جمعیت علماء چلی مسلم قانون پر وکیلوں کی تربیت کرنے

خورشید عالم

4ظاہر سی بات ہے کہ وکیلوں کا ہی عدالتوںمیںمسلم پرسنل لاء سے متعلق ایشوز سے سابقہ پڑتا ہے۔لہٰذا ملت اسلامیہ میں یہ احساس رہا ہے کہ وکلاء کو مسلم قوانین کی واقفیت قرآن و سنت کی روشنی میں بھی رہنی چاہئے۔ غالباً ان ہی احساسات کے تحت مسلمانوں کی ملک کی اہم قدیم ،بڑی اور مشہور تنظیم جمعیت علماء ہند نے وکلاء کی تربیت کے لئے معہ 500 روپے فیس 20ہفتوں پر مشتمل ’ ٹریننگ کورس ان مسلم لاء ‘ شروع کیا ہے۔اب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ جمعیت کا یہ تجربہ کتنا کامیاب ہوگا اور جدیدقوانین کے ماہرین علماء سے کتنا کنٹرول ہوسکیں گے ؟افتتاحی تقریب میں شریک وکلاء اور ریٹائرڈ ججوں نے جو اظہار خیال کیا، اس سے تو اس تعلق سے مزید سوالات کھڑے ہوگئے ہیں اور علماء اور ماہرین جدید قوانین کے درمیان الگ الگ سوچ سامنے آئی ہے۔آئے دیکھتے ہیں 4ستمبر کو جمعیت لاء انسٹی ٹیوٹ کے تحت اس پہلے پروگرام میں کیا ہوا اور کس نے کیا کہا؟

ذرا تصور کیجئے ایک ایسی محفل کا جس میں ایک مذہبی تنظیم کے زیر اہتمام علماء اور جدید قوانین کے ماہرین بشمول ریٹائرڈ ججز اور وکلا موجود ہیں اور مسلم قانون پر وکلاء کے تربیتی کورس کے شرو ع کرتے وقت مسلم پرسنل لاء سے متعلق ایشوز پر کھل کر بلا لحاط اظہار خیال ہورہا ہے اور اپنی آزاد اور بے باک آراء پیش کرنے والے افراد میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی، اترپردیش حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل ظفر یاب جیلانی، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل انوپ جارج چودھری، لاء کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن محمد افضل وانی، معروف وکلاء شکیل احمد سید اور آئی یو خاں، مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر اختر الواسع ، اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانامحمود مدنی ، مفتی ابو القاسم نعمانی،پروفیسر طاہر محمود اور نیاز احمد فاروقی ایڈوکیٹ جیسی نامور شخصیات ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح کی محفل میں منتظمین میں بے چینی کا ماحول تو بنے گا ہی۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی ظفر یاب جیلانی نے علی الاعلان مندرجہ بالا فقرے کہے تو تمام شرکا چونک گئے۔انہوں نے کہا کہ ’’پرسنل لاء کے تعلق سے عدالت کے آنے والے ممکنہ فیصلہ کے تناظر میں علماء کرام کی جانب سے ’ناقابل برداشت‘ اور ’نہیں مانیں گے‘ جیسے جملے اچھے نہیں لگتے۔ انھیں اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں اسلام خطرے میں نہیں ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ تین طلاق کے مسئلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنا جو جواب داخل کیا ہے اس میں ابھی مزید سپلیمنٹری حلف نامہ داخل کرنے کی ضرورت ہے،توقع ہے کہ آپ اس ضمن میں دلیل کے ساتھ سپریم کورٹ میں اپنی بات رکھیں گے کہ جب آپ خود کہتے ہیں کہ ہم پرسنل لاء کو دفعہ 14پر ٹیسٹ نہیں کریں گے اور خود حکومت نے ناگالینڈ اور میگھالیہ وغیرہ کے لوگوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے عائلی قانون کا تحفظ ہوگا۔نیز اسی طرح سپریم کورٹ کے ذریعہ ایک چھوٹے سے طبقہ کو قومی ترانے کے دوران کھڑے ہونے سے چھوٹ دی گئی ہے تو کیا یہ اختیار حنفی مسلک کو نہیں دیا جاسکتا۔ انھوں نے کہا کہ بغیر شرعی عذر کے تین طلاق پر حضرت عمرؓ نے کوڑے لگوائے تھے۔ آپ کوڑے نہیں لگا سکتے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کریں لیکن علماء اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی کا بھی انداز بڑا ہی بے باکانہ اور محاسبانہ تھا۔انہوں نے اپنے کلمات میں اس بات پر زور دیا کہ جب کبھی بات یکساں سول کوڈ کی آتی ہے تو ہم بھڑک جاتے ہیں۔ اس سے وہ خوش ہوجاتے ہیں اور ان کا مقصد پورا ہوجا تا ہے۔ اس لیے ہمیں دانشمندی کا پہلو اختیار کرنا چاہیے۔ یکساں سول کوڈ ہم سے زیادہ ان کے لیے دشوار کن ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ پہلے ڈرافٹ پیش کریں اگر ٹھیک ہے تو تسلیم کریں گے نہیں تو بتائیں گے کہ یہ ترمیم کرلیں۔ جسٹس احمدی نے شاہ بانو معاملے میں 1986میں پارلیمنٹ کے ذریعہ بنائے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے قانون بنا کر شرعیہ کے دائرے سے باہر کی بات ہوگئی، اب پھر پارلیمنٹ کی بات ہورہی ہے تو ہم نے کون سا تیر مارلیا۔ جسٹس احمدی نے کہا کہ قرآن کے مطابق طلاق دو طہر میں ہے جو لوگ تین طلاق ایک سانس میں دیتے ہیں اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے عدالتوں کی رہنمائی کے لیے جو مجموعہ قوانین اسلامی تیار کرایا ہے ا س میں کمیاں ہیں جس کی وجہ سے وہ مفید ثابت نہیں ہورہا ہے۔
قبل ازیں اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے کلیدی خطبہ میں قانونی برادری یعنی وکلاء میں اسلام کے عائلی قوانین سے متعلق پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہندوئوں اور عیسائیوں میں طلاق نہیں ہے بعد میں انھیں لینا پڑا۔ انجیل متی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ جس رشتے کو اللہ نے جوڑا ہے اسے کوئی نہیں توڑ سکتا۔ یہ اخلاقی تعلیم کا حصہ تھا لیکن ان کے حوارین نے اسے قانون کی شکل دے دی۔ اسی طرح بعض وکلاء کہتے ہیں کہ جس طرح نکاح گواہوں کے سامنے ہوتا ہے اسی طرح عدالتوں میں گواہوں کے سامنے طلاق ہو۔ اس کے پیچھے اسلام کی جو مصلحت ہے ا س میں عورت کے تحفظ کو ہی ملحوظ رکھا گیا ہے۔لہٰذا مصلحت کے اس پہلو کو بھی بتانے کی ضرورت ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل انوپ جارج چودھری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس وقت جس طرح تین طلاق پر بحث ہورہی ہے اس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پرسنل لاء صرف اتنا ہی ہے جبکہ پرسنل لاء صرف طلاق نہیں دیگر باتیں بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں میں طلاق کے اعداد وشمار کو بھی سامنے لایا جائے کیونکہ ان کا فیصد بہت کم ہے۔ اسی طرح اسلام میں بیوہ کی حالت سب سے اچھی ہے جبکہ ہندو بیوہ کی کیا کیفیت ہے یہ ہر کسی پر واضح ہے۔ انھوں نے کہا کہ نکاح نامہ کی طرح طلاق نامہ بھی بنایا جائے نیز اس کو بھی واضح کیا جائے کہ شراب کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
آئی یو خاں نے کتابی قانون اور عملی قانون میں فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو کتابوں میں پڑھتے ہیں وہ عملی طورپر نہیں ہوتا اور جو عملی طور پر ہوتا ہے وہ کتابوں میں در ج نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثرہم کہتے ہیں کہ فلاں بنچ بیٹھنے دو تب کیس فائل کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں پر صرف جذباتی باتوں پر دفاعی انداز سے گفتگو ہوئی ہے لیکن اصل مسئلہ پر کوئی بات نہیں ہوئی جبکہ سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لاء سے متعلق جو رٹ زیر سماعت ہے اس میں پرسنل لاء کو نہیں بلکہ بنیادی حقوق کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یعنی طلاق کا جس طرح اختیار مردوں کو ہے اسی طرح عورتوں کو بھی حاصل ہو، تا کہ وہ برابری کی سطح پر آسکیں۔ جب آپ خود طلاق کی تین قسمیں بتا رہے ہیں تو عدالت کہہ سکتی ہے کہ دو کو ختم کرو ایک کو باقی رکھو، ایسی صورت میں آپ کیا کریں گے؟ جمعیۃ العلماء ہند کے صدر قاری محمد عثمان منصورپوری نے اپنے صدارتی کلمات میں وکلاء سے اپیل کی کہ جو معاملات ان کے پاس آئیں وہ انھیں دارالقضاء میں لائیں اور جو معاملات کورٹ میں جاچکے ہیں ان میں شرعی قوانین کی پیروی کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *