اوڈیشہ :ایک گاؤں، 100 دن، 19 بچوں کی موت بھوک او رغذائی قلت سے پریشان ہے قبائلی گروپ

ششی شیکھر
p-5اوڈیشہ کے جاجپور ضلع کا ایک بلاک ہے سُکندا۔ اسی بلاک کے تحت نگڈا گاؤںآتا ہے۔ اس گاؤں میں آپ جائیں گے،تو آپ کو کچھ الگ دکھائی نہیںدے گا۔ لیکن جیسے ہی آپ کو یہ پتہ چلے گا کہ پچھلے تین چار مہینوں کے اندر اس گاؤں کے 19 بچوں کی موت ہوئی ہے، تو آپ یقینا ً یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ کیا ان بچوںکر مناسب کھانا نہیںملا؟ طبی خدماتمیسر نہیںہوئیں؟ کیا غذائی قلت سے ان کی موت ہوئی؟ اس طرح کے ڈھیر سارے سوال ذہن میںآسکتے ہیں۔ فوڈ سیکورٹی ایکٹ، پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم اور منریگا جیسے قوانین کے ہونے کے بعد لیڈروں کے ذریعہ ترقی اور ہندوستان بدل رہا ہے جیسے دعوے کیے جانے کے بعد بھی اگر کسی گاؤںکے 19 بچوں کی موت مبینہ طور پر غذائی قلت سے یا کھانے کی کمی سے یا طبی سہولیات میسر نہ ہونے سے ہوتی ہے، تو پھر اسے کیا کہیں گے؟
فی الحال اس واقعہ کے بعد جس طرح کی خبریںآرہی ہیں،اس کے مطابق نگڈا گاؤںکے ان بچوںکو انٹی گریٹیڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت تغزیہ اور طبی خدمات کا فائدہ آنگن باڑی مراکز کے ذریعہ سے نہیںمل پارہا تھا۔ اس گاؤںکا قریبی آنگن باڑی مرکز گاؤںسے آٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ آنگن باڑی مرکز 2007 میںنگڈا گاؤں سے آٹھ کلومیٹر دور قائم کیا گیا تھا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ آنگن باڑی مرکز کاغذ پر تو موجود ہے، لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود ہی نہیںہے۔ غور طلب ہے کہ یہ آنگن باڑی مرکز ایک پہاڑی اور گھنے جنگل والے علاقے میں بنایا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب ایسی جگہ پر افسر اور ملازمین تک جانے سے کتراتے ہیں، تو کوئی حاملہ خاتون یاچھوٹا بچہ بھلا اس آنگن باڑی مرکز تک جاکر سرکاری اسکیموںکا فیض کیسے اٹھاسکتا ہے؟
بچوںکی موت کی خبر مقامی میڈیا میںآنے کے بعد اوڈیشہ کے ہی کچھ سماجی کارکنوں نے ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم تشکیل کرکے اس پورے معاملے کی جانچ کی۔ اس ٹیم نے جولائی میںمذکورہ گاؤں کا دورہ کیا اورجو حقائق پیش کیے ہیں، وہ ان بچوںکی موت کے اصل اسباب بتاتے ہیں۔ اس ٹیم میں رائٹ ٹو فوڈ سے جڑے پردیپ پردھان، شری کلانڈی ملک، سدھیر موہنتی، وکیل اوڈیشہ ہائی کورٹ ، آر ٹی آئی کارکن سنجے ساہو، شری دیبندر کمار راؤت اور اندرجیت شامل تھے۔اس ٹیم کے مطابق نگڈا جوانگ قبائلی گروپوں کی بستی ہے اور یہ بستی پہاڑا ور جنگل سے گھری ہوئی ہے۔ ٹاٹا مائننگ اسپتال سے یہ قریب 20 کلومیٹر دور ہے۔ گاؤں کو جوڑنے والی کوئی سڑک نہیں ہے۔ پہاڑ پر ٹریکنگ کے ذریعہ ہی یہاںپہنچا جاسکتا ہے۔ یہاں جوانگ قبیلے کی کل آبادی تقریباً 250 ہے۔ یہاں سے 15 کلومیٹر کی دوری پر ٹاٹا مائننگ آپریشن چل رہا ہے۔ٹیم نے پایا کہ اس گاؤں کے تقریباً سبھی لوگ دبلے پتلے ہیں اور ان کا قد کافی کم ہے۔ تین سے چار سال کے تقریباً سبھی بچے غذائی قلت کے شکار دیکھے گئے۔ یہاںنہ تو آنگن باڑی مرکز ہے اور نہ ہی گاؤں میںپرائمری اسکول ہے۔
ٹیم نے اپنے جائزے میں پایا کہ گاؤں کے تقریباً سبھی بچے غذائی قلت سے متاثر ہیں۔ آنگن باڑی مرکز میںچلنے والی سرکاری اسکیم’ ممتا یوجنا‘ کے بارے میںیہاں کی کسی عورت کو علم نہیںتھا اور نہ ہی انھیںاس اسکیم کے تحت کبھی ایک روپیہ ملا تھا۔ اس گاؤںمیںکافی گندگی ہے،پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے۔ گاؤںکے لوگ نہانے اور دیگر کام کے لیے ندی کے پانی کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹیم نے جب گاؤں کے لوگوںسے یہ جاننا چاہا کہ ا نھیںکھانے کے لیے کیا مل پاتا ہے، تو گاؤں والوں کا جواب چونکانے والا تھا۔ ٹیم کو پتہ چلا کہ جوانگ قبیلے کے ان لوگوں کو صرف چاول ، پتّی اور نمک ہی نصیب ہوپاتا ہے۔ ٹیم نے کئی گھروںکامعائنہ کیا اور پایا کہ کسی بھی گھر میںدال، آلو،پیاز یا تیل نہیں موجود تھا۔ نیشنل فوڈسیکورٹی ایکٹ اور ’انتیودے اَنّ یوجنا‘ کی ہدایت کے مطابق،جوانگ سمیت سبھی قدیم قبائلی گروپ ہر ماہ 35 کلو چاول کے حقدار ہیں۔ لیکن اس گاؤںمیں، کنبے کے ممبروںکی تعداد کے حساب سے چاول کی مقدار (ہر ماہ فی شخص 5 کلو) مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح چار رکنی خاندان کو ترجیحی گھریلو زمرے کے تحت 20 کلو چاول مل رہا ہے۔ اگر اس خاندان کو’ انتیودے اَنّ یوجنا‘ کے تحت کور کیا جائے گا، تو انھیں35 کلو چاول ہر ماہ ملتا ۔ اب اس ناقص سروے کے لیے کسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم نریگا کے تحت اس گاؤں میں کسی کوبھی کوئی کام گزشتہ کئی سال سے نہیںملا ہے۔ٹیم کو گاؤں میںکسی کے پاس بھی جاب کارڈ نہیںملا۔ ظاہر ہے کہ اس گاؤں میںنریگا کے تحت کوئی کام ہی شروع نہیںکیا جارہا ہے۔
اس گاؤں کے19 بچے پہلے ہی غذائی قلت کے سبب مرچکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ریاستی سرکار نے شروع میںاسے صحت سے متعلق مسئلہ مانا۔ لیکن یہاںکا اصل مسئلہ غذائی قلت ہے، جس کے لیے اب تک کوئی قدم نہیںاٹھایا گیا ہے۔ نگڈا گاؤں میںبچوںکی موت کے لیے طبی علاج کی کمی،غذائی قلت اور بھوک ایک بڑی وجہ ہے۔ گاؤں میںمختلف پروگراموں کو لاگو کرنے میں انتظامیہ کی سراسر لاپرواہی رہی ہے۔گاؤں میںآئی سی ڈی ایس پروگرام بچوں کے لیے لاگو ہی نہیںکیا گیا ہے تاکہ بچوںکے لیے غذائیت سے بھرپور کھانا یقینی بنایاجا سکے۔فوڈ سیکورٹی پروگرام یہاں غیر اہم اور بے مقصد ہوجاتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ اکیلے نگڈا گاؤں کی حالت ہی ایسی ہے۔ نیامگری کے کٹیا کوند قبیلے کا بھی برا حال ہے۔ رائٹ ٹو فوڈ کیمپین کی اس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کالا ہانڈی ضلع کے لانجی گڑھ بلاک میںواقع کٹیاکوند قبائلی علاقے کا بھی دورہ کیا۔ ٹیم نے لانجی گڑھ بلاک میںجوانگ قبیلے کا ذریعہ معاش، صحت تعلیم، کھانے پینے کی عادت، فوڈ سیکورٹی پروگرام سمیت دیگر فلاحی منصوبوں کی صورت حال کا اندازہ لگانے کے لیے دورہ کیا۔ یہ ٹیم ترلوچن پور گرام پنچایت، جہاںکٹیا کوند قبیلے کی آبادی ہے، بھی گئی۔ یہ علاقہ لانجی گڑھ بلاک ہیڈ کوارٹر سے دس کلو میٹر دور ہے۔ یہ پنچایت نیامگری پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے، جہاں ہزاروں کروڑ روپے کی باکسائٹ ابھی بھی محفوظ ہے۔ یہاںدھیان دینے کی بات یہ ہے کہ کٹیا کوند قبیلے کے لوگوںنے بات چیت کے دوران ویدانتا کمپنی کے اسپانسرڈ مائننگ آپریشن پر اپنا غصہ ظاہر کیا۔ وہ نیامگری پہاڑ کی سیکورٹی کو لے کر پُرعزم تھے۔ ٹیم نے کٹیاکوند قبیلے کے کئی گاؤوں کا دورہ کیا۔ ہر ایک گاؤں میںاس قبیلے کے 8 سے 10 خاندان کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر رہتے ہیں۔ قبیلے کی ایک عورت سرپنچ کے خوف کے سبب ٹیم سے بات کرنے کے لیے باہر نہیںآئی۔
ٹیم کی رپورٹ کے مطابق کھیمنڈیپاڈار گاؤں کے آنگن باڑی مرکز میںچار پانچ بچے دکھائی دیے، جبکہ یہاںبیس بچے مرکز سے جڑے ہیں۔ بچے بغیر سبزی کے گھٹیا چاول اور پتلی دال کھاتے ہوئے دکھائی دیے۔ مرکز پر کوئی آنگن باڑی کارکن بھی موجود نہیں تھا اور ہیلپر ہی مرکز چلارہا تھا۔ مرکز میںکوئی رجسٹر بھی فراہم نہیں تھا،جس سے آنگن باڑی کی سرگرمیوںکا علم ہوسکے۔کٹیاکوند قبیلے کے لوگوںنے بتایاکہ گرام پنچایت میںمنریگا کے تحت کبھی کوئی روزگار نہیںملا، یہاں تک کہ وہ جاب کارڈ کے نام سے بھی ناواقف تھے۔ ان گاؤوں میں کوئی بھی پرائمری اسکول نہیںہے،یہاںکا کوئی بھی بچہ اسکول نہیںجاتا ہے۔’ بیجو پکّا گرہ یوجنا‘ اور آئی اے وائی کا برا حال ہے۔ ریاستی سرکار کو ان اسکیموں کے تحت پکا مکان بنانے کے لیے مالی مدد دینی تھی۔لیکن تین گاؤوںمیںصرف دو مکان اس اسکیم کے تحت بنے دکھائی دیے۔کٹیا کوند قبیلے کی ترقی کے لیے مرکزی سرکار کی مدد سے 1986 میںترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے تھے۔ کے کے ڈی اے آفس جانے پر معلوم ہواکہ پروجیکٹ منیجر نہیںآئے ہیں۔ ایک اہم کلرک نے بتایا کہ کے کے ڈی اے یوجنا کے تحت 16 گاؤوں کو فائدہ ملا ہے۔ تیس سال گزر جانے کے بعد بھی کٹیا کوند ڈیولپمنٹ ایجنسی ، کے کے ڈی اے کا فائدہ سبھی 21 گرام پنچایتوںتک نہیںپہنچا ہے۔ بدعنوانی، فنڈ کا غلط استعمال اور بہتر روزگار کی کمی سے کٹیاکوند قبیلے کی ترقی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ سرکار اورمقامی انتظامیہ کی لاپرواہی کے سبب ترقیاتی منصوبوںکو صحیح طریقے سے نافذ نہیں کیا جاسکا ہے۔ انتیودے یوجنا اور فوڈ سیکورٹی کے باوجود انھیںضرورت سے کم چاول دیا جاتا ہے، جس کے سبب وہ آم کی گٹھلی اور پیڑ کی چھال کھا کر گزر بسر کرنے کو مجبور ہیں۔زراعت اور ہارٹی کلچر سے متعلق سہولیات کی کمی کے سبب کسان روایتی طریقے سے پوڈو اور کچھ موٹے اناج کی پیداوار کرنے کو مجبور ہیں۔
ضلع انتظامیہ نے 2004 میں ریاستی سرکارسے درخواست کی کہ سبھی کٹیا کوند قبیلے کے 21 گاؤوں کو کے کے ڈی اے یوجنا میں شامل کرلیا جائے،لیکن ریاستی سرکار نے اب تک کوئی پہل نہیںکی۔ اس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے اپنی طرف سے سفارش کی ہے کہ کٹیا کوند کے سبھی خاندانوں کو ہر مہینے انتیودے اَنّ یوجنا کے تحت 35 کلوگرام چاول دیا جائے ۔ قبائلی گروپ کو بھوک سے بچانے کے لیے ریاستی سرکار سروے کرائے کہ ہر خاندان کو کتنے چاول اور دیگر اناج کی ضرورت ہے اور اس بنیاد پر اناج دیے جائیں۔ آنگن باڑی مرکز کھلیں اور بچوںکو سبھی سہولیاتمہیا کرائی جائیں۔ ضلعی سطح پر ان کی نگرانی کا بندوبست ہونا چاہیے۔ آنگن باڑی مراکز کے بند ہونے، اناج کی تقسیم اور فنڈ کے بیجا استعمال کے لیے ذمہ دار افسروں پر سخت کارروائی کی جائے۔ کے کے ڈی اے یوجنا کے تحت قبائلی لوگوں کو سہولت دی جائے اور وسیع ترقیاتی منصوبے چلاکر زراعت اور پھلوں کی کھیتی کے جدید ترین طریقے شروع کیے جائیں۔ طبی سہولیات کے فقدان سے بچے بیماریوںکے شکار ہورہے ہیں۔ سڑک کی سہولت نہ ہونے کے سبب وہ اسپتال نہیں پہنچ پاتے۔ دو یا تین دنوں میں یہاںکے لوگوں کو موبائل اسپتال کی سہولت ملے۔ بہتر سڑک سہولت کا نہ ہونا یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ضلع انتظامیہ اس کے لیے جلد قدم اٹھائے۔ لیکن کیا اوڈیشہ سرکار اس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی سفارشوں پر دھیان دے گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *