جنرل کی سچائی کا سچ

p-4bابھی کچھ دنوں پہلے اچانک ایک خبر آئی کہ آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی کے سنگھ پر سنگین الزام لگائے ہیں۔انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے لکھا کہ جنرل دلبیر سنگھ نے سپریم کورٹ میں دیئے اپنے ایک حلف نامے میں کہا ہے کہ 2012 میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے انہیں ایک خفیہ منصوبہ ،بری منشا اور جرمانہ دینے کے مقصد سے نشانہ بنایا ۔اس کا مقصد صرف آرمی کمانڈر کے طور پر ان کے پروموشن کو روکنا تھا۔ اس خبر کو میڈیا کے ایک طبقہ نے سنسی خیز بتا کر شائع کیا۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ خفیہ منصوبہ،منشا اور مقصد جیسے لفظوں کے استعمال سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ یہ محض اٹکل بازی ہے، اندازہ ہے اور کہیں تو بے بنیاد سوچ بھی ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خفیہ منصوبہ بندی، منشا اور مقصد کو ثابت کرنے کے لئے کیا جنرل سہاگ کے پاس کوئی ثبوت ہے؟لیکن میڈیا کے ایک دھڑے نے اس حلف نامے کو ہی آخری سچ مان کر پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا۔کسی نے بھی حلف نامے کی سچائی کی تحقیقات نہیں کی۔ ایسا ماحول بن گیا کہ الگ الگ پارٹیوں کے لیڈروں نے جنرل وی کے سنگھ کا استعفیٰ بھی مانگ لیا۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ جنرل سہاگ کے حلف نامے کی سچائی کیا ہے؟’’چوتھی دنیا ‘‘ نے اس حلف نامے کی سچائی جاننے کے لئے تحقیقات کی۔ حلف نامے میں کہی گئی ہر بات پر غور کیا ۔ہماری تحقیقات سے پتہ چلا کہ میڈیا نے اس حلف نامے کو لے کر جو خبریں پھیلائی،اس میں کئی باتیں توڑ مروڑ کر پیش کی گئیں اور کئی باتیں چھپا لی گئیں ،جسے ہم واضح طور پر گمراہ کن پروپیگنڈہ کہہ سکتے ہیں۔جس طرح سے اس خبر کو اسپانسر ڈطریقے سے پیش کیاگیا ،اس سے صاف ہے کہ اس کا مقصد جنرل وی کے سنگھ کو بدنام کرنا تھا۔
دو اہم باتیں جو میڈیا نے چھپائی،اس میں پہلی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں دیا گیا جنرل سہاگ کا حلف نامہ کوئی نیا نہیں ہے۔ وہ اس حلف نامے کو 2012 میں آرم فورس ٹریبونل میں پہلے بھی جمع کر چکے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ انہوں نے یہ حلف نامہ فوجی سربراہ کے طور پر نہیں ،بلکہ ذاتی طور پر کورٹ میں جمع کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس حلف نامے کا آرمی چیف نام کے ادارہ سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس لئے اس حلف نامے کو سچائی کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔ ’’چوتھی دنیا ‘‘ کو تحقیقات کے دوران جو معلومات ملی ہیں،وہ حیران کن ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟جنرل سہاگ تو اب فوجی سربراہ بھی بن گئے ، تب انہیں یہ کہنے کی ضرورت کیوں پڑی کہ ان کا پروموشن روکا گیا؟اس کے ساتھ ہی جنرل سہاگ کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ دینے کی ضرورت کیوں پڑی ؟دراصل یہ معاملہ پرانا ہے اور جنرل سہاگ کا حلف نامہ بھی پہلے کا ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل سہاگ کا حلف نامہ جنرل وی کے سنگھ پر الزام نہیں ہے، بلکہ اس پر مرکوز ہے کہ جنرل سہاگ فوجی سربراہ کیوں بنے اور وہ کیسے الزام سے بری ہوگئے ،اس کی دلیل ہے۔دراصل لیفٹیننٹ جنرل سہاگ کے خلاف لیفٹیننٹ جنرل دستانے نے مقدمہ کیا تھا ،جس میں انہوں نے سہاگ کو فوجی سربراہ بنائے جانے کو غیر قانونی اور فیورٹزم کا الزام لگایا تھا۔ یہ معاملہ پہلے آرم فورس ٹریبونل میں گیا تھا، جہاں جنرل سہاگ نے اپنے بچائو میں 2012 میں یہ حلف نامہ دیا تھا۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ کورٹ نے جنرل سہاگ کو اپنا دعویٰ پیش کرنے کو کہا۔اسی کے جواب میں جنرل سہاگ نے اپنے پرانے حلف نامے کو کورٹ میں پیش کیا۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اس حلف نامے کو جان بوجھ کر لیک کیا گیا۔ کچھ چنندہ صحافیوں تک اسے پہنچا کر سنسنی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ یہ معاملہ پہلے بھی میڈیا نے اچھالا تھا، اس وقت بھی سیاستدانوں کا ایک طبقہ جنرل وی کے سنگھ کا استعفیٰ مانگنے کے لئے میدان میں کود پڑا تھا۔ تب بھی ملک کے عظیم صحافیوں نے اسی طرح پروپیگنڈہ کیا تھا، جیسا کہ وہ اس بار کررہے ہیں۔
حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ سب جنرل سہاگ کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کی تو بات کرتے ہیں،لیکن کوئی یہ ایشو نہیں اٹھاتا کہ جنرل سہاگ پر کیا کیاالزامات ہیں اور ان کے پروموشن کو روکنے کا عمل اور وجہ کیا تھی؟اس معاملے کو سمجھنے کے لئے جورہاٹ آپریشن کا سچ اور فوج کے 3کور کے انٹلی جنس یونٹ کی کارروائیوں کو جاننا ضروری ہے۔یہ سب ہم اس آرٹیکل کے ساتھ چھاپ رہے ہیں۔ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ پر کئی طرح کے الزامات لگے ہیں۔ کچھ الزام جنرل دستانے نے لگائے ہیں،جس کی سنوائی سپریم کورٹ میں چل رہی ہے۔ کچھ معاملوں کا نارتھ ایسٹ کی عدالتوں میں فیصلہ ہونا ہے۔ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ پر آرمڈ فورس اسپیشل پاورس ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ الزام یہ ہے کہ دیما پور کی انٹلی جنس یونٹ نے ان کی ناک کے نیچے کئی شرمناک کارناموں کو انجام دیا ہے۔ اس یونٹ کی سربراہی کرنل شری کمار کے پاس ہے، جو سیدھے لیفٹیننٹ جنرل سہاگ کو رپورٹ کرتے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ فوجی سربراہ کا لائن آف سکسیشن یعنی جانشینوں کی ترتیب، ایک سازش کا حصہ ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں کورٹ کا فیصلہ اگر جنرل دلبیر سنگھ کے خلاف آتا ہے تو وزارت دفاع کے ساتھ ساتھ سرکار کو بھی شرمندہ ہونا پڑے گا۔انہیں جواب دیتے نہیں بنے گا کہ یہ چوک کیسے ہو گئی۔ آزاد اور غیر جانبدار میڈیا کے نام پر ہتھیار مافیا کی آواز بلند کرنے والوں کو سنسنی پھیلانے سے پہلے سبھی واقعات کی جانکاری دینی چاہئے جس کی وجہ سے جنرل سہاگ پر یہ سنگین الزام لگے ہیں۔
اس پورے معاملے کے مرکز میں جورہاٹ کا واقعہ ہے، جس میں فوج کی ایک یونٹ پر ڈکیتی کرنے کا الزام ہے۔ حیرانی یہ ہے کہ اس معاملے میں کسی آفیسر پر آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہیں صرف ڈانٹ پھٹکار کر چھوڑ دیا گیا۔دراصل، ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ نے جورہاٹ آپریشن کی تحقیقات کے لئے کورٹ آف انکوائری تشکیل کی تھی۔ ایک بریگیڈیئر رینک کے آفیسر سے اس کی جانچ کرائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک بریگیڈیئر اپنے سے سینئر کسی لیفٹیننٹ جنرل کے کام کی جانچ کر سکتا ہے؟ اس لئے جورہاٹ کے واقعہ پر لیپا پوتی کرنے کے معاملے میں شک کی سوئی فوج کے 3کور کے جنرل آفیسر کمانڈگ یعنی کمانڈنگ آفیسر یعنی چیف (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ پر بھی تھی۔یہ واضح ہے کہ کسی لیفٹیننٹ جنرل کی سرگرمی اور غلطیوں کی تحقیقات ایک بریگیڈیئر نہیں کرسکتاہے۔ خاص طور پر تب جب یہ پتہ ہو کہ وہ ایسٹرن کمانڈ کے چیف (جی او سی اِن سی )کا نزدیکی ہے۔ کیا جور ہاٹ جیسے شرمناک حادثے کی تحقیقات کے لئے تشکیل شدہ کورٹ آف انکوائری بہانے بازی یا محض چھلاوا تھا؟ جورہاٹ واقعہ کی وجہ سے ہندوستانی فوج کی ساکھ دائوں پر لگی تھی، اس لئے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے فوج کی ساکھ اور افسروں کی جوابدہی طے کرنے کے لئے حکم دیئے تھے۔ یہ بات اور ہے کہجنرل وی کے سنگھ کے ریٹائر ہونے کے بعد جس بریگیڈیئر نے جور ہاٹ کی جانچ کی، انہیں عہدہ کا فائدہ دیا گیا۔ وہ اب ایسٹرن سیکٹر میں لیفٹیننٹ جنرل ابھے کرشن کے اندر ایک ڈویژن کی سربراہی کررہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ابھے کرشن کے خلاف بھی جور ہاٹ کے واقعہ کو لے کر وجہ بتائو نوٹس اور ڈی وی بین لگایا گیا تھا،کیونکہ اس وقت وہ 3کور ہیڈ کوارٹر کے بریگیڈیئر جنرل تھے، جس کے تحت 3 سی آئی ایس یو کام کر رہی تھی۔ مطلب یہ ہے کہجنرل وی کے سنگھ کے جانے کے بعد ان لوگوں کو پھر سے اہم جگہوں پر بحال کیا گیا جن پر جور ہاٹ کے واقعہ کے لئے جوابدہی طے ہونی تھی۔ سوال یہ نہیں ہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے کیا فیصلہ لیا اور کیوں لیا؟سوال یہ ہے کہ اگر جور ہاٹ کا واقعہ ہوا ہے تو پھر ذمہ دار کون ہے؟ اگر اس کے لئے ذمہ دار افسروں کو چھوڑ دیا گیا تو کور کمانڈر کا کردار شک کے دائرے میں کیوں نہیں آتا ہے؟سوال تو یہ بھی ہے کہ جن اخباروں یا ٹی وی چینلوں نے جنرل دلبیر سنگھ کے حلف نامے کو لے کر ہنگامہ مچایا، انہوں نے جورہاٹ کے واقعہ کے بارے میں کبھی کیوں نہیں بتایا ؟جہاں تک جنرل دلبیر سنگھ پر لگے الزامات کا سوال ہے تو یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کا 18 مئی 2012 کا حکم اور 19 مئی 2012 کا وجہ بتائو نوٹس صرف ایک غلطی کے لئے نہیں، بلکہ کئی غلطیوں کے لئے دیا گیا تھا۔ جور ہاٹ معاملے میں ذمہ داری کی ادائیگی پوری طرح سے نہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں میجر ٹی روی کرن کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کرنے کی چوک بھی شامل تھی۔ میجر روی کی شکایت سنگین تھی ۔ اس میں 3 منی پوری نوجوانوں کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا۔ حلف نامے میں صرف یہ کہہ دینا مضحکہ خیز ہے کہ میں چھٹی پر تھا اس لئے میری ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب جنرل سہاگ لوٹ کر آئے ، تب انہوں نے کیا کیا؟سوال یہ ہے کہ اگر کمانڈر چھٹی پر چلا جائے تو کیا اس کی یونٹ کو کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی کام کرنے کی چھوٹ مل جاتی ہے؟یہ کیسی ذمہ داری ہے کہ کوئی یونٹ قتل اور لوٹ جیسے سنگین جرم میں شامل ہو اور کمانڈر یہ کہہ دے کہ میری ذمہ داری نہیں ہے، کیونکہ میں چھٹی پر تھا۔ جنرل سہاگ کو یہ بتانا چاہئے کہ وہ کون سا خفیہ منصوبہ، منشا اور مقصد تھا جس کی وجہ سے لوٹ اور قتل جیسے معاملے میں ملوث آفیسر ان کی ناک کے نیچے سے بچ کر نکل گئے؟ان افسروں کے خلاف کارروائی نہیں کرنے کے پیچھے جنرل سہاگ کی کیا مجبوری تھی؟ان سوالوں کا جواب کون دے گا؟سوال تو یہ بھی ہے کہ جب یہ معاملہ کورٹ میں چل رہا ہے تو ان واقعات میں شامل افسروں کو کلین چٹ کیسے دے دی گئی؟
میجر ٹی روی کرن اس انٹلی جنس یونٹ کے سیکنڈ اِن کمانڈ تھے۔ انہوں نے 12مارچ 2010 کو ایسٹرن کمانڈ کے چیف یعنی جی او سی اِن سی سے خط لکھ کر شکایت کی تھی۔ اس شکایت کی کاپی انہوں نے جی او سی 3کور اور فوجی سربراہ کو بھی بھیجی تھی۔ انہوں نے اس شکایت میں لکھا کہ 10مارچ2010 کو 3 منی پوری نوجوانوں کو اغوا کرکے ان کی یونٹ میں لایا گیا، انہیں ٹارچر کیا گیا۔ پھر رات کے اندھیرے میں میس کے پیچھے گولی مار کر قتل کر دیا گیا ۔ اس شکایت کے بعد تو فوج میں ہڑکمپ مچ جانا چاہئے تھا۔ فوجی سربراہ کو وزیر دفاع سے بات کرنی چاہئے تھی۔ بغیر وقت بتائے اس نفرت آمیز واردات میں شامل افسروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ لیکن کوئی سگ بگاہٹ تک نہیں ہوئی۔ اتنیبڑے واقعہ کے بعد کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگی۔ کسی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ جوابدہی کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد تو ایسٹرن کمانڈر سے لے کر یونٹ کے سب سے جونیئر آفیسر کی کرسی ہل جانی چاہئے تھی،لیکن سب نے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی ۔
میجر ٹی روی کرن نے 25جنوری 2012 کو پھر سبھی کو شکایت بھیجی۔ اس کے بعد بھی ایسٹرن کمانڈ میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی،لیکن تب تک جنرل وی کے سنگھ فوجی سربراہ بن چکے تھے۔ میجر ٹی روی کرن کی شکایت ملتے ہی انہوں نے ایسٹرن کمانڈ کو جانچ کرنے کی ہدایت دی ،لیکن ستم ظریفی دیکھئے ،ایسٹرن کمانڈ نے فوجی سربراہ کی ہدایت کو آگے بڑھا دیا اور اس کی جانچ 3کور کو کرنے کے لئے کہہ دیا۔ مطلب یہ کہ جن لوگوں پر کارروائی ہونی تھی، انہیں ہی جانچ کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ یہ کام ایسٹرن کمانڈ کے چیف جنرل بکرم سنگھ نے کیا تھا۔ 3کور کے چیف لیفٹیننٹ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے اس معاملے میں کیا کارروائی کی، کسے سزا ملی،یہ آج تک کسی کو پتہ نہیں چلا۔ کیا جنرل دلبیر سنگھ کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ3 منی پوری نوجوانوں کے قتل کے معاملے میں انہوں نے کیا کیا؟سوال تو یہ بھی ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کے خلاف مہم چلانے والے اخبار اور ٹی وی چینلوں کی کیا یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ 3 منی پوری نوجوانوں کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے لئے کون ذمہ دار ہے؟یہ معاملہ آج بھی کورٹ میں چل رہا ہے۔ 3 نوجوانوں کا قتل ہوا ہے۔ شک کے گھیرے میں ہندوستانی فوج ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ جب دونوں معاملوں میں ایک ہی آفیسر کا نام سامنے آرہا ہے، تو یہ معاملہ اور بھی سنگین بن جاتاہے۔
کیا یہ جنرل وی کے سنگھ کی غلطی ہے کہ انہوں نے 3 نوجوانوں کے قتل میں شامل افسروں کے خلاف جانچ کے حکم دیئے اور جب جانچ کو بہکانے کی کوشش کی گئی تو بڑے بڑے افسروں کی ذمہ داری طے کی۔ وہیں میجر ٹی روی کرن کے خط میں اس قتل کے واقعہ کے لئے یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر کرنل گوندن شری کمار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے میجر روبین کور کیر اور میجر نیکٹر کا بھی نام لیا تھا۔یہ سب ایک ہی انٹلی جنس یونٹ کے ہیں۔ ساتھ ہی لائیو انڈیا نام کے نیوز چینل نے 3فروری 2014 کو سنسنی خیز خبر دکھا کر میجر ٹی روی کرن کی باتوں کی تصدیق بھی کی۔ کیا اس کے بعد بھی کارروائی کرنا غلط تھا؟
جنرل سہاگ نے اپنے حلف نامے میں پُر اسرار سازش اور منشا کی بات کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان پر جو ڈی وی بین لگا ،وہ کوئی راز نہیں تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آرمی ہیڈکوارٹر کے اندرونی دستاویزوں میں جنرل سہاگ معاملے میں ڈی وی ڈائریکٹر، ڈی جے اے جی، ڈی جی ڈسپلن اے جی نے جانچ پرکھ کر تصدیق کی تھی۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل سہاگ کو مئی 2012 کو مزید ہدایت (فردر ڈائریکشن) اور وجہ بتائو نوٹس سی جی ایس سی آف اے ایف ٹی کی رائے اور رضامندی لینے کے بعد بھیجا گیا تھا؟اگر یہ سچ ہے تو جنرل سہاگ کا حلف نامہ گمراہ کن ہے۔ جب پوری سرگرمی کی تعمیل کرتے ہوئے کوئی کارروائی ہوئی ہو اور اس میں فوج کے مختلف ادارے بھی شامل ہوں تو اسے پُر اسرار بتانا کورٹ اور لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ میڈیا بھی اپنی جوابدہی کو درکنار کر کے بغیر تحقیقات کے لوگوں کو گمراہ کرنے میں لگا ہے۔
جہاں تک سازش کی بات ہے تو جنرل سہاگ کے حلف نامے کی ایک ا ور سچائی ہے، جسے چھپا لیاگیا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ 22/23 مئی 2012 کو جب وجہ بتائو نوٹس دینے کے لئے ایک آفیسر دیما پور پہنچا تو وہ اس آفیسر سے نہیں ملے۔ جبکہ اس دن وہ وہیں تھے۔ انہوں نے اس نوٹس کو جان بوجھ کر 24مئی 2012 کی دوپہر 12بج کر 15منٹ پر لیا۔ وجہ بتائو نوٹس کے ٹھیک 7 دن بعد جنرل وی کے سنگھ کی جگہ جنرل بکرم سنگھ فوجی سربراہ بننے والے تھے اور انہیں پتہ تھا کہ ان کے فوجی سربراہ بنتے ہی انہیں بچا لیا جائے گا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جنرل بکرم سنگھ فوجی سربراہ بنتے ہی جنرل سہاگ پر لگے ڈی وی بین کو منسوخ کرنے میں لگ گئے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آرمی ہیڈ کوارٹر میں کام کرنے والے لوگوں نے یہ تجویز دی تھی کہ جنرل سہاگ کو پوری طرح سے کلین چٹ نہیں دینی چاہئے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جنرل بکرم سنگھ نے ان تجاویز کو درکنار کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق جنرل بکرم سنگھ نے یہ بات زبانی کہی تھی کہ انہیں کوئی کچھ سکھائے نہیں،کیونکہ وہ ایسٹرن کمانڈ کے چیف رہ چکے ہیں اورانہیں پتہ ہے کہ وہاں کیا ہوا ہے؟ان سبھی جانکاریوں کو ایک فارمولے میں باندھ کر دیکھا جائے تو یہ دن کے اجالے کی طرح صاف ہے کہ جنرل بکرم سنگھ اور جنرل سہاگ کی ملی بھگت تھی۔ ایک سازش کے تحت مجرمانہ رویہ والے افسروں کو نہ صرف بچایا گیا بلکہ انہیں کلین چٹ دے کر پروموشن بھی دیا گیا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جن لوگوں نے جورہاٹ کے واقعہ اور منی پوری نوجوانوں کے قتل کے معاملے میں اپنی جوابدہی کی ادائیگی کی ،انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
کیا ملک کے میڈیا نے کسی بھی ایسے آفیسر کی کہانی بیان کی ہے جو موجودہ وقت میں تشدد کا نشانہ بنائے جاچکے ہیں۔جنرل سہاگ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے ان کے پروموشن کو روکنے کے لئے ڈی وی بین لگایا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جنرل سہاگ پہلے اور آخری آفیسر نہیں ہیں،جن پر ڈی وی بین لگا ہے۔ جب کسی آفیسر کو لگتا ہے کہ ان پر غیر قانونی یا غلط طریقے سے ڈی وی بین لگایا گیا ہے، تو عام طور پر وہ قانون کی مدد لیتا ہے، پروویژن کے مطابق بین کو چیلنج دیتا ہے۔ کئی افسروں کو اس کے ذریعہ انصاف بھی ملا ہے۔ مثال کے طور پر مئی 2012 کے بعد سے کئی افسروں پر ڈی وی بین لگایا گیا۔ ان افسروں کا بھی یہی الزام ہے،جو الزام جنرل سہاگ اب لگا رہے ہیں۔ لیکن جب جنرل سہاگ پر ڈی وی بین لگا تو انہوں نے اس فیصلے کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟قانونی لڑائی لڑنے کی جگہ انہوں نے جنرل وی کے سنگھ کے ریٹائر ہونے کا انتظار کیوں کیا؟کیا ان کو پہلے سے پتہ تھا کہ جنرل بکرم سنگھ کے فوجی سربراہ بنتے ہی ان پر لگے بین کو ہٹا لیا جائے گا؟جنرل وی کے سنگھ کے ریٹائر منٹ کے بعد فوج کے کئی سینئر افسروں پر ڈی وی بین لگایا گیا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ، دلی ہائی کورٹ اور آرم فورس ٹریبونل نے جنرل سہاگ کے ذریعہ لگائے گئے ڈی وی بین کو رد کیا ہے؟
جن عظیم ایڈیٹرز اور ٹی وی چینلوں نے اس خبر کو لے کر ملک میں سنسنی پھیلانے کی کوشش کی، وہ لوگ تو جان بوجھ کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں،لیکن جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ کیا ہے یہ نہیں بھولنا چاہئے۔ ان کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ملک میں دفاعی شعبے میں بیٹھے ہتھیار دلالوں اور مافیا کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ آج تک کسی فوجی سربراہ نے ہتھیار مافیا سے لڑنے یا ان کا پردہ فاش کرنے کا کام نہیں کیا اور نہ ہی جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کر رہے ہیں۔ وہ صرف اور صرف جنرل وی کے سنگھ تھے،جنہوں نے ہتھیار مافیا کو فوج سے بھگایا،انہیں ایکسپوز کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فوج کو گھن کی طرح تباہ کرنے والے مافیا سے سیدھی ٹکر لی۔ جہاں تک ان کا رائٹ ریجن یعنی دائرہ اختیار تھا ،انہوں نے فوج سے مافیا اور دلالوں کی صفائی کی۔ جنرل وی کے سنگھ جب فوجی سربراہ تھے،تب انہوں نے کئی گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا، ہتھیار مافیا کو روکا اور کئی جانچوںمیں مدد کی۔ ان کی وجہ سے سوکھنا لینڈ اسکیم، ٹاٹا ٹرک اور آدرش سوسائٹی گھوٹالے کا پردہ فاش ہونا ممکن ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جنرل وی کے سنگھ کے یوم پیدائش کی تاریخ پر تنازع کھڑا کیا گیا۔ جب انہوں نے انا ہزارے کے ساتھ مل کر ملک میں بد عنوانی مخالف تحریک چلانا شروع کیا تب ’انڈین ایکسپریس‘ نے تختہ پلٹ کی جھوٹی اسٹوری چھاپ کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی۔ جب سے وہ وزیر بنے ہیں، تب سے یہ دیکھا جارہا ہے کہ جب بھی یہ کچھ اچھا کرتے ہیں تو ان کے خلاف میڈیا میں ایک کمپین شروع ہو جاتا ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں،بلکہ ہتھیار کے دلالوں اور مافیا نیکسس کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ انہیں آج بھی یہ ڈر ستاتا ہے کہ کہیں جنرل وی کے سنگھ کو ایسی کوئی ذمہ داری نہ مل جائے جس سے ان کا جینا مشکل ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل سہاگ کے خلاف جو الزامات ہیں، وہ سبھی معاملے کورٹ میںچل رہے ہیں۔ ابھی فیصلہ آنا باقی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کورٹ میں معاملہ چلنے کے باوجود جنرل سہاگ کو فوجی سربراہ مقرر کیا گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان معاملوں میں عدالت کیا فیصلہ سناتی ہے اور فیصلے کے بعد سرکار کیا جواب دیتی ہے۔ لیکن ہندوستان میں جو طریقہ ہے اور جو سچائی ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان معاملوں کو جان بوجھ کر ٹالا جائے گا اور فیصلہ ہونے تک ایک زمانہ گزر جائے گا۔ سرکار اگر سچ سامنے لانا چاہتی ہے تو اسے ان معاملوں میں تیزی لانے کے لئے پہل کرنی ہوگی،تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں ایک متحرک ہتھیار مافیا ہے۔یہ ایک طاقتور لابی ہے جو فوج سے جڑے ہر سودے میں اپنا دخل رکھتی ہے۔دراصل یہ ایک گینگ ہے جو ہر سیاسی پارٹی، میڈیا اور اقتدار کے ہر سینٹر میں براجمان ہے ۔اس لئے جو اس کے خلاف ایک لفظ بھی بولتا ہے، اسے مخالفت اور ذلت برداشت کرنی پڑتی ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *