سیلاب کی آہٹ سے اڑے ہوش

راجیش سنہا
p-10bتمام انتظامی دعووں کے بعد بھی بہار میں سیلاب سے پہلے کی تیاریوںکے نام پر شاید ایماندارانہ کوششیںنہیں کی گئی ہیں۔ کہیںکہیںباندھوںکی مرمت کے نام پرخانہ پری کیے جانے کا چرچا ہے، تو کہیںباندھوںکے تحفظ کی بابت ندیوںمیںبولڈر گرانے کے نام پر بے ضابطگیاں برتی جانے کا معاملہ سڑکوںپر جُگالی کررہا ہے۔ بہار پوری طرح سیلاب کی لپیٹ میںتو نہیںآیا ہے،لیکن نیپال کے ساتھ ساتھ بہار میںہورہی ریکارڈ بارش کے سبب گنگا، گنڈک، بوڑھی گنڈک، کوسی، گھاگھرا اور مہا نندا کے ساھ ساتھ دیگر ندیوں میں طغیانی آئی ہوئی ہے اور رفتہ رفتہ شمالی بہار میںسیلاب کی صورت حال انتہا کو پہنچتی جارہی ہے۔ شہری علاقے میں فی الوقت سیلاب کا نظارہ تو دکھائی نہیں دے رہا ہے، لیکن سوپول، مدھوبنی او رموتیہاری کے کئی گاؤں میںسیلاب کا پانی داخل ہونے کی وجہ سے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقام کی طرف رخ کرنا پڑرہا ہے۔ نیپال کے ذریعہ کوسی بیراج میں پانی چھوڑے جانے کے سبب تقریباً ایک دہائی پہلے ہرسال سیلاب کا ڈنک جھیلتے آرہے سیلاب متاثرین کے بیچ ممکنہ سیلاب کو لے کر اس قدر خوف چھانے لگا ہے کہ ابھی سے ہی محفوظ مقام کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ اتنا ہی نہیںانتظامی سطح سے بھی ممکنہ سیلاب کے مدنظر نہ صرف محفوظ مقام تلاش کرلیے گئے ہیں، بلکہ ضروری سامانوںکا ذخیرہ بھی کرلیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ذریعہ اس بار بھاری بارش کا امکان جتانے کے بعد ممکنہ سیلاب کو لے کرحکومت انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھلے ہی دہشت زدہ ہوں، لیکن لگ بھگ نو سالوں کے بعد شمالی بہار ایک بار پھر سیلاب کا گواہ بنے گا ہی، یہ کہناتوشاید جائز نہیںلگتا۔ حالانکہ یہ کہنے میںکوئی مبالغہ نہیںہوگا کہ ممکنہ سیلاب کو لے کر کہیںغم تو کہیں ماتم کا ماحول چھانے لگا ہے۔ گنگا،گنڈک، بوڑھی گنڈک اور کوسی سمیت کسی بھی ندی کی پانی کی سطح خطرے کے نشان کو پار بھی نہیںکرسکی ہے۔ اس کے باوجود دیارا کے باشندوں کے ساتھ ساتھ نچلے علاقے کے لوگوں کو اپنا اپنا آشیانہ ترک کرکے محفوظ مقام ا س لیے تلاش کرنا پڑرہا ہے، کیونکہ دیارا اور نچلا علاقہ نہ صرف سیلاب آنے کی گواہی دینے لگا ہے، بلکہ دھیرے دھیرے سیلاب کے آغوش میںسماتا بھی جارہا ہے۔ حالانکہ دیارا کے باشندوں یا نچلے علاقے کے لوگوںکے لیے اس طرح کا نظارا نیا نہیںہے۔ ندیوں کے پانی کی سطح میںاضافہ ہوتے ہی دیارا اور نچلے علاقے زیر آب ہونے کا نظارہ عام ہوتا رہا ہے۔ لیکن اس باروقت سے پہلے ہی سیکڑوں لوگوں کے نہ صرف آشیانے چھن گئے ہیں، بلکہ سیکڑوں کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ بھی منہپھاڑے کھڑا ہے۔یہ بات الگ ہے کہ بہار کے دیارا اور نچلے علاقے میںسیلاب کے سبب ماہی گیروںکی زندگی میںگویا بہار آگئی ہے۔ماہی گیروں کے گھروں میںآئی خوشیوںکا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نقل مکانی کرچکے ماہی گیر بھی اب واپس گھر لوٹنے لگے ہیں۔ سالوںسے خشک سالی کی مار جھیل رہے مزدور خاص طور سے ماہی گیر اپنے روایتی پیشے کو چھوڑ کر پنجاب، ہریانہ،دہلی سمیت دیگر ریاستوںکے لیے نقل مکانی کر گئے تھے۔ بہار میںسیلاب آنے کی بات جان کر واپس گھر لوٹ رہے مزدور خاص طور سے ماہی گیروں کا کہناہے کہ کئی سالوںسے گنگا سمیت دیگرندیوںمیںسیلاب نہیںآنے کی وجہ سے ان لوگوں کے روایتی پیشے پر گہن لگ گیا تھا۔ سہرسہ ضلع کے منوج سہنی اور کھگڑیا ضلع کی پشپا سہنی کا کہنا ہے کہ کئی سال سے گنگامیّا شاید روٹھی ہوئی تھی۔نتیجتاً ماہی گیروںکی زندگی محض رینگتی نظر آتی تھی۔ماہی گیروںکو روایتی پیشے سے منہ موڑ کر کسی دوسرے دھندے کو اپنانا پڑا تھا۔ گنگا اور کوسی میّا کی پوجا سے ماہی گیروںکی زندگی میں بہار آگئی ہے۔ پشپا کہتی ہیںکہ اگر گنگا اور کوسی میا اسی طرح ماہی گیروں پر مہربان رہی، تو شاید ماہی گیروںکے گھروںمیںدکھ پہنچے ہی نہیں۔ بیگوسرائے ضلع کے کارے سہنی کا کہنا ہے کہ ناراض گنگا میّا کو منانے میںاب کی بار ماہی گیرپھر کامیاب ہوگئے۔ بار بار ندیوںمیںسیلاب آنے سے ماہی گیر خوشحال تھے۔ لیکن کئی سال سے ندیوں کا پیٹ خالی رہ جانے کے سبب ان لوگوں کے مچھلی کاروبار پر برا اثر پڑنے لگا تھا۔ اس بار گنگا میّا ماہی گیروںپر وقت سے پہلے مہربان ہوگئی ہے۔ سوپول ضلع کے ارو ند سہنی کا بھی کم و بیش یہی کہناہے ۔ اروند کہتے ہیں کہ کئی سالوں سے گنگا، کوسی سمیت دیگر ندیوںمیںسیلاب نہیںآنے کی وجہ سے ان لوگوں کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ ماہی گیروںکی حمایت کرتے ہوئے بہار اسٹیٹ فشریز کوآپریٹو یونین کے سابق نریش سہنی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 2007 کے بعد بہار کے کئی ضلعوں میں خشک سالی کی حالت پیدا ہوگئی تھی۔ نتیجتاً خشک سالی کی مار جھیلنے سے تنگ آچکے ماہی گیروں کی نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ماہی گیروںکے ذریعہ روایتی پیشے کو چھوڑ کر کسی دوسرے کام میںلگ جانے کی وجہ سے بہار کا مچھلی کاروبار بری طرح متاثر ہوگیا۔آندھرا پردیش کی مچھلی بہار کے مچھلی بازار پر راج کرنے لگی۔ دیسی مچھلیاں کہیں کہیںپر ہی دکھائی دیتی تھیں۔ ماہی گیروںکے لیڈر پربھو دیال سہنی کہتے ہیں کہ خشک سالی کی مار جھیل رہے ماہی گیر سماج کے زیادہ تر لوگ کرناٹک جاکر پتھرکے کاروبارسے جڑ گئے تھے۔ پربھو دیال گزشتہ سال 2007 میں آئے سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ کھگڑیا ضلع کی محض 113 پنچایتیں ہی متاثر ہوئی تھیں، لیکن نو ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ مچھلیوں کی پیداوار ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے کبھی بھی مچھلی پیداوارکے معاملے میں یہ ضلع چھ ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ مچھلی پیداکرنے کا گواہ نہیں بن سکا۔ کیونکہ اس کے بعد ماہی گیر سیلاب کا انتظار ہی کرتے رہ گئے اور سیلاب کے درشن تک نہیں ہوسکے۔ اس سال شروعات میں ہی سیلاب آجانے سے مچھلیوں کی پیداوار ہونا طے ہے۔ سہرسہ ضلع کے اجے لال سہنی کی مانیں،تو ندیوں میںسیلاب آنے کے بعد اب آندھرا پردیش کی مچھلیوں کے کاروبارپر جہاں منفی اثر پڑنے لگا ہے، وہیں مچھلی کے شوقینوں کو دیسی مچھلی بھی نصیب ہونے لگی ہے۔اجے لال اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ سہرسہ ضلع کے آس پاس کی متاثرہ ندیوں کے پانی کی سطح بڑھنے سے دیسی مچھلیوں کی پیداوار میں اضافہ ہواہے۔ نتیجتاً سیلاب آنے سے پہلے تک آندھرا پردیش سے چالیس چالیس کلو کی دو سو مچھلی کی پیٹیاں سہرسہ پہنچی تھیں، وہیں فی الوقت چالیس سے پچاس پیٹیاں ہی پہنچ پارہی ہیں۔ اس طرح کے حالات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آندھرا پردیش کی مچھلیوں کا بازار سیلاب نہ آنے کی وجہ سے کس طرحبڑھ جاتا ہے۔ کھگڑیا،سہرسہ، سوپول، مدھے پورہ اور بیگوسرائے کیفشری آفیسروں کابھی ماننا ہے کہ اس سال وقت سے پہلے موسم کی دستک اور ندیوں میںپانی کی بڑھتی ہوئی سطح ماہی گیروںکی زندگی کے لیے خوشگوار ثابت ہوگی اور مچھلیوں کی پیداوار میںنہ صرف اضافہ ہوگا، بلکہ مچھلیوںکے معاملے میںآندھراپردیش پر انحصار بھی کم ہوجائے گا۔ بہر حال بہارمیںسیلاب کا نظارہ دیکھ کر بھلے ہی ماہی گیروں کی زندگی میںبہار آنے کا اشارہ مل رہا ہو،لیکن دیگرلوگوںکے لیے سیلاب ایک بارپھر قہر بن کر سامنے آنے لگا ہے ۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *