کشمیر ایک انسانی مسئلہ

p-8جب سے میں نے 13-1-1972 کے شمارہ میں جموں و کشمیر کے انتخاب پر آپ کا بہترین اداریہ پڑھا ہے،تب سے میں آپ کو اپنے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دینے کے لئے یہ خط لکھنا چاہتا تھا۔میں آپ کے اداریہ کے ایک ایک لفظ سے متفق ہوں۔ دراصل جب جنوری 1971 کے پہلے ہفتہ میں شیخ عبداللہ اور ان کے ساتھیوں کو گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں حصہ لینے سے روکنے کے لئے کارروائی کی افواہوں کا بازار گرم تھا، تب میں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ میں ذاتی طور سے وزیر اعظم اور شری پی این ہسکر سے یہ کارروائی نہیں کرنے کی اپیل کی تھی،لیکن میری اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ نتیجتاً جمہوریت کی شکل میں عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ داغدار ہوئی اور کشمیر کے عوام باقی ملک کے عوام سے اور زیادہ الگ تھلگ ہو گئے۔ کشمیر سے شیخ عبد اللہ کی جلاوطنی کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے دیگر باتوں کے علاوہ اس بات پر بھی افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیخ عبدا للہ اور ان کے ساتھیوں کو ہندوستان کے مین اسٹریم کی سیاست میں واپس لانے کے لئے 1953 کے بعد ملنے والے پہلے موقع کو ہم نے بیوقوفانہ طریقے سے گنوا دیا۔ جمہوری عمل میں حصہ داری زخموں کو بھر دیتی ہے،لیکن ہم نے اس موقع کو بھی ہاتھ سے جانے دیا۔ مجھے خوشی ہے کہ موجودہ حوالے (ریفرنس ) میں آپ کے اداریئے میں ان باتوں کی گونج مضبوط طریقے سے سنائی دی ہے۔

اس بار بھی ریفرنس الیکشن ہی ہے، لیکن اس بار کا انتخاب جموں و کشمیر اسمبلی کا ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایک بار پھر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ شری میر قاسم نے دلی کی ملی بھگت سے یہ اعلان کیا کہ جلا وطنی کا حکم لاگو رہے گا، کیونکہ جن حالات میں یہ حکم جاری ہوئے تھے ان میں کوئی بدلائو نہیں ہوا ہے۔ بیشک یہ ایک ذمہ دار سیاستداں کا ایک عجیب بیان تھا۔ یہ کوئی بھی سمجھ سکتا تھا کہ بنگلہ دیش کی آزادی اور پاکستانی فوج کی شکست نے برصغیر کی صورت حال کو بالکل بدل دیاہے۔اگر جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے تو یہ میر قاسم کی قیادت اور ان کی پارٹی کے دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے۔صورت حال کا جو اندازہ انہوں نے ظاہر کیا ذاتی طور سے میں اسے قبول نہیں کرتا۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا اندازہ وادی میں صلح اور وہاں کے لوگوں کی بھلائی سے زیادہ ان کے ذاتی اقتدار کے فائدے پر مبنی ہے۔کاش میں غلط ہوتا، لیکن میں ان کی سرگرمیوں کی اس سے بہتر تشریح نہیں کرسکتا ہوں۔
ایک بار پھر جمہوریت کے سوال کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔گزشتہ دس مہینوں سے ہم خود کو عالمی سطح پر جمہوریت اور بنگلہ دیش میں حقوق انسانی کے محافظ کی شکل میں مشتہر کررہے ہیں،لیکن ہم عالمی برادری کو کیا کہیں گے جب ہم خود اپنی ایک ریاست کے شہریوں کو اختیارات سے محروم کررہے ہیں؟سرکار کے ترجمان نے پہلے جو بھی کہا ہو یااب کہیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جموں اور کشمیر میں کبھی بھی دھاندلی سے پاک انتخاب نہیں ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنے اداریئے میں بالکل صحیح کہا ہے کہ آزادی اور جمہوریت کو الگ الگ نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن اگر شیخ عبدا للہ اور ان کے جلا وطن ساتھیوں کو انتخاب سے پہلے، کافی وقت رہتے اپنے ریاست میں واپس نہیں لوٹنے دیا جاتا اور سیاسی قیدی ( جن پر تشدد کا الزام ثابت ہو چکا ہے ان کو چھوڑ کر)ابھی بھی قید میں رہتے ہیں، تو جمہوریت کی ہماری پرزور حمایت ہمارے کردار سے کیسے ہم آہنگ ہو پائے گی اور دنیا کو ہم یہ کیسے یقین دلا پائیں گے کہ ہم دوہرا معیار استعمال نہیں کرتے یا گھر کے لئے ایک اور باہر کے لئے دوسری پالیسی نہیں اپناتے ؟
ایک اہم متعلقہ نکتے پر میں اپنا رخ واضح کرنا چاہتا ہوں ۔ایک وقت تھا جب میں شیخ عبد اللہ کے ساتھ بات چیت کی لگاتار مانگ کرتا رہا تاکہ ان کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچا جائے اور ان کی خود داری کو بھی مطمئن کیا جاسکے ۔ایسا اس لئے تھا کیونکہ ان کے ساتھ کوڈایکنال میں لمبی بات چیت کے بعد مجھے یقین ہو گیا تھا کہ وہ پاکستان کی منشا کے برعکس کشمیر کو انڈین یونین میں بنے رہنے پر راضی ہو جائیں گے۔ بشرطیکہ ہم ان کو اپنی شبیہ بچانے کے لئے کچھ رعاتیں دے دیں۔ لیکن نامعلوم وجوہات سے ان کے ساتھ بات چیت تو ہوئی لیکن سنجیدگی کے ساتھ کبھی بھی نہیں ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے پر سب سے سنجیدہ بات چیت کا سلسلہ ان کے اور شری جی پرتھا سرتھی کے درمیان چلی تھی۔ یہ بات چیت شیخ کے کوڈایکنال سے رہائی اور اپنی ریاست (جہاں انہوں نے کچھ غیر یقینی اور افسوسناک بیان دیئے تھے) سے دلی واپسی پر ہوئی تھی۔ اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ شیخ کے نظریات اور ہندوستان کے موقف میں سب سے زیادہ نزدیکی اسی وقت آئی تھی ۔لیکن پھر جب معاملہ لگ بھگ طے ہونے کے قریب تھا اور شری پرتھا سارتھی ایک دو دن میں شیخ سے پھر سے ملنے والے تھے کہ اچانک کچھ نامعلوم وجوہات سے شیخ کو بغیر بتائے پرتھا سارتھی نیو یارک کو روانہ ہو گئے۔اس کے بعد سے پھر کبھی اس کشمیری لیڈر کے ساتھ سیاسی میل ملاپ کے امکانات پر کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی۔
تاریخ کے ان واقعات کا ذکر کرنے کا مقصد یہ کہنا نہیں ہے کہ ہندوستان کی حکومت کو ایک بار پھر شیخ کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرنا چاہئے تاکہ وادی میں قابل اعتماد اور جمہوری انتخابات کے لئے لازمی ماحول تیار کیا جاسکے۔ مجھے بوجھل دل سے یہ قبول کرنا پڑتا ہے کہ شیخ کا بنگلہ دیش کے تئیں رخ اور اور ان کے ذریعہ کشمیر اور بنگلہ دیش کے ایشوز میں توازن ڈھونڈنے سے مجھے بہت مایوسی ہوئی ہے۔ 1947 سے لے کر آج تک جو واقعات ہوئے ہیں اس کے مد نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب کسی بھی کشمیری لیڈر کا جواہر لعل نہرو کے ریفرنڈم کے وعدے کی راگ الاپنا ایک بیکار کی قواعد ہے۔ ریفرنڈم کا ایشو اب ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ شیخ بھی اب گھڑی کے کانٹے کو پیچھے نہیں لے جا سکتے ۔ کشمیر کے ہندوستان میں الحاق پر اب کوئی سوال نہیں اٹھ سکتا ہے۔ جو کوئی بھی اس کے برعکس سوچتا ہے وہ بیوقوفوں کی جنت میں جی رہا ہے اور اس کی سوچ میں وقت کے دوستانہ بدلائو نہیں ہوا ہے اور برصغیر میں تاریخی اہمیت کے بدلائو کو اس نے نہیں سمجھا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وادی میں ایسی سوچ رکھنے والے بہت زیادہ لوگ ہیں۔ ایک محض سوال جسے آج بھی متعلقہ مانا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ انڈین یونین میں رہتے ہوئے جموں و کشمیر کو کتنی خود مختاری دی جاسکتی ہے اور جموں اور لداخ کو ریاست کے آئینی ڈھانچے میں کتنی خود مختاری ہوگی لیکن یہ سوال صرف جموں و کشمیر کے لئے خاص نہیں ہے۔ ملک میں کئی ریاستیں ہیں جو زیادہ اختیارات کی مانگ کررہے ہیں۔ مثال کے لئے تمل ناڈو کے سلسلے میں راجا منار کمیشن کی رپورٹ ہے۔ لیکن ساتھ ہی وزیر اعلیٰ کرونا نیدھی کا یہ زور دار بیان بھی فخر کے ساتھ دوہرایا جاسکتا ہے۔یہ بیان انہوں نے حال ہی میں تنجور (اب تھنجاوور) کے ایک عام اجلاس میں دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ریاستوں کو زیادہ اختیارات کی مانگ کا مطلب ملک کی تقسیم ہرگز نہیں ہے، اس کا مطلب صرف لوگوں کی فلاح کے کام کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ملک کے اتحاد اور سا لمیت کو متاثر کئے بنا لوگوں کے لئے ریاستوں کو اضافی اختیار دینے کی مانگ کو وزیر اعظم اندرا گاندھی خود جانچ کر سکتی ہیں۔
ہمارے آئین میں کافی لچیلاپن ہے اور ہماری ریاستوں اورمرکز اتنے ذہین ضرور ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اختیارات کی مانگ کی حد کیا ہونی چاہئے۔ اپنے ملک کی عظیم آبادی اور اپنے مسائل میں تنوع کو دیکھتے ہوئے ریاستوں کو اور زیادہ اختیارات دیئے جانے کی میں خود لگاتار وکالت کرتا رہتا ہوں۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ چھوٹی ریاستیں بہتر سرکار دے سکتی ہیں اور جمہوریت کو عوام کے اور قریب لا سکتی ہیں اور اس میں حصہ داری کے جذبے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹی ریاست علاقائی مسائل کو زیادہ تیزی سے اور کم تنائو کے ساتھ کم کرسکتے ہیں۔ساتھ میں ہمیشہ سے میں یہ زور دیتا آرہا ہوں کہ وفاقی حکومت کی مضبوطی اور اختیار کو کمزور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ہندوستان کی سا لمیت کو کمزور ہونے دیا جاسکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس حد کے اندر آپسی ہم آہنگی اور ایک دوسرے سے تبادلے کے لئے کافی گنجائش ہے۔
انہی وجوہات سے مجھے کبھی یہ شک نہیں رہا کہ ہمارے ملک کی سا لمیت کو کوئی خطرہ ہے۔ میں مطمئن ہوں کہ ہندوستان ہمیشہ متحد رہے گا اور مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔ ہمارے مسائل بڑے ہیں،لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم ان پر قابو پالیں گے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے مسلم ملک کی شکل میں بنگلہ دیش کی آزادی اور اس آزادی کی لڑائی میں نام نہاد ہندو بھارت کے کردار نے ملک میں ہندو اور مسلمان دونوں طرح کی فرقہ واریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ کہتے ہیں کہ عادت دھیرے دھیرے جاتی ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ بڑے سے بڑے متعصب کو بھی اس تاریخی واقعہ کا پیغام مل گیا ہوگا۔تو کیا میں ہندوستانی سرکار کو یہ سجھائو دے سکتا ہوں کہ بنگلہ دیش سے سبق سیکھتے ہوئے اس ملک میں کم سے کم ان سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگا دی جائے جو نام اور کام سے کھلے عام اپنے فرقہ وارانہ کردار کی نمائش کرتے ہیں، مثال کے طور پر ہندو مہا سبھا اور مسلم لیگ کا نام لیا جاسکتاہے۔ نسل پرستی بیشک ایک بڑی لعنت بنی رہے گی۔لیکن یہ بنیادی طور سے سماجی و معاشی پسماندگی کی پیداوار ہے۔ ایک سماجی ادارہ کی شکل میں نسل پرستی کے پہلے جو بھی اعتراف تھا اب وہ نہیں رہا۔ مجھے یقین ہے کہ ملک جیسے جیسے ترقی کرے گا، نسل پرستی اپنی موت آپ مر جائے گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قدیم دور کی اس بیکار کی رسم ( جو کہ بنیادی طور سے سیاسی وجوہات سے زندہ ہے) کے خلاف لگاتار جنگ کی ضرورت نہیں ہے۔
مستقبل میں ہندوستان کے اسی بھروسے کے مد نظر میں جموں اور کشمیر میں دھاندلی سے پاک، صاف ستھرے انتخاب کرانے کی گزارش کرتا رہا ہوں۔ میں سبھی متعلقہ فریقوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ریاست میں کسی بھی انتخاب کو صاف ستھرا نہیں کہا جاسکتا ہے جب تک جلا وطن لیڈروں کو وقت رہتے ریاست میں آنے نہیں دیا جاتا، تاکہ اگر وہ چاہیں تو انتخاب میں حصہ لے سکیں۔ میں یہ ضرور قبول کروں گا کہ میں ریفرنڈم سے پابندی ہٹانے کا حامی نہیں ہوں ۔لفظ ریفرنڈم (پلے بیسائٹ) اب بے معنی ہو چکا ہے اور یہاں تک کہ موجودہ ریفرنس میں یہ غداری کا معاملہ ہو گیا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مرزاافضل بیگ اور ان کے ساتھیوں کے پاس اتنی سمجھ ہوگی کہ وہ موجودہ صورت کو سمجھ سکیں (جیسا کہ شری بھٹو نہ چاہتے ہوئے دھیرے دھیرے سمجھنے لگے ہیں)اور حالت کا ازسر نو جائزہ لے کر خود کو ایک حقیقی انڈین سائڈ کی شکل میں ڈھال لیں گے۔میں آپ کے (ایڈیٹر) ساتھ پوری طرح سے متفق ہوں جب آپ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آخر کار ہم کس سے ڈر رہے ہیں؟موجودہ قانون غداری کی کسی بھی سرگرمی سے اچھی طرح سے نمٹنے کے لئے کافی ہے۔ مجھے اس کا بھی یقین ہے کہ کشمیر وادی کے لوگوں نے خود احتسابی کی ہوگی اور مذہب کی بنیاد پر پاکستان کے لئے ان کے دل میں جو بھی نرم گوشہ ہوگا وہ بنگلہ دیش کے واقعات کے بعد ختم ہو گیا ہوگا ۔ جموں و کشمیر کے لوگ خاص طور پر یہاں کے مسلمان شہری ہندوستان اورپاکستان (اب اس کا جو بھی حصہ باقی بچا ہے ) کے بیچ خوشگوار تعلق قائم کرنے میں اپنی قیمتی شراکت دے سکنے کی پوزیشن میں ہیں۔ جیسا کہ وزیر اعظم اور میرے سمیت بے شمار لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان ،پاکستان کے لوگوں کے خلاف کسی طرح کی بد نیتی نہیں رکھتا اور نہ ہی پاکستان کی تحلیل کی خواہش رکھتا ہے۔ بقیہ پاکستان کی تحلیل بے شمار مسائل پیدا کرے گا،نہ صرف اپنے لئے بلکہ ہندوستان اور پورے بر صغیر کے لئے بھی۔ جو دنیا کی عظیم طاقتوں کو بگڑے ہوئے حالات میں یہاں کے معاملات میں دخل اندازی کا موقع دے گا۔
جب خود مختاری کی مانگ پر شیخ مجیب الرحمن نے 7مارچ 1971 کو اپنا غیر معمولی عدم تعاون آندولن شروع کیا تھا تو بنگلہ دیش پر اپنے پہلے بیان میں میں نے کہا تھا کہ پاکستان کی سا لمیت بنگ بندھو ( شیخ مجیب الرحمن )کے ہاتھوں میں نہیں ہے بلکہ یحییٰ خاں اور ان کی سرکار کے ہاتھوں میں ہے۔ اس بیان کے کچھ متعلقہ حصے کا یہاں پر حوالہ دینا چاہوں گا کیونکہ پاکستان کے موجودہ بحران کے لئے مناسب ہے۔
مجھے یہ واضح کر لینے دیجئے کہ جیسے میں اپنے ملک کی سا لمیت میں یقین رکھتا ہوں، اسی طرح میں پاکستان کو ٹوٹے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ مغربی پاکستان کی فوجی حکومت کے ذریعہ قتل عام کے باوجود شیخ مجیب الرحمن اپنے اسٹیٹ کے لئے خود مختاری سے زیادہ کچھ بھی نہیں مانگ رہے ہیں۔ پاکستان سے الگ ہونے کا آخری فیصلہ انہیں ناپسند ہے۔یہ ان کے تدبر( اسٹیٹ مین شپ )کی پہچان ہے۔ ان کی خود کے ذریعہ کھینچی گئی لائن کی حد میں رکھنا مغربی بنگال کے شہریوں اور فوجی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ مغربی پاکستان میں اتنی سمجھ ہوگی کہ وہ انہیں اس حد سے باہر نکلنے پر مجبور نہیں کرے گا۔
لیکن افسوس ،بعد کے واقعات نے ظاہر کیا کہ پاکستان میں یہ سمجھ نہیں تھی۔اس نے نکسن اور کسینجر جیسے منحرف دوستوں کی مدد سے ہندوستان کو امن کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی۔ باقی بچے پاکستان کی سا لمیت پہلے کی طرح ہی ہندوستان کے بجائے خود پاکستان کے ہاتھوں میں ہے۔ ہندوستان نے خان عبد الولی خان یا بلوچ گاندھی عبد الصمد خاںکے بجائے خود صدر بھٹو پر رخ واضح کیا ہے ۔بھٹو کو بھی اسی طرح کے سوالوں کا سامنا ہے کہ کیا ان میں پاکستان کے الگ الگ گروہوں کی جمہوری خواہشات کی قدر کرنے کی سمجھ ہے؟پاکستان ایک مختلف شکلوں والا ملک نہیں ہے اور صرف اسلام کے نام پر اسے ایک نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن کو پھانسی پر چڑھانے کے صدر یحییٰٰ خاں کا حکم ماننے سے انکار کرکے بھٹو (جو اس وقت وزیر خارجہ تھے) نے اپنی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی کا ثبوت دیا تھا۔میں امید کرتا ہوں کہ وہ نہ صرف بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبے بلکہ خود اپنے صوبہ سندھ کی خود مختاری کی مانگ پر ویسی ہی دوراندیشی دکھائیںگے۔ بلو چستان اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علماء پاکستان کے اتحاد (جن کی ان صوبائی اسمبلیوں میں اکثریت ہے ) کو اقتدار سونپنے سے ان کا انکار اچھی علامت نہیں ہے۔ وہ بھی یحییٰ خان کے ذریعہ کی گئی غلطیوں کو دوہرا رہے ہیں۔
ایسے حالات میں اگر جموں و کشمیر کے مسلمان سچائی کو قبول کرتے ہوئے بالآخر ہندوستان کے وفادار شہری کے طور پر رہنے کا من بنا لیتے ہیں تو ایسا کرکے وہ نہ صرف اپنی ترقی اور فلاح میں حصہ دار ہوں گے بلکہ پاکستان میں گڑبڑی پھیلانے والے عناصر کو کمزور کرکے اس کی سا لمیت کو بھی بچانے میں حصہ دار ہوں گے۔یہ عناصر اپنے ملک کی تعمیر نو اور برصغیر میں امن قائم کرنے،ہم آہنگی اور تعاون کو بڑھاوا دینے جیسے اہم کام سے اپنے عوام کا دھیان بھٹکا نا چاہتے ہیں۔
بہر حال، ہندوستانی سرکار کے قومی اتحاد اور سا لمیت کے شعبے میں اور سیکولرزم اور جمہوریت کے ہمارے تصورات کے تئیں ایک بڑی خدمت ہوگی ،اگر وہ ہمت دکھاتے ہوئے کشمیر کے جلا وطن لیڈروں کو گھر واپس لوٹنے دیتے ہیں اور آنے والے انتخابات میں ایک مساوی حقوق والے شہری کی حیثیت سے اپنا صحیح کردار نبھانے دیتے ہیں۔کیونکہ اس مقام پر کوئی دوسرا راستہ تنگ نظری اور فکری کوتاہی کا مظہر ہوگا اور مستقبل کے خطروں سے بھرا ہوگا۔
جیساکہ آپ نے اپنے اداریہ میں کہا ہے کہ ناگا باغیوں ،جو ہندوستان کے خلاف مسلح جدو جہد کررہے ہیں،کو دلی لایا گیا اور وزیر اعظم نے خود ان سے بات چیت کی اور اس ریاست میں بد امنی کے باجوود وہاں صاف ستھرے انتخاب کرائے گئے جس کے بہت اچھے نتائج آرہے ہیں۔ شیخ عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں کے انتخاب سے پہلے گھر واپسی میں مجھے کوئی پریشانی نہیں دکھائی دے رہی ہے اور ایسے میں ہندوستان اپنا سر اونچا کرکے دنیا کو یہ کہہ سکے گا کہ جن اصولوں کے مد نظر ان سے بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی کے لئے ایک بڑا خطرہ مول لے کر اس کی حمایت کی تھی،انہی اصولوں کو اس نے اپنے ملک کی ایک ریاست میں بے جھجک اپنایا ۔
ایک آخری نکتہ، حالانکہ یہ جموں و کشمیر میں انتخاب سے متعلق نہیں ہے، لیکن جموں و کشمیر کے افسوسناک تنازع کے سلسلے میں بہت اہم ہے اور جو پاکستان اور کچھ بڑی طاقتوں کے ذریعہ امداد یافتہ ہے،یہ نکتہ ہے سیز فائر لائن (جنگ پر پابندی یا کنٹرول لائن ) کی۔ اتنے برسوں بعد اور اس لائن کے اس پار سے پاکستان کے کم سے کم تین براہ راست یا بالواسطہ حملوں کے بعد اور خاص طور پر حالیہ پاک و ہند جنگ کے بعد سیز فائر لائن کی کوئی حقیقت اور جواز نہیں ہے۔یہ ایسا نکتہ ہے جس پر ملک اور سرکار متحد ہے۔ کچھ پاگل اور حاشئے کے عناصر کو چھوڑ کر مجھے نہیں لگتا ہے کہ کوئی طاقت کا استعمال کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو جموں و کشمیر میں ملانا چاہتا ہے۔لیکن ایک عام رائے یہ ہے کہ کنٹرول لائن اور اقوام متحدہ کے سپروائزر (امن قائم رکھنے میں جن کا کردار صفر ہے) اب بیکار ہو چکے ہیں۔ لہٰذا اس نکتے پر بھی ایک قومی عام اتفاق رائے بن چکی ہے کہ نام نہاد کنٹرول لائن کو معقول بنا کر اسے دوبارہ کھینچ کر ایک حتمی عالمی سرحد کا روپ دے دیا جائے جو ہندوستان کی سیکورٹی کی گارنٹی دے گا اور پاکستان کے لئے یہاں گڑبڑی پھیلانا مشکل ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اقوام متحدہ کی اس خطے میں موجودگی غیر ضروری ، اور عالمی قانون کے خلاف ہو جائے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے باہر بھی اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ اصلی سیز فائر لائن بے دلیل تھی اور جلد بازی میں کھینچی گئی تھی۔ اسے کھینچتے وقت وہاں کی جغرافیائی صورت حال، علاقائی سیکورٹی اور استحکام اور وہاں کے لوگوں (خاص طور پر مہاراجہ اور ان کے وزیر اعظم شیخ عبد اللہ ) کی خواہشات کو دھیان میں نہیں رکھا گیا تھا۔
یہ ایک ایسا ایشو ہے جس پر کچھ نہ کچھ تبادلہ خیال کی پالیسی ضروری ہوگی۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ صدر بھٹو درحقیقت امن چاہتے ہیں اور ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھنا چاہتے ہیں،جو بیشک دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ ایسا کرنے سے عالمی سازشیں بھی ختم ہو جائیں گی،جن کی وجہ سے ماضی میں کافی گڑبڑیاں پیدا ہوئیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر بھٹو وقت کو پہچانتے ہوئے، کسی کے ہاتھوں کا کھلونا بنے بغیر اور تاریخی حقائق کو قبول کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ مستقل امن اور باہم تعاون کی خواہش کرتے ہیں تو ہندوستانی سرکار بھی اس سمت میں پیچھے نہیں ہٹے گی۔
(بشکریہ مراسلہ ’ ہندوستان ٹائمز‘ ، یکم فروری 1972)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *