اتر پردیش: پروانچل کے سیلاب میں خوب چل رہی ہے سیاست کی کشتی

صوفی یاور
p-4کاشی میں سیلاب کا جائزہ لینے آئے ریاستی سرکار کے کابینی وزیر شیوپال یادو نے اس مسئلے پر بھی مرکز پر حملہ بولا۔ شیو پال نے کہاکہ وارانسی سمیت پروانچل میں سیلاب کے تئیں مودی سرکار سنجیدہ نہیں ہے۔ریاستی سرکار نے سیلاب کی مصیبتوں سے نمٹنے کے لئے مرکزی سرکار سے مدد کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی وارانسی کی نمائندگی کررہے ہیں اور مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ چندولی کے رہنے والے ہیں، اس کے باوجود سیلاب کو لے کر مرکزی سرکار نے کوئی خیر خبر نہیں لی ہے۔ شیو پال نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان کے سیلاب سروے کے طور طریقوں پر بھی طنز کیا اور کہا کہ جو شخص دو آدمیوں کے کندھوں پر چڑھ کر سیلاب کا جائزہ لے، وہ عوام کی خدمت کیا کر پائے گا۔ شیو پال نے کہاکہ وارانسی ضلع انتظامیہ نے سیلاب راحت کے لئے جتنی رقم مانگی تھی، اسے جاری کرنے کا سرکار نے حکم دے دیا ہے۔ وارانسی میں سیلاب راحت کے لئے ضلع انتظامیہ نے 6 کروڑ روپے کی مانگ کی تھی، اس میں سے2 کروڑ روپے پہلے جاری کئے گئے تھے۔وزیر اعلیٰ کے ڈریم پروجیکٹ ورون کوریڈور کے سیلاب میں ڈوبنے کے سوال پر شیو پال نے کہا کہ اس وقت سرکار کی پہلی ترجیحات لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔ ورونا کوریڈور کا کام سیلاب کے بعد پھر سے شروع ہوگا۔ ریاستی سرکار نے مقامی انتظامیہ سے سیلاب میں ہوئے نقصانات کے اندازے کے ساتھ ہی معاوضہ سے متعلق رپورٹ بھی مانگی ہے۔ سرکاری طور پر بتایا گیاکہ وارانسی میں66 ہزار ہیکٹیراور چندولی میں 27 ہزار ہیکٹیئر زمین سیلاب سے متاثر ہے۔ وزیر نے کہا کہ سیلاب میں ٹوٹی سڑکوں کی مرمت بھی جلد کرائی جائے۔مشرقی اتر پردیش بھیانک سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔لوگ پریشانی میں ہیں۔ لیڈر سیلاب میں چکر کاٹ رہے ہیں۔الٰہ آباد، غازی پور،چندولی، وارانسی سمیت کئی ضلعوں کے سینکڑوں گائوں سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔سیلاب کی وجہ سے الٰہ آباد کے کریلا باغ، غوث نگر ، نوادا، سلوری، بگاڑا علاقوں میں تیزی سے نقل مکانی ہوئی ہے۔الٰہ آباد کے سلوری، بگھاڑا، داراگنج، بخشی باندھ، موری گیٹ اور سنگم علاقے کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ سیلاب متاثرین کی سیکورٹی اور فاقہ کشی تشویش کا سبب بن رہی ہے۔کشتیوں کا کافی انتظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگ الٰہ آباد میں اپنے اپنے گھروں میاں پھنسے رہے۔ ایسے خاندانوں کی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہی ہے، کم نہیں۔سیلاب کا پانی بوٹ کلب سے لے کر جمنا پل کے انڈر پاس تک بھر گیا۔ اس سے فور وہیلر گاڑیوں کا پرانے جمنا برج پر جانا بند ہو گیا۔ گنگا کا پانی جھونسی میں کرپیا یوگ آشرم کے سامنے تک پہنچ گیا اور پرانی جھونسی روڈ پانی سے بھر گیا۔
یہ تو الٰہ آباد کا منظر ہے۔ادھر کاشی اور اس کے آس پاس کے ضلعوں میں سیلاب کا قہر زوروں پر ہے۔ وارانسی میں بھی سیلاب کا پانی کئی کالونیوں تک پہنچ گیا۔ ان کالونیوں میں کشتی ہی ایک سہارا بنی رہی۔ لیکن وارانسی کے لوگ سیلاب کے باوجود اپنے اپنے گھر چھوڑنے کوتیار نہیں ہوئے۔ وارانسی میں گنگا ندی کئی دنوں تک لگاتار خطرے کے نشان سے اوپر بہتی رہی۔ وارانسی میں گنگا خطرے کے نشان سے قریب ڈیڑھ میٹر اوپر بہہ رہی تھی۔ اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ وارانسی میں گنگا کا پانی بڑھا اور پانی گھاٹوں سے اوپر آکر شہر میں بہنے لگا۔ پانی وارانسی کے دشاشو میگھ بازار تک پہنچ گیا۔ دکانوں میں پانی بھر گیا۔ مہا کارنیکا گھاٹ تک ڈوب گیا اور اوپر کی منزل پر آخری رسوم ادا ہوئے۔وارانسی کے علاوہ چندولی، غازی پور اور بلیا میں بھی سیلاب سے ہزاروں لوگ متاثر ہیں۔ بلیا ضلع میں تو سیلاب سے لوگوں کا برا حال ہے۔ بلیا ، غازی پور، وارانسی، مرزا پور چندولی اور مغل سرائے میں سیلاب کا پانی کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی رہا ہے۔
بہار سے قریب بلیا میں سیلاب نے 2003 کا ریکارڈ توڑ دیا،جہاں گنگا کا پانی خطرے کے نشان سے تین میٹر اوپر بہہ رہا تھا ۔بلیا میں بہار یو پی نیشنل ہائی وے پر سیلاب کا پانی چڑھ گیا اور کئی جگہ دبائو اتنا زیادہ بنا کہ وہ برباد ہو گیا۔ بلیا ضلع کے دوبے چھپرا، مجھواں جیسے علاقوں میں این ایچ تک پانی چڑھ آیا۔ ساگر رالی میں سیلاب کا پانی این ایچ 31 کے اوپر بہہ رہا تھا۔ پروانچل کے ضلع غازی پور میں گنگا کا بڑھنا بدستور جاری ہے،غازی پور کا جمانیاں تحصیل اس سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ انتظامیہ خود قبول کرتا ہے کہ پانچ سو گائوں کے قریب دو ڈھائی لاکھ لوگ سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ مغل سرائے، چندولی اور مرزا پور کا بھی یہی حال ہے۔کئی جگہوں پر پانی کا بہائو تیز ہے۔کئی جگہوں پرپانی رکا ہوا ہے لیکن اب تک خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ خطرے کے خوف سے ڈرے ہوئے لوگ سڑکوں اور باندھوں پر رہ ر ہے ہیں۔
سیلاب کا وقت ہے اور انتخاب آنے والا ہے تو سیاسی پارٹیاں بھی اسے ایک موقع ہی مان کر چل رہی ہیں۔ راحت کے سامان کی تقسیم سے زیادہ فوٹو کھینچوانے اور شائع کرانے کی ہوڑ مچی ہوئی ہے۔اس سے لیڈروں کا عوام کے بیچ مذاق ہی اڑ رہاہے۔ سیاسی پارٹیاں راحت پیکٹوں پر اسٹیکر چپکا کر اسے تقسیم کررہی ہیں۔ تمام سیاسی پارٹیاں اسمبلی انتخاب کے پہلے ایسی تشہیر کرکے راحت کے سامان تقسیم کرکے عوام کا دل جیتنے کی کوشش کررہی ہیں۔ راحت کے سامان کے ساتھ اپنے اپنے سیاسی پیغام پیش کئے جارہے ہیں۔ اس معاملے میں بی جے پی سب سے آگے نکل گئی ۔ الٰہ آباد شہر کے کئی کچھاری علاقوں میں بی جے پی کے کارکن ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کے اسٹیکر لگا کر کھانے کے پیکٹ تقسیم کررہے ہیں۔ جس کا جم کر مذاق اڑایا جارہا ہے۔
کانگریس بھی اپنا 27 سال یو پی بے حال والا نعرہ لے کر راحت کے کیمپوں اور متاثرہ علاقوں میں اپنی دستک دینے میں کوتاہی نہیں کررہی ہے۔ کئی جگہ آبی سطح خطرے کے نشان سے کافی نیچے چلے جانے کے بعد راحت کے سامان کی تقسیم ہوئی۔ ابھی تک سیلاب کی تباہی میں پھنسے رہے لوگوں کا کہنا ہے کہ مصیبت کے وقت گنتی کے لوگوں نے ہماری خیر خبر لی اور جب سیلاب ختم ہونے پر آیا تو مددگاروں کی لائن لگی ہوئی ہے۔
ہائی لائٹ:
سیلاب کا وقت ہے اور انتخاب آنے والا ہے تو سیاسی پارٹیاں بھی اسے ایک موقع ہی مان کر چل رہی ہیں۔ راحت کے سامان کی تقسیم سے زیادہ فوٹو کھینچوانے اور شائع کرانے کی ہوڑ مچی ہوئی ہے۔اس سے لیڈروں کا عوام کے بیچ مذاق ہی اڑ رہاہے۔ سیاسی پارٹیاں راحت پیکٹوں پر اسٹیکر چپکا کر اسے تقسیم کررہی ہیں۔ تمام سیاسی پارٹیاں اسمبلی انتخاب کے پہلے ایسی تشہیر کرکے راحت کے سامان تقسیم کرکے عوام کا دل جیتنے کی کوشش کررہی ہیں۔ راحت کے سامان کے ساتھ اپنے اپنے سیاسی پیغام پیش کئے جارہے ہیں

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *