فلسطین کے ایشو میں نئی نسل کی دلچسپی بڑھ رہی ہے

10bایک عرصہ کے بعد نئی دہلی میں منعقد ایک عظیم الشان کانفرنس کے دوران فلسطین کے تئیں خصوصاً نئی نسل میں خاص جذبہ دیکھ کر ایسا لگا کہ یہ ایشو ہندوستان میںمرا نہیں ہے، صرف دب سا گیا تھا اور دبنے کا یہ عمل 1992 میںمملکت اسرائیل کے اس ملک کے ذریعہ مکمل طور پر تسلیم کیے جانے اور پورے طور پر روابط و تعلقات کی بحالی سے شروع ہوا تھا۔ اس کے سبب مسئلہ فلسطین کے تعلق سے 20 ویں صدی کے اوائل سے یہاں جو آواز اٹھتی رہی تھی، اس میںواضح کمی آگئی تھی۔یہ کریڈٹ معروف دانشور اور ماہر امور فلسطین ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کو جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے انگریزی پندرہ روزہ ’ملی گزٹ‘ کے زیر اہتمام جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ عربی سے اشتراک کرتے ہوئے اس ایشو پر خصوصی کانفرنس کرکے اسے پھر سے موضوع بحث بنادیا۔ ویسے تو یہ اس سے قبل بھی کانفرنسیںکراتے رہے ہیں۔
مذکورہ کانفرنس کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس کے افتتاحی پروگرام میںجامعہ کی انجینئرنگ فیکلٹی کے آڈیٹوریم میں سامعین میں 95 فیصد سے زیادہ طلباء اور نوجوان تھے۔ البتہ کانفرنس میںعام لوگوں کی عدم موجودگی ضرورشدت سے محسوس ہورہی تھی۔ ا س کی وجہ شاید یہی رہی ہو کہ ایک عرصہ سے ملک میں یہ ایشو موضوع بحث نہیںرہا اور اس دوران اس تعلق سے کوئی بڑی کانفرنس بھی نہیںہوئی۔ اسرائیل سے پورے طور پر سرکاری تعلقات بحال ہونے اور عملی روابط کے بڑھنے سے یہاں فلسطین کے بجائے اسرائیل موضوع بحث بننے لگا اور اس بدلتے ہوئے رجحان میں میڈیا نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ اردو میڈیا میں بھی بہت کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔پہلے تو اخبارات و رسائل وقتاً فوقتاً فلسطین نمبر نکالا کرتے تھے۔
بہر حال توقع ہے کہ نئی نسل کی اس ایشو میں بڑھتی دلچسپی سے ہندوستا ن کے فلسطین کے تئیں پرانے اور اصل موقف کو تقویت ملے گی۔ ہندوستان واحد ملک ہے جس نے فلسطینی آبادی کے بڑے جز کو ان کے آبائی مقام سے ہٹاکر یوروپ خصوصاً جرمنی سے نکلے اور اجڑے ہوئے یہودیوں کو بسانے کو شروع سے ظلم قرار دیا تھا او راس معاملے میں بابائے قوم گاندھی جی، علی برادران، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خاں، مولانا آزاد اور جواہر لعل نہرو کا خصوصی رول تھا۔
مسئلہ فلسطین کے تعلق سے مذکورہ کانفرنس میں ایک دلچسپ بحث اس وقت چھڑ گئی جب مسلم پالیٹیکل کونسل آف انڈیا کے بانی تسلیم رحمانی نے قبلہ اول بیت المقدس کے اسرائیلی قبضے میں رہنے اور اس کی پامالی کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک مذہبی ایشو قرار دیا اور فلسطینیوں کے اجاڑے جانے کو ظلم اور ناانصافی کہا۔
اس پر اپنے صدارتی خطبے میںسابق مرکزی وزیر اور دانشور منی شنکر ایّر نے شدید اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا ایشو اس ملک کا قومی ایشو رہا ہے، لہٰذا اسے مذہبی ایشو کے طورپر نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس سلسلے میںانھوں نے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ تقسیم فلسطین کیہمیشہ خلاف رہے اور آزادی سے قبل ہی سے اقوام متحدہ میں اپنے اس موقف کی پرزور وکالت کرتے رہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت غیر مسلم ممالک میں ہندوستان واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میںتقسیم فلسطین اور اسرائیل کے قیا م کے خلاف ووٹ دیاتھا۔ان کا کہنا تھا کہ آج جامعہ کے اس بڑے آڈیٹوریم کو نوجوانوں سے بھرے ہوئے دیکھ کر تو خوشی ہورہی ہے مگر دکھ اس بات کا ہے کہ اس کانفرنس میں مجھ سمیت صرف دو یا تین غیر مسلم ہی کیوںہیں؟ انھوں نے کہا کہ یہ ایشوتو کسی ایک کمیونٹی کا نہیں ہے بلکہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف جنگ ہے اور اس میں ہندوستان کو بلاتفریق مذہب و ملت آگے رہنا چاہیے کیونکہ ہندوستان کا مطلب ہی ہے ظلم اور ناانصافی کی مخالفت کرنا۔
کانفرنس میں اہم شرکاء میں سفیر فلسطین اور معروف صحافی عوّاد کے علاوہ شعبۂ عربی جامعہ کے سربراہ محمد ایوب، جنرل سکریٹری ملی کونسل ڈاکٹر محمد منظور عالم، نائب امیر اور قیّم جماعت اسلامی ہند نصرت علی، سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب اور انجینئر محمد سلیم شامل تھے ۔ معصوم مرادآبادی نے بڑے ہی مؤثر انداز میں نظامت کی۔ اس موقع پر مسئلہ فلسطین پر ایک کتاب کا بھی اجراء ہوا اور فلسطین کے ایشو پر آئے مضامین کے تعلق سے بنگلور کی رومان مکی کو 25 ہزار روپے اور دیگر طلباء و نوجوانوںکو مختلف انعامات دیے گئے۔
اے یو اے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *