات وزیر اعظم کے ساتھ ہیں،وہ معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *