تعلیم کے بعد صحت آئین کے بنیادی حقوق میں شامل کیوں نہیں؟

شاہد نعیم
11ہندوستان جس تیز رفتاری سے ترقی کی منزلیں طے کررہا ہے، بڑی طاقت بن رہا ہے۔ ساری دنیا اس کی ترقی سے انگشت بدنداں ہے۔ لیکن جب ہم صحت کے شعبے سے متعلق مختلف سروے پر نظر ڈالتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ صحت و علاج کے معاملے میں ترقی یافتہ ممالک کی تو بات ہی چھوڑیے، ہم دنیا کے پچھڑے ہوئے ملکوںسے بھی زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کی اوسط عمر 68 برس ہے، جبکہ چین کے لوگوں کی اوسط عمر 76 سال، سری لنکا کی75 سال اور بنگلہ دیش کے لوگوں کی اوسط عمر 72 سال ہے۔ 2012 میں ہوئے سروے کے مطابق ہندوستان میں ایک لاکھ افراد میں سے 233 افراد لقمۂ اجل بن جاتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی سطح پر ایک لاکھ افراد میںمرنے والوںکی اوسط178 ہے۔ گویا ترقی کے معاملے میں ہم لاکھ مریخ پر کمندیں ڈالنے کی بات کر رہے ہوں، لیکن صحت کے شعبے میں ہم نیپال اور بنگلہ دیش جیسے غر یب ملکوںسے بھی گئے گزرے ہیں۔
ہندوستان میںصحت و زندگی میں پچھڑے پن کی سب سے بڑی وجہ غریبی اور غذائی قلت ہے۔ جب ماںصحت مند ہوتی ہے، تو اس کا بچہ بھی صحت مند پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ غریبی اور غذائی قلت کے سبب عورتیں کمزور بچے کو جنم دیتی ہیں۔ شیر خوار بچہ کی یہ کمزوری بڑا ہونے کے بعد بھی اس کا پیچھا نہیںچھوڑتی۔ طرح طرح کی بیماریاں اسے گھیرے رہتی ہیں۔ ان بیماریوںسے نجات پانے کے لیے وہ سرکاری اسپتالوںکارخ کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ سرکاری اسپتالوں میںبھی بہتر طبی خدمات فراہم نہیںہوتیںجس کی وجہ سے غریب آدمی اپنے علاج سے مایوس ہوکر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنی زندگی کے بوجھ کو ڈھوتا ہے، جبکہ پیسے والے لوگ پرائیویٹ ڈاکٹروں اور مہنگے اسپتالوں میںعلاج کراکر شان کے ساتھ صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔
مرکزی حکومت اور ریاستی سرکاریں حفظان صحت اور علاج کے لیے کافی موٹی رقمیںخرچ کرتی ہیں، اس کے باوجود لوگ بہتر علاج کو ترستے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان میں مرنے والوں کے گراف کو بڑھا دیتے ہیں۔ دراصل ہندوستان میںغربت و افلاس سے بے حال لوگوںکی بڑی آبادی ہے۔ حکومت کے ذریعے صحت و علاج کے لیے مختص کی گئی رقم اتنی بڑی آبادی کے لیے ناکافی رہتی ہے۔ موجودہ سرکار نے 2015 میںقومی صحت پالیسی مرتب کرنے کے لیے کہا بھی تھا،لیکن افسوس کہ اس سلسلے میںکوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اور صحت و علاج کے تعلق سے کوئی بھی تجویز پارلیمنٹ میںبحث کے لیے نہیں لائی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ نیتی آیوگ بھی صحت کے شعبے میںخرچ بڑھانے کے حق میںنہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ ملک میں پرائیویٹ اسپتالوں کی بھرمار ہوئی جارہی ہے۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ صحت کے معاملے میں آئین سازوں نے بھی کوئی توجہ نہیں دی، جبکہ صحت و علاج بھی ہر شہری کا بنیادی حق ہونا چاہیے تھا اورجس طرح 6 سال سے 14 سال کے بچوں کے لیے تعلیم کو بنیادی حق مانتے ہوئے آئین کے تحت مفت تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے، اُسی طرح صحت کو بھی آئینی طور پر بنیادی حق کی منظوریملنی چاہیے تھی، لیکن یہ حق اسے ابھی تک کیوں نہیںملا ہے، یہ تعجب خیز بات ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضہ ہے کہ حفظان صحت اور علاج کو بھی آئین ہند میں بنیادی حق تسلیم کیا جائے اور آئین کے تحت پندرہ سال سے کم عمر کے بچوں اور 60 سال سے زیادہ عمر کے شہریوںکو مفت طبی سہولیات سرکاری طور پر مہیا کرائی جائیں ۔
ہندوستان ایک بڑا ملک ہے۔ یہاںسب سے بڑی آبادی غریب لوگوںکی ہے، جس کی وجہ سے غریب لوگ اپنا علاج نہیںکراپاتے۔ اس کے علاوہ صاف صفائی نہ ہونے اور آلوگی کی سبب بھی بیماریاں ڈیرا جمائے رہتی ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میںعلاج کا معقول انتظام نہیں ہوتاہے، سرکاری سطح پر جو طبی سہولیات لوگوں کو میسر ہیں وہ ناکافی ہیں۔ اس لیے سرکار کو چاہیے کہ حفظان صحت و علاج کو آئینی طور پر بنیادی حق تسلیم کرے تاکہ سرکار کے ذریعے غریب لوگ بھی مفت طبی خدمات حاصل کرکے صحت مند سماج میں شامل ہوسکیں۔
حفظان صحت کو بنیادی حق ماننا سرکار کے لیے کوئی بڑی بات نہیںہے۔ تھائی لینڈ اور روانڈہ جیسے چھوٹے ملک بھی اپنے شہریوں کی صحت کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ اس تعلق سے اہم مثال روانڈہ کی ہے، جو بہت ہی غریب ملک ہے اور اس کی کل قومی پیداواربھی ہندوستان سے بہت کم ہے۔ اس کے باوجود روانڈہ حکومت ایک کروڑ 18 لاکھ آبادی میںسے 78 لاکھ افراد کی صحت کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ چین نے بھی حفظان صحت کے لیے اصلاحات کی ہیں، لیکن ہندوستان اس معاملے میں بہت پیچھے ہے اور اس نے ابھی تک اپنے شہریوں کے تعلق سے اصلاحات کی طرف توجہ نہیں دی ہے۔ اس لیے ضرور ی ہے کہ صحت کو آئینی طور پر بنیادی حق تسلیم کیا جائے تاکہ ملک کی تعمیر کے لیے صحت مند سماج تیار ہوسکے۔
اس سلسلے میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے 15 اراکین پارلیمنٹ اور سابق اراکین پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر صحت جگت پرساد نڈّا کو خط لکھ کر مفت اور لازمی تعلیم کی طرح صحت کو بھی بنیادی حق بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میںلکھا گیا ہے کہ ملک میںطبی خدمات کی کمی کو دیکھتے ہوئے اور غریب عوام کو علاج کی سہولت مہیا کرانے کے لیے صحت کو آئین میں بنیادی حق کا درجہ دیا جانا چاہیے تاکہ ہر شہری اپنا مفت علاج کراسکے۔ خط میںیہ بھی لکھا گیا ہے کہ ملک میںجس طرح نجی اسپتالوں کا جال پھیلتا جارہاہے اور علاج مہنگا ہوتا جارہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے صحت کو بنیادی حق دیا جانا بے حد ضروری ہے۔
سرکار اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ترقی یافتہ ملک کی تعمیر صحت مند شہری ہی کرسکتے ہیں۔ موجودہ منظر نامے میںصحت کے شعبے پر نظر ڈالیں، تو تمام طرح کے چیلنج منہ پھاڑے کھڑے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ سرکاری طور پر صحت و زندگی کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود غریبی اور غذائی قلت کے سبب ہم بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں۔ صاف صفائی کے فقدان اور آلودگی کے سبب بھی ہندوستان میں بیماریاں ڈیرہ جمائے رہتی ہیں اور ان سب کا عذاب غریب لوگوںکو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ امیر لوگ تو اپنے پیسے کے دم پر اپنی صحت کی حفاظت کرلیتے ہیں، لیکن غریب لوگ سسک سسک کر زندگی گزارتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کے معاملے میں ہندوستان دنیا کے غریب ملکوں سے بھی پچھڑ گیا ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ ایک بات اور یہ ہے کہ حفظان صحت اور علاج پر عدم توجہی کا شکار سب سے زیادہ غریب، کمزور اور پسماندہ طبقہ ہوتا ہے۔ چونکہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمان تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت میں بھی بہت کمزوراور پیچھے ہے، اس لیے اگر صحت کو بنیادی حق بنایا جاتا ہے تو اس سے اسے بھی فائدہ ہوگا۔
اس لیے ضروری ہے کہ صحت کو آئین ہندمیں بنیادی حق تسلیم کیا جائے اور سرکار اپنے غریب عوام کا شہروں اور دیہاتوں میںیکساں طور پر مفت علاج کرانے کا بندوبست کرے تاکہ ملک و قوم کی تعمیرکے لیے صحت مند سماج تیارہوسکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *