اردو صحافت میںایک نیا تجربہ

10cہندوستان مین ادبی رسائل کی کمی نہیں ہے۔ مگر ایک ایسے اردو ادبی اخبار کی ضرورت یقیناً محسوس کی جاتی رہی تھی جس میںمختلف شعبۂ حیات کو سمیٹتے ہوئے سب کچھ ہو اور وہ ہر عمر کے افراد کی دلچسپی کا باعث بھی ہو۔ اس لحاظ سے سرزمین بھوپال سے ابھی حال میںایک اردو ادبی سہ ماہی اخبار ’’باب ادب‘‘ کی اشاعت کا آغاز قابل تحسین ہے۔ باب ادب کے دوشمارے منظر عام پر آچکے ہیں اور اس نے اردو قارئین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ 20 صفحات پر مشتمل یہ ٹیبلائڈ سائز میںہے اور اس کے چارٹائٹل صفحات رنگین اور دلکش ہیں۔
ایڈوکیٹ ایاز قمر کی سرپرستی اور چیف ایڈیٹر ہاشم الصادق کی فنی صلاحیت میںنکل رہے اس ادبی اخبار میں خبریںاور متعدد کالمز ہیں۔ پہلے شمارے میں خبروں میں ’خاتون مشرق ا لوسطیٰ نے دنیا کی سربراہی میںشرکت کی‘ اور ’ایک جشن شادی ایسا بھی‘ کے ساتھ ساتھ ’محترم جیٹلی صاحب نظر کرم فرمائیں‘ اور ’اردو کے تعلق سے سشما سوراج صاحبہ کی گل افشانی‘ قابل ذکر ہیں۔ دراصل اس طرح کی خبریں عموماً روزناموں اور رسائل میںدیکھنے کو نہیں ملتی ہیں ۔ اس لیے ایک قاری اس سے مستفیض ہوتا ہے۔ اسی طرح ’گاندھی جی کے بھارت میں‘ ایک کالم ہے جس میںدنیا کے مقبول غزل گلوکار غلام علی کے پروگرام کے رد کرنے کی سرخی ’ادب بھی سنگینوں کے سائے میں‘ دلچسپی پیدا کرتی ہے۔ دیگر مستقل کالموں میں ’برا نہ مانو‘ ، ’یونیورسٹیز‘،’ بیرونی خبریں‘،’اسلامی ادب‘، ’ادب تاریخی‘ ، ’قدرتی اشیاء سے میک اَپ‘،و خانسامہ کا خاصہ‘،’ صحت عامہ‘، ’اندرونی خبریں‘، میں’اردو صحافت کا مقصد تجارت، ’ادب جہاں‘، ’درنایاب‘، ’برادران ادب‘،’ جاسوسی ادب‘، ’اردو ادب کی تخلیقات پر ہندوستانی فلمیں‘، ’خانہ کتب‘ اور ’بچوں کی دنیا‘ سہ ماہی اخبار کی زینت بڑھاتے ہیں۔
انٹرویو کا کالم بہت ہی پرکشش ہے۔ اس شمارے میںجرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی سربراہ ڈاکٹر کریسٹینا اویسٹر ہیلڈ سے خصوصی بات چیت اس لحاظ سے بہت ہی اہم اور غیر معمولی ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اردو میں وہاں جرمن طلباء اور طالبات کی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وہاںمختلف اردو مصنفین کی کتابیں جرمن میںترجمہ ہوکر مقبول عام ہورہی ہیں اور اسی طرح جرمن ادب بھی اردو میںمنتقل ہورہا ہے۔ اس انٹرویو کے ساتھ پاکستانی افسانہ نگار اسد محمد خاں سے کی گئی بات چیت بھی پڑوسی ملک میں افسانہ کے موجودہ رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
’گلشن ادیب و شاعر‘‘ میں ’’بھارت کی بنیاد رابندر ناتھ ٹیگور، کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف اردو قارئین کو جرمن ادب سے واقف کرایا جارہا ہے وہیں اندرون ملک کی زبان بنگلہ کے نوبل انعام یافتہ شاعر کے کارناموں سے اردو والوں کو بھی متعارف کیا جارہا ہے۔
المختصر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اخباری شکل میں مختلف شعبوں کی معلومات اور تفریح کراتا ’باب ادب‘ ایک اچھی، معروضی اور مثبت کوشش ہے۔ توقع ہے کہ اردو قارئین اس نئے تجربہ کا اردو صحافت میں استقبال کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *