جموں و کشمیر کے مستقبل کو لے کر 10 اکتوبر 1968 کو شیخ عبد اللہ کے ذریعہ سری نگر میں منعقد ’’جموں و کشمیر اسٹیٹ پیپلس کنوینشن‘‘ (ریاست جموں و کشمیر اسٹیٹ کے عوام کی کنوینشن ) میں جے پرکاش نارائن کی افتتاحی تقریر

p-7دوستو،
میں شیخ عبداللہ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس اہم کانفرنس کے افتتاح کے لئے مجھے بلایا۔ شاید آپ کو معلوم ہو کہ میں یہاں آنے سے تھوڑا جھجک رہا تھا۔دراصل شروع میں میرا فیصلہ منفی تھا،لیکن دو باتوں نے مجھے یہاں آنے پر راضی کیا۔ پہلی ، شیخ صاحب کے لئے میرے دل میں پیار اور احترام اور دوسری ، شاید میرے دل کی گہرائیوں سے نکلی بے لاگ باتیں جہاں ایک طرف ایک عملی فیصلہ تک پہنچنے میں آپ کے لئے معاون ہوں گی، وہیں دوسری طرف ہندوستان کی ر ائے عامہ کو بھی متاثر کریں گی اور وہ بھی یہاں کے حالات کو ایک حقیقت پسندانہ اور تعمیری نقطہ نظر سے دیکھیں گے۔
اس کانفرنس کے سبجیکٹ میٹر میں شامل اہم ایشوز پر بحث کرنے سے پہلے میں چاہوں گا کہ اس ریاست اور ملک کے دیگر حصوں کے ان لوگوں کے سلسلے میں کچھ کہوں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کشمیر مسئلے میں اب حل کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں بچا ہے۔کشمیر ہندوستان کا ویسا ہی اٹوٹ حصہ ہے جیسا مثال کے طور پر اتر پردیش ہے۔ حالانکہ وہ تمام لوگ جو اس نظریہ کی تشہیر کرتے ہیں، وہ بھی دراصل اس سوال پر متحد نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طرف بھارتیہ جن سنگھ ہے اور دوسری طرف کانگریس اور سرکار کے کچھ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ دفعہ 370 کو ختم کر دیا جائے اور کشمیر کو پوری طرح سے ہندوستان کے ساتھ ضم کر لیاجائے اور ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کو وہاں جانے اور زمین خرید کر بسنے کی آزادی دی جائے۔ یہاں وزیر اعلیٰ جی ایم صادق جیسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ کشمیر حقیقی طور سے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، حالانکہ وہ مانتے ہیں کہ ریاست کی خود مختاری کا معاملہ بحث کا معاملہ ہے۔ اس عام ایشو کے کئی نظریئے ہیں، جیسے (الف) جموں کو اسٹیٹ سے الگ کر دینا چاہئے، یا (ب ) اس خطے کو ریاست کے اندر کچھ خود مختاری دے دینی چاہئے۔ ان دونوں نظریئے کے درمیان کچھ متوسط نظریئے ہیں۔
دوسری طرف شیخ عبد اللہ اور ان سے جڑے ہوئے بہت سارے لوگ ہیں جو اس نظریہ پر متفق نہیں ہیں کہ ریاست کا الحاق (ایکسیشن) آخری اور اٹل ہے۔ اگر شیخ صاحب معتدل نظریات والے چند لوگوں سے گھرے ایک ایسے شخص ہوتے جن کا حلقہ اثر چھوٹا ہوتا،تو ان کے نظریات کو نظر انداز کیا جاسکتا تھا۔اگر خیالی سوچ کو الگ کر دیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ شیخ عبد اللہ آج بھی ریاست کی ایک اعلیٰ شخصیت ہیں۔ شاید یہ حقیقت کچھ لوگوں کے لئے نامناسب اور نا خوشگوار ہو،لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی وادی اور ریاست کے کئی دوسرے حلقوں میں ان کی زبردست عوامی حمایت برقرار ہے۔ بہر حال، ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ کشمیر مسئلے کا حل اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک حل میں شیخ صاحب کی حصہ داری نہ ہو۔
یہاں آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر 1947 میں کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق کے لئے اگر کوئی ایک آدمی سب سے زیادہ ذمہ دار ہے تو وہ ہے شیخ محمد عبد اللہ ۔ اس سلسلے میں ایک ہی طرح کے دو تاریخی واقعات کا ذکر ضروری ہے۔ آزادی کے وقت غیرمنقسم ہندوستان کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت دو قومیت کے نظرییے کو مانتے ہوئے جناح کے پیچھے کھڑی تھی۔ ایسے میں جو دو بہترین تشریح تھی ،وہ تھی شمال مغربی سرحدی صوبے اور جموں اور کشمیر کے مسلمان ۔ان دونوں خطوں کے مسلمانوں نے الگ مسلم ملک کی جذباتی مانگ پر ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا۔یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ایسا دو انتہائی مذہبی ، قدآور اور کرشمائی لیڈروں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ لیڈر تھے خان عبدالغفار خان اور شیخ عبدا للہ۔ اس ریاست سے جڑی اور خاص بات ہے جس کی طرف میں ان لوگوں کا دھیان دلانا چاہوں گا جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کشمیر کے سلسلے میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جسے حل کرنا ہے،اور وہ بات ہے وادی میں وسیع پیمانے پر لگاتار پایا جانے والا عدم اطمینان۔اس عدم اطمینان کا کچھ جزو ویسا ہی ہے جو کہ کم و بیش پورے ملک میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ عدم اطمینان بنیادی طور سے ریاست کی سیاسی صورت حال کی وجہ سے ہے۔ یہ سیاسی صورت حال خاص طور پر شیخ عبد اللہ سے عدم اتفاق کے سبب اور ریاست میں قابل اعتماد جمہوریت اور ایک بہتر سرکار کے فقدان کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ریاست میں انتخاب سے متعلق کچھ عرضیوں پر آئے حالیہ فیصلے یہاں جمہوریت کے آپریٹ کرنے کی حقیقی ترجمانی کرتی ہیں۔
مجھے لگتا ہے کہ وہ سبھی لوگ جو زورو شور سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، انہیں اس مسلسل انتہائی عدم اطمینان پر بہت زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں میں اس طرح کی فکر نہیں پائی جاتی ہے۔ ان میں زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قانون میں بدلائو کئے بغیر وقت کے ساتھ اس مسئلے کا حل ہو جائے گا۔ یہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ 21برس کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس مسئلے کا حل نہیں ہوا ہے اور اگر موقع پرستی اور غیر یقینی صورت حال کی یہی پالیسی جاری رہی تو مسئلے کا حل آنے والے 21 برسوں میں بھی نہیں ہو پائے گا۔اگر صورت حال کو ایسے ہی کنٹرول سے باہر جانے دیا گیا اور شیخ عبدا للہ کو ایسے ہی نظر انداز کیا گیا تو نسل پرستی کو بڑھاوا ملے گا اور اس کے نتائج بہت بھیانک ہوں گے۔
ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جن کے نزدیک ہر مسئلے کا حل طاقت کے استعمال سے کیا جا سکتا ہے۔ان کے لئے اس کی بہت کم اہمیت ہے کہ شیخ عبد اللہ عوام میں کتنے مقبول ہیں یا ان کے چاہنے والے کتنے ناراض ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ طاقت کا استعمال ان تمام چیزوں کا مقابلہ کر لے گا۔ اس طرح بچکانہ اور رجعت پسندی ایک خاص طرح کی ذہنیت کو خاص طور سے پسند آتی ہے۔لیکن بڑے پیمانے پر طاقت کا استعمال خاص طور پر کشمیر جیسے حساس خطے میں بہت ہی خطرناک ہے۔ اس سے جڑا ہوا ایک اور حقیقی خطرہ ہے۔ کشمیر میں لگاتار طاقت پر انحصار ہندوستان کے دوسرے خطوں میں جمہوریت کو کمزور کرے گا،فرقہ واریت کو بڑھاوا دے گا اور ملک کی سیاست اور معیشت ایسے زخم بن جائیں گی جن سے ہمیشہ پیپ رستا رہے گا۔
میں آپ کو یہ بھی یاد دلا دوں کہ 1968 کی دنیا کا مزاج 1947 کی دنیا سے بالکل بدل گیا ہے۔ ان بیچ کے سالوں میں نئے عوامل سامنے آگئے ہیں۔ ان عوامل نے کشمیر مسئلے کے حل میں شامل ایشوز کو بدل دیا ہے۔ خود ارادیت کے حق کو بھی بدلی ہوئی ہوئی صورت حالوں کے مطابق کشمیر کے عوام کی آج کی ضرورتوں کے لحاظ سے دیکھا جانا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خود ارادیت کے اختیار کے وسیع اور دور رس اثرات ہیں، مثال کے طور پر ہر آدمی کو اپنا ایک طریقہ کار اپنانے اور اپنے اداروں کے کردار کا تعین کرنے کا حق ہے،لیکن یہ انتہائی مشکل موضوع ہے اور ایک جدید نیشن اسٹیٹ ہونے کے ناطے یہ مشکل اور بڑھ جاتی ہے۔ میں نیشن اسٹیٹ کا پرستار نہیں ہوں۔ دراصل میں اسے ایک متروک اور قدیم تصور مانتا ہوں۔ لیکن پھر اس کا وجود ہے اور آج بھی یہ لوگوں کے جذبات کو بھڑکاتی ہے، اور انہیں ایک دھاگے میں جوڑتی ہے۔یہ تصور مذہب، ذات، زبان، ثقافت اور نظریات (یہاں تک کہ کمیونسٹ نظریہ )کو بھی متاثر کرتی ہے۔
نیشن اسٹیٹ کے تعلق سے کسی قوم یاملک کی توضیح کرنا اور جغرافیائی سرحد طے کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ کیا کشمیری ایک قوم ہیں؟اگر ایک قوم ہیں تو پھر ڈوگرا اور لداخی کون ہیں؟آپ سرحد کہاں کھینچیں گے؟آپ ایک نظر دوڑا کر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ موجودہ نیشن اسٹیٹ (چاہے وہ جیسے بھی وجود میں آئے ہوں)اپنے اندر کے کسی قوم کے ذریعہ خود ارادیت کے حق کی مانگ کی کس مکمل عزم کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں۔
یہ بہت ہی مشکل حقیقت ہے جس کا نوٹس ضرور لیاجانا چاہئے۔ چاہے یہ کسی کو پسند ہو یانہ ہو۔ہندوستانی نیشن اسٹیٹ کی تشکیل بھی تقسیم کے سانحہ (جس نے اس کی جغرافیائی سرحدیں طے کی) کی وجہ سے غیر منظم طریقے سے ہوئی تھی۔ ہندوستان بھی پاکستان کی طرح یا کسی بھی نیشن اسٹیٹ کی طرح پُر امن یا رضاکارانہ طور سے کسی مانگ پر اپنے کسی حصے کو ٹوٹ کر الگ نہیں ہونے دے گا۔ آئیے اس حقیقت کو مان لیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خود ارادیت کے حق کو حاصل کرنے کے لئے فوجی طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے،لیکن نیشن اسٹیٹ سے اس طرح سے الگ ہوا حصہ اس وقت تک اپناہدف حاصل نہیں کر سکتا جب تک کوئی دوسرا نیشن اسٹیٹ اپنے فائدے کے لئے اس کی مدد نہ کرے۔ بہر حال، اس طرح کے امکانات آج کی بحث کے لئے غیر متعلقہ ہے،کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ یہاں موجود لوگوں میں سے کوئی ایسا آدمی ہے جو اس مسئلے کا فوجی یا پُر تشدد حل کا حامی ہے۔
یہ کچھ ناخوشگوار اور ناگزیر سچائیاں ہیں اور آپ کا دوست اور خیر خواہ ہونے کے ناطے مجھے سچی بات کہنی ہی پڑے گی۔ اس کانفرنس میں موجود لوگوں کو صاف طور پر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ (پاکستان کے ساتھ ) 1965 کی جنگ کے بعد کوئی بھی ہندوستانی سرکار اس حل کو نہیں قبول کرے گی جس میں کشمیر کو انڈین یونین سے الگ رکھا جائے گا۔یہ اسے اور مثبت طریقے سے یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس مسئلے کا حل انڈین یونین کی ساخت کے مطابق ہی تلاش کرنا ہوگا۔ میرے اس بیان سے آپ کو حیرت نہیں ہوئی ہوگی، کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب میں نے عوامی طور پر ایسی بات کہی ہے۔ کم سے کم آپ میں سے کچھ لوگوں کو یہ جاننا چاہئے کہ اسی طرح کی سوچ ان بے شمار لوگوں کی بھی ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے کشمیر کا ایک قابل قبول حل نکلنے کے لئے کوشاں ہیں۔جو اہم باتیں میں آج آپ لوگوں کے سامنے رکھنا چاہوں گا ،وہ یہ ہے کہ اتنے مشکل اور سنجیدہ ایشو پر اپنے لیڈروں کے صاف ستھرے اور بے لاگ مشورے کے بغیر عوام کیسے فیصلہ کریں گے؟میں بہت سختی سے یہ محسوس کرتا ہوں اور آپ سے زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ یہی موقع ہے جب آپ اس اہم ایشو پر خود سے غور فکر کرکے ایک فیصلہ لے کر اور عوام کو اپنی بے لاگ رائے دے کر ،آپ اپنا اور عوام کا قرض اتار سکتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہاں موجود لیڈروں کو عوام میں جاکر یہ بتانے میں کوئی دشواری ہوگی کہ یہاں جو فیصلے لئے گئے ہیں وہ موجودہ صورت حال میں سب سے بہتر متبادل ہے۔یہ فیصلے یہاں امن، خوشحالی اور خود اعتمادی کی ضمانت دیں گے۔ اگر یہ کنوینشن سیاسی بحث کی محض رسم نہیں ہے، بلکہ موجودہ بحران سے نکلنے کی ایک تعمیری اور ایماندار کوشش ہے تو میں سمجھتا ہوں یہی مسئلہ کے حل کی طرف جانے والا سب سے ذہانت والا راستہ ہے۔
میرا سجھائو ایک اور بڑا سوال کرتا ہے۔ مسئلے کے حل میرے ذریعہ سجھائے گئے نکتوں کی حد میں کرنے پر پاکستان کیسا رد عمل کرے گا؟یہ دلیل اکثر دی جاتی ہے کہ جب تک یہاں کی صورت حال سے پاکستان کو مطمئن نہیں کیا جائے گا،تب تک ریاست میں امن اور سیکورٹی کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔ اس میں سچائی ہے۔ اس لئے آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا ممکنہ رد عمل کیا ہوگا۔ پاکستان کا عوامی رخ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ ریاست کے عوام اپنے مقدر کا فیصلہ خود کریں گے۔ لہٰذا اگر آپ یہاں ایک فیصلہ لیتے ہیں اور عوام کو اس پر راضی کرلیتے ہیں (مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ انہیں راضی کر لیںگے) تو پاکستان کے پاس اعتراض کاکوئی مناسب سبب نہیں بچے گا۔ دنیا بھی اس سمجھوتے کو مان لے گی جو کشمیر کے لوگوں کو منظور ہوگا، اور عالمی برادری پاکستان کو اس سمجھوتے کو ماننے پر پابند کر دے گی۔اگر ایسا ہوا تو ہندوستان -پاکستان رشتوں کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہو جائے گا۔
آخری اور سب سے اہم سوال میرے سجھائو، جن کی میں یہاں وکالت کررہاہوں،لیکن ہندوستانی حکومت کا ممکنہ رد عمل کیا ہوگا ،حالانکہ میں ہندوستانی حکومت کی طرف سے نہیں بول سکتا، لیکن مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے اس سجھائوں کو قبول کرتے ہی ہندوستان کی حکومت اور آپ کے نمائندوں کے بیچ بامعنی بات چیت کے لئے راستہ صاف ہو جائے گا۔ایسی صورت میں اسٹیٹ کے جو دوسرے لیڈر ہیں اور جنہوں نے اس کنوینشن میں حصہ نہیں لیا ہے وہ بھی آپ کے ساتھ شامل ہو کر آپ کی طاقت بڑھا سکتے ہیں۔ ایسا ہوا تو مجھے لگتا ہے کہ یہاں ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔
یہ سوال کہ انڈین یونین میں ریاست کی آئینی حیثیت کو یونین کے ذریعہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جائیگا؟ایک ایسا سوال ہے جس پر بحث ہونی باقی ہے ۔لیکن اس طرح کی بحث کے لئے یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ بحث ہندوستانی سرکار کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے ٹیبل پر ہونی چاہئے۔ مجھے معلوم ہے کہ ملک کے کچھ حلقوں میں یہ رائے ہے کہ کسی بھی اسٹیٹ کو خصوصی رعایت نہیں دی جانی چاہئے، لیکن مجھے شک ہے کہ ہندوستان کے بدلے ہوئے حالات میں اس طرح کی سوچ پر قائم رہا جاسکتا ہے۔اکثر تاریخی وجہوں سے عام حالات میں بدلائو کی ضرورت ہوتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *