جموں و کشمیر کی معیشت بھی دم توڑ رہی ہے

ریاست جموںو کشمیر کی معیشت میںکشمیر کے ہارٹی کلچر سیکٹر کا بڑاہی اہم اور غیر معمولی کردار ہے۔ ہارٹی کلچر سیکٹر تنہا ریاست کے ریونیو میں تقریباً 8 ہزار کروڑ روپے سالانہ اضافہ کرتا ہے۔ لیکن 8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی موت کے بعد اب تک وادی میں تشدد او ربدامنی کے جاری رہنے سے اس سال صورت حال بہت ہی مایوس کن محسوس ہوتی ہے۔ پھلوں کے پیدا کرنے والے کے حوالے سے جو خبر آرہی ہے، وہ یہ ہے کہ پھل خصوصاً سیب کے باغات خراب ہونے شروع ہوگئے ہیں کیونکہ بدامنی کے سبب ماحول اتناخراب ہے کہ درختوں سے پھلوں کو توڑنابھی فی الوقت بہت مشکل ہے۔ علاوہ ازیں جو پھل درختوںسے توڑے جارہے ہیں، ان کا بیرون کشمیر ٹرانسپورٹیشن بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر ہر سال دہلی کی آزاد پور منڈی سے سیکڑوں ہول سیلرز اور ایکسپورٹرز وادی کے سات مشہور و معروف فروٹ مارکیٹ جو کہ سری نگر، سوپور، بارہمولہ، شوپیان، پلوامہ، کلگام اور چرار شریف میں واقع ہیں، بزنس کے لیے آتے ہیں۔ اس سال بھی انھیں10 ستمبر کو آنا تھالیکن موجودہ صورت حال سے یہ کام بہت ہی سست رفتاری کا شکار ہے ۔ ذرا غور کیجئے ہرسال سیب سے بھرے 700 ٹرک روزانہ دہلی آیا کرتے رہے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ مسئلہ بھی بہت تشویشناک ہے۔
چونکہ کسی بھی ریاست یا ملک کی معیشت کا بڑی حد تک انحصار وہاںکی پیداوار او رصنعتوں پر ہوتا ہے، لہٰذا ہارٹی کلچر سیکٹر کے متاثر ہونے سے ریاست جموں و کشمیر اقتصادی طور پر مزید کمزور ہوگی۔ علاوہ ازیں ٹورزم اور ہینڈی کرافٹ ریاست کی معیشت کے باقی دو بڑے اجزاء ہیں۔ اس طرح پھل، ٹورزم اور ہینڈی کرافٹ، تینوں تجارت کے ساتھ ساتھ ریاست میں روزگار فراہم کرنے میںبھی بہت ہی معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تاجروں او رصنعت کاروں کو نقصان صرف وادی کشمیر ہی میں نہیںہورہا ہے بلکہ جموں کے بھی تاجر اس سے بے حد متاثر ہورہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ کشمیر اور جموں میںتجارت ایک دوسرے سے ملی جلی ہے۔ کرفیو اور بند کے سبب شری امرناتھ جی شرائین کی یاترا پر بھی اس کا اثر پڑا اور اس طرح جموں کے تاجر اس سے متاثر ہوئے جوکہ اس دوران بلتال، پہلگام ودیگر مقامات پر لنگر لگانے والوں کو متعلقہ اشیاء او رسامان بھیجا کرتے ہیں۔ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (سی سی آئی) نے 8 جولائی کو تشدد بھڑکنے کے بعد سے تقریباً ایک ماہ تک ہوئے مکمل نقصان کو ایک ہزار کروڑ روپے بتایا ہے۔ تجارت و صنعت کے علاوہ ٹرانسپورٹ انڈسٹری میں جو نقصان ہوا ہے، اسے بھی تقریباً 150 کروڑ روپے کہا جارہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جموں سے کشمیر روزانہ 400-500 ٹرک اور اتنی ہی تعداد میں ٹیمپو کے ساتھ ساتھ بسیں آیا جایا کرتی رہی ہیں۔ مگر تشدد کے بعد ان گاڑیوں میں سے کچھ کو ڈیمیج کیے جانے کے بعد ان کی آمدورفت بھی بند ہے۔
ریاست جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی یہ تینوں اجزاء فی الوقت زیادہ متاثر ہیں مگر یہ سلسلہ 1989 میں وہاں ملی ٹینسی اور بدامنی کے شروع ہونے کے بعد سے ہی کم وبیش دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ سیاحوں کی تعداد میں خاصی کمی آئی ہے۔ پورے ملک میںپیدا ہورہے سیب میں سے 70 فیصد کشمیر سے آتے تھے، اس میں بھی واضح کمی ہے۔ اسی طرح 1989 سے قبل پرگتی میدان دہلی میں منعقد ورلڈ ٹریڈ فیئر میں ریاست کی ہینڈی کرافٹ اشیاء کی دھوم مچی رہتی تھی لیکن اب یہ سب کچھ عنقاء ہے۔ اس طرح صنعتی گروتھ میںسست رفتاری، سرمایہ کاری میںعدم دلچسپی اور روزگار کے محدود مواقع نے مرکز کے فنڈوں پر بہت زیادہ انحصار بڑھادیا ہے۔ کتنا زیادہ اضافہ مرکز سے ملنے والے فنڈوں میں ہوا ہے، اس کا اندازہ ذیل کے اعداد و شمار سے ہوتا ہے۔ واضحرہے کہ 2014-15 میںمرکز نے گرانٹ 8,312 کروڑ روپے، 2015-16 میں 11,443 کروڑ روپے اور 2016-17 میں 14,239 کروڑ روپے دیے ہیں۔ گیارہ اسپیشل کٹیگری والی ریاستوں میں جموں و کشمیر کو گزشتہ دہائی میںمرکز سے سب سے زیادہ گرانٹ ملی ہے۔ وزارت خزانہ کے دستیاب ڈاٹا کے مطابق، جموں و کشمیر کو اپریل 2006 سے لے کر 2016 تک دس برسوں میںمرکز سے 1.06 لاکھ کروڑ روپے گرانٹ ملی ہے، جبکہ اس کے بعد بڑی رقم کی گرانٹ میںہماچل پردیش اور آسام کے نمبر آتے ہیں جنھیں محض 53,670 کروڑ روپے اور 46,446 کروڑ روپے ملے ہیں۔
جہا ں تک روزگار کا معاملہ ہے، تازہ دستیاب سرکاری ڈاٹا کے مطابق جہاں ایک طرف مکمل روزگار 2005 کی پانچویں اقتصادی مردم شماری میں 10.84 لاکھ کی تعداد میں 2013 کی چھٹی اقتصادی مردم شماری میں اضافہ کرگیا،وہیں ریاست جموںو کشمیر میں اس دوران ملازم مرد 2.79 فیصد سے گھٹ کر 1.74 فیصد فی اسٹیبلشمنٹ ہوگیا۔ ویسے حیرت کی بات یہ ضرور ہے کہ ان 8 برسوں میں خاتون ملازمین میں53.9 کا اضافہ ہوا۔ ملازمت میںسالانہ بڑھوتری کی شرح 2005-13 میں 6.57 فیصد رہی جبکہ یہ اضافہ دیہی علاقوں میں 7.12 فیصد اور شہری علاقوں میں 5.94 فیصد رہا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ دیہی علاقوں میں روزگار کی شرح شہری علاقوں میں نسبتاً بہتر رہی اور اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ بدامنی دیہی علاقوں میں کم ہوئی۔
ریزرو بینک آف انڈیا کے جموں میں علاقائی دفتر سے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق، ریاست کے ذریعہ اپریل 2000 سے لے کر مارچ 2016 تک اضافہ کے ساتھ (Cumulative) ایف ڈی آئی ایکیوٹی درآمد محض 37 کروڑ روپے ہے جو کہ روزگار میں یقیناً بہت ہی مایوس کن صورت حال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ریاست جموں و کشمیر صرف غیر ملکی سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ اندرونی سرمایہ کاری کو اپنی جانب مبذول کرانے میں بہت پیچھے ہے۔ 2015 میں سرکاروں کے ذریعہ تجارتی اصلاحات کے نفاذ کے جائزے پر تیار کی گئی اپنی رپورٹ میں ورلڈبینک کہتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ہندوستان کی کل 32 ریاستوں میں29 ویں نمبر پر ہے جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اندرونی سرمایہ کاری کے معاملے میں اس کی کارکردگی سب سے خراب ہے۔ ذرا اندازہ کیجئے کہ اس ریاست میں گزشتہ 27 برسوں سے بدامنی نے اسے کہاں پہنچا دیا ہے؟ یہاں صرف ایف ڈی آئی ہی کم نہیں ہے بلکہ اندرونی سرمایہ کاری بھی بہت کمزور حالت میں ہے۔
لہٰذا یہ لمحہ فکریہ ہے کشمیر سے محبت کرنے والوں کے لیے کہ بدامنی نے ان کی جنت نظیر کو معاشی طور پر کہاں پہنچادیا ہے۔ اگر اس اقصادی انحطاط کو جلد نہیں روکا گیا تو اس کی ریڑھ کی ہڈی ہی ٹوٹ جائے گی۔ گزشتہ 8 برسوں میں روزگار کا 2.79 فیصد سے 1.74 فیصد ہوجانا اس انحطاط کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اسے ہر حال میں رکنا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *