بحرینی وزیر اعظم کالا ہانڈی پر کرم فرما مگر بالاسور نظر انداز کیوں؟

11cاڑیسہ کے پسماندہ ضلع کالاہانڈی میں ایک قبائلی شخص کے ذریعہ اپنی بیوی کی لاش کو اپنے کندھے پر لے کر تقریباً 10 کلومیٹر تک پیدل چلنے والی خبر نے بحرین کے وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان الخلیفہ کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔’ ڈیلی گلف نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے وزیر اعظم نے ٹی وی پر جب یہ خبر دیکھی تو انہیں بہت دکھ ہوا اور انہوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت محض انسانی بنیاد پر قبائلی شخص کی مالی امداد کا اعلان کر دیا۔خیال رہے کہ دانا مانجھی نامی اس قبائلی شخص کو اپنی بیوی کی لاش اسپتال سے اپنے گھر تک لے جانے کے لئے کوئی گاڑی نہیں مل پائی تھی اور اس کے پاس اس کے لئے پیسے بھی نہیں تھے۔ اس شخص کے ساتھ اس کی12 سالہ بیٹی بھی تھی۔یہ شخص واقعی مرد آہن تھا۔
رپورٹ کے مطابق، وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان الخلیفہ کے حکم پر بحرین کے وزیر اعظم دفتر نے ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں واقع بحرین کے سفارت خانہ سے رابطہ کر کے مانجھی اور اس کے کنبہ کو معاشی مدد دینے کا حکم دیا ہے۔ تاہم بحرین کے وزیر اعظم نے کتنی رقم دینے کا حکم دیا ہے، رپورٹ میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔گزشتہ دنوں ایک دن صبح کے وقت مقامی لوگوں نے دانا مانجھی کو اپنی بیوی امنگ دئی کی لاش کو کندھے پر اٹھا کر لے جاتے ہوئے دیکھا اور خاموش تماشائی بنے رہے۔میڈیا کے افراد نے نوٹس لیتے ہوئے پولس کو خبر دی اور پھر لاش کو متعلقہ گائوں بھجوایا گیا۔
42 سالہ خاتون کی اس رات کو ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ اڑیسہ نوین پٹنائک کی حکومت نے فروری میں ہی مہا پراین اسکیم کی شروعات کی تھی ، جس کے تحت لاشوں کو سرکاری استپال سے گھر تک پہنچانے کے لئے مفت نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم مانجھی نے بتایا کہ کافی کوشش کے باوجود بھی اسے اسپتال کے حکام سے کسی طرح کی مدد نہیں ملی۔اس لئے اس نے اپنی بیوی کی لاش کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اسے کندھے پر اٹھاکر تقریبا 60 کلو میٹر دور رام پور بلاک کے میلگھارا گائو ں کے لئے پیدل چلنا شروع کر دیا۔
اس قسم کا دردناک واقعہ اسی ریاست کے بالاسور کے اسپتال میں ہوا جس میں ایک مردہ خاتون کے جسم کی ہڈی کو توڑ کر بانس کی پھٹی میں لٹکا کر کمیونیٹی بھیجا گیا۔یہاں سبھی غربت کا ہی معاملہ تھا۔ سوال ہے کہ کیا اس دوسرے معاملہ میں کوئی اور اس ضعیفہ کے بیٹے کو مالی امداد دینے کے لئے آگے بڑھے گا؟یہ سوال ہے انسانی بنیادوں پر خدمت خلق کرنے والوں سے۔
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کالا ہانڈی کے دل دہلا دینے والے واقعہ پر تو بحرین کے وزیر اعظم نے کرم فرمائی کی مگر بالاسور کا شرمناک واقعہ نظر انداز کیا گیا۔ ممکن ہے کہ بحرینی وزیر اعظم کو اس کی جانکاری بھی نہ ملی ہو لیکن کہاں رہ گئیں دوسری شخصیات اور چیریٹی ادارے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *