اروند سنگھ گوپ کی امیدیں غیر یقینی صورت حال میں یقین کی تلاش

p-9پربھات رنجن دین
سماج وادی پارٹی میں ہنگامہ ہے۔ پارٹی کے اندر اختلاف’ قومی ایکتا دل‘ کے سماج وادی پارٹی میں ضم ہونے کے بعد ابھر کر سطح پر آ گیا ۔ اس اختلاف میں کمی ہوبھی جائے ،لیکن جو نقصان ہونا تھا،وہ تو ہو ہی گیا۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے پارٹی کے ریاستی صدر عہدہ سے اکھلیش یادو کو ہٹا کر شیو پال یادو کو ریاستی صدر بنا دیا، تو وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی اپنے چاچا شیو پال یادو کی کابینہ کے محکموں میں کٹوتی کر ڈالی۔ اس کے پہلے اکھلیش یادو شیو پال کے چہیتے چیف سکریٹری دیپک سنگھل کو ہٹا کر اپنی طاقت دکھا چکے تھے۔ سماج وادی پارٹی میں لکھنو سے دلی تک ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ کبھی لکھنو میں میٹنگیں ہورہی ہیں تو کبھی ملائم اور شیو پال کے بیچ دلی میں گفتگو ہورہی ہے۔ شیو پال سے سارے اہم محکمے چھین کر اکھلیش نے دکھادیا کہ وہ وزیر اعلیٰ ہیں۔ پھر شیو پال نے کابینہ سے بھی استعفیٰ دے دیا اور ریاستی صدر کا عہدہ بھی چھوڑ دیا۔ شیو پال نے سرکار میں توہین آمیز صورت حال کی وجہ سے پہلے بھی استعفیٰ کی پیشکش کی تھی، لیکن ملائم کے کہنے پر مان جارہے تھے۔ اس بار صورت حال بالکل الگ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ شیو پال یادو کو پارٹی کا ریاستی صدر بنائے جانے کا باضابطہ خط سماج وادی پارٹی کے قومی سکریٹری پروفیسر رام گوپال یادو کے دستخط سے جاری ہوا ، جبکہ رام گوپال ملائم کے اس فیصلے سے اختلاف کر چکے ہیں۔ رام گوپال اس معاملے میں امر سنگھ کی سازش قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔
پارٹی کے اس عدم استحکام کے بیچ زیادہ تر لیڈر بھی غیر مستحکم ہیں۔ ادھر ادھر جھانک رہے ہیں کہ وہ خود کو کس خیمے کا ثابت کریں کہ فائدہ ہو۔ سماج وادی پارٹی ایسے ہی موقع پرست لیڈروں کی بھیڑ سے گھری ہے۔ابھی سے چرچا ہونے لگی ہے کہ پارٹی ٹوٹی تو کون اکھلیش کے ساتھ رہے گا تو کون شیو پال کے ساتھ۔ میڈیا والے بھی ابھی سے سماج وادی پارٹی کو توڑ کر کس خیمے کا کس پارٹی کے ساتھ اتحاد ہوگا، اس کی پیشن گوئی کرنے میں لگے ہیں۔ ایسے میں سماج وادی پارٹی کے لکھنو کے مرکزی دفتر میں ایک لیڈر عوام کے جھنڈ کے بیچ بیٹھا ان کی شکایتیں نمٹاتا ہوا اور پارٹی کے لئے انتخابی پالیسی پر چرچا میں مشغول دکھائی دیتا ہے تو حیرت بھی ہوتی ہے اور اطمینان بھی۔ عدم استحکام کی حالت میں بھی پارٹی کے مستحکم ہونے کا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اتر پردیش سرکار کے کابینی وزیر اور پارٹی کے چیف سکریٹری اروند سنگھ گوپ کہتے ہیں کہ میں تو سماج وادی پارٹی کا سپاہی ہوں ۔اعلیٰ قیادت کے جو نظریاتی مسئلے ہیں، انہیں نمٹانا اعلیٰ قیادت کا کام ہے۔ مجھے تو سماج وادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو اور سرکار کے چیف اکھلیش یادو نے جو ذمہ داری سونپی ہے،اس ذمہ داری کو میں نبھا رہا ہوں اور پارٹی مفاد کے لئے کام کرتے رہنے کے لئے پابند ہوں۔ میں تو اس بات سے ہی فخر محسوس کرتا ہوں کہ ریاست کے سب سے بڑے کسان لیڈر ملائم سنگھ یادو مجھے سیاسی گرو کے طور پر دستیاب ہوئے۔ انہوں نے سکھایا، غریب کسان کمزور کی مدد کرنا، ظلم ،استحصال کے خلاف لڑائی کرنا اور تنظیم کو عظیم بنا کر رکھنا۔نیتاجی کا یہ سبق میری زندگی کا اصل منتر ہے۔ اتر پردیش کی ترقی وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کا اصل مقصد ہے۔ اس مقصد کو دھیان میں رکھ کر میں نے اپنے دیہی ترقیاتی محکمے کے ذریعہ دیہی ترقی کی مختلف اسکیموں پر تاریخی کام کرائے۔ اسے دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ترقی کے منصوبوں میں اپنی طرف سے کئی اضافی سہولتیں بھیفراہم کی۔
بات چیت کے بیچ یہ بھی صورت حال آئی کہ لکھنو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس یونین اروند سنگھ گوپ سماج وادی پارٹی سے آخر کیسے جڑ گئے، تو گوپ فلیش بیک میں چلے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں، میں اپنے سارے اچھے برے جدو جہد کے دنوں کو یاد رکھتا ہوں۔یہ بات مجھے بہت سکون دیتی ہے کہ میں ان کچھ خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جس پر سماج وادی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو اور ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اتنا بھروسہ کرتے ہیں۔ میں لکھنو یونیورسٹی کا ایک عام طالب علم ہی تو تھا۔بعد میں اسٹوڈنٹس پالٹکس سے جڑا اور ایسا پہلا اسٹوڈنٹس یونین صدر بنا جسے سماج وادی پارٹی کی دعا حاصل ہوئی ۔ نتیا جی ملائم سنگھ یادو نے جیسے مجھے گود لے لیا۔انہوں نے مجھے اس وقت کے وزیر اعلیٰ راجناتھ سنگھ کے خلاف حیدر گڑھ سے انتخاب لڑوا دیا۔ ووٹوں کی گنتی میں ایک دور ایسا بھی آیا جب راجناتھ سنگھ مجھ سے پیچھے تھے۔ ملک بھر میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ حالانکہ میں انتخاب ہار گیا۔ لیکن اس انتخاب نے مجھے پارٹی میں مستحکم بنا کر دیا۔ سال بھر بعد ہی 2003 میں راجناتھ سنگھ راجیہ سبھا چلے گے اور میں پھرحیدر گڑھ سیٹ سے میدان میں اترا۔ میرا پرچہ داخلہ اکھلیش یادو جی کی سرپرستی میں ہی ہوا۔ اس ضمنی انتخاب میں میری جیت ہوئی۔ ضمنی انتخاب تو کئی جگہ ہوئے تھے لیکن حیدر گڑھ واحد سیٹ تھی، جہاں سے سماج وادی پارٹی جیتی تھی۔ اس جیت سے اس وقت کے وزیر اعلیٰ مایا وتی اتنا بوکھلا گئی تھی کہ انہوں نے کچھ ہی گھنٹے کے اندر بارہ بنکی ضلع انتظامیہ کے سبھی افسرں کا تبادلہ کردیا ۔ایک سال بعد سماج وادی پارٹی کی سرکار بننے پر نیتا جی نے مجھے پبلک ورک ، ریاستی وزیر بنایا تھا۔ یہ نیتا جی کی ہی دعا تھی کہ میں نے 2007 کا انتخاب بھی جیت لیا۔پھر اکھلیش یادو کی قیادت میں ریاست میں مایاوتی سرکار کے خلاف زبردست لڑائی میں شریک ہونے کا موقع ملا ۔وہ لڑائی اس انتہا پر پہنچی کہ بہو جن سماج پارٹی کے موتی بکھر گئے۔2012 کے انتخاب میں سماج وادی نے تاریخی جیت حاصل کی، اس جیت میں اروند سنگھ گوپ نام کا سماج وادی پارٹی کا سپاہی بھی شریک تھا۔ بارہ بنکی کی6 اسمبلی سیٹ سماج وادی پارٹی نے ہی جیتا۔ مجھے تو حیدر گڑھ سیٹ ریزرو ہو جانے کی وجہ سے نئے انتخابی حلقے رام نگر کی چنوتی بھی ملی تھی۔ لیکن جدو جہد تو سماج وادیوں کے سرشت میں ہے۔ ہم سب اپنے کو خوش نصیب مانتے ہیں کہ ملائم سنگھ یادو جیسے توانائی سے بھرے ہوئے نوجوان وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو ہم سب کی قیادت کر رہے ہیں۔ نیتا جی کی رہنمائی اور وزیر اعلیٰ کی قیادت کی وجہ سے ہم نے 2012 کا انتخاب جیتا تھا اور ہمیں پورا یقین ہے کہ 2017 میں بھی پھر اکثریت کی سرکار بنائیں گے۔
2017 میں اسمبلی انتخاب جیتنے کا دعویٰ کس ذرائع پر مبنی ہے؟اس پر اروند سنگھ گوپ کہتے ہیں تجربہ کار ملائم کی ہدایت اور سرپرستی ، اکھلیش یادو کا بے داغ چہرہ اور ان کے کردار پر ٹوٹ پڑنے والے کارکن ، ہماری جیت کے دعویٰ کا حقیقی ذریعہ ہے۔ آپ پوری ریاست میں سروے کرا لیجئے۔ ریاست کا نوجوان بھاری تعداد میں اکھلیش یادو کے ساتھ ہے۔ سمجھدار عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمارا منشور اور اس پر ہمارا کیا گیاکام ہمارے اس دعوے کا ثبوت ہے ۔وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ریاست کے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دے کر ماڈرن سائنس کی ضرورت سے انہیں جوڑا۔ تب لوگوں نے مذاق اڑایا اور بعد میں تمام ریاستوں نے اس کی نقل کی۔ اب وزیر اعلیٰ نے اسمارٹ فون دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب ہر آدمی ترقی کے منصوبے کے کام پر نظر رکھے گا اور وزیر اعلیٰ تک کو سیدھے اسمارٹ فون سے مطلع کر پائے گا۔ لکھنؤ سمیت کئی ضلعوں میں میٹرو منصوبے شروع ہوئے۔ لکھنو میں تو جلدی ہی میٹرو ریل چلنے بھی لگے گی۔ اتر پردیش ایک مکمل دیش کی طرح ترقی کررہا ہے۔
لیکن کسانوں اور بے روزگاروں کی حالت اور ریاست میں قانون و نظام کی بدحالی پرسوال ابھی پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ گوپ کہنے لگتے ہیںکہ کسانوں کی خوشحالی وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی ترجیحات میںشامل ہے۔ یہ سبق انہیں وراثت میں ملا ہے۔ اکھلیش یادو نے زرعی شعبے میں عورتوں کی معاشی حصہ داری طے کرنے کے لئے بھی کئی اسکیمیں لاگو کی ہیں۔ اتر پردیش میں کھیتی میں اہم شراکت دے رہی عورتوں کے طاقتور بنانے کے لئے سماج وادی پارٹی سرکار لگاتار کوشاں ہے۔ کسانوں کے مفاد کو دھیان میں رکھ کر سرکار کئی اسکیمیں لا چکی ہے۔ اب نہ کہیں کھاد کی قلت ہوتی ہے اور نہ بیج کی۔ گنا کسانوں کے بقایہ جات کی ادائیگی کے لئے بھی سرکار لگاتار چینی ملوں پر دبائو بنائے ہوئی ہے۔ کئی ملوں کے خلاف ریکوری سرٹیفکیٹ تک جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جہاں تک تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری کا سوال ہے ،میٹرو منصوبہ سے لے کر سائبر سیٹی اور اسمارٹ سٹی کی اسکیم روزگار کے راستے ہی تو کھولے گی۔ لیکن اس میں تھوڑا وقت تو لگے گا۔ بے روزگاری بھتہ، کنیا ودیا دھن جیسی اسکیمیں تو شروع کی گئی۔قانون و نظام کے مورچہ پر واقعتا زیادہ بدنامی ہے۔ اس میں میڈیا کا کردار بہت مبالغہ آمیز ہے۔جبکہ یوپی میں دیگر ریاستوں کی مقابلے میں کرائم کم ہیں۔ یو پی میں پولیس کی جس طرح جدید کاری ہوئی۔ اس کا بھی تو ایماندارانہ تجزیہ ہونا چاہئے۔ پولیس کے سارے کھٹارا گاڑی بدل ڈالے گئے۔ پرانے ہتھیار بدل دیئے گئے۔ 24 گھٹے ڈیوٹی کرنے والے پولیس اہلکار کے لئے ایک دن کی ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا۔ آج اتر پردیش کی 100ڈائل اسکیم کی دنیا بھر میں چرچا ہے اور کئی ملک اسے دیکھنے سمجھنے یوپی آرہے ہیں، وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کو اس کا سہرا میڈیا والے کیوں نہیں دیتے۔ ہم پھر جیت کر آرہے ہیں۔یہ کہتے ہوئے اروند سنگھ گوپ دیہی علاقے میں ہونے والی کسی میٹنگ کے لئے گنوئی پگری باندھ کر نکل پڑتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *