ہندوستان میں ایتھلیٹ کی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے

سید محمد عباس
12dملک کے جانے مانے کوچ جے ایس بھاٹیہ بولے،’’ کھیلوں کواب کھلاڑیوں نے سرکاری نوکری پانے کا ذریعہ بنالیاہے۔ کھلاڑیوںمیںجیتنے کی بھوک نہیں دکھائی دیتی۔ صرف اولمپک کھیل کھیلنے سے بڑی کھلاڑی نہیںبنتے ہیں۔ ملک میںایتھلیٹ کی ترقی کا کوئی منصوبہ ہی نہیںہے۔ پیسے خرچ کرکے میڈل تھوڑے ملتے ہیں۔‘‘ اپنے زمانے کے مشہور رنر گلاب چند نے کہا، ’’ہندوستان میں کھیلوں کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ صلاحیتیں نچلی سطح پر تلاش کرنی ہوںگی۔ غیر ملکوں کے مقابلے میں ہندوستان میںٹریننگ زیرو ہے۔ سہولت اور پیسوں کے فقدان میںہندوستانی صلاحیتیں دم توڑ رہی ہیں۔
ریو اولمپک میں ہندوستانی کھلاڑیوں کا مظاہرہ بے حد خراب رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی کھلاڑی لگاتار اپنی ساکھ گرا رہے ہیں۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ کرکٹ میں اگر ہندوستان کا ڈنکا پوری دنیا میں بولتاہے،تو دوسرے کھیلوںمیںہندوستانی کھلاڑی ایڑیاں رگڑتے ہیں۔ ان کا مظاہرہ بین الاقوامی سطح کا نہیں ہوتا ہے۔ ہندوستان کو کوئی ایسا ایتھلیٹ نہیں مل پایا ہے جو کھیل کی دنیا میںپہچان بنائے۔ اولمپک جیسے مقابلوں میں ہندوستانی ایتھلیٹوں کے نہ چلنے سے کھیل کے شائقین کو بھی اب برا لگنے لگا ہے۔ اولمپک جیسی مسابقت میںبڑا دستہ بھیجا جاتا ہے، لیکن بعد میںایتھلیٹوں کا مظاہرہ اتناگھٹیا ہوتا ہے کہ ہم اور شرمسار ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہوتاہے،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جیت خوشی اور فخر دیتی ہے اورہار شرم اور مایوسی۔
ایتھلیٹوں میںہندوستانی کھلاڑی لگاتار پچھڑ رہے ہیں۔ میڈل تو دور کی بات ہے، ان کا کوالیفائی کرنا بھی مشکل ہوجاتاہے۔ تاریخ کے صفحات کو پلٹیں تو ملکھا سنگھ کی طوطی کسی زمانے میںخوب بولتی تھی۔ روم اولمپک میں معمولی فرق سے کانسہ میڈل سے چوکنے والے ملکھا سنگھ کو ان کے شاندار کھیل کے لیے فلائنگ سکھ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 50 اور 60 کی دہائی میں ملکھا سنگھ کی رفتار دیکھتے ہی بنتی تھی۔ ملکھا سنگھ کے بعد 80 کی دہائی میںشائنی رفتار کی نئی اڑان بھر رہی تھیں۔ حالانکہ پی ٹی اوشا نے ان سے زیادہ نام کمایا۔ 80 اور 90 کی دہائی میںدونوںایتھلیٹوںنے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی خوب عزت بڑھائی تھی، لیکن ملکھا سنگھ کے بعد پی ٹی اوشا بھی اولمپک میںمیڈل جیتنے سے چوک گئی تھیں۔
یہ بات گزرے زمانے کی ہے۔ ابھی ہندوستانی ایتھلیٹوں کا مظاہرہ ورلڈ کلاس کا نہیںہے۔ سرکار پیسے خرچ کرتی ہے، لیکن ٹھوس منصوبوں کے فقدان میں کھلاڑیوں کا مظاہرہ اثرانداز ہوتا ہے۔ جانے مانے ایتھلیٹ کوچ جے ایس بھاٹیہ نے بھی ہندوستانی ایتھلیٹوں کی سطح پر سخت تنقید کی ہے۔ انھوںنے ’چوتھی دنیا‘ سے ایک خاص بات چیت میںکہا کہ ہندوستانی کھلاڑیوںمیں عزم کی کمی ہے۔ اولمپک میں ہندوستانی کھلاڑیوں کے مظاہرے کے بارے میں ان کی صاف رائے تھی کہ ہندوستانی کھلاڑی جیت کے لیے نہیںکھیلتے ہیں بلکہخال خال مظاہرے کی بدولت سرکاری نوکری کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ چھوٹے ملک بھی زبردست ایتھلیٹ پیدا کرتے ہیں، لیکن ہندوستان میںایتھلیٹوں کا قحط پڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں نے کھیلوں کو اب سرکاری نوکریوں کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ اکثر کھلاڑی چھوٹی موٹی مسابقت میںمیڈل جیت کر سرکاری نوکری کا دعویٰ ٹھوک دیتے ہیں۔ نوکری ملنے کے بعد آرام سے دن گزارنے لگتے ہیں اور ملک کے لیے بڑی سطح کے میڈل جیتنے کی ان کی بھوک مرجاتی ہے۔
جے ایس بھاٹیہ کا درد صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیںکہ اولمپک جیسے بڑے مقابلے میںملک کا کوئی کھلاڑی میڈل نہیں جیت پائے، یہ بدقسمتی ہی ہوتی ہے۔ دوسرے ملکوں میںایتھلیٹوں کے لیے ایک الگ جنون دیکھا جاتا ہے۔ باقاعدہ کھلاڑیوں کو بڑی سطح کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ لیکن ہندوستان میںایسا نہیںہے۔ یہاں کھلاڑیوں میںیہ جذبہ رہتا ہے کہ اولمپین بننا ہی بڑی حصولیابی ہے۔ دراصل ہندوستانی کھلاڑی اولمپک میں حصہ لینے کے لیے اتاؤلے ہوتے ہیں لیکن میڈل جینے کی بات آتی ہے تو وہ ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتے ہیں۔ اکثر کھلاڑی اولمپین بن کر اپنے کریئر سے مطمئن ہولیتا ہے۔ جے ایس بھاٹیہ نے بے باکی سے کہا کہ سرکار پیسہ خرچ کرکے میڈل چاہتی ہے لیکن یہ ممکن نہیںہے۔ سرکار کھلاڑیوں پر کروڑوں خرچ تو کرتی ہے، لیکن اسے صحیح سمت میںخرچ نہیںکیا جاتا ہے اور کھیلوں کو آگے بڑھانے کے لیے سرکار کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ بھی نہیں ہے۔چھوٹے چھوٹے ملک اولمپک میںگولڈ میڈل حاصل کرلیتے ہیں لیکن ہندوستانی کھلاڑی محروم رہ جاتے ہیں۔ صاف ہے کہ ان میں میڈل جیتنے کی بھوک نہیںہوتی۔ جن کھلاڑیوںمیںیہ بھوک ہوتی ہے، وہ سندھو یا ملک کی طرح جدوجہد کرکے میڈل جیت ہی لیتے ہیں۔
اپنے زمانے کے قدآور ایتھلیٹ رہے گلاب چند بھی مانتے ہیںکہ ہندوستان میںایتھلیٹ کو کوئی خاص سہولت حاصل نہیںہے۔ کھلاڑیوںکو کبھی کھیل سے جوڑنے کی کوشش نہیںکی جاتی ہے۔ غیر ملکی کھلاڑی کئی معاملوں میںہندوستانی کھلاڑیوں سے کافی آگے ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں میدان ہیں، لیکن سہولتوں کا فقدان ہے۔ گلاب چند کہتے ہیںکہ اگر ایتھلیٹ میں ہندوستان کو کرشمہ کرنا ہے تو نئے ٹیلنٹ کو گراس روٹ سے تلاش کرنا ہوگا۔ ہندوستان میںکوچنگ کی سطح بھی ایک دم صفر ہے، جبکہ غیر ملکوں میں بچوں کو شوق کے حساب سے کھیلوں میںتراشا جاتا ہے۔ ہندوستان میں تو اسٹیڈیم میںایتھلیٹ سے متعلق سامان موجود ہی نہیںرہتا۔ اکثر ہندوستانی کھلاڑیوںکو غیر ملکوں میںٹریننگ کرنی پڑتی ہے۔ سہولت اور پیسوں کے فقدان میں ہندوستانیصلاحیتیں دم توڑ رہی ہیں ۔ جونیئر سطح پر اگر کھلاڑیوں کو تیار کیا جائے تو بہتر نتائج دیکھنے کو مل سکتے ہیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *