نیا قومی تعلیمی پالیسی ڈرافٹ سیکولر اور عوامی امنگوں کا ترجمان نہیں

اے یو آصف
p-1بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت چلی ہے ملک کو فرنگیوں اور دیگر اثرات سے آزاد نئی قومی تعلیمی پالیسی دینے ۔ مگر ڈرافٹ کی تفصیلات پر نظر ڈالتے ہی یہ محسوس ہوجاتا ہے کہ اس کی اصل منشا گنگا جمنا تہذ یب والے سیکرلر اور عوامی امنگوں کے ترجمان نظریوںکو ختم کرکے ہندوستان کو ایک مخصوص ایک رخی نظریہ کی طرف لے جانا ہے۔ عام عوام خصوصاً مسلمان، دیگر اقلیتیں اورکمزور طبقات اس ڈرافٹ سے صرف غیر مطمئن ہی نہیں ،خوفزدہ بھی ہیں۔ اس کا اندازہ ان کے اندر پائی جانے والی بے چینی اور خوف و ہراس سے ہوتا ہے۔ اس رپورٹ میںان ہی باتوں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے اور مشورے دیے گئے ہیں۔ آئیے، دیکھتے ہیںکہ کس طرح موجودہ شکل میں یہ ڈرافٹ ملک کے عوام کو منظور نہیں ہے۔
ہندوستان میںتعلیمی تجربات کا کھیل 181 برسوں سے کھیلاجارہا ہے۔ دور مغلیہ کے اختتام سے قبل 1835 میںپہلا تجربہ اس وقت ہوا جب برطانوی پارلیمنٹ کے ذریعہ بنی کونسل آف انڈیا کے قانونی رکن اور کمیٹی آف پبلک انسٹرکشن کے نامزد صدر لارڈ تھومس بیبنگٹن میکالے نے ہندوستانی تعلیم پر اپنی باضابطہ رائے پیش کی۔ یہ رائے میکالے کے منٹ (Macaulay’s Minute) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس میںکہا گیا تھا کہسنسکرت اور عربی میںکتابوں کی اشاعت کو بند کردیا جائے اور روایتی تعلیم کو دی جارہی حمایت کو دہلی کے مدارس اور بنارس کے ہندو کالج میں مالی تعاون تک محدود کیا جائے مگر وہاں کے طلباء کو کوئی رقم نہ دی جائے اور یہ رقم مغربی موضوعات (subjects) بشمول انگریزی کی تعلیم کو مختص کی جائے۔
میکالے کا یہ منٹ 181 برسوں کے بعد بھی ہندوستان کی تعلیمی پالیسی پر کسی نہ کسی حیثیت میںاثر رکھتا ہے۔ اس کے تعلق سے بابائے قوم گاندھی جی کا کہنا تھا کہ یہ ہندوستان کے باشندگان کو بابو یا کلرک تو بنا سکتا ہے مگر آزاد تعلیم یافتہ نہیں۔ آزادی کے بعد ایک آزاد تعلیمی پالیسی بنانے کی غرض سے متعدد کوششیںہوئیں۔ اس ضمن میں پہلی کوشش محترمہ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں1968 میں ہوئی۔ تب ملک کی پہلی باضابطہ قومی تعلیمی پالیسی منظر عام پرآئی اور روبہ عمل ہوئی۔ پھر 1986 میں اندراگاندھی کے صاحبزادے راجیو گاندھی کے دور حکومت میںدوسری قومی تعلیمی پالیسی بڑے دھوم دھام سے بنی۔ 1992 میںپی وی نرسمہا راؤ اور 2005 میںڈاکٹر منموہن سنگھ کے ادوار میں اس قومی پالیسی میںچند ترمیمات کی گئیں۔ 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد قومی تعلیمی پالیسی کی بات پھر سے شروع ہوئی۔ بالآخر اپریل 2015 میں وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے نئی تعلیمی پالیسی کو بنانے کے لیے مشورے کے سلسلے کے آغاز کا اعلان کردیا اور اس سلسلے میں اس کا ڈرافٹ بھی سرکولیٹ کیا۔ آئندہ 15 ستمبر 2016 تک ملک بھر سے اس ضمن میں مشورے طلب کیے گئے ہیں۔
بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے اس ڈرافٹ پر پورے ملک میں بحث کا آغاز ہوچکا ہے۔ طلبائ، اساتذہ اور ماہرین تعلیم اپنی اپنی رایوںکا اظہار کررہے ہیں۔ ملک کی اقلیتیں بشمول عیسائی اور مسلمان کھل کر میدان عمل میں کود پڑے ہیں۔ اب تک اقلیتوںمیں ٹھوس کوششیں عیسائیوں اور مسلمانوں کی جانب سے دکھائی پڑ رہی ہیں۔ تمل ناڈو میںعیسائیوں کے تھنک ٹینک گروپ کنسورٹیئم آف کریشچئن مائنارٹی ہائر ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (سی سی ایم ایچ ای آئی) اور نئی دہلی میںمسلمانوں کے تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (آئی او ایس) ان کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ جماعت اسلامی ہند نے بھی ملک کے چند مقامات پر اس موضوع پر مذاکرے کیے ہیں۔
مذکورہ ڈرافٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے چنئی میںمنعقد میٹنگ میں سی سی ایم ایچ ای آئی کے جنرل سکریٹری جی پشپ راج نے اس کے بعض نکات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے ملک کے آئین کی روح کے منافی اور اقلیتوں کے مخالف بتایا۔ 1986 کی قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق آٹھویں کلاس تک کسی بھی طالب علم کو روکناممنوع تھا، جبکہ نئی قومی پالیسی کے ڈرافٹ میںاس ممانعت (Detention) کو پانچویںکلاس تک محدود کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میںپشپ راج نے کہا کہ ایسا کرنے سے دیہی علاقوں کے طلباء خصوصاً ایس سی/ ایس ٹی اور اقلیتی کمیونٹیز میںڈراپ آؤٹ کی شرح بڑھ جائے گی اور کمزور طبقات بنیادی تعلیم سے مزید محروم ہوتے چلے جائیں گے۔ انھوں نے اس نئی پالیسی کو کمزور طبقات کے خلاف سازش قرار دیا ۔ ان کے خیال میں یہ پالیسی اعلیٰ تعلیم میںبھی کم و بیش کمزور طبقات کی ہمت شکنیکرتی ہے۔ اس نئی پالیسی میں ریا ضی او رسائنس کے اسکور کی بنیاد پر ہائر سیکنڈری کے طلباء کی درجہ بندی ہے۔ پشپ راج کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب یہ قانون دیہی علاقوں کے اقلیتی اسکولوں میں نافذ ہوگا، تو اس کا طلباء کے اتحاد پر منفی اثر پڑے گا۔ پشپ راج کے تھنک ٹینک گروپ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس سے مذہبی اقلیتوں کے اپنی پسند اور مرضی کے مطابق اداروں کو بنا کر چلانے ، اسٹاف کا تقرر کرنے اور Evaluation کرنے کے حقوق بری طرح متاثر ہوں گے جو کہ آئین کی روح کے منافی ہوگا ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈرافٹ میںہر 5 برس پر کارکردگی کا جائزہ لینے اور 10 برس بعد لائسینس سرٹیفکٹ کو ازسر نو بنوانے یا رینیو کرنے کی بات کی گئی ہے،جس سے اداروں میںکمٹ منٹ کے بجائے جوڑ توڑ اور دھاندلی شروع ہوجائے گی۔
علاوہ ازیں ایک اور اہم با ت یہ ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی کے ڈرافٹ میںکمپوزٹ اسکولوں کو قائم کرنے کو کہا گیا ہے، جس میںاقلیتی اسکولوںمیں اساتذہ کی اسامیوں کو بھرنیکے بارے میں بالکل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ اس ضمن میںسی سی ایم ایچ ای آئی کا واضح طور پر کہنا ہے کہ تعلیم کو نیشنلائز کرنے کی ایسی کوششیں آئین کے ذریعہ فراہم کردہ اختیارات و حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہوگی۔ سی سی ایم ایچ ای آئی کے تحت پورے ملک میں107 بڑے عیسائی اقلیتی ادارے چلتے ہیں۔ اس نے 24 جولائی 2016 کو چنئی میں ایک قومی سیمنار بلایا تھا، جس نے اتفاق رائے سے قومی تعلیمی پالیسی کے ڈرافٹ میںمتعدد ترمیمات کے مطالبات کئے۔ اس سے عیسائی اقلیت کی تشویش بھری رائے کا اظہار ہوتا ہے۔
جہاںتک مسلم اقلیت کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں ڈاکٹر محمد منظور عالم کی قیادت میں مسلمانوں دیگر اقلیتوں اوردیگر کمزور طبقات کے امپاورمنٹ کے تعلق سے کام کررہے آئی او ایس نے بھی مثبت طور پر قدم آگے بڑھالیا ہے۔ واضح ہوکہ بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے بننے کے فوراً بعد ہی اس کی اُس وقت کی فروغ انسانی وسائل کی وزیر محترمہ اسمرتی ایرانی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی وضع کرنے کا صاف اشارہ دیتے ہوئے اپنی 10 ترجیحات کا اعلان کیا تھا۔ یہ سلسلہ ان کے جانے اور پرکاش جاوڈیکر کے آنے کے بعد بھی پورے زور و شور سے برقرار ہے۔ ان دس نکات کا سب سے پہلے نوٹس لیتے ہوئے آئی او ایس نے 4 جون 2014 کو ہی ’’ہندوستان میںتعلیم کے بدلتے ہوئے تیور کا جائزہ‘‘کے عنوان پر ایک مذاکرہ منعقد کرایا اور ماہرین تعلیم اور دیگر دانشوران کی رائے لی اور ان ترجیحات میںسے بیشتر کو ملک کے آئین کی اصل روح کے منافی قرار دیا۔ اس اہم مذاکرہ میںآئی او ایس چیئر مین ڈاکٹر محمد منظور عالم جو کہ آئیڈیا لاگ اور ماہر اقتصادیات بھی ہیں ،کے علاوہ، مؤرخ پروفیسر رفاقت علی خاں، ماہر قانون اور نالسار یونیورسٹی حیدرآباد کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفیٰ ، سابق اے ایم یو وائس چانسلر پی کے عبدالعزیز، عالم و دانشور پروفیسر محسن عثمانی ، مسلم ایجوکیشنل سوشل اینڈ کلچر ل آرگنائزیشن (MESCO) کے سکریٹری ڈاکٹر فخرالدین محمد، متعدد یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر رہے پرفیسر منظور احمد، پونامیںمقیم معروف ماہر تعلیم پی اے انعامدار، ماہر قانون پروفیسر ایم افضل وانی، مظہر الحق عربی، فارسی یونیورسٹی پٹنہ سے وابستہ رہے ڈاکٹر شوکت علی، اے ایم یو میںسینٹر فار پروموشن آف ایجوکیشن اینڈ کلچرل ایڈوانس منٹ آف مسلمز آف انڈیا پروفیسر شمیم انصاری، بہار کے مشہور دانشور ڈاکٹر ایس فضل رب او رسینئر صحافی محمد ضیاء الحق نے نئی حکومت کے نئے عزائم کے تعلق سے ملک کے عوام کو اپنے اظہار خیال میںخبردار کیا اور اس کے خلاف ماحول بنانے کی ترغیب دی تاکہ ملک کے سیکولر تانے بانے کی حفاظت کی جاسکے ۔
آئی او ایس یہیں پر رکا نہیںبلکہ اس نے 19 مارچ 2016 کو اپنے سینٹر میںاس کے تعلق سے پھر ایک مذاکرہ بعنوان ’’ہندوستان میںتعلیمی پالیسی کا جائزہ‘‘ منعقد کیا ۔ یہ اس سلسلے کی دوسری کڑی تھی۔ اب یہ وقت تھا جب تقریباً دو برس کے عرصہ میں مودی حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی ایک شکل اختیار کرنے کی جانب مضبوطی سے بڑھ رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس میںآئی او ایس سکریٹری جنرل ڈاکٹر زیڈ ایم خاں نے شرکاء سے کھل کر غوروفکر کرنے کی دعوت دی اور بتایا کہ اب نیا تعلیمی پالیسی ٹاسک فورس (این ای پی ٹی ایف) وجود میں آکر متحرک بھی ہوچکا ہے۔ لہٰذا بہت فکرمندی اور عملی تجاویز کی ضرورت ہے تا کہ نئی پالیسی میںمنفی نکات کوہٹانے کی کوشش کی جاسکے۔ اس مذاکرہ میںجامعہ ملیہ اسلامیہ میںفیکلٹی آف ایجوکیشن کے ڈائریکٹر محمد یوسف، پروفیسر مزمل حسین اور ڈاکٹر ارشد اکرام قاسمی، جامعہ ہی کی محترمہ ڈاکٹرقاضی فردوس اسلام، صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نوید حامد، سماجی کارکنان و دانشوران وی بی راوت اور سنجے رائے ، ماہر قانون پروفیسر اقبال حسین، ماہر جغرافیہ پروفیسر محترمہ حسینہ حاشیہ اور سپریم کورٹ وکیل مشتاق احمد علیگ نے ڈاکٹر منظور عالم کی صدارت میںنئی تعلیمی پالیسی کے ڈرافٹ میںمنفی نکات کے تعلق سے شرکاء کو واقف کرایا اور مشورے دیے۔
علاوہ ازیں آئی او ایس نے ملک کے دیگر بڑے شہروں میںبھی مذاکرے کرائے اور رائے عامہ کو اس سلسلے میںبیدار اور یکسو کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے کی آخری کوشش اس نے اگست کے اوائل میںکی،جس میںجامعہ ملیہ اسلامیہ کے نہرو گیسٹ ہاؤس میںمنعقد ایک اہم مذاکرہ میںماہر تعلیم امبریش رائے اور محترمہ نازخیر کے علاوہ جماعت اسلامی ہند کے شعبہ تعلیم کے سکریٹری ڈاکٹرنعیم فلاحی اور دیگر متعدد دانشوران و ماہرین نے ڈرافٹ پالیسی اور آئی او ایس کے پاس آئے مشوروںپر غورو خوض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈاکیومنٹ شمولیاتی (Inclusive) ہرگز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں آئی اوایس ستمبر کے اوائل میں فائنل مشورے وزارت فروغ انسانی وسائل کو پیش کرے گا۔
جماعت اسلامی ہند نے بھی اس ایشو میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے 7 نکات پر مبنی مشورہ وزارت فروغ انسانی وسائل کو بھیجا ہے، جس میں اس کے سیکولر اور عوامی امنگوں والے کیریکٹر کو برقرار رکھتے ہوئے اخلاقی اقدار پر زور دیا گیا ہے۔
جو نتیجہ کھل کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ عیسائیوں، مسلمانوں و دیگر کمزور طبقات کے ماہرین تعلیم اور قانون، مؤرخین، دانشوران وطلباء اور نوجوان کے طبقہ کو مجموعی طور پر نئی قومی پالیسی کا مجوزہ ڈرافٹ موجودہ شکل میں منظور نہیںہے۔ لہٰذا اس میںقابل اعتراض نکات کو ہٹاکر اسے شمولیاتی (Inclusive) بنایا جائے تاکہ ملک کی نئی تعلیمی پالیسی سیکولرزم اور عوامی امنگوںکے عین مطابق ہوسکے۔

تعلیمی ڈرافٹ موجودہ شکل میںمنظور نہیں  ناز خیر، ماہر تعلیم او رسوشل ڈیولپمنٹ پروفیشنل

نئی تعلیمی پالیسی کی تمہید (پریمبل) کی شروعات وید کی طرف لوٹنے کی اپیل سے ہوتی ہے۔ ’’جس تعلیمی نظام کو قدیم ہندوستان میں سب سے پہلے فروغ حاصل ہوا تھا ،اسے ویدک نظام تعلیم کہتے ہیں۔ قدیم ہندوستان میں تعلیم کا حتمی مقصد علم حاصل کرنا یا زندگی گزرانے کی تیاری کرنا یا ماورائے زندگی کی تیاری کرنے کے بجائے اپنی (ذات) کی تکمیل ہے۔‘‘ نئی تعلیمی پالیسی دستاویز کا مکمل خاکہ اسی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ نتیجتاً اس دستاویز میں اسلامی نظام تعلیم اور عیسائی مشنریوں کے ذریعہ اپنائے گئے تعلیمی نظام جیسے دوسرے تمام نظام، جن کا ملک کی تعلیمی ترقی میں اہم حصہ رہا ہے، کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، یہ دستاویز یہ فرض کر لیتی ہے کہ صرف ویدک نظام تعلیم ہی ذات یا ہستی کی تکمیل پر زور دیتا ہے اور اس بات کو آسانی سے بھلا دیتا ہے کہ علامہ اقبال کی نہایت مقبول نظم ’خودی‘ قرآن کی بنیاد پر لکھی گئی ہے، جو نوجوانوں کو خودی کا احساس دلا کر ان کے اندر جو ش بھر دیتی ہے اور ان کے اندر چھپی ہوئی قابلیت اور صلاحیت کو واضح کرتی ہے۔

ملک کے مختلف حلقوں میں تعلیم پہنچانے میںہندوستان کی عظیم شخصیات ،جن میں رابندر ناتھ ٹیگور، مولانا قاسم نانوتوی، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، بی آر امبیڈکر، مولانا ابوالکام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین، سرسید احمد خاں، پاپا میاں جیوتی راؤ اور ساوتری پھولے، فاطمہ شیخ اور عیسائی مشنریاںشامل ہیں، ان کے اہم کردار کا ذکر اس دستاویز میں کہیں نہیں ہے۔ تعلیم کے میدان میں ان کی اہم شراکت رہی ہے، جو خصوصاً موجودہ دور کے لیے جب رائٹ ٹوا یجوکیشن ایکٹ 2009کے نفاذ کے بعدابتدائی سطح پر تعلیم کو عالمگیر بنانے کی کوشش ہورہی ہے ، زیادہ مناسب اور موزوں ہے ۔ رائٹ ٹوا یجوکیشن ایکٹ تعلیم سے متعلق قانون ہے، جو ملک میں جامع تعلیم اور آئین میں شامل تعلیم کے بنیادی حق کے نفاذ کو بھی یقینی بناتا ہے۔
اس کے علاوہ نئی تعلیمی پالیسی سنسکرت کی تعلیمی سہولیات میںاضافے کے لیے فیاضی دکھانے کی وکالت کر تی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں ملک میں اردو کو کمزور کرنے کی منظم کوشش بھی شامل ہے۔جیسے ہی بی جے پی نے مرکز میں اقتدار سنبھالا ،ریڈیو پر نشر ہونے والے مقبول عام اردو پروگراموں کو روک دیا گیااور گزشتہ کئی سالوں سے اردو کی قیمت پر سنسکرت کو پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ اردو بولنے والوں کے لیے اسکولوں میں سہولیات یا تو کم ہیںیا ہیںہی نہیں۔ اردو کے طالب علم سنسکرت پڑھنے پر مجبور ہیں، کیوں کہ اردو کا نام زبانوں کی فہرست میں بھی شامل نہیںہے، جن سے طالب علم زبان کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ صورت حال ان ریاستوں کی بھی ہے جہاں اردو دوسری یا تیسری زبان ہے۔اس مدعے کو اخباروں میں کافی جگہ ملی۔ اردو کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی، لہٰذایہ ویسا ہی خصوصی سلوک اور برتاؤ چاہتی ہے جیسا سلوک نئی تعلیمی پالیسی میں سنسکرت کے ساتھ کیا جا رہاہے۔ایسا اس لیے بھی کیونکہ اس زبان کا ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو مستحکم کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ایک کلیدی کردار رہا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی بازار اساسی (مارکیٹ بیسڈ) تعلیمی پالیسی کو فروغ دینے کی بات کر رہی ہے، جس میں معاشرے کے پسماندہ طبقوں کی تعلیم حاصل کرنے والی پہلی نسل جن میں مسلمان بھی شامل ہیں، کے لیے حرفتی مہارت (vocational skills) والی تعلیم اور متمول طبقے کے لیے اعلیٰ تعلیم کی بات کی گئی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلے سے ہی محرومی کے شکار طبقوں ، جن میں مسلمان بھی شامل ہیں ،کی پسماندگی کو دوام مل جائے گا۔
ان سب نکات کے علاوہ ایک نکتہ اور ہے جو یہ ہے کہ لارڈ میکالے کے منٹ کا شکار سنسکرت کے ساتھ عربی بھی ہوئی تھی۔ لہٰذا آزادی کے بعد اب جب سنسکرت کی واپسی ہورہی ہے، تو عربی کو بھی وہی سلوک ملنا چاہیے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *