سنگور کے کسانوں کو انصاف ملا مگر نندی گرام اب بھی محروم

توقع ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان سیاسی پارٹیوں کے لئے سبق ہوگا جو کہ اپنے فکری اصولوں سے ہٹ کر عوام مخالف قدم اٹھاتی ہیں اور اقتدار کے نشے میں عوام کے مفادات ہی کو فراموش اور نظر انداز کردیتی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان کے اس عمل کو نہ عوام پسند کرتے ہیں اور نہ ہی عدالت اور وہ ہر جگہ پر مسترد کردیئے جاتے ہیں۔ سنگور کے بعد نندی گرام انصاف کا منتظر ہے۔

10 برس بعد ہی صحیح،سپریم کورٹ آف انڈیا نے بنگال میں سنگور کے غریب کسانوں کے حق میں 31اگست 2016 کو فیصلہ سنا کر ملک کے شہریوں میں یہ پیغام دیا ہے کہ انصاف زندہ ہے اور مظلوموں کو ان کے حقوق سے ہر گز محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس فیصلے سے سنگور کے مایوس باشندوں نے اطمینان کا سانس لیاہے۔ خوشی صرف انہیں ہی نہیں ہوئی ہے جنہوں نے اپنی زمینوں کو کھودیا تھابلکہ ملک کے ہر شہری کو ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ سنگورکی طرح ہی نند ی گرام کے باشندوں کو بھی ضرور انصاف ملے گا۔
واضح رہے کہ بنگال کی گزشتہ بائیں محاذ کی حکومت کا سنگور میں تحویل اراضی کا فیصلہ اتنا بھیانک اور اشتعال انگیز تھا کہ اس کے لئے اسے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مذکورہ حکومت نے ایمرجینسی کے دائوں کا استعمال کرتے ہوئے ٹاٹا موٹرس کو کار کی فیکٹری قائم کرنے کے لئے سنگور میں غریب کسانوں سے زبردستی چھین کر زمین دی تھی۔ وزیر اعلیٰ ممتابنرجی کا اس تاریخی فیصلے پر خوشی کا اظہار فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فرط مسرت سے سپریم کورٹ کا فیصلہ کے آنے کے بعد کہا ’’ سنگور (اور نندی گرام ) کے دردناک واقعات کو لے کر میری ریاست میں انتخابی جیت تو ہوچکی تھی اور بایاں محاذ اقتدار کھو چکا تھا مگر میں ایک کام کرنے کے لئے بے چین تھی اور وہ کام تھا وہاں کے غریب اور بے سہارا کسانوں کو ان کی زمینیں واپس لوٹانا۔ لہٰذا اب سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ کے بعد میں ایسا کر پائوں گی‘‘۔ ممتا بنرجی نے خوشی میں یہاں تک کہہ دیا کہ اس فیصلہ کے بعد جب بھی مجھے موت آئی تو میں آرام و سکون سے مروں گی، کیونکہ مجبور و بے بس کسانوں کو اب ان کی آبائی زمینیں مل جائیں گی ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سنگور کے کسانوں کے جذبہ کو سلام کرتی ہیں جنہوں نے مجبوری کی حالت میں زندگی گزارتے ہوئے بھی امیدیں نہیں کھوئیں۔
سی پی ایم قیادت والی بائیں محاذ حکومت نے مئی 2006 میں سنگور میں 997 ایکڑ زرعی زمینیں ٹاٹا موٹرس کی چھوٹی گاڑی نینو کے پلانٹ قائم کرنے کے لئے ایکوائر کی تھی اور یہ زمینیں انہیں دے دی گئی تھیں۔سپریم کورٹ کے 204صفحات کے اس فیصلے میں یہ بات بہت اہم اور قابل توجہ ہے کہ کسی بھی حکومت کا یہ فیصلہ قابل فہم ہے کہ صنعتی یونٹوں کو ریاست میں ترقی اور روزگار کے لئے قائم کیا جائے مگر یہ ترقی سوسائٹی کے ان کمزور طبقات کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئے جن کے پاس طاقتور ریاستی حکومت کے اس عمل کے خلاف آواز اٹھانے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں تھا۔
قابل غور ہے کہ10 برس قبل سنگور میں زمینوں کے ایکوائر کئے جانے کے بعد متعلقہ کسانوں نے عدالت کا رُخ کیا تھا اور ریاست ہی نہیں پورے ملک میں ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف زبردست احتجاج ہوا تھا جس کے سبب ٹاٹا موٹرس کو مغربی بنگال کو ٹاٹا(الوداع ) کہنے پرمجبور ہونا پڑا تھا اور اسے ریاست گجرات کا رُخ کرنا پڑا تھا جہاں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے انہیں خوش آمدید کہا تھا۔ ممتا نے کسانوں کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور اس سے فائدہ اٹھا کر ریاست میں برسر اقتدار ہوگئی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حکومت بنانے کے بعد 2011 میں ایک خصوصی قانون ’’ سنگور لینڈ ریہیبی لیٹیشن اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ ‘‘ بنایا تھا تاکہ اس کی مدد سے ٹاٹا موٹرس سے مذکورہ چھینی ہوئی زمینوں پرکسانوں کا پھر سے دعویداری کا حق جتایا جاسکے۔ سپریم کورٹ کے 31اگست کے فیصلہ سے اب سب کچھ صاف ہوگیا ہے۔
اس سلسلے میں ٹاٹا موٹرس کا رد عمل بڑا ہی عجیب و غریب ہے۔اس کی جانب سے یہ بیان آیا ہے کہ ممتا حکومت کے 2011 کے سنگور ایکٹ سے متعلق اس کے مقدمہ کی سماعت ابھی سپریم کورٹ میں ہونا باقی ہے، لہٰذا ہم اس کا انتظار کررہے ہیں۔ ممکن ہے 2011 میں ممتا کے ذریعہ مذکورہ قانون کو بناتے وقت کچھ تکنیکی امور سے متعلق اس کے اعتراضات ہوں گے ،مگر اس کے پاس اس بات کا کیا جواز ہے کہ اسے یہ زمینیں کسانوں سے چھین کر دی گئی تھیں۔ سی پی ایم کا بھی رد عمل بڑا ہی مضحکہ خیز ہے۔ انسانی بنیادوں کو طاق پر رکھ کر اس کے رہنما بکاس رنجن بھٹاچاریہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے سرمایا کاروں میں دہشت اورمایوسی پیدا ہوگی اور اب بنگال میں سرمایا لگانے اور صنعت قائم کرنے کوئی نہیں آئے گا۔اس تعلق سے وزیر اعلیٰ ممتا کا جواب ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے سرمایا کاری پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ریاست میں صنعتی ترقی جاری رہے گی،لیکن کسی کی اراضی کو چھینے بغیر۔
ٹاٹا موٹرس کی سنگور کی کہانی بہت ہی دلچسپ ہے ۔اس نے اس وقت کی مغربی بنگال کے بائیں محاذ کی حکومت سے’ نینو ‘کے پلانٹ قائم کرنے کے لئے زمین مانگی ۔ تب وہ حکومت جو کہ فوری طور پر مزدوروں اور کسانوں کی خیر خواہی کے لئے دنیا بھر میں مشہور تھی،اسے مئی 2006 میں زمینوں کو ایکوائر کرکے انہیں دے دیتی ہے ۔مگر حکومت کو 997ایکٹر زمین کو ایکوائر کرتے وقت زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈیڑھ برس بعدجنوری 2008 میں کلکتہ ہائی کورٹ بائیں محاذ کی حکومت کی تحویل اراضی کے فیصلے کو درست قرار دیتا ہے۔7ماہ بعد اپوزیشن لیڈر ممتا بنرجی اس ایشو کو اٹھاتے ہوئے سنگور میں دھرنا شروع کردیتی ہیں اور اس کے بعد پورے ملک میں آواز اٹھنے لگتی ہے۔ اکتوبر 2008 میں ٹاٹا موٹرس ان احتجاجوں سے تنگ آکر سنگور چھوڑنے کا فیصلہ کرلیتا ہے۔مئی و جون 2011 میں ریاستی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد ممتا بنرجی کسانوں کے حق میں 400 ایکڑ زمینوں کو پھر سے ایکوائر کرنے کے لئے ایک بل پاس کراتی ہیں۔اسی سال جون میں ٹاٹا موٹرس مذکورہ بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتا ہے جہاں اسے اسٹے مل جاتا ہے۔ بالآخر 31اگست کو بائیں محاذ کی حکومت کے لینڈ ایکوائر کرنے کے فیصلہ کو ملک کی عدالت عظمی رد کردیتی ہے اور کسانوں کو ان کی زمینوں کو لوٹانے کا فیصلہ سناتی ہے۔
اس موقع پر اس کالم نویس کو 1970 کی دہائی میں معروف اور بیباک صحافی ڈی ایف کراکا یاد آتے ہیں ،جنہوں نے ہریانہ میں ٹاٹا موٹرس کے ذریعہ ماروتی پلانٹ لگانے اور ماروتی گاڑیوں کے آنے پر ممبئی سے نکل رہے اپنے مشہور زمانہ انگریزی ہفتہ وار ’ دی کرنٹ‘ کی کور اسٹوری اسی ایشو پر بنائی تھی اور اس کا عنوان دیا تھا’’ دلی کی سڑکوں پر ماں روتی ماروتی‘‘ہے۔ وہ معاملہ ٹاٹا موٹرس کی ماروتی گاڑی کا تھا اور یہ معاملہ بھی اسی ٹاٹا موٹرس کی ’’ نینو‘‘ گاڑی کے لئے پلانٹ لگانے کا تھا۔ گاڑیوں یا کسی اور اشیاء کی صنعت لگانا غلط نہیں ہے مگر یہ کسی کا حق مار کر اس کی زمین پر زورو زبردستی سے ہر گز نہیں ہونا چاہئے۔
توقع ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان سیاسی پارٹیوں کے لئے سبق ہوگا جو کہ اپنے فکری اصولوں سے ہٹ کر عوام مخالف قدم اٹھاتی ہیں اور اقتدار کے نشے میں عوام کے مفادات ہی کو فراموش اور نظر انداز کردیتی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان کے اس عمل کو نہ عوام پسند کرتے ہیں اور نہ ہی عدالت اور وہ ہر جگہ پر مسترد کردیئے جاتے ہیں۔ سنگور کے بعد نندی گرام انصاف کا منتظر ہے۔

 

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *