خواندگی میں بھی مسلمان سب سے پیچھے

خواندگی میںمسلمان سب سے زیادہ پچھڑا ہوا ہے، اس کا اندازہ 2011 کی تعلیمی مردم شماری سے بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میںمجموعی طور پر 36.9 فیصد لوگ ناخواندہ ہیں، جبکہ مسلمانوں میں42.7فیصد لوگ ناخواندہ پائے جاتے ہیں۔خواندگی کے معاملے میں جین کمیونٹی سب سے آگے ہے۔ جین کمیونٹی میں 86.4 فیصد لوگخواندہ ہیں، ان کے یہاں کل 13.4 فیصد لوگ ناخواندہ پائے جاتے ہیں۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں 63.6 فیصد ہندو خواندہ اور 36.4 فیصد ہندوناخواندگی کا شکار ہیں۔ مسلمانوں میں محض57.3 فیصد لوگ ہیخواندہ ہیں۔ سکھ فرقہ میں 67.5 فیصد خواندہ اور 32.5 فیصد لوگ ناخواندہ ہیں۔ بودھ کمیونٹی کے 71.8 فیصد لوگ خواندہ اور 28.2 فیصد لوگ جاہلہیں۔ عیسائی فرقہ میں 74.3 فیصد لوگخواندہ اور 25.7 فیصد ناخواندگی میں مبتلا ہیں۔

Read more

علم و ثقافت اپنی عظمت رفتہ پہ آنسوبہارہی ہے خدا بخش لائبریری

بہار کی شناخت ملک اور بیرون ملک میں جن چیزوں سے ہوتی ہے، ان میں ایک بڑا اور نمایاں نام خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کا بھی ہے، جو ریاستی راجدھانی پٹنہ میں گنگا ندی کے کنارے گھنی آبادی کے بیچ سے گذرنے والے اشوک راج پتھ پر پٹنہ یونیورسٹی اور پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال (PMCH) کے درمیان واقع ہے۔ یہ لائبریری عربی، فارسی، اردو، سنسکرت، پشتو اور ترکی زبانوں کے نادر اور نایاب مخطوطات کے علاوہ مختلف زبانوں کی لاکھوں مطبوعہ کتابوں کے باعث اور اپنی علمی، تحقیقی و ادبی سرگرمیوں کی بدولت ایک بڑے اور قابل قدر علمی، تحقیقی، ادبی اور ثقافتی مرکز کا درجہ رکھتی ہے، جہاں حاضری دیئے بغیرنہ تشنگان علم کی پیاس بجھتی ہے اور نہ ہی طالبان تحقیق کی تحقیق مکمل ہوتی ہے۔

Read more

جمعیت علماء چلی مسلم قانون پر وکیلوں کی تربیت کرنے

ظاہر سی بات ہے کہ وکیلوں کا ہی عدالتوںمیںمسلم پرسنل لاء سے متعلق ایشوز سے سابقہ پڑتا ہے۔لہٰذا ملت اسلامیہ میں یہ احساس رہا ہے کہ وکلاء کو مسلم قوانین کی واقفیت قرآن و سنت کی روشنی میں بھی رہنی چاہئے۔ غالباً ان ہی احساسات کے تحت مسلمانوں کی ملک کی اہم قدیم ،بڑی اور مشہور تنظیم جمعیت علماء ہند نے وکلاء کی تربیت کے لئے معہ 500 روپے فیس 20ہفتوں پر مشتمل ’ ٹریننگ کورس ان مسلم لاء ‘ شروع کیا ہے۔اب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ جمعیت کا یہ تجربہ کتنا کامیاب ہوگا اور جدیدقوانین کے ماہرین علماء سے کتنا کنٹرول ہوسکیں گے ؟افتتاحی تقریب میں شریک وکلاء اور ریٹائرڈ ججوں نے جو اظہار خیال کیا، اس سے تو اس تعلق سے مزید سوالات کھڑے ہوگئے ہیں اور علماء اور ماہرین جدید قوانین کے درمیان الگ الگ سوچ سامنے آئی ہے۔آئے دیکھتے ہیں 4ستمبر کو جمعیت لاء انسٹی ٹیوٹ کے تحت اس پہلے پروگرام میں کیا ہوا اور کس نے کیا کہا؟

Read more

گیارہ سالہ آر ٹی آئی اب کتنا موثر رہ گیا؟

آج حق اطلاعات قانون کے تعلق سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 11برسوں بعد اب یہ کتنا موثر اور مضبوط ہے اور اس کا مستقبل کیاہے؟لہٰذا اس سوال کے جواب میں’ ٹی وی 9- ممبئی ‘ اور یو این آئی ٹی وی نیوز ایجنسی میں ایک عرصہ تک آر ٹی آئی ڈیسک سے جڑے رہے افروز عالم ساحل جو کہ ان دنوں امریکی ویب سائٹ ’ ٹو سرکل ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ بی بی سی ہندی میں بالواسطہ یا بلا واسطہ فعال ہیں، کا بے باک تجزیاتی مضمون پیش خدمت ہے۔

Read more

اترا کھنڈ: تباہی کے اسباب قدرتی نہیں این جی ٹی کا فیصلہ

اترا کھنڈ کی 2013 کی آفت کو قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ مانا جا سکتاہے۔ اب اس ریکوگنائزیشن پر این جی ٹی کے فیصلے سے بھی مہر لگ گئی ہے۔ سوال ہے کہ کیا ہم اب بھی بیدار ہوں گے یا پھر اسی طرح قدرتی ذرائع کو تباہ کرتے رہیں گے اور نتیجے میں قدرت کے غصہ کا شکار بنتے رہیں گے؟۔

Read more

سنگور کے کسانوں کو انصاف ملا مگر نندی گرام اب بھی محروم

توقع ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ان سیاسی پارٹیوں کے لئے سبق ہوگا جو کہ اپنے فکری اصولوں سے ہٹ کر عوام مخالف قدم اٹھاتی ہیں اور اقتدار کے نشے میں عوام کے مفادات ہی کو فراموش اور نظر انداز کردیتی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان کے اس عمل کو نہ عوام پسند کرتے ہیں اور نہ ہی عدالت اور وہ ہر جگہ پر مسترد کردیئے جاتے ہیں۔ سنگور کے بعد نندی گرام انصاف کا منتظر ہے۔

Read more

ہندوستانی میڈیا کا بحران

دنیا کے دیگر شہروں کی طرح ہندوستان میںبھی صحافت سال در سال تبدیل ہوئی ہے۔ اگر ہم 1947 میںملک کو ملی آزادی کے بعد گزشتہ 70 سالوںکی بات کریں، تو صحافت کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔1995 کے وسط میں سیٹیلائٹ ٹی وی ہمارے ملک میںآیا۔ اس کے بعد سے 24 گھنٹے چلائے جانے والے نیوز چینلوں نے اپنا ایک برانڈ بنایا ہے، جس میں ایک ہی خبر بار بار دکھائی جاتی ہے۔ یہی نہیں، ہنسی تو اس بات پر آتی ہے کہ الگ الگ نیوز چینل الگ الگ خبریں دوہراتے رہتے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کے آجانے سے اخبارات پر ان کا اثر پڑا ہے۔اخبارات بہت زیادہ خبریں نہیں دے پاتے ہیں، کیونکہ ایک دن پہلے ہی ہم ٹیلی ویژن پر خبر دیکھ لیتے ہیں، لیکن اخبارات کی اہمیت اس بات کے لیے ہے کہ ہم ان میںنہ صرف روزمرہ کی خبریں پاتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ کسی مدعے پر مختلف لوگوں کے خیالات بھی ہمیں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اخبارات میں جو روز کی خبریںدی جاتی ہیں، انھیںغلط طریقے سے پیش نہیںکیا جا سکتا، کیونکہ وہ خبر لوگ ٹی وی پر پہلے ہی دیکھ لیتے ہیں۔

Read more

بارش سالانہ لوٹ کا بسنت تیوہار ہے

بارش کیا ہوئیپورے ملک کا ایک جیسا حال ہوگیا۔ سرکار چاہے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہو، کانگریس کی ہو، سماجوادی پارٹی کی ہو یا جنتا دل یونائیٹڈ کی، ایک سیکنڈ میںسب کے چہرے پر لگا ہوا رنگ دھل گیا اورسب ایک جیسے نظر آنے لگے۔ لاپرواہ، بے فکر، کمیشن کھانے والوں کے سرپرست، جو نام دینا چاہیں، آپ دے دیں۔دہلی کی بات کریں، تو یہاںمرکزی سرکار ہے۔ ملک کی راجدھانی ہے۔ یہاں ایک ریاستی سرکار بھی ہے۔ لیکن بارش کے موسم میں جب بھی یہاں بارش ہوتی ہے، دہلی تھم جاتی ہے۔یہی حال دیگر ریاستوںکی راجدھانیوں کا بھی ہے۔ دو گھنٹے کی بارش

Read more

کوچنگ ماسٹروں کی بدولت بیٹیوںکا جلوہ

اولمپک ختم ہوگیا ہے۔ہندوستانی کھلاڑیوںکا مظاہرہ کچھ خاص نہیںرہا۔ ہندوستان کو اولمپک میں صرف دو میڈل پر اکتفا کرنا پڑا۔امیدیں دم توڑتی گئیں اور لگاتار مل رہی ہار کے بعد ساکشی ملک اور پی وی سندھو نے ہندوستان کو کچھ فخر کے لمحے دیے۔ ان کے مظاہرے کی بدولت ہندوستان نے کسی طرح سے اپنی لاج بچائی۔ ہندوستان کے کئی اسٹار کھلاڑیوںکے لیے یہ اولمپک برے خواب کی طرح رہا۔

Read more