کشمیر میں اعتماد کا بحران ہے

ملک کے وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ کشمیر کے علاحدگی پسندوں سے سختی سے نمٹیں گے۔وہیں وزیر مملکت برائے داخلہ کہتے ہیں کہ علاحدگی پسندوں کے خلاف مقدمہ درج کریں گے اور ان کے ساتھ دہشت گردوں کی طرح سلوک کریں گے یعنی جیسے دہشت گردوں پر گولی چلتی ہے، ویسے ہی اب علاحدگی پسندوں پر گولی چلے گی۔ سرکار کا علاحدگی پسندوں سے مطلب حریت لیڈروں سے ہے، لیکن شاید اب اس کا مطلب ان سبھی نوجوانوں سے ہے، جو سڑکوں پر ہیں،پتھر چلا رہے ہیں،ہڑتال کررہے ہیں یا سرکار کا بائیکاٹ یا عدم تعاون کررہے ہیں، چاہے وہ کشمیر کی سرکار ہو یا پھر مرکز کی۔
کسی بھی سرکار کے وزیرمملکت برائے داخلہ سے ایسے بیان کی توقع کرنا بہت افسوسناک ہے۔ سرکار میں رہنے والے آدمی کو بہت محتاط اور سوچنے سمجھنے والا ہونا چاہئے۔ساتھ ہی کسی بھی صورت حال کو سنبھالنے میں ماہر ہونا چاہئے ورنہ ایسے دماغ کے لوگ سرحد پر ہونے والی عام گولی باری کو بہت جلد جنگ میں بدل سکتے ہیں۔ ان کی نظر میں جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور اپنے طفیل میں یا حالات کا غلط اندازہ کرنے یا خود اس صورت حال کا سامنا نہ کرنے یا اس صورت حال کو سنبھالنے میں نااہل ہونے کی وجہ سے لوگوںکو مروانے کا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ میں یہ باتیں بہت ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں اور یہاں مجھے وزیر اعظم نریندر مودی سے شکایت ہے۔ آپ کی سرکار کے لوگ، آپ کی پارٹی کے لوگ تنقید کو ملک سے بغاوت مان لیتے ہیں۔آپ کی پارٹی کے لوگ شکایت کو علاحدگی پسندی مان لیتے ہیں اور اس پر تیزی سے کارروائی کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اس میں یہ کہیں نہیں جھلکتا کہ آپ ہندوستان کی اس سرکار کے نمائندہ ہیں ،جہاں مختلف مذاہب ، مختلف برادریوں ،مختلف مکاتب فکر اور مختلف نظریات کے لوگ رہتے ہیں۔ جیسے سابق وزیر داخلہ نکسلوادیوں کا مقابلہ ہیلی کاپٹر اور فوج سے کرنا چاہتے تھے، آج آپ کشمیر میں اپنے ہی ملک کے رہنے والوں کی شکایت سننے کی جگہ انہیں علاحدگی پسند بنا کر دہشت گردوں جیسا سلوک کرنے کا بیان دیتے ہیں۔ یہ سمجھ کی کمی ہے۔اس کا مطلب ہندوستان کی حکومت اہل ہاتھوں میں نہیں ہے اور وزیر اعظم کا اپنی کابینہ کے لوگوں کی سمجھ اور دماغ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔
کشمیر میں علاحدگی پسند کون ہے؟کشمیر کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان ایک ناکام ملک ہے،جہاں بے چینی ہی بے چینی ہے،جہاں نہ فیکٹریاں ہیں،نہ پیداوار کے وسائل ہیں،نہ لوگوں کے پاس روزگار ہے۔ پاکستان میں لوگوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور اس کی لڑائی پاکستان میں بڑے پیمانے پر چل رہی ہے۔ہمارے ملک میں ان لڑائیوں کا ،ان تنازعات کا کوئی بیورا جان بوجھ کر لوگوں کے پاس نہیں پہنچنے دیا جاتا،لیکن کشمیر کے لوگ جانتے ہیں کیونکہ ان کا پاکستان کے لوگوں سے پڑوسی اسٹیٹ ہونے کے ناطے کافی رابطہ رہتا ہے۔کوئی بھی ناکام ملک کے ساتھ جانا نہیں چاہتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ آزاد ملک کی مانگ کریں۔لیکن انہیں نہ میڈیا سمجھتا ہے،نہ سیاسی پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ آپ اکیلے رہ کر سوئٹزر لینڈکی طرح آزاد ملک بننا چاہتے ہیں تو آپ جئیں گے کیسے؟آپ کے پاس وسائل کہاں سے آئیں گے؟آپ کے پاس تو کچھ ہے نہیں ۔1953 سے پہلے جب شیخ عبد اللہ کشمیر کے وزیر اعظم تھے، اس وقت بھی یہ بات آئی تھی۔شیخ عبد اللہ یہ بات سمجھ گئے تھے کہ کشمیر کا مفاد آزاد رہنے میں نہیں، بلکہ آزادانہ طور سے اپنی حکومت چلانے میں ہے۔
اس کی جگہ آپ یہ تجزیہ نہیں کرتے کہ کشمیر کے لوگوں نے پتھر کیوں اٹھا لئے اور پتھر ان ہاتھوں نے اٹھائے ہیں، جو اپنے محلے کے خود لیڈر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ اپنے محلے میں اس وقت حکم جاری کرتے ہیں۔ احتجاج ہونے کی رات میں گھروں میں لائٹیں نہیں جلتی ہیں، دن میں لوگ باہر نہیں نکلتے ہیں،دکاندار رضاکارانہ طور سے اپنی دکانیں بند کئے ہوئے ہیں۔ ابھی انا ہزارے کے ایک ساتھی وینائک پاٹل کشمیر سے لوٹے ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ انہوں نے کشمیر میں ایک ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا کہ کشمیر میں یہ دکانیں کب کھلیں گی، پتھر کب بند ہوں گے تو ٹیکسی ڈرائیور کہتا ہے، آزادی ملنے تک۔ اسے یہ خواب دکھایا گیا ہے کہ اگر ہم ہندوستان سے آزاد ہو جائیں گے تو ہمارے گھر میں دودھ اور گھی کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے انگریزوں کے زمانے میں آزادی کے لئے لڑنے والے ہندوستانیوں کو اس وقت کے لیڈروں نے بھروسہ دلایا تھا۔
کشمیر کے نوجوانوں میں 1953 میں ہوئے شیخ عبد اللہ اور جواہر لعل نہرو کے درمیان ہوئے سمجھوتے کی تعمیل نہ کرنے کو لے کر غصہ ہے۔ ساتھ ہی کشمیر کو مکمل خود مختاری دینے کے سوال سے مکر جانے کی ٹیس وہاں زندگی کے آخری کنارے پر کھڑی نسل کے دل میں ہے، وہیں نوجوانوں کے دل میں اس بات کی ٹیس ہے کہ اب تک چار پارلیمانی وفود کشمیر آئے ، یہاں گھومے، لوگوں سے وعدے کئے، کشمیر کے لوگوں میں امیدیں جگائیں،لیکن دلی لوٹنے کے بعد انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ انہوں نے سرکار کو کیا اطلاعات دیں یا اپنی کیا سفارشیں دیں۔یہ وفود دوبارہ لوٹ کر کشمیر گئے ہی نہیں۔اس لئے اس بار جب سیتا رام یچوی سے صحافیوں نے سوال کیا کہ آپ تو 2010 کے وفد میں بھی آئے تھے، اس کے بعد کہاں غائب ہو گئے؟نہ آپ کے وعدے دکھائی دیئے ،نہ آپ خود دکھائی دیئے۔سیتا رام یچوری شرمندگی سے بولے’ہاں، اعتماد کا بحران تو ہے‘ ۔یہ عدم اعتماد کس نے پیدا کیا ؟یہ عدم اعتماد ہندوستان کی سرکار کے ذریعہ بھیجے گئے گزشتہ چار وفود نے کشمیریوں کے دل میں پیدا کیا ہے۔
رام جیٹھ ملانی ،کے سی پنت، انٹرلوکیٹر کے نام سے رادھا کمار، دلیپ پڈگائونکر اور سابق انفارمیشن کمشنر انصاری نے سال بھر کشمیر میں جگہ جگہ گھوم کر لوگوں سے بات کی، ان کی خواہشات جانی، سرکار سے بات کی اور ایک رپورٹ دی۔ لیکن کیا رپورٹ دی، کسی کو نہیں پتہ۔
کشمیریوں کے دل میں ہندوستان کے پارلیمانی وفد کے تئیں اگر غصہ ہے،تو اس میں ناجائز کیا ہے؟کشمیر کے لوگوں میں اگر ہندوستان کے تئیں غصہ ہے کہ ان سے جتنے وعدے کئے گئے ان پر کوئی عمل نہیں ہوا تو اس میں ناجائز کیا ہے؟اپنی مانگیں کرنا کیا ملک سے بغاوت ہے،لیکن یہ باتیں سرکار میں بیٹھے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔جیسے گزشتہ سرکار میں بیٹھے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آئی، ویسے ہی اس سرکار میں بیٹھے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آئی۔ گزشتہ سرکار میں وزیر داخلہ کہتے تھے کہ توپ ، بندوقوں اور ہیلی کاپٹروں سے نکسلیوں کو ختم کر دیں گے۔ آج موجودہ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ ہم علاحدگی پسندوں سے دہشت گردوں کی طرح سلوک کریں گے۔
کمال ہے، اس لئے لگتا ہے کہ ملک چلانا آسان نہیں ہے۔ ملک چلانا ایک مشکل کام ہے۔ ملک چلانے کا مطلب ملک میں رہنے والے لوگوں کا نہ صرف بھروسہ جیتنا ہے بلکہ ان کے دل میں آگے بڑھنے کے خواب بھی رچنے ہیں۔کیوں یہ سرکار یہ سب نہیں کر پارہی ہے؟شاید حالات وزیر اعظم نریندر مودی کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ خود یہاں آئیں اور تین چار دن کشمیر میں رہیں،سبھی طبقوں کے لوگوں سے ملیں اور پھر آگے بڑھنے کے نئے فیصلے لیں،جس سے کشمیر کے لوگوں میں بھروسہ پیدا ہو سکے۔
کشمیر ہمارے لئے صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہے۔ کشمیر ہمارے لئے سیکولرزم کی مثال ہے، اس کا ثبوت ہے۔اگر کشمیر میں اکثریت میں مسلمان ہیں اور پاکستان کہتا ہے کہ اس لئے کشمیر اس کے ساتھ مل جانا چاہئے تو پھر ہندوستان کے گائوں میں رہنے والے سارے مسلمانوں کو اس گائوں سے نکلنے کے لئے تیار رہنا چاہئے جہاں وہ اقلیت میں ہیں۔کیونکہ پھر یہی دلیل ملک میں ہر جگہ لاگو ہوگی۔ اس ملک کا مسلمان یہ سمجھتا ہے۔ پاکستان کی اس مانگ کے نتیجے میں ملک میں گائوں گائوں میں فسادات پھیل سکتے ہیں اور مرکزی سرکار کے پاس نہ اتنی پولیس ہے، نہ اتنی فوج ہے کہ وہ ہر گائوں میں مسلمانوں کو سیکورٹی دے سکے ۔سیاسی پارٹیاں یہ بات کشمیر میں لوگوں کو سمجھانے کے لئے آگے کیوں نہیں آتیں؟وہ کیوں کشمیر کے لوگوں کے بیچ ہوا پھیلنے دیتی ہیں کہ پاکستان میں سب کچھ اچھا ہے اور پاکستان میں اگر کشمیر مل جائے گا تو کشمیریوں کی زندگی جنت سے بھی حسین ہو جائے گی۔ پاک کے زیر انتظام کشمیر کے حالات کشمیر کے لوگوں کو پتہ ہیں،لیکن کشمیر کے لوگ پاکستان کا نام ہندوستان کی سرکار کو چڑھانے کے لئے لیتے ہیں۔ وہاں جھنڈے بھی ہندوستانی سرکار کو چڑھانے کے لئے لگائے جاتے ہیں،تاکہ ہندوستان کی سرکار یہ سمجھے کہ اس نے جو وعدے کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کئے ہیں وہ جلد سے جلد پورا کرے ۔پارلیمانی وفد کے تئیں عدم اعتماد اور اس بات کا فیصلہ کہ یہ لوگ دھوکہ دیتے ہیں اس لئے ہم ان سے بات چیت نہیں کریں گے،یہ بہت سنگین بات ہے۔ہندوستان کا پارلیمنٹ بھروسے کا سب سے بڑا نشان ہے۔پارلیمانی وفد کو بھی جانے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے تھا کہ ان سے پہلے گئے وفودنے کشمیر کے لوگوں سے کیا کیا وعدے کئے ہیں۔
اسی لئے آج جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس کا حل کرنے کے لئے وزیر اعظم کو آگے آنا چاہئے ۔ کشمیر مسئلہ ملک کے لوگوں کے لئے ویسے ہی سنجیدہ مسئلہ ہے، جیسے چین یا پاکستان۔ چین یا پاکستان سے آپ فوج کے ذریعہ نمٹ سکتے ہیں،لیکن اپنے ہی لوگوں پر اگر آپ فوج کا استعمال کریں گے تو فوج کبھی کسی اور استعمال کے لئے بھی کھڑی ہو جائے گی۔یہ خطرناک کھیل ہندوستانی سرکار کے وزیروں کو کھیلنا بند کردینا چاہئے۔ملک بہت بڑی چیز ہے۔ آزادی بڑی قربانیوں کے بعد ملی ہے۔ اس آزادی کو رکھنے یا نہ رکھنے کی صلاحیت یا رکھنے یا نہ رکھنے کی اہلیت کشمیر میں موجودہ قیادت کو دکھانی ہوگی۔ کشمیر کے لوگ ہمارے ہیں،ہم کشمیر کے ہیں۔ ہم جس طرح بہار، بنگال ،اتر پردیش ، اڑیسہ اور مہاراشٹر کے لوگوں کو اپنا مانتے ہیں، ٹھیک اسی طرح ہم کشمیر کے لوگوں کو بھی اپنا مانتے ہیں،ٹھیک اسی طرح ہم کشمیر کے لوگوں کو بھی اپنا مانتے ہیں ۔جتنی آزادی انہیں ہے، اتنی ہی آزادی کشمیر کے لوگوں کو ہے۔ سب سے پہلے ہندوستان کی سرکار کو اعتماد بحالی کے ٹھوس قدم اٹھانے چاہئے،نہ کہ وزیر مملکت برائے داخلہ جیسے بیان دیئے جائیں۔ یہ غیر ذمہ دارانہ ، نہایت غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔سرکار کو اور ہو سکے تو سرکار کی جگہ وزیر اعظم کو فوراً سامنے آکر کشمیر کے مسئلے کا حل اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *