پاکستان کو دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے

وسیم احمد

p-8پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول اسپتال میں ہوئے دھماکہ میں71 سے زیادہ افراد ہلاک اور 112فراد زخمی ہوئے ۔یہ دھماکہ گزشتہ ہفتہ صبح کوئٹہ شہر کے سول اسپتال میں ہوا تھا۔ جماعت الاحرار نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں تقریباً 34وکلا اور میڈیا کے 2 نمائندے ٹی وی چینل’’آج نیوز‘‘ کے کیمرہ مین شہزاد یحییٰ خان اور ’’ڈان نیوز ‘‘کے کیمرہ مین محمود خان بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ دو صحافی’’ 92نیوز ‘‘کے کمیرہ مین فتح گلاب اور ’’دنیا نیوز ‘‘کے سینئر رپورٹر فریداللہ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ابھی اس دھماکے کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ چار دن بعد ایک دوسرا دھماکہ ہوگیا۔ یہ دھماکہ کوئٹہ میں فیڈرل شریعت کورٹ کے جج ظہور شاہ وانی کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔جس میں اب تک 2 کی موت اور 14افراد زخمی ہونے کی خبر ہے۔کوئٹہ میں ایک ہفتہ کے اندر دو دھماکوں کے بعد ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ہلاکتوں کے واقعات لگاتار پیش آتے رہے ہیں۔وہاں دھماکے اور خود کش حملے کوئی نئی بات نہیں ہے۔آئے دن بے گناہوں کے نشانہ بننے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔دہشت گرد تنظیموں نے جس طرح سے پاکستان کے مختلف شہروں کو اپنے نشانے پر لے رکھا ہے ،اس سے وہاں کے نہ تو عام شہری محفوظ ہیں،نہ سرکاری ملازمین ،نہ ہی وکلاء اور نہ ہی صحافی۔ خاص طور پر صوبہ بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ کو دہشت گرد تنظیموں نے گزشتہ ایک دہائی سے اپنی گڑھ بنا رکھا ہے۔اگر ہم گزشتہ ایک دہائی کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک صرف کوئٹہ میں مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے 41 سے زیادہ وکلا اور 43صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں سے کچھ مشہورہوئے اور اخباروں کی لیڈ بنے :
فروری 2007 میں کوئٹہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں خودکش حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کمرہ عدالت میں موجود سینئر سول جج عبدالوحید درانی اور6 وکیلوں سمیت 11 افراد ہلاک اور 30 افراد زخمی ہوگئے تھے۔7 جولائی 2008 کوئٹہ میں جان محمد روڑ پر نامعلوم حملہ آوروں نے وکیل غلام مصطفیٰ قریشی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ان کا تعلق اہل تشیع فرقے سے تھا۔6 ستمبر 2010 کو کوئٹہ کے وکیل زمان مری کی گولیوں سے چھلنی لاش مستونگ سے ملی تھی۔انہیں کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا، اسی طرح کوئٹہ سے ہی لاپتہ وکیل علی شیر کرد کی تشدد شدہ لاش 24 ستمبر 2010 خضدار سے ملی تھی۔30 اگست 2012 کو کوئٹہ میں واقع منیر مینگل روڈ پر سیشن جج ذولفقار نقوی ان کے گارڈ اور ڈرائیور کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔4 اپریل 2013 کو سابق ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان صلاح الدین مینگل کو سریاب روڈ سے اغوا کیا گیا اور تقریباً ایک ماہ بعد ان کی بازیابی عمل میں آئی تھی، ان کی رہائی کے لیے تاوان طلب کیا گیا تھا۔ 20 جون 2014 کوئٹہ کے جناح ٹاؤن میں فائرنگ کے ایک واقع میں ماحولیات سے متعلق ٹربیونل کے جج سخی سلطان ہلاک ہوگئے۔11 نومبر 2014 انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نظیر لانگو ایک بم حملے میں محفوظ رہے۔ اس واقع میں ایک شخص ہلاک اور 20 افراد رخمی ہوگئے تھے۔8 جون 2016 کو سپن روڈ پر بلوچستان لا کالج کے پرنسپل بیریسٹر امان اللہ چکزئی کو حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، اسی طرح 3 اگست کو ایڈووکیٹ جہانزیب علوی کو فیصل ٹاؤن میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔8 اگست کو بلال انور کاسی منوجان روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے، جن کی لاش جب سول اسپتال پہنچائی گئی تو خودکش حملہ کیا گیا، جس میںکم از کم 34 وکلا ہلاک ہو چکے ہیں اور پھر چار دن بعد 11 اگست کو شریعت کورٹ کے جج کے قافلہ پر حملہ ہوا جس میں دو لوگوں کے مرنے کی خبر ہے اور متعدد افراد زخمی ہیں۔
انصاف کے لئے لڑائی لڑنے والوں کا اس طرح سے بہیمانہ قتل پاکستان کے سیکورٹی سسٹم پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ۔کبھی ضرب عضب تو کبھی قومی ایکشن پلان کے ذریعہ پاکستان دہشت گردوں کو کچلنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ پاکستان نے جیلوں میں بند کئی دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا بھی دی مگر ان سزائوں سے دہشت گرد تنظیموں کا زور کم نہیں ہوا۔پاکستانی تجزیہ نگار فرید کاسی کہتے ہیں کہ پاکستان میں جو واقعات ہورہے ہیں اور حق اور انصاف کے لئے کھڑے ہونے والوں کے خلاف اس طرح کے حادثے انجام دیئے جارہے ہیں، یہ پاکستانی سیکورٹی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
دہشت گردوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ جہاں حق و انصاف کے لئے لڑنے والوں کو نشانہ بناتے ہیں،وکلاء اور ججوں پر حملے کرتے ہیں، وہیں جمہوریت کے چوتھے ستون کو مضبوط کرنے کے لئے دن رات ایک کردینے والے صحافیوں کو بھی نہیں بخش رہے ہیں۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پچھلی دو دہائیوں میں دنیا بھر میں 962 صحافی ہلاک ہوئے۔اس عرصے میں صحافیوں کی ہلاکت کے حوالے سے بدترین ملکوںمیں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔سب سے زیادہ ہلاکت بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ میں ہوئی ہے ،جہاں گزشتہ ایک دہائی میں ممنوعہ تنظیموں کے نشانے پر وکلا اور ججوں کے علاوہ صحافیوں کی بڑی تعدادبھی رہی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو نشانہ بنانے والوں میں 40 فیصد ممنوعہ تنظیموں سے جڑے ہوئے افراد ہوتے ہیں جو ان کی غیر قانونی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کی وجہ سے قتل کردیتے ہیں۔ 2008 کے بعد سے صحافیوں کی ہلاکتوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر حماد اللہ کے مطابق 10 برس کے دوران بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے واقعات میں مجموعی طور پر 43صحافی اور کیمرہ مین ہلاک ہوچکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 8 صحافی اور کیمرہ مین بم دھماکوں میں جبکہ باقی ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے ہیں۔صحافیوں کو لاحق خطرات پر ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی اپنے خدشات ظاہر کرچکا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو قتل کئے جانے کے علاوہ انہیں ہراساں کئے جانے اوردھمکیاں دینے کی شکایتیں وموصول ہوئی ہیں۔ملک کے شمال اور جنوب مغرب میں شورش زدہ علاقوں میں طالبان، لشکر جھنگوی اور قوم پرست بلوچ مسلح گروپ صحافیوں کو زیادہ نشانہ بناتے ہیں،مگر حکومت کی طرف سے ان کے تحفظ کے لئے کوئی کارگر کارروائی نہیں ہوئی۔ 2015میں28صحافیوں پر قاتلانہ حملہ ہوا ، ان میں 4حملے بلوچستان کے علاقے میں ہوئے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف ایک پر مقدمہ چلایا گیا ہے۔حالانکہ اعلیٰ حکام بشمول وزیر اطلاعات پرویز رشید اپنے حالیہ بیان میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور اس ضمن میں جہاں ضروری ہوا قانون سازی بھی کی جائے گی،لیکن ان کے بیان کا کوئی اثر کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہے اور صحافیوں کی ہلاکت بدستور جاری ہے۔
جب وکلا، جج اور صحافی محفوظ نہیں ہیں تو پھر پاکستان کے عام شہریوں کا کیا کہنا ۔اگر ہم دہشت گردی کے شکار عام شہریوں کا جائزہ لیں تو فہرست طویل ہوجاتی ہے لیکن صرف 2016 میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔امسال 13جنوری کو کوئٹہ میں ایک سوسائڈ بمبار میں 14افراد ہلاک ہوئے۔اسی ماہ کی 20 تاریخ کو چارسدہ یونیورسٹی پر فائرنگ ہوئی اور 20افراد موت کی نیند سو گئے۔اس حادثہ کے دو ہفتہ بعد 6فروری کو فرنٹیئر کورپس کوئٹہ میں ایک بائک میں بم دھماکہ کی وجہ سے 9لوگوں کی جانیں گئیں اور پھر ایک ماہ بعد ہی 7مارچ کو چار سدہ کے لوکل کورٹ میں ایک سوسائڈ بمبار میں 10لوگ ہلاک ہوگئے۔اس حادثہ کے ایک ہفتہ بعد ہی 16مارچ کو پشاور کی ایک بس میں سوسائڈ بمبار میں 17لوگوں کی موتیں ہوگئیں اور اسی ماہ کی 27 تاریخ کو گلشن پارک لاہور میں خود کش حملہ ہوا جس میں 74افراد کی جانیں گئیں۔اس کے بعد 19اپریل کو مردان ایکسائز آفس پر خود کش حملہ میں ایک آدمی ہلاک ہواجبکہ 22جون کو پاکستان کے مشہور صوفی گلوکار احمد صابری پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا اور ان کی موت ہوگئی۔
یہ تو نمونہ کے طورپر بتائے گئے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں نے جس طرح سے ہائی جیک کررکھا ہے اس کی وجہ سے وہاں نہ تو کوئی خاص محفوظ ہے اور نہ کوئی عام۔البتہ جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے،کچھ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ چلتا ہے، سوگ منائے جاتے ہیں،مرنے والوں کو ہمدردی کے طور پر کچھ مالی مدد دے دی جاتی ہے اور پھر سب کچھ پہلے کی طرح روا دواں ہوجاتا ہے ۔اگر کوئی اس حادثے پر زندگی بھر آنسو بہاتا ہے تو وہ ایسے افراد ہیں جن کے اپنے اس حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم زخمیوں سے ملنے گئے۔جنرل راحیل شریف اسپتال گئے اور دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا وعدہ کیا،وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری نے بھی اسپتال کا دورہ کیا اور غیر جانبدار تحقیقات کی یقین دہانی کرائی اور چلے گئے،لیکن سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ اب سے پہلے انہوںنے دہشت گردوں سے نمٹنے کا جو وعدہ کیا تھا ،اس پر عمل کیوں نہیں ہوا۔ایسی ممنوعہ تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑنے کا کام سختی سے کیوں نہیں ہوا۔جبکہ وہ جانتے ہیں کہ یہی تنظیمیں اندرون ملک ماحول خراب کرتی ہیں اور پڑوس ملکوں میں دہشت گردی انجام دے کر رشتوں میں کھٹاس لاتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *