علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پاپا میاں کی بچیاں آگے بڑھ رہی ہیں

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو ) کا ذہن میں نام آتے ہی دو عظیم شخصیتیں یاد آجاتی ہیں۔ ایک سرسید تو دوسری شیخ عبد اللہ عرف پاپا میاں ۔ سر سید کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے عصری تعلیم کا سب سے بڑا مرکز مسلمانوں کو دیا جبکہ کشمیر کے رہنے والے مہتہ گرمکھ سنگھ کے بیٹے ٹھاکر داس جو کہ 1891 میں مسلمان بن جانے کے بعد شیخ عبد اللہ عرف پاپا میاں بنے، نے اس تعلیم گاہ سے بچیوں کی تعلیم کو جوڑا اور اسے پروان چڑھایا۔ یہاں واقع ان کے نام پر عبد اللہ کالج اور عبد اللہ ہاسٹل مسلسل ان کی یاد دلاتا ہے۔

اے ایم یو میں پاپا میاں کا ذکر کئے بغیر بچیوں کی تعلیم کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب جب بچیاں یہاں آگے بڑھی ہیں، پاپا میاں یاد آتے ہیں۔ 1965 میں 91 برس کی عمر میں وفات پانے کے 51 برس بعد بھی یہاں کی بچیاں ان سے اسی طرح واقف ہیں جس طرح یہ سرسید کو جانتی ہیں۔
جب گزشتہ بار طلباء یونین کے انتخابات میں دینیات کی پی ایچ ڈی طالبہ کہکشاں خانم کیبنٹ کی رکن منتخب ہوئیں اور اس بار نائب صدر کے لئے کوشش کی جو کہ ناکام ہوئی تب بھی سبھوں کو پاپا میاں یا دآئے اور پھر اسی بار جب تین طالبات کیبنٹ کی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد میں منتخب ہوکر آئیں تب بھی پاپا میاں کی غائبانہ شخصیت کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا۔ عیاں رہے کہ اس بار دس رکنی کیبنٹ کے لئے تین طالبات اور 20 طلباء کھڑے ہوئے، جن میں تینوں طالبات نے کامیابی حاصل کیں۔
یہ تینوں طالبات ہیں 23سالہ صدف رسول، 21سالہ غزالہ احمد اور 19سالہ لبیبہ شیروانی ۔ان تینوں طالبات نے اپنی کامیابی کے بعد جو اظہار خیال کئے ،وہ قابل ذکر ہیں۔ صدف نے 2009 میں یہاں نویں کلاس میں داخلہ لیا تھا اور یہ اب بیچلر آف یونانی میڈیشنز اینڈ سائنسز ( بی یو ایم ایس ) میں فائنل ایئر کی طالبہ ہیں۔ یہ علی گڑھ شہر کے باشندہ احمد رسول کی تین بیٹیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔بقیہ دونوں بہنیں بھی یہیں پڑھ رہی ہیں۔ ان کا یہ خیال بڑا اہم ہے کہ اگر کوئی تبدیلی چاہتا ہے تو اسے اس کے لئے کوشش خود کرنی ہوگی۔ یہ کہتی ہیں کہ طالبات کے مخصوص مسائل کے حل کے لئے کیبنٹ میں ان کی اپنی نمائندگی کی ضرورت تھی،لہٰذا انہوں نے انتخاب لڑا اور کیبنٹ میں منتخب ہوکر آگئیں اور اب اس سلسلے میں سرگرم عمل ہیں۔ کامیاب ہونے کی حکمت عملی پر ان کا کہناہے کہ انہوں نے انتخاب کے لئے کوئی منشور نہیں بنایا بلکہ سیدھے طور پر کہا کہ آپ کے تمام مسائل ہی میرے منشور ہیں اور یہ بات طلباء اور طالبات کو پسند آئی۔
انہی کی طرح غزالہ ہیں جو کہ سوشل ورک کی بیچلر فائنل ایئر کی طالبہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کیبنٹ میں ایک ساتھ پہلی بار تین طالبات کی جیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اب یہاں اسٹوڈنٹ یا کیمپس پالیٹکس میں طالبات کی موجودگی جز لا ینفک بن گئی ہے۔ تبھی تو تین طالبات نے انتخابات لڑیں اور تینوں جیت گئیں۔ اے ایم یو میں 17 ہزار طلباء ہیں جن میں طلباء اور طالبات کی شرح 60,40 فیصد ہے۔ ان کا واضح طور پر کہنا ہے کہ طالبات یہاں تعلیم اور کیمپس کی سیاست میں طلباء کے ساتھ کھڑی ہیں اور اے یم یو کی ترقی کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔ غزالہ یہاں طبیہ کالج کے ریٹائرڈ اکائونٹینٹ رئیس احمد کی صاحبزادی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے والدین انتخابات میں ان کے حصہ لینے کے فیصلہ سے خوش نہیں تھے۔اس لئے انہوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لے کر عومی طور پر اپنی مہم چلائی اور گرلس ہاسٹل پر عملی طور پر توجہ دی جس کا زبردست اثر ہوا۔
تیسری منتخب طالبہ لبیبہ شیروانی ہیں۔ یہ سوشل ورکس بیچلر کے پہلے سال کی طالبہ ہیں۔ اول الذکر طالبات کی مانند یہ بھی علی گڑھ کی مقامی ہیں اور ریئل اسٹیٹ تاجر غیاث شیروانی کی واحد اولاد ہیں۔ یہ بڑے حوصلہ سے کہتی ہیں کہ طالبات کسی بھی طرح طلباء سے پیچھے نہیں ہیں اور انتخابات لڑسکتی ہیں جو کہ اب ثابت ہو گیاہے۔ انہیں توقع ہے کہ کیمپس کی سیاست میں طالبات کا رول اب مزید بڑھے گا اور وہ یونیورسٹی میں نمایاں مقام حاصل کریں گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا میں اپنی مہم کی اور کل 7ہزار 156 ووٹ حاصل کئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کیبنٹ کی رکن کے طور پر یہ طالبات میں پرسنالٹی ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دیں گی۔
اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اے ایم یو کیمپس اب طلباء کے ساتھ ساتھ طالبات کی بھی سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔ یہاں طالبات نے اس وقت بھی اپنی موجودگی جتائی تھی جب سینٹرل لائبریری یعنی مولانا آزاد لائبریری میں انہوں نے آواز اٹھا کر اپنی انٹری پکی کرلی تھی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ صرف طلباء ہی نہیں طالبات نے بھی ملک و ملت کی ترقی میں ابتدا سے اہم رول ادا کیا ہے۔یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ 1920 میں یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے کے بعد اس عظیم تعلیم گاہ کی پہلی وائس چانسلر ایک خاتون ہی تھیں۔ یہ خاتون نواب بھوپال سلطان جہاں بیگم تھیں۔
پاپا میاں نے کس طرح بچیوں کی تعلیم کو اس تعلیم گاہ سے جوڑا ،یہ دستان بھی قابل ذکر ہے۔ اس کا ذکر اس لئے بھی ضروری ہے کہ تبھی تو یہ بچیاں 5000 کی تعداد میں یہاں ہنوز تعلیم حاصل کررہی ہیں اور یہاں سے فراغت کے بعد ملک و ملت کی ترقی کا حصہ بن رہی ہیں۔
سر سید کے ذریعہ قائم اے ایم او کالج میں 21برسوں کے بعد ہی مسلم ایجوکیشنل کانفرنس میں بچیوں کی تعلیم کی اہمیت کو دھیان میں رکھتے ہوئے تعلیم کا ایک سیکشن بنایا گیا تھا اور جسٹس کرامت اس کے سکریٹری بنے تھے۔ نواب محسن الملک ، صاحبزادہ آفتاب احمد خاں، سلطان احمد اور حاجی اسمٰعیل خاں نے ان کی معاونت کی تھی ۔اس کے بعد امید علی، غلام ثقلین اور حاجی اسمٰعیل خاں و دیگر افراد نے اس زمانے میں بچیوں کی تعلیم پر اٹھائے گئے سوالوں کا اس وقت اخبار علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزیٹ میں مضمون اور مراسلہ لکھ کر سخت جواب دیا تھا۔ اس کے بعد کہیں جاکر 1899 میں کولکتہ میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس میں ملک کے مختلف مقامات میں بچیوں کے لئے اسکول کھولنے کا انقلابی فیصلہ لیا گیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی طے کیا گیاکہ بچیوں کے مجوزہ اسکولوں کے کورس کی تیاری میں علماء سے مشورہ کیا جائے اور اسی کے ساتھ ساتھ سائنس اور سوشل سائنس جیسے جدید سجبیکٹس بھی اس میں شامل کئے جائیں ۔دسمبر 1902 میں دہلی کی تاریخی کانفرنس کے دوران پاپا میاں کو بچیوں کی تعلیم کے پروجیکٹ کی نگرانی کے لئے سکریٹری بنایا گیا۔ اس طرح پاپا میاں جو کہ 1920 سے لے کر 1965 تک اے ایم یو کورٹ کے رکن رہے ، نے اس کے بعد بچیوں کی تعلیم کو آگے بڑھانے میں جو زبردست محنت اپنی اہلیہ کے ساتھ کی، وہ اپنے آپ میں تاریخ ہے۔
پاپا میاں اس تعلیم گاہ میں پائندہ ہیں اور بچیاں جیسے جیسے یہاں آگے بڑھیں گی،پاپا میاں کا مشن اتناہی مضبوط اور مستحکم ہوتا ہوا چلا جائے گا۔ بچیوں کی تعلیم کو انہوں نے ایک ایسے وقت میں آگے بڑھانے کی ذمہ داری قبول کی، جب ان کی تعلیم پر ملت کے اندر اختلافات پائے جاتے تھے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ خود سر سید کو کیمپس میں بچیوں کی تعلیم سے کچھ تحفظات تھے مگر پاپا میاں نے دیگر بزرگوں کے ساتھ مل کر یہ کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

auasif asif

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
auasif asif
Share Article

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *