میڈیا پاکستان کے لئے دانشورانہ دلالی کررہا ہے

p-6آپ کے لئے سری نگر سے ایک تجربہ لے کر آیا ہوں۔ آپ میں سے بہت سارے لوگ سری نگر نہیں گئے ہوں گے اور جو گئے ہوں ،وہ 80 دن پہلے گئے ہوں گے۔ گزشتہ 80 دنوں سے کشمیر میں جو ہو رہا ہے، وہ ایک المناک ،خوفناک اور حیرت انگیز ہے۔آپ اپنے گھر میں خود کو بند کر لیں اور چار دنوں تک گھر سے باہر نہ نکلیں، آپ کو کیسا لگے گا۔ چار دن میں لگنے لگے گا کہ آپ جیل میں بند ہیں اور آپ کو باہر کی ہوا کھانی ہے۔ اب آپ سوچئے کہ تقریباً60 لاکھ لوگ گزشتہ 80دنوں سے اپنے گھروں میں بند ہیں،انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔انہیں سامان خریدنے بازار جانا ہو، تو جان ہتھیلی پر لے کر جانا ہوتا ہے۔ انہیں اگر ڈاکٹر کے پاس جانا ہو تو جان گنوانے کے ڈر کے ساتھ جانا پڑتا ہے اور ہم صرف چار دن اگر گھر میں بند رہ جائیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ یہ کیا ہوگیا۔
سری نگر میں گزشتہ 80دنوں سے یہی حال ہے، لیکن سری نگر کے لوگ اس صورت حال کو قبول کرچکے ہیں۔ کشمیر میں جو بچہ 1950 میں پیدا ہوا،اب وہ کتنے برس کا ہوگا آپ اندازہ لگائیے اور اس نے ،اس پوری نسل نے کشمیر میں جمہوریت کا مزہ نہیں چکھا۔اس نے بندوقوں کی گرج سنی ہے، اس نے آنسو گیس کے گولے دیکھے ہیں،اس نے فوج دیکھی ہے، پیرا ملٹری فورسیز دیکھی ہیں،لاٹھیاں دیکھی ہیں، پانی کی بوچھاریں دیکھی ہیں۔ وہاں پر حروف تہجی کے معنی بھی بدل گئے ہیں۔80دنوں کے اس لگاتار کرفیو کے بعد وہاں کے لوگوں نے یہ طے کیا ہے کہ ہم ہندوستان کی سرکار کے ذریعہ کئے گئے وعدوں کا کوئی حل نکالیں گے، چاہے اس کے لئے جتنا لمبا درد جھیلنا پڑے، ہم جھیلیں گے۔ٹیکسی ڈرائیور کہتا ہے، آزادی چاہئے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرے گھر میں روٹی نہیں آتی اور ٹیکسی ڈرائیور کما نہیں پاتا،پولیس کا سپاہی بھی یہی کہتا ہے، ڈاکٹر بھی یہی کہتے ہیں اور پورا کشمیر آزادی ، آزادی چلا رہا ہے۔ ہم یہاں ہندوستان میں بیٹھے یہ مان رہے ہیں کہ یہ سب وہاں پاکستان کرا رہا ہے۔
حریت کانفرنس ہر جمعہ کو ایک کلینڈر جاری کرتی ہے اور اس میں کس دن عوام کا بند شروع ہوگا اور عوام کا بند ختم ہوگا، اس کا وقت لکھا ہوتا ہے۔ سویرے 8بجے بچے سڑکوں کے اوپر پتھر لگا دیتے ہیں، سڑکیں جام کر دیتے ہیں اور شام کے 6بجے ان پتھروں کو ہٹا لیتے ہیں۔ دکاندار دن بھر اپنی دکانیں بند رکھتے ہیں اور شام 6بجے اپنی دکانیں کھول دیتے ہیں۔ پٹرول پمپ 6بجے کا انتظار کرتا ہے، اس کے پٹرول پمپ کے سامنے اسکوٹروں اور کاروں کی قطار لگ جاتی ہے اور ٹھیک 6بجے گھڑی دیکھ کر پٹرول ڈالنا شروع کرتا ہے۔یہ مانا جاسکتا ہے کہ سرکار کے ڈر سے، کرفیو کی وجہ سے دکانیں نہیں کھلیں، لیکن کرفیو تو 24گھنٹے کا ہے، شام 6 بجے دکانیں کیوں کھل جاتی ہیں؟اس میں سرکار کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ بینکوں کو اپنا وقت بدلنا پڑا۔ہندوستانی سرکار کی ملکیت میں چلنے والے بینک دن بھر نہیں کھلتے، شام 6بجے کھلتے ہیں۔ 8 بجے بینک بند بھی ہو جاتے ہیں اور 8 بجے دکانیں بھی بند ہو جاتی ہیں۔ دن بھر اگر کرفیو کی وجہ سے دکانیں بند ہیں، تو شام 6بجے کیسے کھل جاتی ہیں اور 8بجے کیسے بند ہو جاتی ہیں؟اس کا مطلب کشمیر میں 1942 کی طرح قیادت عوام کے ہاتھ میں آگئی ہے اور اس کی کئی مثالیں ہیں۔
وہاں 6 سال سے لے کر 16سال تک کے بچے سڑکوں پر ہیں۔ لوگ محلوں میں ایک بلب کے نیچے بیٹھ کر اپنی شام اور رات گزارتے ہیں، کیونکہ بچوں اور گھر کے مالکوں کوبھی لگتا ہے کہ اگر ہم چار بلب جلائیں گے ،تو اسے ہماری خوشی مان لی جائے گی۔ اس لئے وہ ماتم اور مخالفت کا اظہار کرنے کے لئے گھر میں صرف ایک بلب جلاتے ہیں۔ بقرعید میں 13تاریخ کوسری نگر میں کسی نے نیا کپڑا نہیں پہنا۔ ایک آدمی نے نیا کپڑا پہنا بھی تو جب دو منٹ گزرے ،انہوں نے اتار دیا اور اپنا پرانا کپڑا پہن لیا کیونکہ نئے کپڑے پہننے سے خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ ان بچوں کو کچھ نہیں پتہ کہ کون ایڈیٹر ہے، کون ڈاکٹر ہے، انہیں تو بس یہ پتہ ہے کہ وہ آزادی کے لئے جدو جہد کررہے ہیں۔ ان بچوں کو بہت بڑا فلسفہ بھی نہیں پتہ ۔کشمیر کے سب سے بڑے انگریزی اخبار’ گریٹر کشمیر ‘ کے ایڈیٹر فیاض کلو بتاتے ہیں کہ دس بار میرے گھر سے فون آتا ہے کہ تم ٹھیک تو ہو۔ مین سڑک پر نکلوں اور کہوں کہ میں فیاض کلو ہوں،تو کوئی نہیں مانتا۔ اس کی مثال انہوں نے دیا کہ ڈاکٹر صاحب آرہے تھے اور بچوں نے گاڑی روک لی۔ انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر ہوں، تب بچوں نے کہا کہ اس سے کیا ہوا ڈاکٹر ہو، گاڑی یہاں کھڑی کرو اور پیدل جائو، ڈاکٹر صاحب پیدل گئے۔ اسے ہم بچوں کا فالتو پن کہہ سکتے ہیں۔ لیکن 6سال سے 16سال کے بچے اگر فالتو پن کرتے ہیں تو انہیں سنبھالنے کا، ان سے بات چیت کرنے کا ذمہ کس کا ہے؟کیا کشمیر کے لوگوں کا یا دلی کی سرکار کا؟سوال ہے، ہمیں اس پر سوچنا چاہئے۔سری نگر کے کسی طبقے میں اپنے اس کام کو لے کر کوئی افسوس نہیں ہے۔سری نگر کے محلوں میں چھوٹے چھوٹے گروپ بن گئے ہیں، جو کہ اپنے آس پاس کے 50,60,70گھروں میں جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کے یہاں کھانا پینا ہے یا نہیں،دوائیاں ہیں یا نہیں ۔اگر کوئی تکلیف ہے تو محلے سے ہی سامان اکٹھا کرکے وہ ان گھروں کو دے دیتے ہیں۔ وہاں کہیں باہر سے امداد نہیں جاتی۔ اس کا مطلب کشمیر کے لوگ ایک لمبی لڑائی کے لئے تیار ہیں۔ پروفیسر غنی بٹ دو گھنٹے تک ہمیں سمجھاتے ہیں کہ کشمیر مسئلے کا تاریخی، نفسیاتی اور سیاسی پہلو کیا ہے؟وہ جب سمجھاتے ہیں،تب ہمیں لگتاہے کہ ہندوستان کے عوام کو بھی ان پہلوئوں سے روبرو ہونا چاہئے۔ میں نے وزیر اعظم اور ہندوستان کے لوگوں کی جانکاری کے لئے اسی شمارہ میں شری جے پرکاش نارائن کے ذریعہ-56 1954 اور اس کے بعد بھی کچھ اخباروں میں لکھے ان کے خط و مضمون چھاپے ہیں۔ لگتا ہے کہ جے پرکاش جی نے جو اس وقت لکھا تھا ،وہی آج بھی وقوع پذیر ہورہا ہے۔کیا ہندوستانی سرکار گزشتہ 66سال میں  ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھی اور اگر آگے نہیں بڑھی تو ہم کیوں سینہ پیٹ کر کہتے ہیں، رگھو کل روایت سدا چلی آئی،پران جائے پر وچن نہ جائے(جان جائے لیکن وعدہ نہ ٹوٹے )ہندوستانی سرکار نے وعدہ کیا تھا اور اس وعدے کو کسی بھی پارٹی کی سرکار ہو، اس نے بڑی آسانی سے بھلا دیا۔ پورے کشمیر میں گھومنے پر نہ تو کہیں چائے کی دکان کھلی ملتی ہے، نہ ہی کھانے یا سامان بیچنے کی دکان ۔یہ دکان ڈر کی وجہ سے نہیں بند ہیں،اپنی خواہش سے بند ہیں۔ 6سال سے 16سال تک کے بچے پتھر چلاتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ جب ہم کچھ نہیں کرسکتے تو پتھر ہی چلائیں گے اور اس کے بدلے میں سرکار کی ٹکڑیاں پیلیٹ گن چلاتی ہیں۔ ان لوگوں کا سوال ہے، ملک میں اتنی بڑی تحریک ہوئی ،وہاں تو گولیاں نہیں چلیں، تو ہمارے یہاں گولیاں کیوں چل رہی ہیں۔ ہماری باتوں کا جواب نہیں دیا جاتا، لیکن گولیوں کی شکل میں جواب ضرور آتا ہے۔دراصل 80دنوں کے اس کرفیو نے اتنا اشارہ تو دیاہے کہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے لوگ اور خاص طور پر میڈیا کے لوگ کشمیر جائیں اور وہاں کے لوگوں سے بات چیت کر کے مسئلے کی جڑ تک پہنچیں۔ حالانکہ مجھے یقین نہیں ہے کہ کشمیرمیں لوگ جائیں گے اور وہاں کے لوگوں کے جذبات کو سمجھیں گے ،کیونکہ ہم سب ایک طرح سے یکطرفہ دانشورانہ اندھے پن کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ میں چار دن سری نگر میں رہا اور سری نگر کے لوگ کھلے دل سے ملنے آئے، کھلے دل سے باتیں کیں۔ ایک رات مجھے لگا کہ رات میں سری نگر دیکھنا چاہئے۔ میں 13تاریخ کی رات دس بجے ایک کار میں بیٹھا اور ڈرائیور کے ساتھ سری نگر کی سڑکوں پر نکل گیا۔ تقریباًسوا گھنٹے میں سری نگر کی سڑکوں پر، جس میں دو بار لال چوک سے گزرنا ہوا، گھومتا رہا۔ مجھے کہیں پر بھی سی آر پی ایف، بی ایس ایف اور فوج نہیں دکھائی دی۔ ایک جگہ تین چار ٹرک کھڑے تھے، جس میں میں نے دیکھا کہ پیرا ملٹری فورس کے لوگ سو رہے ہیں۔ ایک جگہ چار پانچ لوگ، وہ بھی وی آئی پی روڈ پر محبوبہ مفتی کے مکان کے پاس ، چار پانچ فورس کے لوگ کھڑے تھے۔ پورے شہر میں مجھے کوئی نہیں دکھائی دیا۔ سڑکیں سنسان ،حالانکہ مجھے یہ توقع تھی کہ میری گاڑی بہت سی جگہوں پر روکی جائے گی،مجھے ٹارچر بھی کیا جاسکتا ہے، اس لئے میں نے اپنا آئی کارڈ اپنی جیب میں رکھا تھا،لیکن مجھے کوئی نہیں دکھائی دیا۔ میں ویسے ہی گھوما سری نگر میں، جیسے میںدلی اور ممبئی میں گھومتا ہوں۔ وہ کرفیو کا بسا ہوا ڈر، کرفیو کی دہشت کشمیر میں کم ہے، کشمیر کے باہر بہت زیادہ ہے۔
جنوبی کشمیر میں 16-17 سال کے بچے نعرے لگا رہے تھے،تقریباً 60-70 کا گروپ ہوگا، فوج کے لوگ ان سے کہنے لگے کہ بھاگو، نہیں تو گولی ماریںگے۔آپ یقین کریں گے ، ان سب لڑکوں نے اپنی قمیض کھول دی، ننگا سینہ ان کے سامنے کر دیا کہ گولی مارو، ہم مرنے کے لئے تیار ہیں، ہمارے پاس بچا کیا ہے۔ فوج کی بندوقیں نیچے ہو گئیں،جو فوج کسی کو نزدیک نہیں آنے دیتی، اس کے پہلے ہی گولی چلا دیتی ہے، یہی ان کی ٹریننگ ہے، ان کی بھی بندوقوں سے اپنے لوگوں کے اوپر گولی نہیں نکلی۔ ایک بڑے آرمی آفیسر کی سرکار کو یہ ہدایت کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے، آپ سیاسی طور پر ٹھیک کیجئے، فوج اپنے لوگوں کے اوپر گولی چلانے کے لئے نہیں بنی ہے، یہ دشمن سے لڑنے کے لئے بنی ہے۔ وہاں کے لوگوں میں اس جنرل کے تئیں مجھے بے پناہ احترام کا احساس دکھائی دیا۔

میں ملک کے وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور اس ملک کے تمام سوچنے ،سمجھنے والے لوگوں سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کو تباہ ہونے سے بچا لیجئے۔ وہاں ایک عوامی تحریک چل رہی ہے۔پاکستان کو اتنا بڑا مت کیجئے کہ لگے ہندوستان اس کے سامنے بونا ہے۔ دانشور وں کی دانشورانہ دلالی فوراً بند ہونی چاہئے۔ ٹیلی ویژن چینل پر یہ دانشور دلال بیٹھ کر چیخ چیخ کر پاکستان کا ہاتھ بتا رہے ہیں۔انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ملک میں پاکستان کی دانشورانہ دلالی کررہے ہیں اور پاکستان کو دنیا میں بڑا بنا رہے ہیں۔پاکستان کی کوئی حیثیت ہندوستان کے سامنے نہیں ہے، لیکن یہ دانشوردلال اگر سمجھ جائیں، وہی زیادہ اچھا ہے ،ورنہ یہ تاریخ میں ایسے لوگوں کے درجے میں آئیںگے، جنہوں نے اپنے ملک کا وقار برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

دراصل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کی سرکاروں نے کشمیر کے لوگوں کے دل سے ڈر نکال دیا ہے۔ ان کے دل میں بندوقوں ، ٹینکوں، آنسو گیس اور پیلیٹ گن کا ڈر ہی نہیں بچا۔ آپ نے اتنی زیادہ یہ ساری چیزیں انہیں دکھائی کہ اب 80سال کے آدمی کو چھوڑ دیجئے، 6سال کا بچہ بھی ان چیزوں سے نہیںڈرتا ہے اور کہتا ہے کہ یا تو ہمیں آزادی دو یا پھر گولی مار دو۔
دوسری طرف ہمارے ہندوستان میں پوجا کرنے والے، مذہب کو ماننے والے، پیڑ، گائے اور پتھر میں بھگوان دیکھنے والے لوگ آپس میں بات چیت کرتے ہیں کہ کشمیر میں کتنے لوگ مریں گے، زیادہ سے زیادہ ایک ہزار، دو ہزار، تین ہزار،انہیں گولی سے اڑا دو۔ ممبئی اور دلی میں بھی تاجروں کے درمیان یہ باتیں سنیں، سب لوگوں کو گولی سے اڑا دینا چاہئے۔یہ وہ لوگ ہیں، جو پوجا پاٹھ کرتے ہیں، جن کا مذہب پر یقین ہے،جو کہتے ہیں کہ انسان کو گولی سے اڑا دو۔
لیکن سری نگر اور کشمیر کے لوگوں کو ہندوستان کے سول سوسائٹی سے بہت امیدیں ہیں۔انہیں سرکار سے کوئی امید نہیں ہے کیونکہ سرکاروں نے تو انہیں 60 سال سے ٹھگا ہے۔انہیں امید ہے کہ ہندوستان کے سول سوسائٹی سے ، جس میں آج بھی جمہوریت کے تئیں پیار اور انسان کے تئیں بھائی چارے کا احساس بھرا ہوا ہے۔وہ سول سوسائٹی بھی آج خاموش ہے۔ اگر سول سوسائٹی کشمیرمیں کوئی پہل کرے تو مسئلے کا حل نکلے یا نہ نکلے، کشمیر کے لوگوں کے دل کے ساتھ ایک رابطہ ضرور قائم ہوسکتا ہے۔
میں ملک کے وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور اس ملک کے تمام سوچنے ،سمجھنے والے لوگوں سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کو تباہ ہونے سے بچا لیجئے۔ وہاں ایک عوامی تحریک چل رہی ہے۔پاکستان کو اتنا بڑا مت کیجئے کہ لگے ہندوستان اس کے سامنے بونا ہے۔ دانشور وں کی دانشورانہ دلالی فوراً بند ہونی چاہئے۔ ٹیلی ویژن چینل پر یہ دانشور دلال بیٹھ کر چیخ چیخ کر پاکستان کا ہاتھ بتا رہے ہیں۔انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ملک میں پاکستان کی دانشورانہ دلالی کررہے ہیں اور پاکستان کو دنیا میں بڑا بنا رہے ہیں۔پاکستان کی کوئی حیثیت ہندوستان کے سامنے نہیں ہے، لیکن یہ دانشوردلال اگر سمجھ جائیں، وہی زیادہ اچھا ہے ،ورنہ یہ تاریخ میں ایسے لوگوں کے درجے میں آئیںگے، جنہوں نے اپنے ملک کا وقار برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
میں ملک کے وزیر اعظم ،وزیر داخلہ اور اپوزیشن پارٹیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ کشمیرمیں خراب دن آنے والے ہیں۔ کشمیر کے لوگ اس بار کوئی بھی ظلم سہنے کے لئے تیار ہیں،لیکن کیا ہندوستان کا ا سیاسی اقتدار،جس میں اپوزیشن اور برسراقتدار دونوں پارٹیوں کے لوگ شامل ہیں، تاریخ میں یہ لکھوانا چاہتے ہیں کہ ہم افریقی ملکوں ، پاکستان ، عراق اور افغانستان کی طرح غیر حساس ہیں۔ہم اپنے لوگوں کا خیال نہیں رکھ سکتے یا ہم اپنے لوگوں کو زبردستی دھکیل کر، انہیں چڑھا کر، دھکا دے کر پاکستان کی گود میں بھیجنا چاہتے ہیں۔
ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں،آرٹیکل 370 کے خلاف جتنے لوگ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں ،وہ دراصل اتنے بیوقوف ہیں کہ وہ کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیر اور ہندوستان کے درمیان سمجھوتہ ہوا تھا کہ کشمیر کے بارے میں آخری فیصلہ ہونے تک دفعہ 370 وہاں لاگو رہے گی اور جس دن 370ختم ہوئی، اس دن اس سمجھوتے کے تحت کشمیر آزاد ہو جائے گا، ایک آزاد ملک بن جائے گا۔ ان پڑھے لکھے جاہلوں کو جنہیں نہ تاریخ کی سمجھ ہے، نہ قانون کی سمجھ ہے، جنہیں صرف چیخنا ،چلانا آتا ہے،یہ اس ملک سے کشمیر کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیر کو ساتھ رکھنے کی واحد ضمانت ادفعہ 370 ہے۔ ہندوستان کی سرکار کو چاہئے کہ وہ کشمیر کے لوگوں کو بھروسہ دلائیے کہ اگلے 50 برسوں تک دفعہ 370 کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی۔ یہاں سے وہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت شروع کرے، ورنہ آنے والے وقت میں جو 30یا 60دنوں سے زیادہ نہیں ہے، ہم کشمیر میں قتل عام دیکھیں گے، آگ زنی دیکھیں گے اور ایک ایسا تانڈو دیکھیں گے جو تاریخ میں ہندوستان کا منہ بد رنگ کر دے گا۔ وزیر اعظم جی، کیا آپ سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ آپ آگے بڑھ کر ایشور، تاریخ، وقت اور مقدر کے ذریعہ دی گئی اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں گے اور کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرکے ان کے دل کی تکلیف اور درد پر مرہم لگائیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا کریں گے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *