ہندوستانی میڈیا کا بحران

دنیا کے دیگر شہروں کی طرح ہندوستان میںبھی صحافت سال در سال تبدیل ہوئی ہے۔ اگر ہم 1947 میںملک کو ملی آزادی کے بعد گزشتہ 70 سالوںکی بات کریں، تو صحافت کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔1995 کے وسط میں سیٹیلائٹ ٹی وی ہمارے ملک میںآیا۔ اس کے بعد سے 24 گھنٹے چلائے جانے والے نیوز چینلوں نے اپنا ایک برانڈ بنایا ہے، جس میں ایک ہی خبر بار بار دکھائی جاتی ہے۔ یہی نہیں، ہنسی تو اس بات پر آتی ہے کہ الگ الگ نیوز چینل الگ الگ خبریں دوہراتے رہتے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کے آجانے سے اخبارات پر ان کا اثر پڑا ہے۔اخبارات بہت زیادہ خبریں نہیں دے پاتے ہیں، کیونکہ ایک دن پہلے ہی ہم ٹیلی ویژن پر خبر دیکھ لیتے ہیں، لیکن اخبارات کی اہمیت اس بات کے لیے ہے کہ ہم ان میںنہ صرف روزمرہ کی خبریں پاتے ہیں، بلکہ اس کے ساتھ کسی مدعے پر مختلف لوگوں کے خیالات بھی ہمیں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اخبارات میں جو روز کی خبریںدی جاتی ہیں، انھیںغلط طریقے سے پیش نہیںکیا جا سکتا، کیونکہ وہ خبر لوگ ٹی وی پر پہلے ہی دیکھ لیتے ہیں۔
صحافت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ گزشتہ دس سالوں سے کچھ اخبارات کو چھوڑ کر زیادہ تر اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے مالک کاروباری گھرانے ہوگئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج جو خبریںہمیںملتی ہیں، وہ سرمایہ داروں کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ عام آدمی یا پھر سماج کے نچلے طبقے کے لوگوں کے لیے۔ مثال کے طور پر وزیر خزانہ رہتے ہوئے منموہن سنگھ کے وقت میںلائے گئے اقتصادیسدھار کو لے سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کسی بھی دیگر پالیسی کی طرح اس کے بھی دو پہلو ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ کسی پالیسی کی حمایت کریں گے اور کچھ لوگ مخالفت۔ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ 1991کے بعد سبھی اخبارات اور ٹی وی چینل اس بات کی حمایت کررہے ہیں کہ اقتصادی سدھار ہی ہندوستان کے سبھی مسائل کا آخری حل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ 25 سال کے بعد لوگ یہ کہتے نظر آرہے ہیںکہ بہت ترقی ہوئی ہے،لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ ترقی 1991 سے پہلے شروع ہوئی۔ اگر آپ ہر پانچ سال کا اوسط نکالیں گے تو پائیں گے کہ نتیجہ مخلوط رہا ہے۔ کبھی ترقی کی رفتار تیز رہی، تو کبھی کافی دھیمی۔ گزشتہ تین چار سالوں کی بات کریں، تو ترقی کی شرح نیچے گر رہی ہے۔ اس لیے یہ نہیںکہا جاسکتا کہ ترقی کی شرح کا تعلق اقتصادی پالیسی سے ہے۔ ا س کی کئی دیگر وجوہات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت بین الاقوامی حالات سازگار نہیں ہیں، اس لیے ترقی کی شرح دھیمی رہی ہے۔
ا س کے لیے کسی خاص اقتصادی پالیسی کو ذمہ دار نہیںٹھہرایا جاسکتا ۔ مطلب یہ ہے کہ میڈیا کو آبجیکٹو ہونا چاہیے۔ آج کل میڈیا کا انحصار کارپوریٹ سیکٹر پر بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ کسی بھی حالت میںمیڈیا اشتہارات کے لیے کارپوریٹ سیکٹر پر منحصر رہتا ہے، لیکن پہلے اور آج کل کی صورت حال میںتبدیلی آگئی ہے۔ پہلے اخبارات کی توسیع اور لوگوں تک ان کی رسائی کی بنیاد پر اشتہار دیے جاتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا ہے۔ آج کل بڑے بڑے صنعتی گھرانے ٹاپ کے اخبارات کو اشتہار نہیںدیتے، کیونکہ وہ ان کے خلاف لکھتے ہیں۔
میری معلومات کے مطابق کسی دیگر ملک میںایسا نہیںہوتا ہے۔ ہندوستان میں1970 کی دہائی میں اندرا گاندھی ڈفیوزن آف پریس آنر شپ ایکٹ نام سے ایک بل لائی تھیں۔ یہ بل پارلیمنٹ میںپیش تو ہوا، لیکن منظور نہیں ہوا اور قانون نہیں بن پایا۔ اس بل کا اہم مقصد یہ تھا کہ جو شخص اخبار کا مالک ہے،وہ کسی دوسری صنعت کا مالک نہیںہوسکتا اور جو کسی دوسری صنعت کا مالک ہے، وہ اخبار نہیں نکال سکتاہے۔ صنعتی گھرانوں نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ پریس کی آزادی پر حملہ کیا جارہا ہے، جبکہ حقیقت یہ نہیںتھی۔ آج پریس کے اوپر حملہ کسی تاناشاہ کے ذریعہ نہیں، بلکہ سرمایہ داروں کے ذریعہ کیا جارہا ہے ۔ پریس کو ختم کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ اخبار کو شائع ہی نہ ہونے دیا جائے۔ یہ طریقہ تاناشاہی والے ملکوںمیںاپنایا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پریس کو پیسے سے خرید لو، تاکہ وہ صحیح خیال ہی پیش نہ کرسکے۔ ہندوستان میںیہی دوسرا طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ آج کل اگر کوئی غریبوں، اقلیتوں، بے روزگاروں اور درج فہرست ذات کے لیے آواز اٹھاتا ہے، تو اسے میڈیا خبر نہیں بناتا ہے۔
آج کل کسی اخبار کا خیال اس کے ایڈیٹر کا خیال نہیں ہوتا، بلکہ اس اخبار کے مالک کا خیال ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ مجھے یاد ہے کہ جب میں اسکول اور کالج میں تھا، تو اخبار کے ایڈیٹر اور مالک کے بیچ ٹکراہٹ ہوتی رہتی تھی۔ ہندوستان ٹائمز کے مالک بڑلا تھے اور ایڈیٹر ایس ملگاؤنکر تھے،ٹائمز آف انڈیا کے مالک ڈالمیا اور جین تھے اور ایڈیٹر فرینک موریس تھے یا پھر انڈین ایکسپریس کے مالک رام ناتھ گوئنکا تھے، جو الگ طرح کے تھے۔ اس دور کی بات کچھ اور تھی، لیکن آج ایڈیٹر اخبار کے مالک کے ایجنٹ ہوگئے ہیں۔ زیادہ تر ایڈیٹر اپنی سہولت کا خیال پہلے رکھتے ہیں۔ زیادہ تر کسی موضوع پر لکھنے سے پہلے اخبار کے مالک سے پوچھتے ہیں کہ کہیں اسے چھاپنے سے مالک گروپ کے لوگوں کو نقصان تو نہیں ہوگا۔ مالک بھی ایڈیٹروںسے پوچھتے ہیں کہ کون سی کار آپ لوگ لیں گے، کتنی تنخواہ آپ لوگ لیں گے یا پھر کس طرح کی سہولت آپ لیں گے۔
اس طرح سے سارے کے سارے ایڈیٹوریل گروپ کے لوگ مالک گروپ میں شامل ہوگئے ہیں۔ اب یہ بہت مشکل سوال ہے کہ اس ترقی پذیر سماج میں ہم اسے کیسے روک سکتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ ایک ایسا قانون ہونا چاہیے، جس کے ذریعہ اسے روکا جاسکے۔ ڈفیوزن آف پریس آنر شپ ایکٹ اسے روکنے کا ایک راستہ ہوسکتاہے۔ اس کے علاوہ بھی کوئی اور راستہ ہوسکتا ہے۔ ہندوستان میںصحافی بننے کے لیے کسی طرح کی اہلیت کا تعین نہیںکیا گیا ہے۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ صحافی یہ دلیل دیتے ہیں کہ ناخواندہ لوگ پارلیمنٹ میں جارہے ہیں۔ پارلیمنٹ لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ مان لیں، آپ کہتے ہیں کہ رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے گریجویٹ کی ڈگری ضروری ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ 90 فیصد لوگوں کو اس سے الگ کر رہے ہیں، کیونکہ ہندوستان کے زیادہ تر لوگ گریجویٹ نہیںہیں۔ اس لیے آپ یہ نہیںکہہ سکتے کہ جو لوگ ہماری نمائندگی کررہے ہیں، وہ ہم سے الگ کلاس کے ہوں۔ گاؤںکے لوگ گاؤں کے لوگوں میں سے ہی کسی کو اپنا نمائندہ چنیں گے۔
مذاق کی بات تو یہ ہے کہ صحافی رکن پارلیمنٹ کے لیے اہلیت تعین کرنے کی مانگ تو کرتے ہیں، لیکن اپنے لیے نہیں۔ میںنے بہت سارے لوگوں کو دیکھا ہے، جو ہندی یا انگریزی تو جانتے ہیں،لیکن اور کچھ نہیںکے برابرجانتے ہیں۔ آج کل کے نوجوان صحافی ہندوستان کی تاریخ کے بارے میںنہیںجانتے،وہ دنیا کی تاریخ کو بھول گئے ہیں ۔ جو لوگ پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کرتے ہیں،وہ یہ زحمت نہیںاٹھاتے کہ لائبریری میںجائیں اور اس بات کی جانکاری لیں کہ جواہر لعل نہرو کے دور میں کیا ہوا تھا یا پھر جب اندراگاندھی یا لال بہادر شاستری ایوان میںتھے،تو کیا ہوا تھا۔ بہت ہوا تو وہ راجیو گاندھی کے دور تک کی معلومات رکھ پاتے ہیں۔
اس لیے ہندوستان کے صحافیوںکی سطح میں سدھار کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیسے کی جائے، یہ ایک مشکل سوال ہے۔ سب سے پہلے مسئلے کا احساس ضروری ہے، اس کے بعد ہی اس کا حل ہوسکتا ہے۔ آج ہندوستانی میڈیا کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بحران کے دور سے گزررہا ہے۔ زیادہ تر اخبار کارپوریٹ ہاؤسوں کے لیے کام کررہے ہیں۔ چھوٹے اخبارات کو دبا دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ اشتہار نہیںلے پاتے ہیں۔ اس لیے سرکارکو ان چھوٹے اخبارات کے لیے ضرور کچھ کرنا چاہیے، تاکہ یہ اپنے پیروںپر کھڑے ہوسکیں یا پھر ڈفیوزن آف پریس آنر شپ ایکٹ جیسا قانون لانا چاہیے۔ میںاسے بحث کے لیے ایک مدعا بنانا چاہوںگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *