جھارکھنڈ: زمین مافیاکا قہر سابق ممبر پارلیمنٹ ہوئے شکار، وزیر اعلیٰ بھی لاچار

چوتھی دنیابیورو
p-10bڈالٹن گنج میں ایک سرکاری زمین ہے جس کا پلاٹ نمبرہے 1090 ۔اس سرکاری زمین پر منوج شرما نام کے ایک شخص نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ پلامو کے سابق ممبر پارلیمنٹ جراور رام نے باقاعدہ اس کی شکایت وزیر اعلیٰ اور پولیس سے کی۔ وزیر اعلیٰ نے مذکورہ زمین کو قبضہ سے چھڑانے کے لئے متعلقہ افسروں کو خط بھی لکھا۔ لیکن پولیس سے لے کر بی ڈی او اور ڈی سی تک اس زمین سے غیر قانونی قبضہ نہیں ہٹوا سکے۔ اب اس کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یا تو پولیس اور آفیسر زمین مافیا سے ملے ہوئے ہیں یا پھر جھارکھنڈ کے زمین مافیا وزیر اعلیٰ سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔ جھارکھنڈ میں زمین مافیا کا یہ محض ایک نمونہ ہے۔یہ کہانی بتاتی ہے کہ جھارکھنڈ میں کیوں نکسلواد کے مسائل اتنے زیادہ ہیں۔ نکسلواد کے مسئلے کا ایک سیدھا تعلق زمین سے بھی ہے اور جب ایک سابق ممبر پارلیمنٹ، وزیر اعلیٰ تک کے خطوں کا اثر نہیں ہوتا، پولیس اور آفیسر زمین مافیا کے چنگل سے زمین کا قبضہ نہیں ہٹوا پاتے ہیں، تو ایسے میں جھارکھنڈ کے دیہی علاقوں کی حالت کیا ہوگی، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
جھارکھنڈ کے زمین مافیا سے سابق ممبر پارلیمنٹ جراور رام اس قدر پریشان ہیں کہ انہیں اپنی زمین بچانے کے لئے مرکزی و ریاستی سرکار سے بار بار اپیل کرنی پڑ رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ زمین مافیا پر نکیل کسنے کے بجائے سرکاری آفیسر بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ جھارکھنڈ میں زمین مافیا نے اپنی جڑیں اتنی مضبوط کرلی ہے کہ پولیس اور انتظامیہ بھی ان کے خلاف کارروائی کرنے سے بچتی ہے۔
پلامو کے سابق ممبر پارلیمنٹ جراور رام دلت طبقے سے ہیں۔ ڈالٹن گنج سے ایک کلو میٹر دور تھانہ چین پور میں گرام شاہ پور گڑھوا روڈ کے قریب انہوں نے 1980 میں عجائب دوسہاد سے 66ڈسمل زمین خریدی تھی۔ اس کا ایک حصہ قریب 17ڈسمل زمین نیشنل ہائی وے کی ہتھے چڑھ گیا، جس کا انہیں پورا معاوضہ بھی ملا۔ اس کے بعد انہوں نے باقی بچی ہوئی زمین پر کچھ کمروں کی تعمیر کرائی اور چہار دیواری کرا دی۔ لیکن کروڑوں روپے کی اس بیش قیمتی زمین پر زمین مافیا آئرش گروہ سرغنہ منوج شرما کی نظر ٹکی تھی۔ ضلع پالوما کے کھاتہ 132 میں عجائب دوسہاد وغیرہ کی 21ایکڑ 20ڈسمل زمین تھی۔ دراصل 1922 میں گائوں میں منعقد ایک پنچایت کے مطابق ، اس میں ہر پلاٹ میں سے نصف زمین بڑھئی طبقے کے لوگوں کو دی جانی تھی۔ رام دھنی مستری اور ان کے لڑکے کیدار شرما ،بھولا شرما اور منوج شرما نے اپنے حصے کی آدھی سے بھی زیادہ زمین بیچ دی تھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے گوتیا کی ایک کروڑ روپے کی زمین بھی بیچ دی۔جب ان کے پاس ایک چھٹانگ زمین بھی نہیں بچی ، تو انہوں نے ایک آئرش گروہ بنا کر سرکاری پلاٹ پر قبضہ کرنا اور لوگوں سے رنگ داری وصول کرنا شروع کردیا۔
35سال سے جراور رام زمین مافیا سے ایک لامتناہی لڑائی میں الجھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ اپنی زمین بچانے کے لئے مقدمہ لڑنے کے عوض وہ اب تک 50لاکھ کی زمین تک بیچ چکے ہیں،لیکن ایک ضد ہے، جس کے آگے وہ زمین مافیا کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔ صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم سے لے کر وزیر اعلیٰ تک اپیل کرچکے ہیں،لیکن یقین دہانی کے سوا اب تک کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے 26مئی 2016 کو ہوم سکریٹری ، جھارکھنڈ کو اس سلسلے میں براہ راست رپورٹ بھیجنے کا حکم دیا تھا،لیکن آج تک نہ کوئی رپورٹ بھیجی گئی اور نہ ہی کارروائی کئے جانے کی کوئی اطلاع ہی دی گئی۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ رگھور داس نے بھی 2دسمبر 2015 کو داخلہ محکمہ کو خط بھیج کر اس معاملے میں سی آئی ڈی جانچ کرائے جانے کی مانگ کی تھی۔ لیکن اس پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
27جولائی 2016 کو جراور رام نے ڈی جی پی ڈی کے پانڈے کو ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے تفصیل سے زمین مافیا کے کالے کارناموں کی جانکاری دی۔ انہوں نے خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ آپ اکثر کہتے ہیں کہ 2016 تک ریاست سے دہشت گرد ی ختم کر دی جائے گی،لیکن جب تک زمین مافیا یہاں پھلتے پھولتے رہیں گے، دہشت گردی پر آپ کیسے کنٹرول کر سکیںگے۔سابق ممبر پارلیمنٹ جراور رام کہتے ہیں کہ کیاان طریقہ کار سے ہی ریاست سے نکسلواد ختم ہوگا؟ریاست کے آفیسر وزیر اعلیٰ کی سننے کو تیار نہیں ہیں۔ سرکاری زمین پر زمین مافیا پولیس سرپرستی میں قبضہ کرنے میں لگے ہیں۔ ریاست میں غریب کی آواز نہیں سنی جارہی ہے۔ اگر ان کی آواز اسی طرح ان سنی ہوتی رہی، تب خطہ میں نکسلواد تو اور بڑھے گا ہی۔
جراور رام بتاتے ہیں 2 نومبر 2016 کو وہ سی او آفس گئے تھے۔سی او نے فون کر کے موقع پر آنے کے لئے کہا۔ سی او کے ساتھ سپلائی آفیسر اور کچھ پولیس کے جوان بھی موقع پر موجود تھے۔ کیدار شرما اور سنتوش شرما موقع پر ہی سی او سے بک جھک کرنے لگے۔ انہوں نے سرکاری افسروں کے سامنے مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ وہ کسی طرح بھاگ کر اپنی گاڑی میں پہنچے، جہان ان کا باڈی گارڈ موجود تھا۔ زمین مافیا کے لوگوں نے چاروں طرف سے گاڑی گھیر لی اور ہاتھا پائی کرنے لگے۔ تب تک سبھی سرکاری آفیسر اور پولیس کے جوان موقع سے فرر ہو گئے تھے۔ جراور رام کہتے ہیں کہ سرکاری آفیسر میری جان کیا بچاتے ،وہ اپنی جان بچا کر ہی کسی طرح موقع سے بھاگنے میں لگے رہے۔
اب وہ مایوس ، لاچار ہوکر زمین مافیا کے ڈر سے اپنے گھر میں قید رہنے کو مجبور ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی زمین پر جاتا ہوں تو مافیا کے آدمی جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ 27 اپریل 2016 کو بدمعاش لوگوں نے ان کے گھر کا کچھ حصہ اور احاطہ بھی توڑ دیا۔ پولیس عہدیداروں سے کئی بار ان لوگوں کے خلاف شکایت کی، لیکن پولیس ان کی نہیں سنتی۔یہ ایک دلت ممبر پارلیمنٹ کی کہانی ہے، تو گائوںمیں رہنے والے عام دلتوں کا کیا حال ہوگا،اس کا تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *