بارش سالانہ لوٹ کا بسنت تیوہار ہے

بارش کیا ہوئیپورے ملک کا ایک جیسا حال ہوگیا۔ سرکار چاہے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہو، کانگریس کی ہو، سماجوادی پارٹی کی ہو یا جنتا دل یونائیٹڈ کی، ایک سیکنڈ میںسب کے چہرے پر لگا ہوا رنگ دھل گیا اورسب ایک جیسے نظر آنے لگے۔ لاپرواہ، بے فکر، کمیشن کھانے والوں کے سرپرست، جو نام دینا چاہیں، آپ دے دیں۔دہلی کی بات کریں، تو یہاںمرکزی سرکار ہے۔ ملک کی راجدھانی ہے۔ یہاں ایک ریاستی سرکار بھی ہے۔ لیکن بارش کے موسم میں جب بھی یہاں بارش ہوتی ہے، دہلی تھم جاتی ہے۔یہی حال دیگر ریاستوںکی راجدھانیوں کا بھی ہے۔ دو گھنٹے کی بارش سڑکوں کو ڈبودیتی ہے۔دو گھنٹے کی بارش ٹریفک کو روک دیتی ہے اور دو گھنٹے کی بارش زندگی کو بری طرح الجھا دیتی ہے۔ ان دو یا تین مہینوںکی بارش کا مقابلہ کرنے کی تیاری سال کے نو مہینے ہوتی ہے۔ سیکڑوں کروڑ روپے اس کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ نکاسی کا نظام چست و درست کیا جاتا ہے، نالیاںصاف کی جاتی ہیں، سڑکوں کی مرمت کی جاتی ہے اور مسکراکر ایک دوسرے کو شاباشی دیتے ہوئے مٹھائیاں بھی کھالی جاتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی برسات ہوتی ہے، نکاسی کا نظام مسمار دکھائی دیتا ہے، نالیاں بند دکھائی دیتی ہیں، سڑکوں کے گڑھوں سے موت اچھل اچھل کر باہر آجاتی ہے۔ اسکوٹر والے، کار والے الجھتے ہیں ، ڈگمگاتے ہیں، گرتے ہیں، ہاتھ پیر تڑواتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں۔ تب یہ پیسہ کہاںجاتا ہے؟ راجدھانی والے شہر، چاہے وہ ممبئی ہو، کلکتہ ہو، بنگلور ہو، لکھنؤ ہو، پٹنہ ہو، بھوپال ہو یا پھر وزیر اعظم کی رہائش والا شہر دہلی ،سب کی کہانی ایک ہے۔ آخر یہ پیسہ کہاںجاتا ہے؟ اس پیسے کو ہر سال خرچ بھی کیا جاتا ہے اور کام بھی کچھ نہیںہوتا۔ تین مہینے کے بعد اُس ساری تکلیف کو لوگ جان بوجھ کر بھول جاتے ہیں اور اُس پیسے کو بہت ہی آسانی سے ہضم کرلیا جاتا ہے۔ دراصل یہ سالانہ لوٹ کابسنت تیوہار ہے۔ سرکار سوچ سمجھ کر اس پیسے کو مختص کرتی ہے۔ افسر اور وزیر، ٹھیکیدار کے ساتھ مل کر اس پیسے کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔ چونکہ اس کی جانچ کا ذمہ بھی سرکار بہادر کے پاس ہے،اس لیے وہ جانچ کبھی ہوتی ہی نہیں۔
یہ ہماری جمہوریت کا المیہ ہے۔ کیا کبھی جمہوریت میںذمہ داری کا احساس آ پائے گا؟ کیا کبھی نوکر شاہی اور سیاستداں اس سچائی کو قبول کریںگے کہ ان کی اس لاپروائی اور لوٹ کے بسنت تیوہار میںشامل ہونے کا کیا اثر ہوتا ہے؟ کیا انھیںمعلوم نہیںکہ اس سے ان کے تئیںعوام کے دل میںنفرت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ عام لوگ جو ووٹ دیتے ہیں، جو ان سڑکوںپر چلتے ہیں،وہ اس پورے نظام کو ناکارہ مان کر کتنی گالیاںدیتے ہیں۔ کیا ان بددعاؤں کا کوئی ڈر ان سیاستدانوں کو نہیںہوتا۔ تو پھر وزیر اعلیٰ ، ان کے وزیر، وزیر اعظم، ان کے وزیرجہاںرہتے ہیں، وہاں کی صورت حال کو دیکھ کر غصہ کیوںنہیںہوتے؟
یہ قصہ سال درسال کا ہے۔ شاید بدعنوانی کو سہنے، بدعنوانی میںحصہ باٹنے یابدعنوانی کو ہی طرز زندگی ماننے کی شروعات کا پہلا قدم یہی ہے۔ گاؤںمیںبھیجا جانے والا پیسہ جیب میں چلا جاتا ہے۔فوج میں ہتھیار خریدنے کا پیسہ جیبوں میںچلا جاتا ہے۔ ترقی کے نام پر مختص، غیر ممالک سے لیا ہوا قرض، لوگوںکی جیبوںمیںچلا جاتا ہے۔ ہر وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم بدعنوانی کے تئیں زیرو ٹالرینس کی بات کہتا ہے۔ زیرو ٹارلینس کی بات سن کر اب ہنسی بھی نہیںآتی ہے۔ کیونکہ اب تو اس کے اوپر ہنسنا بھی خود کی توہین لگتی ہے۔ جن شہری سہولیات کی بحالی کے لیے پیسہ مختص ہوتا ہے اور وہ اگلے ہی دن پیسے کو کھانے کے پختہ ثبوت کی گواہی دیتے ہیں اور اس پر وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کا دھیان نہ دینا،یہ بتاتا ہے کہ ہم کتنے بے حس ہوگئے ہیں۔
کیا کریں، کس سے کہیں؟ ہرسال کا یہی قصہ ہے۔ افسوس ہوتا ہے ،شرم آتی ہے اور من ہی من اپنے کو کوسنے کی خواہش ہوتی ہے کہ کیوںہم اتنے زیادہ بے حس ہوگئے ہیں۔
دیکھنا بس یہ ہے کہ کیا اس صورت حال کو قبول نہ کرنے کے لیے کوئی آواز اٹھائے گا۔ گاؤں کی حالت کے بارے میں تو ہم کہہ ہی نہیں رہے ہیں، جہاں نہ سڑکیں ہیں، نہ نالیاں ہیں۔ بارش ہوتے ہی سڑکیںٹوٹ جاتی ہیں، گڑھے کھد جاتے ہیں۔ لوگ ان میںگرتے ہیں۔ مین ہول میںکون بچہ یا بڑا آدمی بھی بہہ کر کہاںچلا جاتا ہے،کس کے گھروالے کتنے آنسو بہاتے ہیں، پتہ نہیںچلتا۔ یہ بارش کا موسم 10-15 دنوں میںگزر جائے گا اور اس سارے درد کی کہانی بھی ہم بھول جائیں گے۔ پھر اگلے سال بارش کا موسم آئے گا ور اس وقت پھر سے شرافت کے ساتھ سب میں بٹوارہ ہوجائے گا۔ اور وہ، جن کے لیے پوری سرکار ہے، نگر نگم ہے، ضلع پریشد ہے، اپنا سر پیٹتے ہوئے یہی درد بھری داستان یاد کریںگے کہ پچھلے سال ہمیںاتنی تکلیف ہوئی تھی،اس سال اتنی تکلیف ہورہی ہے۔ جمہوریت کے
عظیم سپاہیوں کو ہمارا سلام۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *