قائدین کو دلچسپی نہیں بنیادی مسلم مسائل سے

یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کا فقدان ہے۔تنظیموں اور اداروں کے جو قائدین ہیں وہ مسلک اور مکتبہ فکر کی بنیاد پر اپنے اپنے پیروکاروں کے رہنما ہیں۔ان کا ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں سے نہ کوئی ربط ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ یہی وجہ ہے کہ عام مسلمانوں کے بنیادی مسائل میں وہ کوئی اہم کردار ادا نہیں کرپاتے ہیں۔انہی امور کا یہاں جائزہ لیا جارہا ہے۔

p-1ابھی حال کی بات ہے ،نئی دہلی کی سڑک پر دوڑتی ہوئی گاڑیاں اچانک رک گئیں۔ایک تھری وہیلر چلاتا ہوا اس کا ڈرائیور مائولنکر ہال کے مین گیٹ پر لگے بڑے سے بینر اور درجنوں بسوں سے اتر کر اندر جاتے ہوئے مسلمانوں کو دیکھ کر کہنے لگا کہ ’’ جام ہے، بی جے پی اقلیتی مورچہ کی یووا کانفرنس ہورہی ہے ،اسی میں یہ سب لوگ جارہے ہیں،یہ کرائے کے لوگ ہیں۔ بسوں میں بھر کر لائے گئے ہیں‘‘۔یہ دریافت کرنے پر کہ یہ کیوں لائے گئے ہیں، وہ پھر کہنے لگا کہ ’’ یہ سب ووٹ بنانے کا کھیل ہے، اپنی اپنی سیاست کو مضبوط کرنے کی قوائد ہے۔اس سے عام مسلمان کو کچھ نہیں ملنے والا ہے۔نہ روٹی، کپڑا اور مکان اور نہ ہی ان کے جان و مال کی حفاظت کی گارنٹی۔ مشکل تو یہ ہے کہ ان بنیادی مسئلوں کی کوئی بات نہیں کرتا ہے۔بی جے پی ہو یا کوئی اور سیاسی پارٹی، سبھی کا یہی حال ہے۔ سب کو اپنے اپنے ایجنڈوں سے مطلب ہے‘‘۔ کیا ان کی اپنی تنظیمیں اور ادارے بھی کچھ نہیں کرتے ہیں۔اس سوال پر وہ چونکتے ہوئے بولا کہ’’ کون سی تنظیمیں،کون سے ادارے ،میں تو کسی کو بھی نہیں جانتا‘‘۔
اتر پردیش میں فرخ آباد کی قائم گنج تحصیل کے کورار گائوں کے باشندہ اصغر علی کا یہ احساس تنہا نہیں ہے۔ ہندوستان کا عام مسلمان کم وبیش اسی طرح سوچتا ہے۔ مذکورہ کانفرنس کے شرکاء میں سے بعض افراد سے بات کرکے یہ احساس اور بھی مضبوط ہوا۔ دہلی کے اطراف سے لائے گئے ہزاروں لوگ خصوصاً نوجوانوں میں سے بیشتر نہ تو جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑوں سے واقف تھے اور نہ ہی جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، آل انڈیا ملی کونسل اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سے۔ سچ بھی یہی ہے کہ صرف اس کانفرنس میں شریک افراد ہی نہیں بلکہ ملک کے دیہی علاقوں سے وابستہ عام مسلمانوں اور مسلم کمیونیٹی کی نمائندہ اور رہنما کہلانے والی تنظیموں و اداروں کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے۔یہ تنظیمیں محض اپنا اپنا حلقہ اثر رکھتی ہیں۔ ہر ایک کے اپنے اپنے پیروکار ہیں۔کہیں مسلک بنیاد ہے تو کہیں کوئی اور مکتبہ فکر یایہ کہیں کہ ان تنظیموں میں سے کچھ کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ بھی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر مسلمانوں کی نمائندگی اور رہنما کہلانے والی ان تنظیموں اور اداروں کا ملک کے عام مسلمانوں سے کیوں کوئی رابطہ نہیں ہے؟ان دونوں کے درمیان کیوں دوری ہے؟کیوں خلیج قائم ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ ہندوستان کا عام مسلمان اپنے تشخص اور تحفظ کے ساتھ ساتھ تعلیم،روٹی، کپڑا اور مکان کو اصل مسئلہ مانتا ہے مگر یہ مسئلہ مسلم تنظیموں اور اداروں کے نزدیک ان کی پلاننگ اور ترجیحات میں اس طرح شامل نہیں ہے۔ اس کا اندازہ ان کے پالیسی پروگرام اور ایجنڈوں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ یہ تنظیمیں اور ادارے آزادی کے بعد دینی تشخص کے تحفظ کے علاوہ کبھی فرقہ وارانہ فسادات سے نمٹنے تو کبھی یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت ، کبھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی و دیگر تعلیمی اداروں کے اقلیتی کردار کو بچانے تو کبھی اوقاف کے املاک پر سے قبضہ ہٹانے اور کبھی بابری مسجد معاملہ تو کبھی اردو کو اس کا حق دلانے کی بات اٹھانے میں لگے رہے،مگر عملاً کوئی مطلب بھی نہیں رہا۔ وقتاً فوقتاً اٹھے ان مسائل کی سنگینی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے،مگر عوام اور ان کی رہنما تنظیموں کے درمیان مسائل کے تعلق سے الگ الگ ترجیحات انہیں ایک دوسرے سے دور کردیتی ہے۔ سوچ کا یہ فرق ان کے درمیان ایسا فرق ہے جو بڑی خلیج پیدا کرتا ہے۔
عام مسلمانوں میں ایسا بہت بڑا طبقہ ہے جو کہ غریبی کی لائن کے نیچے رہ رہا ہے، ناخواندہ ہے، ڈراپ آئوٹ کا شکار ہے،بے روزگار ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ روٹی، کپڑا اور مکان کا محتاج ہے۔ پھر نمبر آتا ہے ان کا جو کہ ہاتھ رکشہ، بیٹری رکشہ، آٹو رکشہ ،ٹیکسی چلا کر اپنا پیٹ بھرتا ہے اور وہ بھی ہیں جو کہ چھوٹا موٹا کارو بار کرکے معاشی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں مسلمانوں میں وہ تعداد ہے جوغیر ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرکے بے روزگار بنی ہوئی ہے ۔ٹیکنیکل تعلیم یافتہ طبقہ جو ہے وہ روزگار سے لیس تو ہے، لیکن مختلف مسائل کے سبب بے اطمینانی کا شکار ہے۔ ان کا عوام سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ صبح سے شام تک ملازمت میں مصروف رہتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ مسلم کمیونیٹی کے ان طبقات کامسلم تنظیموں اور اداروں سے براہ است نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کوئی ربط۔جبکہ یہ تنظیمیں اور ادارے پوری کمیونیٹی کے نمائندہ رہنما کہلاتے ہیں۔ ان تنظیموں اور اداروں کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ طبقات کس طرح روٹی، کپڑا اور مکان کے مسائل سے نبرد آزما ہیں، ان کے بچے بچیاں ناخواندگی کا کیوں شکار ہیں، وہ کیوں پڑھ نہیں پارہے ہیں، اسکولوں سے ان کا ڈراپ آئوٹ کیوں ہورہا ہے،عام تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ بے روزگار کیوں ہیں؟
یہ بات کتنی عجیب ہے کہ کانگریس کے دور سے بی جے پی کے دور تک مسلم نوجوانوں کی جو گرفتاریاں ہوئیں، اس سلسلے میں صرف ایک مسلم تنظیم جمعیت علماء ہند(ارشد)نے عملی دلچسپی لی اور ان کے مقدمات وکیلوں کے ذریعے قانونی طور پر لڑوائے جس کے نتیجے میں درجنوں افراد بری ہوئے۔ باقی تنظیمیں محض بیان ؍ پریس ریلیز جاری کرتی رہیں اور کانفرنس و سمینار کا اہتمام جاری رکھا۔ الٰہ آباد کی معروف شخصیت ، تاجر اور مسلم مجلس اترپردیش کے صدر یوسف حبیب کہتے ہیں کہ یہ مسلم تنظیمیں اور ادارے اپنے اپنے کوزے میں بند ہیں۔ ان کے اپنے اپنے ماننے والے ہیں۔ عام مسلمانوں سے ان کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔کیونکہ مسلم کمیونیٹی کی ایک بڑی تعداد ان تنظیموں اور اداروں کے دائرے میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تنظیموں نے اپنے اپنے ماننے والوں سے اوپر اٹھ کر کبھی ان کی جانب رُخ کیا ہی نہیں ۔نہ کبھی یہ پوچھا کہ وہ کیسے رہ رہے ہیں؟روزی روٹی کا معاملہ کیسے چل رہا ہے؟سرچھپانے کو مکان ہے بھی یا نہیں؟پہننے کو کپڑے مہیا ہیں یا نہیں؟ان کے تشخص اور تحفظ کا توکوئی مسئلہ نہیں ہے؟کیا ملک کے موجودہ ماحول میں وہ کوئی خوف و ہراس میں مبتلا تو نہیں ہیں؟
یوسف حبیب کا کہنا ہے کہ سچر کمیٹی، رنگ ناتھ مشرا کمیشن اور پروفیسر امیتابھ کنڈو کمیٹی کی رپورٹیں آئیں،لیکن سوال یہ ہے کہ ان مسلم تنظیموں نے آخر صرف پریس ریلیز جاری کرنے اور اخبارات میںانہیں شائع کرانے تک اپنے آپ کو کیوں محدود رکھا؟اس کے نفاذ کے لئے سڑکوں پر کیوں نہیں اتریں؟احتجاج کرکے مرکزی ر ریاستی حکومتوں پر دبائو کیوں نہیں بنایا؟
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے تشخص اور تحفظ کے ساتھ ساتھ روٹی ،کپڑا اور مکان اور سب سے بڑھ کر تعلیم میں وہ کہاں کھڑے ہیں،یہ سب کچھ تو سچر کمیٹی اور رنگ ناتھ مشرا کمیشن نے واضح کردیا ہے،بتا دیا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ وہ آگے بڑھ رہی ہے ، اسکیمیں بنایا ہے،اس کے نفاذ کا مسئلہ ہے۔مجموعی طور پر ان کے فلا ح و بہبود یعنی امپاور منٹ کے لئے سرکاری اسکیموں کو عام مسلم عوام تک لے جانے میں نہ ان مسلم تنظیموں اور اداروں کو کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ، اسمبلیوں،میونسپل وارڈوں اور پنچایتوں میں ان کی نمائندگی کرنے والے سرکاری مسلم رہنمائوں کو ان سب سے کوئی مطلب ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ کسی نے ان سب کاموں کا بیڑا اٹھایا ہی نہیں ہے۔ ان کے خیال میں ان کا کام ہے صرف اپنی اپنی پریس ریلیز میں بیان دینا۔
بڑے ہی فکر انگیز انداز میں وہ کہتے ہیں کہ یہ مسلم تنظیمیں عیسائی مشینریوں اور شیشو مندروں سے سبق کیوں نہیں سیکھتی ہیں جنہوں نے ملک کے مختلف گوشوں بشمول دیہی علاقوں میں اسکولوں کا جال بچھا کر عام لوگوں کو خواندگی اور تعلیم سے جوڑنے کی بے مثال کوششیں کیں اور صحت کے میدان میں نرسنگ ہوم اور پرائیویٹ اسپتال کھولے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق اسٹوڈنٹس لیڈر اور متحرک سماجی کارکن انجینئر امداد اللہ جوہر اس سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ برسراقتدار سیاسی پارٹیاں ہوں یا اپوزیشن ،سب کا زور ہوتا ہے تو مدارس کی جدید کاری پر جبکہ وہاں سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک کے مسلمانوں کی کل آبادی کے صرف 4فیصد ہی بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ،جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ باقی 96 فیصد مسلم بچوں کی تعلیم کے تعلق سے ان کے پاس کوئی خصوصی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق،دیہی علاقوں کو تو چھوڑیئے، خود دہلی میں مسلم بچوں کی تعلیم ایک بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ کیونکہ اچھے اسکول مسلم علاقوں میں قائم نہیں ہیں اور وہ یہاں سے 3کلو میٹر کی شرط کو پورا نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے داخلے نہیں ہوپاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال میں جب بہار انجمن کے تحت رہبر کوچنگ سینٹر کے زیر اہتمام انہوں نے اوکھلا علاقہ کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ اس پورے بڑے مسلم علاقہ میں چھوٹے بچوں کی تعلیم سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔نیز تقریباً دس ہزار بچے ایسے ہیں جو کہ ڈراپ آئوٹ ہیں۔ یعنی انہوں نے اپنی تعلیم درمیان ہی میں چھوڑ دیا اور محنت مزدوری کے کام میں لگ گئے۔ ان کا سوال ہے کہ اس حالت میں وہ بچہ مزدور نہیں بنیں گے تو آخر کیا کریں ؟وہ یہ بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ کہنے کو تو 2014 میں ہندوستان کو بچہ مزدوری ختم کرنے اور انہیں بنیادی تعلیم فراہم کرانے کی کوشش میں نوبل امن پرائز ملا ہے،مگر اس معاملے میں کیلاش ستیارتھی کی کوشش ان بچہ مزدوروں میں کہیں کیوں نہیں دکھائی پڑتی ہے؟
معروف سینئر اردو صحافی و دانشور ڈاکٹر سید زین الحق شمسی عرف زین شمسی تو اس سلسلے میں بڑا ہی سخت انداز اور لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں مجموعی طور پر کوئی قیادت نہیں ہے۔کوئی ایسا نام نظر نہیں آتا ہے جس کے کہنے پر سب کچھ ٹھیک ہوجائے۔ علماء کی اپنی شخصیتیں ہیں۔اپنے پیروکار ہیں اور اپنے نظریئے ہیں۔کسی ایک نام پر ہندوستان کا مسلمان متفق نہیں ہوسکتا اور ہر سیاسی پارٹی نے اپنے پاس ایک ایک مسلم نام یا نام کے مسلم کو رکھ لیا ہے کہ یہی مسلمانوں کے قائد ہیں۔ کانگریس کی تو یہ پہلے سے روایت رہی ہے۔ غلام نبی آزاد اور سلمان خورشید جیسے افراد مسلمانوں پر تھوپے ہوئے لیڈر ہیں۔ ادھر سماج وادی پارٹی نے اعظم خاں کو گلے لگایا،بہو جن سماج پارٹی نے نسیم الدین صدیقی کو مسلمانوں کا رہنما بنا کر پیش کردیا، راشٹریہ جنتا دل نے عبد الباری صدیقی کو سامنے رکھا۔ اسی طرح بی جے پی نے مختار عباس نقوی ، شاہ نواز حسین اور عاطف رشید جیسے چہروں کو ترجیح دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عام ہندوستانی مسلمان سیاسی بے وقعتی اور پسماندگی کے دور میں پہنچ گیا ،جسکی متعدد سرکاری کمیٹیوں اور کمیشنوں نے تصدیق بھی کردی۔ڈاکٹر شمسی کے الفاظ میں یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت اور ملک کا سب سے بڑا ووٹ بینک سیاسی طور پر سب سے کمزور ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر دوڑ میں سب سے پیچھے ہے۔
ڈاکٹر زین الحق شمسی کے نزدیک اس کا حل شکوہ و شکایت میں نہیں ہے۔ وہ بہت ہی زور ڈال کر کہتے ہیں کہ ’ماضی میں طلباء کا گروپ اٹھا، اقتدار ہل گیا،کنہیا کمار اٹھا تو سرکار کا باجہ بج گیا، ہاردک اٹھا تو آنندی بین پٹیل کو جانا پڑا، کجریوال اٹھا تو پرانی پارٹیوں کے باجے بج گئے۔میں راستہ بتاتا ہوں۔ملک کی یونیورسٹیوں ،کالجوں اور مدارس کا انتخاب کیجئے اور وہاں کے طلباء و نوجوانوں سے رابطہ بنائیے اور ایک پلیٹ فارم پر آئیے۔ اپنی سمت بنائیے اور رفتار پیدا کیجئے۔مجھے صد فی صد یقین ہے کہ جیسے ہی آپ سرگرم ہوں گے،قائدین کے گھبرانے کا وقت آجائے گا۔ جیسے ہی آپ محلوں میں،اضلاع میں ہم خیالوں کی ٹیم بنائیں گے، اسی وقت قائدین میں چھٹپٹا ہٹ شروع ہوجائے گی۔ بہت تماشہ ہوگیا۔ اب قائدین اپنے قاعدے بدلیں ورنہ پیروکار اپنے قائد بدل دیں گے۔
سچائی بھی یہی ہے۔ ڈاکٹر شمسی جیسی انقلابی سوچ میں ہی ہندوستان کے عام مسلمان کا بھلا ہے۔یہ بیداری ناگزیر ہے۔عام مسلمان کو اپنی راہ خود بنانی ہوگی اور اجتماعی قیادت تیار کرنی ہوگی۔مسلم تنظیموں کا تو حال ہم نے دیکھ لیا۔ گزشتہ ہفتہ ’چوتھی دنیا‘ نے نئی قومی تعلیمی پالیسی ڈرافٹ کے تعلق سے جو کور اسٹوری کی، اس کے مطابق، بڑی مسلم تنظیموں میں سے صرف2 نے اس بات میں دلچسپی لی کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کیسی ہو اور اپنی تجویز یا سفارش وزارت فروغ انسانی وسائل کو بھجوائیں۔ باقی کسی مسلم تنظیم اور ادارہ کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ تعلیم کے تعلق سے آزادی کے بعد ملک میں تیسری بار بنائی جارہی قومی پالیسی میں اپنا کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں مسلمانوں کی رہنمائی کریں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *