بنگال میں مسلمان و کمزور طبقات نسلی عصبیت کے شکار

پہلے مغربی بنگال اور اب نام بدلنے کے بعد بنگال ایک ایسی ریاست ہے جو کہ بہار، اتر پردیش، مہاراشٹر،گجرات، ہریانہ اور راجستھان کی مانند ذات پات اور فرقہ واریت کے لئے بظاہر بدنام نہیں رہا ہے مگر گہرائی سے مطالعہ اور تجزی سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ نسلی عصبیت یہاں موجود ہے جس کے سبب مسلمان ، دیگر اقلیتیں اور کمزور طبقات امپاورڈ نہیں ہیں۔انہی سب باتوں کا مہمان کالم میں کولکاتہ میں یو این آئی بیورو سے وابستہ اور معروف صحافی نور اللہ جاوید قاسمی مختلف حوالوں سے جائزہ لے رہے ہیں۔
نور اللہ جاوید
ریاست میں اقلیتوں کی آبادی 28فیصد ، شیڈول کاسٹ 23فیصد، شیڈول ٹرائب 6فیصد اور بیک ورڈ کلاسیس 26فیصد ہے ۔یعنی بنگال کی 83فیصد آبادی پسماندہ اور اقلیتی طبقات پر مشتمل ہے ۔اس کے باوجود اقتدار صرف 17فیصد والی برادری کے پاس ہے۔بنگال میں ذات پات کے نام پر تفریق اور مذہبی عصبیت کتنی گہری ہے اس کا اندازہ’ ادے چندرا ‘کی انگریزی کتاب’’مغربی بنگال میں ذات و پات کی سیاست ‘‘کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔علاوہ ازیں
نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین کی این جی او پراتیچی نے2004میں اپنی ایک رپورٹ میں بنگال میں پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے ساتھ تفریق اور عصبیت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ’’ بنگال بنگال میں دلتو ں، قبائلیوں اور اقلیتی طبقات کو غیر مساوی سلوک کا سامنا ہے ۔اسکول میں اعلیٰ ذات کے بچوں کے ساتھ پسماندہ اور دیگر کمزور طبقات بشمول اقلیتی طبقات کے بچوں پڑھنے نہیں دیا جاتا ہے ۔یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ بنگال میں ذات پات اورمذہبی عصبیت کس قدر حاوی ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ بنگال کی سیاست میں رفیوجیوں کا دبدبہ ہے ، بیشتر وزرائے اعلیٰ رفیوجی میں سے رہے ہیں مگر مشرق پاکستان(بنگلہ دیش)سے ہجرت کرکے آنے والے دلت اور پسماندہ طبقات کی حالت اتنی ہی بدتر ہے ۔جب نسلی عصبیت نے دلت ، قبائلی اور دیگر پسماندہ طبقات کو پنپنے نہیں دیا تو پھر مسلمانوں کے ساتھ وہ کیسے انصاف کرسکتے تھے؟ چناں چہ راجندر سچر کمیٹی کے بقول بنگالی مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی بد تر ہے۔
2011کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق بنگال میں مسلمانوں کی آبادی27.1فیصد تک ہے ۔یعنی ریاست میں ہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔مرشدآباد اور مالدہ کے بعداب شمالی دیناج پور کا شمار بھی مسلم اکثریتی ضلع میں ہونے لگا ہے ۔بنگال میں اتنی بڑی آبادی کے باوجود اقتدار میں مسلمانوں کی حصہ داری انتہائی مایوس کن ہے۔294اسمبلی حلقوں میں مسلم ممبران اسمبلی کی تعداد 59ہے ۔ ممتا بنرجی کی 41رکنی کابینہ میں صرف 7مسلم وزراء ہیںجس میں صرف ایک کو چھوڑ کربیشتر مسلم وزراء کو معمولی درجہ کی وزارت دی گئی ہے ۔جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کو کیا خود اپنے آپ کو بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ہیں۔پارلیمنٹ اور اسمبلی ہی نہیں بلکہ پنچایت، ضلع پریشد، پنچایتی سمیتی، بلدیاتی اداروں میں آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کی نصف نمائندگی نہیں ہے۔اسی طرح کی صورت حال پارٹی کی تنظیمی سطح پر بھی ہے۔ ریاستی قیادت پرتو درکنارضلع اور بلاک سطح کی لیڈر شپ بھی مسلمانوں کے پاس نہیں ہے۔ترنمول کانگریس کی پالیسی ساز کمیٹی میں کسی بھی مسلم لیڈر کی رسائی نہیں ہے؟ یہی صورت حال سی پی ایم کی بھی ہے ؟ مسلم ورکروں کی ایک بڑی فوج ہے؟ مگر پولٹ بیورو، سنٹرل کمیٹی اور ریاستی کمیٹی میں گنے چنے چند مسلم لیڈران شامل ہیں ۔کانگریس بھی اس روش پر قائم ہے۔ بہرام پور اور جنگی پور پارلیمانی حلقے جہاں مسلم ووٹرس کی اکثریت ہے وہاں بھی کانگریس کسی مسلم لیڈر کو ٹکٹ دینے کے بجائے غیر مسلم لیڈر کو ٹکٹ دیتی ہے اور مسلم ووٹرس سیکولر ازم کے تقاضے کی بنیاد پر انہیں کامیاب بھی کراتے ہیں۔موجودہ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی بھی جنگی پور مسلم اکثریتی حلقے سے کامیاب ہوتے تھے اور ان کے بیٹے بھی فی الوقت اسی حلقے سے نمائندہ ہیں ۔
بی جے پی جومسلم دشمنی کیلئے بدنام ہے۔ مگر اس کیلئے بھی جان دینے والے کوئی اور نہیں مسلم ورکرس ہیں۔ بیر بھوم ضلع میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کی خونی تشدد میںدونوںطرف سے اپنی جان قربان کرنے والے مسلم ورکرس ہی تھے۔ ترنمول کانگریس کیلئے قربانی قابل فہم ہے؟ کیوں کہ وہ اس وقت ترنمول کانگریس مسلمانوں کے مسیحائی کی دعویدار ہے،مگر بی جے پی کیلئے کیوں؟ یہ ایک بڑا سوال ہے ۔اگر آپ سیاسی جماعتوں کے ورکروں کی شرح نکالیں گے جھنڈے ڈھونے والے اور پارٹی کے جلسوں میں شریک ہونے والوں میں 60فیصد تعداد مسلمانوں کی ملے گی؟ سیاسی جھڑپوں میں سب سے زیادہ نام مسلم ورکروں کے ہی آتے ہیں پارٹی کوئی بھی ہو مگر مرنے اور زخمی ہونے والا مسلم ہی ہوتا ہے؟ ایک اعداد و شمار کے مطابق بایاں محاذ کے 34سالہ اقتدار میں 10ہزار کے قریب افراد سیاسی تشدد کے شکار ہوئے جس میں 80فیصد تعداد مسلمانوں کی تھی؟ ترنمول کانگریس کے اقتدار میں بھی سیاسی تشدد کے شکار ہونے والے زیادہ ترمسلم ورکرس ہی ہیں ۔صورت حال اس قدر گمبھیر ہے کہ جمعیۃ علماء ہند جیسی جماعت جس کی پکڑ گائوں گائوں تک ہے مگر اس کے جنرل سکریٹری کو اپنے سیاسی وجود کو بچانے کیلئے ترنمول کانگریس کا جھنڈا پکڑنا پڑا۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے عین قبل امرتیہ سین کی این جی او پراتیچی اور اسنیپ کی شراکت سے ایک سروے رپورٹ ’’مغربی بنگال کے مسلمانوں کی حقیقی صورت ‘‘ کے نام سے سامنے آئی تھی ۔جس کے مطابق سچر کمیٹی کی رپورٹ کے 10سال بعدبھی بنگالی مسلمانوںکی حالت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے ۔رپورٹ موجودہ اور سابقہ حکومت کی ترقی کے تمام دعوئوں کی پول کھولتی ہے ، دیہی علاقوں میں آباد مسلم آبادی کی 85فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی محض5000ہزار روپیہ سے بھی کم ہے، تعلیمی اور صحت کے شعبے میں بھی مسلم اکثریتی علاقے میں سہولیات کا فقدان ہے۔بنگال میں جہاں ایک لاکھ آبادی پر 6اسپتال ہیں وہیں مسلم علاقوں میں یہ تعداد گھٹ کر تین ہوجاتی ہے اور یہی صورت حال تعلیم کے شعبہ میں بھی مسلم اکثریتی علاقوں میں پرائمری، ہائی اسکول اور کالجز کی تعداد بہت ہی زیادہ کم ہے۔رپورٹ کے مطابق جن علاقوں میں مسلم آبادی کی شرح5فیصد ہے وہاں تمام بنیادی سہولیتیں موجود ہیں اور جہاں مسلمانوں کی آبادی 30فیصد سے 55فیصد یا پھر اس سے زاید ہے وہاں بنیادی سہولتیں اسپتال، اسکول اورکالجز ودیگر سہولیات کا فقدان ہے۔یہ رپورٹ انتخابی موسم میں منظر عام پر آنے کے باوجود انتخابی موضوع نہیں بن سکا۔ جہاں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے اس رپورٹ کو در خور اعتناء نہیں سمجھا تو اپوزیشن جماعتوںکا رویہ بھی مایوس کن تھا۔رہا سوال مسلم تنظیموں کا تو بعد میں شکوہ شکایت عادت بن چکی ہے
بنگال میں سیاست کا جو اس وقت مزاج ہے،اس کے رہتے ہوئے بہتری کی کوئی امید کرنا مشکل نظر آتا ہے ۔مسلمان ہی کیا دلت ، پسماندہ طبقات اور شیڈول کاسٹ میں بھی ایسا کوئی لیڈر نہیں ہے جو اس استحصالی نظام اور نسلی عصبیت کے خلاف زور دار آواز بلند کرسکے ۔ ماضی میں اس طرح کی آوازیں بلند ہوئی ہیں۔سابق آئی پی ایس افسر نذرالاسلام نے ’’ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے ‘‘نامی کتاب لکھ کر دلت، بیک ورڈ کلاسیس اور مسلم اتحاد کی کوشش کی مگریہ سب نقار خانہ میں طوطے کی آواز ثابت ہوئی ۔سی پی ایم کے سابق سینئر لیڈر عبد الرزاق ملا پارٹی سے نکالے جانے کے بعد نسلی عصبیت کے خلاف نعرہ بلند کیا اور دلت ومسلم اتحاد کی صدا بلند کی مگر 25سال تک وزیر رہنے والے لیڈر کیلئے جد و جہد اور سماجی انصاف کیلئے تگ و دو کرنا بس میں نہیں تھا اور اقتدار سے دوری انہیں برداشت نہیں ہوئیںلہذا وہ ترنمول کانگریس کا جھنڈ ا تھام نے میں عافیت سمجھی اورمچھلی پالن کے وزیر بن کر گوشہ عافیت میں راحت کی سانسیں لے رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *