شملہ سمجھوتہ اور اندرا- شیخ سمجھوتہ ہی کشمیر مسئلے کا حل ہے

کشمیر نے گزشتہ کچھ ہفتوں سے لگاتار ملک کا دھیان اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے۔کل 72لوگ مارے جا چکے ہیں اور بد امنی ابھی بھی برقرار ہے۔جو سوال ہر آدمی پوچھ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ کشمیر مسئلے کا حل کیا ہے؟لیکن اس سوال سے پہلے یہ پوچھا جانا چاہئے کہ کشمیر مسئلہ آخر ہے کیا؟کشمیر مسئلے کے دو پہلو ہیں۔ پہلا، پاکستان نے کشمیر کے ایک حصے پر 1947 سے زبردستی اور غیر قانونی ڈھنگ سے قبضہ کر رکھا ہے۔ 1947 کے بعد سے وہاں جنگ بندی نافذ ہے۔یہ معاملہ ہندوستان اور پاکستان کو آپس میں سلجھانا ہے۔ اس معاملے پر اتنا کہنا کافی ہے کہ اقوام متحدہ کی تجاویز ، جن میں عوامی ریفرنڈم ،پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے پاکستان فوج کی واپسی وغیرہ شامل ہیں، کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ ایک تو پاکستان نے تین مہینے کے اندر اپنی فواج واپس نہیں بلایا اور دوسرا یہ کہ ریفرنڈم وقت کی آبادی کے حساب سے ہونا تھا، اب یہ نا ممکن ہے۔ لہٰذا یہ خیال بحث سے خارج ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ سالوں پہلے ہندوستان کے وزیر اعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شملہ سمجھوتہ ہوا تھا، جس کے تحت 1971 کی جنگ میں قبضہ کی گئی زمین وغیرہ کو دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کو لوٹانے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس سمجھوتے میں دو پیرا گراف کا سمجھوتہ ہوا تھا۔اگر اس سمجھوتے کی تعمیل دونوں ملکوں کے درمیان ہوتی ہے تو یہاں امن قائم رہے گا۔ یہ پیرا گراف کچھ یوں ہیں،پہلا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سبھی ایشو زکشمیر سمیت دونوں ملک بغیر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے باہمی بات چیت سے حل کریں گے۔یہ سمجھوتہ اقوام متحدہ اور امریکہ کو کشمیر معاملے میں مداخلت کرنے سے الگ کر دیتا ہے۔ دونوں ملکوں کے وزیر اعظم اس پر خاص طور پر متفق تھے۔ دوسرا پیرا یہ تھا کہ اس وقت تک جب تک بات چیت سے مسئلے کا حل نہیں نکل جاتا تب تک دونوں میں سے کوئی بھی فریق طاقت کے بل پر زمینی صورت حال کو بدلنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ جنگ نہیں ہوگی۔ بد قسمتی سے یہ سمجھوتہ جو دو قابل لیڈروں کے بیچ ہوا تھا، آج کے لوگوں کو صحیح نہیں لگتا۔ وہ اکثر جنگ کی بات کرتے ہیں، جھگڑے کی بات کرتے ہیں اور غیر قانونی طور پر لوگوںکو دوسرے ملک بھیجتے ہیں۔ یہ ساری باتیں شملہ سمجھوتے کے خلاف ہیں۔چونکہ پاکستان کے لئے یہ آسان ہے ، اس لئے وہ اقوام متحدہ کی تجویزوں کی بات کرتا ہے، حالانکہ 1972 کے شملہ سمجھوتے کے بعد اس کا جواز ختم ہو گیا ہے اور باضابطہ طور پر زمین میں دفن ہو گیاہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ آئندہ ہم اپنے مسئلے آپسی بات چیت اور بغیر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے حل کریں گے۔ لہٰذا اب امریکہ اور اقوام متحدہ کی بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ بہر حال یہ ایک مسئلہ ہے، موجودہ مسئلہ یہ نہیں ہے۔
موجودہ مسئلہ یہ ہے کہ کشمیروادی میں بد امنی ہے۔ہندوستانی فوج یا ہندوستانی سرکار یہ کہہ سکتی ہے کہ پاکستان یہاں بدامنی پھیلا رہا ہے۔لیکن جب تک آپ کی اپنی آبادی اپنے لوگ ناراض نہ ہوں کوئی دوسرا اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور حقیقت یہ ہے کہ لوگ ناراض ہیں۔ ایک بار پھر آپ کہیں گے کہ وہ ناراض ہیں کیونکہ نوکریاں نہیں ہیں، اسکول نہیں ہیں، یہ ساری باتیں ٹھیک ہیں اور پورے ملک کے لئے ٹھیک ہیں۔ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ ہمارے یہاں نوکریوں کی کمی ہے۔لیکن کشمیر میں جو ہورہا ہے وہ الگ ہے۔
1975 میں اندرا گاندھی اور شیخ عبد اللہ کے بیچ ایک سمجھوتہ ہوا تھا۔کانگریس نے اکثریت ہونے کے باوجود شیخ کو سرکار کی باگ دور سونپ دی تھی۔ اس سمجھوتے کو شیخ اندرا-سمجھوتہ کے نام سے جانا جاتاہے۔ اس میں صاف طور پر کہا گیا تھا کہ کشمیر میں انتخاب کے ذریعہ سرکار بنے گی۔ ساتھ ہی 1953 (جب شیخ عبد اللہ گرفتار ہوئے تھے ) اور 1975 (جب وہ ایک بار پھر اقتدار میں آئے تھے) کے درمیان کشمیر میں لائے گئے سبھی قانونوں پر کشمیر سرکار کے ذردیعہ اسمبلی میں تجزیہ ہوگا اور دلی کے ساتھ غور وفکر کے بعد اس پر مناسب کارروائی ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ جہاں بھی نئی دلی نے آرٹیکل 370 کو کمزور کیا ہوگا، اسے پھر سے مضبوط کیا جائے گا،لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور شیخ 7 سال کے لئے وزیر اعلیٰ رہے اور 1982تک کشمیر مسئلہ ختم ہو گیا تھا۔پاکستان منہ دکھانے کے قابل نہیں تھا،کیونکہ مذہب کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کرکے بنے اس ملک کا مشرقی حصہ اس سے الگ ہو گیا تھا، جہاں اسی مذہب کی اکثریت تھی جس مذہب کی اکثریت پاکستان میں تھی۔
تو پھر 1982 کے بعد ہم نے کیاغلطی کی ؟ایسا اس لئے ہوا کیونکہ اس وقت کانگریس پارٹی کی سرکار تھی اور اندرا گاندھی کی اَنا اتنی بڑی تھی کہ وہ فاروق عبد اللہ کو کانگریس کو ہرا کر انتخاب جیتتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ لہٰذا 1983-84 میں دَل بدل کرا کر فاروق عبد اللہ سرکار گرا دی گئی اور ان کی جگہ ان کے بہنوئی جی ایم شاہ کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا، جو کانگریس کے کٹھ پتلی تھے۔ ایک بات اور یہاں صاف کر دوں کہ کشمیر میں کبھی بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا تھا ۔پہلا فساد جی ایم شاہ کے دور حکومت میں ہوا۔ ایسا کیوں ہوا؟کیونکہ وہ کشمیری عوام کے حقیقی نمائندہ نہیں تھے۔
ان سبھی باتوں کے بعد، اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟پہلا 1953 اور 1975 کے بیچ کشمیر کے لئے جتنے بھی قانون لائے گئے، ان پر کشمیریوں کو اپنی بات رکھنے کا اختیار دیجئے۔ بد قسمتی سے موجودہ اسمبلی ایک عجیب مرکب ہے ۔چار پارٹیاں ہیں،جنہیں اسمبلی میں سیٹیں ملی ہیں۔ یہاں ہوا یہ کہ آپ نے سرکار بنانے کے لائق سیٹیں جمع کی اور سرکار بنا لی۔آپ یہ کیسے پتہ کریں گے کہ لوگوں کی اس سرکار کے بارے میں کیا رائے ہے؟کیا عوام نے بی جے پی ،پی ڈی پی سرکار کو پسند کیا تھا؟اس کا صحیح جواب ہے،نہیں ۔کیونکہ مفتی محمد سعید کے جنازے میں ہزار لوگ شامل ہوئے تھے۔ محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ شیخ عبد اللہ کے بعد مفتی محمد سعید کشمیر کے سب سے قد آور لیڈر تھے، جبکہ شیخ کے جنازے میں ایک لاکھ کے قریب لوگ شامل ہوئے تھے۔یہ اشارہ ہے کہ موجودہ اتحاد کو عوام پسند نہیں کرتے ۔
کشمیر میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟اس کا جواب بی جے پی کو دینا چاہئے۔ آپ کم سے کم اقتدار چھوڑ دیجئے اور محبوبہ مفتی کو سرکار چلانے دیجئے اور انہیں باہر سے حمایت دیجئے۔ اگر آپ کشمیر میں بنے رہنا چاہتے ہیں تو کم سے کم کشمیر کے عوام کو یہ یقین دلائیے کہ آرٹیکل 370 پر آپ کا نقطہ نظر بدل گیا ہے اور یہ ہمیشہ کے لئے رہے گا۔ کیا بی جے پی یہ کہنے کے لئے تیار ہے کہ آرٹیکل 370 ہمیشہ کے لئے بنا رہے گا؟یا یہ کہ جو کانگریس کہتی ہے کہ آرٹیکل 370 تب تک بنا رہے گا جب تک جموں و کشمیر کے لوگ اسے قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ بدلائو بھی آپ نہیں کرتے تو ایک عام آدمی یہ سوچے گا کہ یہ دھوکہ ہے، بے معنی ہے۔آپ سرکار اس لئے بناتے ہیں تاکہ کچھ وزراء ،کچھ پیسے بنا سکیں۔آپ اور کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟جب یہ سرکار بنی تھی تو بی جے پی کے ترجمان نے کہا تھا کہ اب ہم جموں اور کشمیر مسئلے کا حل کر دیں گے۔ اگر یہ سرکار ناکام ہوتی ہے تو ہم سرکار سے استعفیٰ دے دیں گے۔اب استعفیٰ دینے کا وقت آگیا ہے۔ اب اس سے برا کیا ہو سکتا ہے ؟کشمیر مسئلے کا حل تو بھول جائیے، آپ نے تو مسئلے کو اور الجھا دیا ہے۔ آج اگر ہمیں مسئلے کے حل کی طرف بڑھنا ہے تو ابتدا میں ہمیں دو باتیں کشمیری عوام سے کہنی ہوں گی۔ آرٹیکل 370 ہمیشہ کے لئے رہے گا اور 1953 اور 1975 کے بیچ جو ہوا، اس کا تجزیہ ہوگا۔یہ ابتدائی نقطہ ہونا چاہئے اور شاید کشمیر کے لوگ تازہ انتخاب کروانا چاہتے ہوں تو انتخاب ہونے دیجئے۔ کشمیریوں کو مفتی ، عبد اللہ، گیلانی یا کسی اور کو اپنا لیڈر چننے دیجئے۔ بی جے پی اور کانگریس کا وہاں کیا کام ؟اگر تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے باری باری سے سرکار بنا سکتے ہیں تو کشمیر کی حکومت نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور حریت کے ذریعہ باری باری سے کیوں نہیں چلائی جاسکتی ہے؟آخر کار، یہ ہندوستان کے آئین کے مطابق ہوگا۔ آپ کے پاس آرٹیکل 356 ہے ، فوج ہے، کشمیر میں اچھی خاصی تعداد میں فوج ہونی چاہئے،لیکن سرحد پر ، سری نگر میں نہیں۔اپنی سرحدوں کی سیکورٹی جارحانہ ڈھنگ سے کیجئے اور یہ زور دے کر کہئے کہ کشمیر میں ہمارے بچوں کے ساتھ بات چیت میں پاکستان کسی بھی حیثیت سے نہیں آسکتا۔ اپنے لوگوں میں خود اعتمادی لائیے۔ پاکستان کے ساتھ ہم شملہ سمجھوتہ کے تحت الگ سے بات کریں گے۔ اگر یہ سرکار کہے گی کہ شملہ سمجھوتہ اٹل ہے ،شیخ -اندرا سمجھوتہ اٹل ہے اور ہم اس کی پوری طرح سے تعمیل کریں گے تو مسئلہ ختم ہو جائے گا۔اس میں وقت لگے گا، لیکن یہ ضرور ہی ختم ہو جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *