بیدر کے شاہین گروپ کا انوکھا تجربہ اب حافظ قرآن ڈاکٹر انجینئر بھی بن رہے ہیں

مسلم کمیونٹی میں حفظ قرآن کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حفاظ کو بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ساتویں صدی کے شروع میں ہندوستان میں اسلام کی آمدکے بعد سے ہی دارالحفظ کا سلسلہ انفرادی یا چھوٹے چھوٹے پیمانے پر شروع ہوچکا تھا۔ مشہور مراقشی سیاح ابن بطوطہ نے14 ویں صدی میں بحیرہ عرب پر بسے شہر بھٹکل میںدورے کے دوران بچوں اور بچیوں کے علیحدہ علیحدہ دارالحفظ و تجوید کا اپنے سفر نامہ میں ذکر کیا ہے۔ ابتداء میں حفظ مکمل کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ تعلیم یہیںپر ختم ہوجائے اوریہ بذات خود ایک پروفیشن بن جائے اور پھر اس سے فارغ افراد فقط مسجد کی امامت ایک قلیل تنخواہ پر کرتے رہیں۔ مگر بعد میںہوا یہی جس کے نتیجے میںحفاظ کرام جیسا طبقہ معاشی طور پر بہت کمزور ہوتا چلا گیااور معاشرہ کا ایک ڈس امپاورڈ سیکشن بن گیا۔ دوسری جانب معاشی طور پر اعلیٰ طبقہ میںپسند اور شوق سے حفظ و قرآن کا رجحان رہا تو وہ بھی انفرادی یا محدود پیمانے پر۔ اس طبقہ سے بہت ہی قلیل تعداد میں بچوں اور بچیوںنے حفظ مکمل کرنے کے بعد میڈیکل ، انجینئرنگ اسکول، کالج او ریونیورسٹی یا عصری اداروں میں دیگر کورسز کا رخ کیا اور حافظ رہتے ہوئے دنیاوی تعلیم سے فیضیاب بھی ہوئے۔ نیز شاندار کیریئر بنایا۔
دراصل یہ احساسات ہیں جس نے ملت کے کچھ بہی خواہوں کو متحرک کیا کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں پورے ملک میںحفظ سے فراغت حاصل کرنے والے بچوں اور بچیوںکو متعینہ مدت میںہم عصر تعلیم سے ہم آہنگ کرتے ہوئے عام بچوںاو ربچیوںکی طرح سرکاری میڈیکل ، انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنل کورسز کے تعلیمی اداروں میںداخلہ کے لیے مقابلہ جاتی امتحانات میںبٹھائیں۔ یہ بہی خواہان ریاست کرناٹک میں تاریخی شہر بیدر کے باشندے ہیں۔ یہ لوگ گزشتہ 28 برسوں سے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز بہت ہی کامیابی سے چلارہے ہیں جس کے تحت 27 شاخوں میں12 ہزار بچے او ر بچیاں الگ الگ تعلیم لے رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان اداروں میں غیر مسلم طلباء کی ایک قابل ذکر تعداد بھی موجود ہے جو کہ دیگر انگریزی پبلک اسکولوں کی طرح اس گروپ کی مقبولیت اور معیاری تعلیم کا واضح ثبوت ہیں۔ یہاں بیرون ملک کے طلباء بھی زیر تعلیم ہیں۔ ان اداروں کے تحت انگریزی اور اردو میڈیم کے بچوں او ربچیوں کے علیحدہ ہائر سیکنڈری اسکول کے علاوہ لڑکیوں کا ڈگری کالج بھی قائم ہے۔ ویسے کم تعداد میں ہی سہی، مقامی کنّڑ زبان کے طلباء بھی یہاںپائے جاتے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اردو اور انگریزی کے ساتھ ساتھ مقامی کنّڑ کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔
دراصل اسی گروپ نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ پورے قرآن اپنے سینے میں اتارنے والے بچے یقیناًبہت ہی ذہین ہوتے ہیں اور ان کی یادداشت بھی غضب کی ہوتی ہے،ان کو بدحال معیشت سے روکنے کے لیے ایک خصوصی کورس’ حفظ القرآن پلس‘تیار کیا اور اسے پانچ برس قبل شروع کیا جس سے اب تک 14 ریاستوں سے 200 سے زائد حفاظ استفادہ کرچکے ہیں اور فراغت کے بعد سرکاری میڈیکل، انجینئرنگ ودیگر پروفیشنل کورسز کے سرکاری کالجوں میں بھی مسابقتی امتحان کے ذریعہ داخلے لے چکے ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ جب یہ حافظ بچے اور بچیاں میڈیکل، انجینئرنگ جیسے پروفیشنل کورسز کرکے زندگی کی دوڑ میں شامل ہوں گے تو یہ سماج کا ایک ایسا پُرکشش چہرہ ہوں گے جو کہ دینی اور دنیوی تعلیم کا حسین امتزاج ہو۔ اس سے جہاں ایک طرف حافظ قرآن کا سماج میں کھویا ہوا وقار پھر سے بحال ہوگا، وہیں دوسری طرف ڈاکٹر، انجینئر یا دوسرے پروفیشنل کورسز کرکے اچھے کیریئر والے حافظ معاشی طور پر سماج کے خوشحال اور بااثر طبقے میں شامل ہوکر ایک آئیڈیل معاشرہ کی تعمیر میںحصہ لے سکیںگے۔ اس لحاظ سے یہ ملک و ملت کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرسکیں گے۔
شاہین گروپ کے سکریٹری ڈاکٹر عبدالقدیر نے ابھی حال میں دہلی میں اپنی کارگزاریوںسے واقف کرانے کے لیے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میںبلائی گئی پریس کانفرنس کے موقع پر راقم الحروف سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج سے تقریباً 300 برس قبل ایسا ہی ہوتا تھا۔ مگر یہ سلسلہ دینی و دنیوی تعلیم کو الگ الگ کردینے کے سبب بند ہوگیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اگر دینی تعلیم بشمول حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ سائنس و دیگر ہم عصر تعلیم کی جانب ملت اسلامیہ کا رجحان برقرار رہتا تو علم و سائنس میں آج بھی مسلمانوںکی حیثیت کچھ اور ہوتی اور اسی کے ساتھ ساتھ حفاظ کا طبقہ ہمارے ملک میںمعاشی طور پر بدحالی کا شکار نہ ہوتا او ردینی و دنیوی اعتبار سے سماج کا روشن چہرہ بن کر سامنے رہتا۔
شاہین گروپ کے روح رواں ڈاکٹر عبدالقدیر کا کہنا ہے کہ ان کے گروپ کا مقصد اچھے اور بہترین امام کے ساتھ اچھے اور بااخلاق ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر ماہرین بھی تیار کرنا ہے تاکہ معاشرہ پر ایک اچھا اثر مرتب ہوسکے۔ ان کے مطابق حفاظ غیر معمولی طور پر ذہین طلباء ہوتے ہیں اور بہت جلد اور آسانی سے عصری علوم میںدسترس حاصل کرلیتے ہیں۔ انھیں چار سالہ کورس کے ذریعہ اس قابل بنا دیا جاتا ہے کہ وہ مکمل اعتماد کے ساتھ کسی بھی پروفیشنل اور عصری کورسز میںداخلہ لے سکتے ہیں۔ ہمارے ’حفاظ القرآن پلس‘ کورس میں قرآن حفظ کیے ہوئے 12 تا 15 سال کے بچوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور پہلے چھ ماہ تک فاؤنڈیشن کورس، پھر بریج کورس او راس کے بعد دسویں اور بارہویں کے امتحانات کی تیاری کرائی جاتی ہے۔
اس موقع پر راقم الحروف کو مظفر پور (بہار) کے انجینئرنگ کالج ایم آئی ٹی کے سول انجینئرنگ سے وابستہ رہے طارق مجتبیٰ کا تقریباً 25 برس پرانا واقعہ اس طرح کی انفرادی کوششکے تعلق سے یاد آتا ہے۔ انھوں نے اپنی بیگم شہناز پروین کے ساتھ مل کر اپنے دوجڑواں بچوںکو حافظ قرآن بنا کر انجینئر بنانے کا خواب دیکھا۔ انھیں ا س خواب کو حقیقی روپ دینے میں زبردست چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر وہ ہمت نہیںہارے اور بالآخر کامیاب رہے۔ جب انھیں حفظ کے لیے ان کی پسند کا کوئی دارالحفظ نہیں ملا تو انھوںنے اپنے آبائی گاؤں دادر میں ایک دارالحفظ کھول کر دیگر متوسط گھرانے کے بچوں کے ساتھ اپنے دونوںبچوںکو اچھے نظم کے ساتھ حفظ کی تعلیم دی اور پھر گھر پر ٹیوشن کراکے انھیں اس لائق بنایا کہ وہ دونوں دسویں اور بارہویں کا امتحان یکے بعد دیگرے دے سکیں۔ بارہویں کے بعد ممبئی کے سابوصدیق انجینئرنگ کالج سے یہ دونوں انجینئر بنے اور فی الوقت گریٹر نوئیڈا میں انجینئرنگ کالج میں استاد ہیں۔ طارق مجتبیٰ کو اپنے اس خواب کو تنہا پورا کرنے میں جو مشکلات درپیش ہوئیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کام کو انجام دینے میں شاہین گروپ کو وہ عملی مشکلات نہیں ہورہی ہیں۔ اس کورس کی افادیت و اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر کہتے ہیں کہ اب تک اپنی کفالت کے لیے چھوٹے موٹے پیشوں جیسے ٹیلرنگ ، میکینک وغیرہ پر انحصار کرتے تھے مگر شاہین کے ’حفظ القرآن پلس‘ کورس کی بدولت ان کی امیج تبدیل ہورہی ہے او روہ معاشرہ میں ایک ا چھا اور قابل احترام مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ لہٰذا اسے زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ غالباً اپنی اسی خواہش کے تحت ڈاکٹر عبدالقدیر اس وقت دیگر ریاستوں کے ساتھ اترپردیش پر فوکس کیے ہوئے ہیں جہاں حافظ کے بچے بیدر کی اس انوکھی تعلیم گاہ آکر داخلہ دلیتے ہیں اور پھر اچھا کیریئر بناتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے سروے کے مطابق صرف مظفر نگر خطہ میں5 ہزار حفاظ موجود ہیں۔ اس لیے وہ اترپردیش کے ہرضلع میںرابطہ سینٹر قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
شاہین گروپ کے اس ’حفظ القرآن پلس‘ کورس کو کرنے میںعام فیس 70 ہزار روپے ہے جبکہ یہاں کے فارغ حفاظ سے صرف 36 ہزار وپے لیے جاتے ہیں۔ مخیر حضرات ا س میں آگے بڑھ کر تعاون بھی کررہے ہیں۔ توقع ہے کہ شاہین گروپ کا یہ کارواں آگے بڑھتا رہے گا اور اس کے مرکز بیدر کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میںمزید شاخیںکھلیں گی اور ’حفظ القرآن پلس‘ کورس سے بچے مستفیض ہوتے ہوئے ملک و ملت کا نام روشن کریںگے۔ شاہین گروپ کو 2013 میںتعلیم کے میدان میں ان ہی گرانقدر خدمات کے لیے حکومت کرناٹک کا راجیوتسو ایوارڈ عطا کیا گیا ہے۔ شاہین گروپ نے یہ ثابت کردیاہے کہ حفظ قرآن کے آگے جہاںاور بھی ہیں اور حافظ بن جانے کے بعد راہیںکھلتی ہیں، بند نہیں ہوتیں۔
علامہ اقبال کا یہ شعر شاہین گروپ پر صادق آتا ہے:
توشاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں او ربھی ہیں

auasif asif

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
auasif asif
Share Article

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *