موضوع بحث پی ایم مودی کی انکہی، کہی نہیں

دہلی کے تاریخی لال قلعہ سے گزشتہ 70 برسوں سے ہندوستان کے وزراء اعظم ترنگا جھنڈا پھہرا کر تقریر کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ 15-14 اگست 1947 کی نصف شب سے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو سے شروع ہوا تھا اور ہنوز قائم ہے۔ یہتقریر ملک کے پالیسی پروگرام کے نقطہ نظر سے بڑی اہم گردانی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہرسال اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور یہ موضوع بحث بنتی ہے۔ لہٰذا اس سال بھی موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر میڈیا و دیگر جگہوںپر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
جہاں تک اس بار نریندر مودی کی تقریر کاسوال ہے، یہ 2014 کے وسط میں اقتدار میں آنے کے بعد تیسری تقریرہے۔ ان کی پہلی تقریر ہی تھی، جس میں انھوں نے 125 کروڑ ہندوستانیوں کے وزیر اعظم ہونے کی بات کہتے ہوئے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کی یقین دہانی کرائی تھی۔ یہ وہ بات تھی جو کہ عام انتخابات کے وقت نعرے کے طور پر استعمال کی گئی تھی۔
اس بار نریندر مودی نے اپنی 90 منٹ کی تقریر میں اپنی کارکردگی کی لمبی فہرست پیش کردی، کیلکولیٹر کی طرح اعداد و شمار کا انبار لگادیا اور 125 کروڑ ہندوستانیوں کا بار بار ذکر کیا۔ مثال کے طور پر ’جن دھن یوجنا‘ میں 21 کروڑ شp-5ہری، دو کروڑ بیت الخلائ، 70 ہزار گاؤں کو کھلے Defication سے نجات، 18 ہزار گاؤں میں سے 10 ہزار گاؤں میںبجلی کی فراہمی، 13 کروڑ لیڈ بلبوں کی تقسیم، 77 کروڑ بلبوں کے ذریعے 20 ہزار میگا واٹ بجلی کو بچانا، جس سے 125 لاکھ کروڑ روپے بچ سکتے ہیں۔
مزید برآں انھوںنے بایو بیت الخلاء سے بلیٹ ٹرین، غریبی سے بلوچستان اور درمیان میں سولر اینرجی، ٹرین لائنوں، معیار زندگی، دیہی سڑکوں، اینرجی، آدھار، ایل پی جی، ہٹائے گئے قوانین، مہنگائی، بیٹی بچاؤ، ٹیکسٹائلز، کوئلہ، نیتا جی سبھاش چندربوس سے متعلق دستاویز، بنگلہ دیش، بیج، چیہار بندرگاہ، دالوں، نریگا کا بھی بغیر ترتیب کے حوالہ دیا۔ ان تمام حوالوںسے ایسا محسوس ہونے لگا کہ ایک اچھے ہار(Nacklace) میںبہت سے ہیرے جواہرات کی طرح اس میں بہت سے ایشوز ہیں، مگر ان سبھی کو جوڑنے والا کوئی واضح دھاگہ نہیں ہے، جس سے بے ربطگی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے اور سامعین کو کنفیوژ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی ڈی یا دوسر ے چینلوںکے کیمروں نے ایسے منظر بھی قید کیے، جن میںسامعین اور ناظرین سوتے ہوئے دکھائی پڑ رہے تھے۔عجب بات تو یہ تھی کہ جیسے ہی وزیر اعظم کی تقریرختم ہوئی،الیکٹرانک میڈیا پاکستان کو ان کے ذریعہ دیے گئے پیغام کو لے کر مصروف ہو گیا۔ ہر طرف بلوچستان گونجنے لگا۔
خاص بات تو یہ ہے کہ عدلیہ اور جی ایس ٹی جن کا کوئی ذکر پوری تقریر میںنہیں تھا۔ ا س کے باوجود یہ ایشوز اصحاب الرائے میںضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ جہاں تک عدلیہ کا معاملہ ہے، یہ زیر بحث اس لیے آیا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے پی ایم مودی کی لال قلعہ کی تقریر کے بعد سپریم کورٹ میںیوم آزادی کے موقع پر تقریر میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ’’میںنے مقبول عام وزیر اعظم کو ڈیڑھ گھنٹے تک سنا۔۔۔ مجھے توقع تھی کہ انصاف اور ججوں کی تقرری پر بھی (اس میں ) کچھ ہوگا۔۔۔ میںوزیر اعظم سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ آپ غربت دور کیجئے، آپ روزگار پیدا کیجئے، اسکیموں کو لائیے،لیکن باشندگان ملک کے لیے انصاف کی فراہمی کے بارے میں بھی سوچئے۔‘‘
انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ برطانوی حکومت کے وقت ایک معاملہ عدالت میں10 برسوں میںنمٹالیا جاتا تھا، مگر اب ایسا نہیںہورہا ہے۔ امیدوں میںبھی اتنا ہی اضافہ ہوا ہے کہ (ان سب سے نمٹنے میں) بہت دقت ہورہی ہے۔
چیف جسٹس ٹھاکرنے ایک شعر سے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا:
گل پھینکیں اوروں پر ، ثمر بھی
اے ابرکرم، اے بحر سخاء کچھ تو ادھر بھی
چیف جسٹس ٹھاکر کے ریمارکس نے پی ایم مودی کی ’انکہی‘ کو ’کہی‘ سے زیادہ اہم بنادیا۔ قابل ذکر ہے کہ انھوںنے اس ایشو کو پہلی مرتبہ نہیںاٹھایا تھا۔ اس سال کے اوائل میںاپریل میںیہ وزیر اعظم کی موجودگی میںچل رہی ججوںکی ایک کانفرنس کے دوران انصاف کی فراہمی میں تاخیر اور ججوںکی تقرری کے ایشو پر اشک بار اور جذباتی ہوگئے تھے۔ لہٰذا جب چار ماہ میں انھوںنے عدلیہ کی نازک صورت حال میںکوئی تبدیلی محسوس نہیںکی،تو پھر اظہار خیال کیا۔
چیف جسٹس کا یہ ریمارک ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہائی کورٹوں میں 75 سے زائد تقرریوں اور تبادلوں کے کچھ معاملے 8 ماہ سے زائد عرصہ سے لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک ایسے ملک میںجہاں آئینی عدالتوں میںتقریباً 1200 ججز اور اسی سطح پر 400 اسامیاںخالی ہیں، یہ یقیناً ناقابل قبول ہے۔ ججز مستقل ریٹائر ہوتے ہیں او راگر نئی تقرریاں نہیںکی جاتی ہیں،تو یہ ممکن ہے کہ عدلیہ کا پورا نظام مکمل طور پر دم توڑ دے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اہل الرائے کی رائیں اس قضیہ پر آتیں اورآئیں بھی۔ سینئر ایڈووکیٹ ریبیکا جان نے کہا کہ ’’ان تقرریوں کو تنازع کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگر عدلیہ نے ججوں کی تقرری کا ایک طریقہ بنایا ہے،تو حکومت وقت کو اس وقت تک اس کا احترام کرنا چاہیے، جب تک یہ کسی اور طریقہ پر اتفاق نہ کرلیں۔‘‘
ایک دوسرے سینئر وکیل راجو رام چندرن کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی جارہی تاخیر کی وجہ سے چیف جسٹس کو کھل کر یہ سب کچھ بولناپڑا۔ ممکن ہے کہ حکومت کو اچھا نہ لگا ہو، مگر یہ سب تو قانون ہے اور حکومت تاخیر کا عمل اختیار نہیںکرسکتی ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا حکومت جان بوجھ کر ججوںکی تقرریوں میںتاخیر کررہی ہے،معروف وکیل اظہار کریم انصاری نے کہا کہ حکومت کے طرز عمل سے کسی کو بھی اس طرح کا شبہ ہوسکتا ہے۔ صحیح بات یہ بھی ہے کہ چیف جسٹس ٹھاکر کی تقریر کو ملک کے عدلیہ نظام میںبہتری کے تناظر میںلینا چاہیے۔ اسے پی ایم اور سی جے کے درمیان تنازع کی صورت میں نہیں دیکھنا چاہیے ۔ توقع ہے کہ موجودہ حکومت اس ایشو پر خصوصی توجہ دے کر اسے جلد از جلد نمٹائے گی۔ جمہوریت میںنظام عدلیہ ایک اہم ستون ہے ۔ اسے کسی بھی صورت میں کمزور نہیںہونے دینا چاہیے۔ اسی میں ملک اور اس کے باشندگان کا بھلا ہے۔
اے یو اے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *