دلی کے تین صحافیوں کا دورہ کشمیر مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت سے ہی ہو

ہارون ریشی
p-3ایک ایسے وقت جب وادی کشمیر تشدد کی آگ میں جل رہی ہے اور یہاں کی سڑکوںاور ہائی ویز پر موت کا ناچ جاری ہے، نئی دہلی سے کشمیر آنے والے تین صحافیوں کا گروپ کشمیریوں کے لئے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح تھا۔ جب میڈیا کے ذریعہ کشمیری عوام کو پتہ چلا کہ نئی دہلی کے تین قابل اعتماد سینئر صحافیوں کا گروپ یہاں کے حالات کا خود اپنی آنکھوں سے جائزہ لینے گرائونڈ زیرو پہنچا ہے تو لوگوں میں امید کی ایک کرن جاگ اٹھی کہ شاید آزاد صحافیوں کا یہ گروپ وہاں سے واپس جا کر ملک کے عوام کو کشمیر کی اصل صورت حال سے واقف کرائے گا۔ عام کشمیریوں کو یہ شکایت ہے کہ دلی کی الکٹرانک میڈیا کا ایک طبقہ کشمیر کی صحیح صورت حال کو دکھانے کی بجائے اسے توڑ مروڑ کر پیش کررہا ہے اور کشمیریوں کی شبیہ غلط انداز میں پیش کی جارہی ہے۔ صحافیوں کے اس گروپ کی قیادت ملک کے جانے مانے مشہور صحافی اور ’’ چوتھی دنیا ‘‘کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ کررہے تھے۔ صحافیوں کے اس گروپ میں سیاسی تجزیہ کار ابھے کمار دوبے اور مشہور کالم نویس اشوک وان کھیڈے شامل تھے۔ 11 ستمبر کی صبح جب وادی کشمیر کے تمال اضلاع میں ہڑتال اور کرفیو کی وجہ سے عام زندگی ٹھپ تھی، تب صحافیوں کا یہ گروپ سری نگر پہنچا۔ یہاں سے صحافیوں کا یہ گروپ سیدھے سری نگر کے وزیر باغ میں حریت کانفرنس کے لیڈر پروفیسر عبد الغنی بٹ کے گھر پہنچا۔ پروفیسر نے مسکراہٹ کے ساتھ ان صحافیوں کا استقبال کیا اور ان کو کشمیر کی روداد سنانی شروع کی۔ تینوں صحافیوں نے بہت ہی خاموشی سے پروفیسر کی باتیں سنیں۔پروفیسر نے مؤثر طریقے سے صحافیوں کے سامنے کشمیر کے مسائل کے سیاسی اور تاریخی پہلو بیان کیا۔ بلکہ انہوں نے اس مسئلے کی وجہ سے پورے جنوبی ایشیا کے لئے موجود خطرے کا بھی ذکر کیا۔ پروفیسر نے گروپ کو ان اسباب سے بھی واقف کیا جو کشمیر میں جاری موجودہ تشدد کا سبب بنے ہیں۔انہوں نے صحافیوں کے اس گروپ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کس طرح کشمیریوں کی نئی نسل اس تحریک سے جڑ گئی ہے، جس کے لئے گزشتہ 70 سالوں سے ان کے اجداد قربانیان دیتے آرہے ہیں۔ ایک حریت لیڈر کی زبانی اس کہانی کو سننے کے بعد صحافیوں کے اس گروپ نے دو ٹوک لفظوں میں یہ قبول کیا کہ کشمیر مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لئے بات چیت کئے جانے کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد دلی کے صحافیوں کا یہ گروپ کشمیر میں اپنے تین دن کے دورے کے دوران یہاں کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے ملا اور ان کی باتین سنی۔ سری نگر سول سوسائٹی کے کئی نامور لوگوں نے اس گروپ سے ملاقات کی اور کشمیر مسئلے کے تاریخی، سیاسی ،سماجی ،معاشی اور فوجی پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ صحافیوں کے گروپ نے گھنٹوں تک الگ الگ خطوں کے ماہرین کی باتوں کو غور سے سنا اور وقت بوقت ان سے سوال کرتے رہے۔ سول سوسائٹی کے لوگوں نے صحافیوں کے سامنے ایسی کئی مثال رکھی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عام کشمیری کسی بھی طرح سے فرقہ وارانہ ذہنیت نہیں رکھتا ہے بلکہ وہ صرف اس حق کے حصول کے لئے جدو جہد کررہے ہیں جس کا وعدہ ہندوستان کی قیادت نے قومی اور عالمی سطح پر ان سے کئے ہیں۔ سول سوسائٹی کے ان ممبروں نے صحافیوں کو بتایا کہ کس طرح سے دلی کے کچھ نیوز چینل جھوٹ بول کر کشمیریوں کی کردار کشی کررہے ہیں۔انہوں نے صحافیوں کے سامنے ایسی بہت ساری مثال رکھے جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں عام لوگوں کے خلاف طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیا جارہا ہے۔
سول سوسائٹی نے کشمیر کی اقتصادی پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے اقتصادی مفادات کے ساتھ کس طرح کھلواڑ کیا جارہاہے۔ سنتوش بھارتیہ ، ابھے دوبے اور اشوک وان کھڈے نے سری نگر میں صحافیوں کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔ کشمیری صحافیوں نے اپنے نئی دلی کے دوستوں کے ساتھ کشمیر اور کشمیر کے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے یہاں کے حقیقی حالات سے واقف کرایا ۔ کشمیری صحافیوں نے یہاں کے حالات کو لے کر نئی دلی کی بے حسی کے رویہ اور نازیبا سلوک پر بات کی۔ اس بات چیت کے بعد دلی کے صحافیوں نے مانا کہ یہاں کے صحافیوں نے صحافت کے اصول کو زندہ رکھا ہے اور کشمیر سے جڑی ان کی کئی غلط فہمیوں کو ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔ صحافیوں کے گروپ نے نئی دہلی اور کشمیر کے صحافیوں کے بیچ آمنے سامنے کی بحث کے امکانات کا بھی ذکر کیا تاکہ دونوں طرف کے صحافیوں کے تجربات کی بنیاد پر پہلے کشمیر کے مسئلے کو اچھی طرح سے سمجھا جاسکے اور عوام کو واقف کرایا جاسکے۔
سنتوش بھارتیہ، ابھے دوبے اور اشوک وان کھیڈے نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے لیڈروں سے بھی ملاقات کی۔ نیشنل کانفرنس کے ایک سینئر لیڈر کی قیادت میں ایک گروپ نے ان صحافیوں کو بتایا کہ نئی دہلی بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ کشمیر مسئلے کا حل آئین کے دائرے میں رہ کر ہی نکالا جاسکتا ہے لیکن 2000 میں جب نیشنل کانفرنس نے آئین کے دائرے میں رہ کر ہی کشمیر مسئلے کو حل کرنے کے لئے جموں و کشمیر اسمبلی میں دو تہائی کی اکثریت سے خود مختاری کی تجویز پاس کی اور اس پر غور کرنے کے لئے مرکزی سرکار کے پاس بھیجا ،تب مرکزی سرکار نے اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے یا کابینی میٹنگ میں پیش کرنے کے بجائے سیدھے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈروں نے بتایا کہ نئی دلی کے اس غیر جمہوری رویے کی وجہ سے کشمیری عوام کو ہندوستانی جمہوریت کے اداروں پر بھروسہ نہیں رہا۔ نیشنل کانفرنس کے گروپ نے صحافیوں کو بتایا کہ کس طرح نئی دہلی نے 1953 میں کشمیر کے وزیر اعظم اور اس وقت کے کشمیر کے مقبول لیڈر شیخ عبد اللہ سرکار کو غیر جمہوری طریقے سے برخاست کردیا گیا تھا۔ انہیں 11 سال تک جیل میں رکھا گیا۔
اس دوران ، پی ڈی پی کے ایک ممبر پارلیمنٹ نے بتایا کہ کشمیر کے تئیں نئی دلی کا رویہ اتنا غیر مناسب ہے کہ وہ کبھی کبھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کہیں وہ اتنے بے شرم تو نہیں ہیں کہ وہ ابھی تک پارلیمنٹ کے ممبر بنے ہوئے ہیں۔ اس ممبر پارلیمنٹ نے صحافیوں کو ان سچائیوں سے واقف کیا جس کی وجہ سے آج کشمیر تشدد کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ صحافیوں کو اس وقت حیرت ہوئی جب حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے انہیں اپنے گھر بلایا ۔ لیکن پولیس نے ان صحافیوں کو ان کے گھر نہیں جانے دیا۔ بعد میں فون پر ہی ان صحافیوں نے گیلانی سے تقریباً آدھے گھنٹے تک بات چیت کی۔ صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ نئی دہلی کی سول سوسائٹی اگر آپ سے بات چیت کے لئے ثالثی کرتی ہے تو کیا آپ اس کے لئے تیار ہوں گے تو بغیر ایک لمحہ گنوائے انہوں نے کہا کہ اب تک ایسا ہوا کیوں نہیں؟ گیلانی نے صاف کیا کہ وہ بنیادی طور پر بات چیت کے خلاف نہیں ہیں۔
ان صحافیوں کو سری نگر ہوائی اڈے سے نکلنے سے لے کر اپنے تین دن کے دورے کے دوران کشمیر کے عام لوگوں سے بھی ملنے کا موقع ملا۔ ٹیکسی ڈرائیور سے لے کر ہوٹل کے بیرے، سیلس مین سے لے کر راہ چلتے لوگوں تک سے بات چیت ہوئی۔ ہر کسی نے کہا کہ کشمیری عوام صرف اپنے حق کی بحالی چاہتے ہیں اور اس مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعہ ہی چاہتے ہیں۔ صحافیوں کایہ گروپ کشمیر ٹریڈرس کے لیڈروں سے بھی ملا جنہوں نے بتایا کہ وہ روز روز کے لڑائی جھگڑے سے تنگ آگئے ہیں اور اس مسئلے کا فوری طور پر حل چاہتے ہیں۔ ان صحافیوں سے ملنے کے لئے عام کشمیری بھی آئے۔انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق کشمیر مسئلے کے حل کے لئے اپنی رائے پیش کی ۔
کرفیو ہٹنے کے بعد ان صحافیوں نے رات کے اندھیرے میں سری نگر کے ان علاقوں کا بھی دورہ کیا جہاں گزشتہ ڈھائی مہینوں سے دن میں بھی سناٹا طاری رہتا ہے۔ کل ملاکر دلی کے صحافیوں کا یہ دورہ کشمیر کے گرائونڈ زیرو کا خود اپنی آنکھوں سے جائزہ لینے اور سمجھنے کا ایک جرأت مندانہ کوشش اور انوکھا موقع ثابت ہوا۔ ایسا موقع کسی دیگر ہندوستانی صحافی کو گزشتہ ڈھائی مہینوں میں نہیں ملا ہے۔ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اس دورے کے بعد ان صحافیوں کے مضامین اور تجزیات میں کشمیر کی اصل تصویر کی جھلک دکھائی دے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *