ڈاکٹر یونس جعفری فارسی نے ایک عظیم دانشورکھودیا

11bاس دنیا میں ایسی چند شخصیات ہوتی ہیں، جو کہ اپنی حیات ہی میں تاریخی حیثیت کرلیتی ہیں ۔ ان ہی شخصیات میںفارسی کے 86 سالہ بین الاقوامی شہرت یافتہ دانشور ڈاکٹر یونس جعفری تھے،ان کی 29 اگست 2016 کو نئی دہلی کے اپولو اسپتال میںٹیومر سرجری کے بعد رحلت ہوگئی۔ ان کے تعلق سے سب سے خاص بات یہ ہے کہ معروف دانشور ولیم ڈلر مپلے کی معرکتہ الآرا کتاب ’سٹی آف جنز‘ (City of Djinns) میں ایک باب ان کی حیات و کارنامہ پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا گھر اور دہلی یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج، جو کہ ماضی میں دہلی کالج کہلاتا تھا، کا ایک کمرہ ملکی و غیر ملکی دانشوران اور مصنفین کے لیے ان کے ریٹائر منٹ کے تقریباً پندرہ برس بعدبھی ابھی تک کشش کا مرکز بنا ہوا تھا۔
یہ 17 ویں صدی کے مشہور فارسی شاعر صائب تبریزی کے کلام کے ماہر تھے اور انھوں نے شاعر مشرق علامہ اقبال کے اردو کلام کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ انھیں یہ کریڈٹ بھی حاصل ہوا کہ انھوں نے رامائن کے فارسی ترجمہ کی کسی اوردانشور کے ساتھ ایڈیٹنگ کی تھی۔ ان کی متعدد کتابوں میںدو کتابیں ایران اور چارنئی دہلی کے ایران کلچرل ہاؤس سے شائع ہوئی تھیں۔ ایران میں چھپی دو کتابوں میں سے ایک ہندوستان میں فارسی ادب اور دوسری تبریزی پر تھی۔
یونس جعفری نے اردو اور ہندی میںبھی افسانے لکھے۔یہ محض استاد ہی نہیں، بلکہ فارسی تاریخ، کلچر، ادب اور پرانی دلی کی روایتوں کے ماہر تھے۔ ان کے رخصت ہونے پر ڈلرمپلے نے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ ’’میںیونس جعفری سے محبت کرتا تھا۔ ان کے انتقال سے شاہجہان آباد کی تاریخ کا ایک اہم باب بند ہوگیا۔ میرا بیٹا سمّی ان کا آخری شاگرد تھا۔ ہم لوگ انھیںہمیشہ یاد کرتے رہیں گے۔‘‘
یونس جعفری نے شادی نہیں کی تھی۔ سفر ایران کے دوران برسوں قبل ان کی ملاقات منی زیہہ نام کی ایرانی خاتون سے ہوگئی تھی اور پھر ان کی ان سے رفاقت ہمیشہ رہی۔ پرانی دہلی کے گنج میر خاں میں ’اولڈ دہلی مینشن‘ میں یہ اپنے بھتیجوں، بھتیجیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ رہتے تھے۔ گزشتہ برس ان کی ہمشیرہ عصمت جہاں اور اس برس اپریل میں بھائی سید یوسف کا انتقال ہوچکا ہے۔ دلی گیٹ قبرستان میں اپنے والد اور دادا کے آس پاس سیکڑوں چاہنے والوں کی موجودگی میں سپرد خاک کئے گئے۔ ادارہ ’چوتھی دنیا‘ ان کی وفات پر ان کے پسماندگان سے جذبہ ہمدردی اظہار کرتا ہے اور مغفرت کی دعا کرتا ہے۔
شاہد نعیم

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *