جورہاٹ آپریشن کا شرمناک سچ

p-5پونہ گوگوئی جورہاٹ کے باشندے ہیں۔ وہ آرمی کے لیے ٹھیکے کا کام کرتے ہیں۔ ا س کہانی کی شروعات تب ہوتی ہے، جب 20 ستمبر 2011 کی رات کچھ لوگ سرجیت گوگوئی عرف پونہ گوگوئی کے گھر میں زبردستی گھس جاتے ہیں۔ اس رات وہ اپنے گھر میں موجود نہیںتھے۔وہ گوہاٹی میںتھے۔ یہ لوگ پونہ گوگوئی کے گھر کے پچھلے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئے تھے۔ گھر میںصرف ان کی بیوی رینو اور تین بچے تھے، دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ رات کا وقت تھا۔ گھر میںسب سو رہے تھے۔ اچانک گھر کے اندر اجنبی لوگوںکو دیکھ کر وہ سب ڈر گئے اور رونے لگے۔ ان لوگوں نے سبھی کو بستر سے کھینچ کر باہر نکالا اور ان کے ہاتھ باندھ کر انھیںٹی وی والے کمرے میںبند کردیا۔ یہ لوگ پونہ گوگوئی کو ڈھونڈ رہے تھے اور بچوںکو ڈرا دھمکا کر ان سے ان کے باپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ ان لوگوں نے گھر کا کونا کونا چھان مارا، لیکن پونہ گوگوئی کہیں نہیں ملے۔ اس کے بعد ان لوگوںنے بڑے بیٹے کو دھمکی دی کہ اگرا س نے اپنے باپ کا ٹھکانہ نہیں بتایا، تو سبھی لوگوں کو جان سے مار دیا جائے گا۔ ان لوگوںکے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔ کسی کا چہرہ دکھائی نہیںدے رہا تھا۔ لیکن گھر والوںنے اس گینگ میں سے صرف ایک کا چہرہ دیکھ لیاتھا۔ وہ ایک عورت تھی،جس نے بات چیت کے دوران اپنے چہرے پر سے کچھ وقت کے لیے ماسک ہٹالیا تھا۔ وہی عورت سبھی لوگوںکو ہدایت دے رہی تھی۔ عورت کی ہدایت پر وہ سبھی لوگ گھر کی چابیاں لے کر الماریوںکی تلاشی لے رہے تھے۔ وہ لوگ پونہ گوگوئی کے گھر سے ایک لائسنسی پسٹل، ساڑھے چھ لاکھ روپے کے زیورات اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے نقد اٹھا کر لے گئے۔ان کے علاوہ ایک لیپ ٹاپ اور چار موبائل فون بھی وہ لے گئے۔
اگلے دن سویرے پونہ گوگوئی جب گھر واپس آئے، تو گھر کا نظارہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ گھر کے سبھی افراد ڈرے سہمے ہوئے تھے۔ آخر وہ سیدھے پولیس اسٹیشن پہنچے او رشکایت درج کرائی، گھر سے لوٹے گئے سبھی سامان کی تفصیل دی۔ لیکن تھانے میںانھیںایک ایسی جانکاری ملی، جس سے ان کا دماغ ہل گیا۔ تھانے کی پی سی آر وین نے جانکاری دی کہ کل رات دو بجے کے قریب ان کی ملاقات آرمی کی ایک ٹیم سے ہوئی ۔ جب پولیس والوں نے ان لوگوں کو روکا اور پوچھ تاچھ کی، تو انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق آرمی سے ہے اور اس علاقے میںوجے چائنیز نام کے اُلفا دہشت گرد کی تلاش میںآئے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ جب یہ لوگ پونہ گوگوئی کے گھر سے نکلے، تب راستے میں ان کی ملاقات پولیس سے ہوئی تھی۔ اب یہ بات تو قابل یقین ہے ہی نہیں کہ آرمی والے بھی ڈاکہ زنی کر سکتے ہیں۔ اس پر تو کوئی یقین بھی نہیںکرے گا۔اگر آرمی والوں نے یہ کام کیا بھی ہے، تو ا س کا کوئی ثبوت نہیںہے۔ پولیس کو بھی لگا کہ ہوسکتا ہے ،ڈکیتی کرنے والاکوئی اور گینگ رہا ہو اور واردات کو انجام دے کر نکل گیا ہو، اس لیے پولیس نے صرف معاملہ درج کرلیا۔
پولیس اور گوگوئی خاندان کے پاس صرف ایک ہی سراغ بچا تھا، وہ یہ کہ ڈکیتی کرنے والے گینگ کی قیادت ایک عورت کررہی تھی۔ اگر وہ سامنے آجائے، تواسے خاندان والے پہچان سکتیتھے۔ لیکن اس عورت کو تلاش کرنے کا کوئی طریقہ نہیںتھا۔معاملہ درج ہوگیا۔ پولیس بھی سست پڑگئی۔ کوئی سراغ یا ثبوت ملنا مشکل لگ رہا تھا۔ لیکن، قریب ایک ہفتہ بعد ا س واقعہ میںایک حیرت انگیز موڑ آیا۔ پونہ گوگوئی کے بڑے بیٹے کے جس فون کو ڈاکو اٹھا لے گئے تھے، اس سے کسی نے کال کی۔ یہ فون کہاںسے کیا گیا، یہ تو پتہ نہیںچلا،لیکن جسے کیا گیا،وہ سامنے آگیا۔ یہ کال ہریانہ کے کسی نمبر پر کی گئی تھی۔ ا س کے بعد ایک پولیس ٹیم ہریانہ روانہ ہوتی ہے اور تفتیش کرتی ہے۔ جورہاٹ کی ایس پی سنیکتا پاراشر کو بتایا جاتا ہے کہ یہ فون کال آرمی کے ایک حولدار سندیپ تھاپا نے اپنی بیوی اورماں کو کی تھی۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سندیپ تھاپا دیما پور کے رنگا پہاڑ میں واقع 3کارپس انٹیلی جنس اینڈ سرولانس یونٹ کا رکن ہے۔ اس یونٹ کا دائرہ ٔ اختیار آسام، ناگالینڈاورمنی پور ہے اور یہ سیدھے طور پر لیفٹیننٹ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کی کمانڈ کے اندر آتا ہے۔ ایس پی سنیکتا پاراشر نے سہاگ سے سیدھے بات کرنے کی کوشش کی،لیکن انھوںنے پولیس کو تعاون دینے سے منع کردیا۔ اس بیچ سندیپ تھاپا پولیس کی پکڑ میں آجاتا ہے۔ پولیس نے اسے گرفتار نہیںکیا، صرف پوچھ تاچھ کی۔ اس پوچھ تاچھ میں حولدار سندیپ تھاپا نے سب کچھ اگل دیا۔ پولیس اور فوج میںیہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ سب کو پتہ چل گیا کہ پونہ گوگوئی کے گھر میںجن لوگوں نے اس واردات کو انجام دیا،وہ فوج کے لوگ تھے۔ اس واقعہ میں انٹیلی جنس کارپس کے پندرہ لوگ شامل تھے، جو پونہ گوگوئی کے گھر دو نجی گاڑیوںسے پہنچے تھے۔ جو عورت اس ٹیم کی قیادت کررہی تھی، وہ کوئی اور نہیں، بلکہ کیپٹن روبینہ کور تھی۔ سب کی نظریں اس 3 کارپس انٹیلی جنس یونٹ کے کمانڈر کرنل گووندن شری کمار پر جاٹکیں۔ حالانکہ شری کمار اس ریڈنگ ٹیم کا حصہ نہیں تھے، لیکن جب پولیس نے ان کی کال ڈٹیلس نکالیں، تو پتہ چلا کہ اس واقعہ سے پہلے اور بعد میں وہ کیپٹن روبینہ کور سے لگاتار بات چیت کررہے تھے۔
اس یونٹ سے دو چوک ہوئیں۔ ایک تو اس نے کسی لڑاکو دستے اور مقامی پولیس کو جانکاری دئے بغیر کسی شہری کے گھر میںریڈکی۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ دہشت گرد کو پکڑنے کے نام پر گھر کے افراد کو اذیتیں دیں اور ڈاکہ زنی کی۔ تیسری غلطی یہ ہوئی کہ اس پورے معاملے کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ جب فوج کی ساکھ پر داغ لگنے لگا اور دباؤ بڑھنے لگا، تو اس معاملے کو ٹھنڈ اکرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ پونہ گوگوئی کو ان کی پسٹل سمیت گھر سے اٹھائے گئے کئی سامان واپس کردیے گئے، لیکن کارتوس اور زیورات غائب تھے۔ وہ کہاں گئے، یہ کسی کو پتہ نہیں۔ پولیس کو لیفٹیننٹ جنرل سہاگ نے بتایا کہ اب یہ معاملہ فوج دیکھے گی،کیونکہ یہ پولیس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ کرنل شری کمار بھی کمال کی شخصیت ہیں۔ بہت پہنچے ہوئے افسر ہیں۔ نارتھ ایسٹ آنے سے پہلے وہ بری فوج کے سربراہ جے جے سنگھ کے او ایس ڈی یعنی آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی یعنی بری فوج کے سربراہ کے سب سے قریبی اور معتمد افسر تھے۔ جنرل جے جے سنگھ جب اروناچل پردیش کے گورنر بنے، تو شری کمار بھی 3 کارپس کے کمانڈنگ آفیسر بن کر دیما پور آگئے۔ بتایاجاتا ہے کہ شری کمار سیدھے جنرل بکرم سنگھ اور لیفٹیننٹ جنرل سہاگ کو رپورٹ کرتے ہیں۔ جنرل بکرم سنگھ اس وقت ایسٹرن کمانڈ کے ہیڈ تھے۔ یہ بھی خبر آئی کہ جب جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کا تنازع شروع ہوا، تو شری کمار دہلی آکر میڈیا میںخبریں لیک کرنے کا کام کررہے تھے۔ جورہاٹ کا واقعہ کوئی استثناء نہیںہے۔ ویسے یہ معاملہ عدالت میںچل رہا ہے۔ اوپر دی گئی تفصیل شکایت کا حصہ ہے۔
تین منی پوری نوجوانوں کے قتل کا معاملہ
ایک اور معاملہ ہے، جو جورہاٹ کے واقعہ سے زیادہ شرمناک ہے۔ یہ معاملہ منی پور ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔ یہ معاملہ منی پور کے تین نوجوانوں کے اغوا اور ا ن کے قتل کا ہے۔ اس میںبھی الزام کے گھیرے میںیہی 3 کارپس ہے۔ ا س معاملے میںلیفٹیننٹ جنرل سہاگ اور کرنل گووندن شری کمار کا نام ہے۔ یہ واقعہ 10 مارچ 2010 کا ہے۔ دیما پور کے چار میل علاقے سے تین نوجوانوں کا اغوا ہوتا ہے۔ فیجم نوبی، آر کے روشن اور تھونوجم پریم نام کے ان نوجوانوں کے بارے میںپولیس کو خبر ملتی ہے کہ ان کا اغوا ہوگیا ہے۔ 17 مارچ 2010 کو پولیس کو تین لاشیںملتی ہیں۔ تینوں کے جسم گولیوں سے چھلنی تھے۔ ان کی پہچان ہوتی ہے، تو پتہ چلتا ہے کہ یہ وہی تینوں ہیں،جن کا 10 مارچ کو اغوا ہوا تھا۔ پولیس اپنی ایف آئی آر میں3 کارپس انٹیلی جنس یونٹ کا نام ڈال دیتی ہے۔ ا س بیچ 3 کارپس کے سیکنڈ اِن کمانڈ ، یعنی کرنل شری کمار کے ٹھیک نیچے کے افسر، میجر ٹی روی کرن نے 12 مارچ 2010 کو آرمی چیف اور ایسٹرن کمانڈ کے چیف کوایک خط لکھا۔ اس خط میںانھوںنے لکھا کہ 10 مارچ کی رات تین منی پوری نوجوانوں کو لایا گیا، انھیںٹارچر کیا گیا اور پھر میس کے پیچھے انھیں گولی مار دی گئی۔ اس خط پر کوئی کارروائی نہیںہوئی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ اس معاملے میں کسے بچایا جا رہا تھا؟ کیوں بچایا جارہا تھا؟
جب کوئی کارروائی نہیںہوئی،تو میجر ٹی روی کرن نے 25 جنوری 2012 کو ایک بار پھر سبھی سینئر افسروں کوخط لکھا،لیکن اس وقت جنرل وی کے سنگھ فوج کے سربراہ تھے۔ انھوںنے ایسٹرن کمانڈ کو جانچ کی ہدایت دی۔ ایسٹرن کمانڈ نے 3 کارپس کو جانچ کی ہدایت دی۔ جانچ کے دوران میجر ٹی روی کرن نے بتایا کہ اس قتل کیس کے پیچھے جنرل گووندن شری کمار کی یونٹ تھی۔ جورہاٹ کے واقعہ کے بعد آسام کے چیف منسٹر ترون گوگوئی نے بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ سے بات کی اور اس واقعہ میں شامل فوجیوں کے خلاف کارروائی کی مانگ کی۔ جنرل وی کے سنگھ کے دباؤ کی وجہ سے بکرم سنگھ نے اس پر کورٹ آف انکوائری بٹھائی، جس کی قیادت برگیڈیر اے بھوئیا کو سونپ دی گئی۔ ایک بریگیڈیر رینک کے افسر سے جانچ اس لیے کرائی گئی،تاکہ اس معاملے کی جانچ لیفٹیننٹ جنرل سہاگ تک نہ پہنچے، جبکہ یہ یونٹ ان کے دائرۂ اختیار میںآتی ہے، تو سب سے پہلی ذمہ داری ان کی ہی بنتی ہے۔ یہاںتو معاملہ ہی الٹا ہوگیا۔ جس کی ذمہ داری بنتی ہے، اسے تو دور رکھا ہی گیا، لیکن جن لوگوں نے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی واقعہ کو انجام دیا، انھیںبھی چھوڑ دیا گیا۔ اس بیچ پونہ گوگوئی نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں فریاد کی۔ انھیں فوج کی کورٹ آف انکوائری کے سامنے گواہ بنا کر پیش کیا گیا۔ پونہ گوگوئی کا کہنا ہے کہ کیپٹن روبینہ کور کیر نے بعدمیں یہ دھمکی بھی دی کہ اگر کوئی ثبوت دیا،تو وہ انھیںکسی دوسرے کیس میں پھنسا دے گی،جبکہ یہ بیان پریزائڈنگ آفیسر کے سامنے دیا گیا،لیکن اس پر کوئی ایکشن نہیںہوا۔ گویا دھمکی دینا ملک میںقانوناً کوئی جرم نہیں ہے۔
اس خبرکو انڈیا لائیو ٹی وی پر بھی ڈٹیل میںدکھایا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا منصوبہ پونہ گوگوئی کا اغوا کرکے انھیںکسی دہشت گرد تنظیم کے حوالے کرنا تھا اور یہ سارا کام فوج میں کام کرنے والے پونہ گوگوئی کے حریف ٹھیکیدار نرمل گوگوئی کے اشارے پر کیا گیا۔ معاملہ ٹلتا گیااور سنوائی ہوتی رہی۔ گنہگاروںکو بچانے کے لیے تمامتر کوششیںکی گئیں۔ الزام یہ ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل سہاگ نے کرنل شری کمار کو بچانے کے لیے فوج کے ذریعہ کیے گئے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی آپریشن پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ ان سب کو صرف انتظار تھا جنرل وی کے سنگھ کے ریٹائر منٹ کا، جو تاریخ پیدائش کے تنازع کی وجہ سے ایک سال پہلے ہوگیا۔ بکرم سنگھ فوج کے سربراہ بن گئے اور لیفٹیننٹ جنرل سہاگ نائب سربراہ ۔ اگر ان سوالوں کو اٹھانا فوجی سربراہ کی تقرری کی سیاست ہے، تو اس وقت کے وزیر دفاع ارون جیٹلی صاحب کو ہی بتاناچاہیے کہ جورہاٹ کا شرمناک واقعہ اور تین منی پوری نوجوانوں کے قتل کا مجرم کون ہے؟ ویسے ملک کے قانون کے مطابق ڈکیتی کی سزا 5 سال ہوتی ہے، لیکن ان لوگوںکا گناہ تو صرف ڈکیتی ہی نہیںتھا، انھوںنے ڈکیتی کے ساتھ ساتھ فوج کی عزت اور ساکھ بھی تار تار کردی۔ ان واقعات کی وجہ سے ہی نارتھ ایسٹ کا علاقہ اور وہاں کے لوگ ہندوستان سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ لیکن،سرکار ان واقعات میںجواب دہی طے کرنے اور سزادینے کے بجائے ذمہ دار لوگوںکو انعام دے رہی ہے۔اس واقعہ کو تو ملک توڑنے کی سازش کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ایسے ہی واقعات کی وجہ سے آرمڈ فورس اسپیشل پاورس ایکٹ پر سوالیہ نشان لگتا رہا ہے۔
اس واقعہ کی تصدیق فوج کی جانچ سے بھی ہوئی۔ دسمبر 2013 میںکورٹ آف انکوائری کا فیصلہ آیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جورہاٹ کے معاملے میںصرف حولدار سندیپ تھاپا پر کارروائی ہوئی۔ اسے فوج سے نکال دیا گیا۔ اس ٹیم کی قیادت کرنے والی کیپٹن روبینہ کے ساتھ ساتھ اس میںشامل لوگوں کو پھٹکار لگائی گئی اور کرنل شری کمار کے تئیںبے اطمینانی ظاہر کی گئی۔ کیا وزارت دفاع کو اس معاملے پر پھر سے غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا حولدار تھاپااکیلا ہی پونہ گوگوئی کے گھر پہنچا تھا؟ اگر حولدار تھاپاکے ساتھ کیپٹن روبینہ بھی تھی، تو ان کا قصور حولدار تھاپاسے کم کیسے ہے؟ اس آپریشن سے فوج داغدار ہوئی، لیکن یونٹ کے چیف کے تئیںصرف بے اطمینانی ظاہر کرنے کا کیا مطلب ہے؟ سوال تو یہ پوچھا جاناچاہیے کہ کیا اس وقت فوج کسی گینگ کی طرح کام کررہی تھی؟ جن بڑے بڑے افسروں کے نام کے نیچے اس شرمناک جرم کو انجام دیا گیا، کیا ان کی کوئی ذمہ داری نہیںہے؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں سے فوج میںبڑی بڑی تقرریوں کے دوران سرکار کی طرف سے لگاتار چوک ہورہی ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ چوک نہیں ، بلکہ سازش کا شکار یا سازش میںشامل ہوکر سرکار اناپ شناپ فیصلے لے رہی ہے۔ جب جنرل بکرم سنگھ کو فوج کا سربراہ مقرر کیا گیاتھا، تب ان کے خلاف دو معاملے زیر غور تھے۔ ایک معاملہ جموں و کشمیر میں فرضی انکاؤنٹر کا تھا،جو ہائی کورٹ میں چل رہا تھا اور دوسرا معاملہ ان کی قیادت والی ’شانتی سینا‘ کے ذریعہ کانگو میںعورتوں کے جنسی استحصال کا تھا۔ دونوں معاملوں کے فیصلے آنے باقی تھے، لیکن پھر بھی منموہن سنگھ نے انھیں فوج کا سربراہ مقرر کردیا۔ پھر منموہن سنگھ سرکار نے جاتے جاتے لیفٹیننٹ جنرل سہاگ کو فوج کا سربراہ مقرر کردیا۔ جنرل سہاگ پر بھی الزام تھے اور سنگین الزام تھے۔یہ معاملے عدالت میںزیر سماعت تھے اور آج بھی معاملے کورٹمیںہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی فوج پر مافیا کا شکنجہ ہے۔ سرکار کسی کی بھی ہو، وزیر اعظم کوئی بھی بن جائے۔ وزیر دفاع کوئی بھی ہو۔ فیصلے وہی ہوتے ہیں، جو یہ مافیا چاہتا ہے۔ ہم یہ کہہ کر ان معاملوںپر پردہ نہیںڈال سکتے ہیںکہ فوج کو تنازع اور سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔ فوج پر سوال نہیںاٹھانا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ نہیںہے کہ سچائی پر پردہ ڈال دیا جائے، آنکھیں بند کرلی جائیں۔سوال تو صرف ایک ہی ہے کہ اگر کوئی فوج کی یونٹ بے گناہوں کا قتل کرتی ہے، لوٹ پاٹ کرتی ہے اور اس کے بعد یونٹ کا پرمکھ انھیںبچانے کی کوشش کرتا ہے، تو کیا اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے؟

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *