نکسلیوں سے مڈبھیڑ نیم فوجی دستہ کے جوان ہی کیوں مرتے ہیں؟

سنیل سوربھ
p-9جھارکھنڈ کی سرحد سے لگے بہار کے گیا -اورنگ آباد ضلع کی سرحد سے لگے نکسل متاثرہ علاقہ ڈومری نالا میں 18 جولائی 2016 کو پولیس اور نکسلیوں کے بیچ ہوئے مڈبھیڑ میں کوبرا بٹالین کے 10 جوانوں کی ہوئی موت نے متعدد سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں نکسلی حملے اور نکسلی پولیس مڈبھیڑ میں مگدھ میں 50 سے زیادہ سیکورٹی دستوں کے جوانوں کی موت ہو چکی ہے۔ ان میں زیادہ تر نیم فوجی دستوں کے جوان شامل ہیں۔بدنام نکسلی لیڈر سندیپ یادو کے دستے کا ڈومری نالا جنگل میں ہونے کی جانکاری ملنے پر اورنگ آباد کے ایس پی بابو رام کوبرا بٹالین کو ساتھ لے کر جنگل میں گھسے،لیکن برسات کا موسم ہونے اور گھنے جنگل ہونے کی وجہ سے پولیس اور کوبرا کے جوانوں کو نکسلیوں پر کارروائی کرنے میں کافی پریشانی ہو رہی تھی، کیونکہ نکسلی پہاڑی کی چوٹی پر تھے اور کوبرا بٹالین کے جوانوں کو نیچے سے اوپر کی طرف چڑھائی کرتے ہوئے نکسلیوں پر کارروائی کرنی تھی۔ برسات کے موسم میں بھی نکسلیوں نے منصوبہ بند طریقے سے ڈومری نالا کی طرف آنے والے مختلف راستے پر لینڈ مائنس بچھا رکھا تھا۔جیسے ہی سیکورٹی دستوں کی کارروائی تیز ہوئی، نکسلیوں نے کوبرا بٹالین کے جوانوں کو آتے دیکھ کر ریموٹ سے لینڈ مائنس کو بلاسٹ کردیا، جس میں کوبرا کے10 جوانوں کی موت ہو گئی اور نصف درجن سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ حالانکہ اس مڈبھیڑ میں کوبرا کے جوانوں نے نصف درجن سے زیادہ نکسلیوں کو بھی مار گرایا، جن میں تین لاشیں پولیس کو ہاتھ لگیں۔ مارے گئے نکسلیوں میں پرنس نام کا ایک انعامی نکسلی بھی شامل تھا،لیکن سوال ہے کہ جب جب نکسلیوں سے مڈبھیڑ ہوتا ہے تو اس میں نیم فوجی دستوں کے جوان ہی کیوں مارے جاتے ہیں؟جبکہ گیا ضلع ے نکسل متاثر ہ علاقہ شیر گھاٹی سب ڈویژن کے مذکورہ جنگلی علاقوں میں بھی کئی پولیس تھانے بنائے گئے ہیں۔ تھانہ میں تمام پنچایت اور گائوں کی سر گرمیوں کی جانکاری دینے کے لئے چوکیدار مقرر ہیں، جو سرکاری سروینٹ ہیں اور اچھی خاصی تنخواہ بھی انہیں دی جاتی ہے، چوکیدار کے علاوہ پنچایت ،گائوں کی سطح پر اسپیشل پولیس آفیسر کو بھی اعزازیہ دے کر گائوں کی سرگرمیوں کی جانکاری پولیس تھانے کے ذریعہ لی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کئی ذرائع بھی پولیس عہدیداروں کے ذریعہ رکھے جاتے ہیںجن کا کام وقت بہ وقت دہشت گرد، نکسلی ،جرائم میں ملوث لوگوں کے بارے میں جانکاری دینا ہے۔ اس کے عوض ویسے ذرائع کو پولیس عہدیداروں کے ذریعہ اسپیشل فنڈ سے رقم دی جاتی ہے۔ اتنے جاسوس رہتے ہوئے بھی تقریباً تین کلو میٹر کے علاقے میں لینڈ مائنس بچھائے جانے کی اطلاع پولیس کو نہیں ملنا، ایک حیرت انگیز موضوع ہے۔ اس لینڈ مائنس کو بچھانے میں بھی کئی گھنٹے کا وقت لگا ہوگا، اس دوران آس پاس کے گائوں میں کسی کو پتہ نہیں چلنا تمام خفیہ سسٹم کو شکوک کے گھیرے میں ڈالتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جنگلی علاقے میں موجود پولیس تھانے میں مقر ر پولیس اہلکار آرام سے اپنی ڈیوٹی نبھاتے نظر آتے ہیں، نکسلیوںکا حملہ ان پر نہیں ہوتا ہے، جبکہ وہ آسان ٹارگٹ ہیں۔ ایسے کئی پولیس تھانے پر نکسلیوں کے حملے ہوئے تو اس کے کچھ وجہ بھی ہوتے رہے ہیں،لیکن نیم فوجی دستوں کے جوان جب نکسلیوں پر کارروائی کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو بہت کامیابی نہیں مل پاتی ہے۔ پکی جانکاری کے باوجود نکسلی نیم فوجی دستوں کی کارروائی سے بچ نکلتے ہیں۔ صاف ہے کہ نکسل متاثرہ علاقے میں قائم تھانے کی پولیس اور نکسلیوں کے صفایا کرنے کے لئے تعینات نیم فوجی دستوں میں کورڈینیشن کا فقدان ہے،یہ بات ہمیشہ سے اٹھتی آئی ہے۔ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق گیا اورنگ آباد کی ضلع کی سرحد پر ڈومری نالا جنگل میں نکسلی دستے کے ہونے کی اطلاع اورنگ آباد ایس پی کی سیکورٹی میں لگے ایک جوان کو تھی۔ اس نے ایس پی کو پکی جانکاری دی۔ بتایا جاتاہے کہ اس جوان نے دوسری طرف نکسلی کمانڈر کو بھی یہ اطلاع دے دی کہ کوبرا کے جوان جنگل میں گھس گئے ہیں۔ بس اسی اطلاع پر نکسلیوں نے اپنی پالیسی بدلی اور فائرنگ کرتے ہوئے پیچھے کی طرف بھاگتے ہوئے بچھائے گئے لینڈ مائنس کا بسفورٹ کردیا جس میں کوبرا کے دس جوانوں کی موت ہو گئی۔ وہیں دوسری طرف زخمی جوانوں کے علاج میں برتی گئی لاپرواہی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ اگر وقت سے ہیلی کاپٹر جائے واردات پر پہنچ جاتا تو کم سے کم پانچ جوانوں کو موت سے بچایا جاسکتا تھا۔ لاپرواہی کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا تھا کہ جائے واردات پر شہید جوانوں کی لاش 25گھنٹے تک پڑی رہی۔ بہار پولیس کے آئی جی آپریشن کندن کرشنن جب ہیلی کاپٹر لے کر شہید جوانوں کی لاش لانے پہنچے، تو کوبرا بٹالین کے ڈپٹی کمانڈر چندن کمار بھڑک اٹھے، انہوں نے کہا کہ جب جوانوں کی جان بچانے کے لئے ہیلی کاپٹر کی ضرورت تھی، تب تو نہیں آیا۔ اب کیا ضرورت ہے ہیلی کاپٹر کی۔ ان سب سوالوں نے بہار پولیس کے طریقہ کار ، تھانے میں موجود پولیس اہلکاوں، چوکیداروں کو شک کے گھیرے میں کھڑا کردیا ہے۔ کوبرا کے ایک ڈپٹی کمانڈر نے نکسل متاثرہ علاقوں میں آپریشن گرین ہنٹ اور یونیفائڈ کمانڈ پر بھی سوال اٹھائے۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ بہار میں آپریشن گرین ہنٹ نہیں چلنے کی وجہ بھی دوسری ریاستوں سے کھدیرے ہوئے نکسلی بہار میں پناہ لے رہے ہیں۔ ایک پولیس عہدیدار نے صاف طور پر کہا کہ بہار میں نکسلیوں کے خلاف چلنے والے آپریشن میں لگی ضلع پولیس ، ایس ٹی ایف، بی ایم پی، سیف، ایس ایس بی، سی آر پی اور کوبرا کے بیچ بہتر کورڈینیشن کے لئے کوئی نونیفائڈ کمان نہیں بنائی گئی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس اہم مشن کو انجام تک نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔ جبکہ حال کے برسوں میں ہی جائے واردات کے آس پاس چھکر بندھا، بھدور، میگرا، لوٹوآ اور سہیل میں نیا تھانہ کھولا گیا ہے۔ باوجود اس کے اس علاقے میں نکسلیوں کے خلاف کارروائی بھی سطحی ثابت ہوتی ہے۔ نچلی سطح کے ایک دو نکسلیوں کو پکڑ کر پولیس کے لوگ اپنی واہ واہی کرانے میں لگے رہتے ہیں۔ گرفتاری کے بعد بھی لیوی وصولنے والے نکسلیوں کی جائیداد ضبط کرنے کی اس سال ایک بھی تجویز تیار نہیں کی جاسکی ہے۔ نکسلی حادثات کے حل کرنے میں بھی اکثر ناکامی ہی سامنے آئی ہے۔ سیاسی وجہوں سے بھی نکسلی حادثات میں مین اسٹریم کے لوگوں اور سیاسی کارکنوں کو پھنسانے ،چھڑانے کا کھیل چلتا رہا ہے۔ گزشتہ تقریباًایک دہائی کے دوران مگدھ کے نکسل متاثرہ ضلعوں میں نکسلیوں پر کارروائی کے نام پر پانی کی طرح پیسے بہائے گئے،لیکن نکسل خاتمے کی کارروائی صرف چھاپے ماری اور گرفتاری تک ہی محدود رہی ہے۔ جیل بھیجے گئے نکسلیوں کے خلاف پختہ اور ٹھوس ثبوت جمع کرنے اور انہیں سزا دلانے اور لیوی کے نام پر جمع کی گئی جائیداد کو ضبط کرنے کے معاملے میں پولیس کے ہاتھ اکثر خالی ہی رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نکسلیوں کی طرف سے لیوی کی شکل میں وصولی جانے والی رقم جمع کرنے پر روک نہیں لگائی جاسکی ہے۔ کنسٹرکشن اسکیم کی رقم کا ایک حصہ نکسلیوں کے ہتھیار خرید پر خرچ ہو رہا ہے۔ پتھر کھدائی ،جنگل کٹائی، ترقی پر خرچ ہونے والی رقم کا ایک حصہ، افیم، گانجے کی کھیتی، ایٹ بھٹہ اور دوسرے کاروبار سے بھی نکسلیوں کو مسلسل لیوی مل رہی ہے۔ نکسلیوں کے ہمدرد اور انہیں مدد پہنچانے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی بات تو دور تھانوں میں ایسی لسٹ بھی تیار نہیں ہو سکی ہے۔ نکسلی حادثوں کا سراغ لگانا بھی شروع سے پر اسرار رہاہے۔ کئی اہم نکسلی حادثات کے ایک دہائی گزر جانے کے بعد بھی اس کے گنہگاروں سے عام آدمی واقف نہیں ہو سکے ہیں۔
سوال آی اے پی اسکیم کے پیسے پر بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ ملک میں نکسلیوں کے خطرے بڑھنے پر 2009 میں مرکزی سرکار نے نکسل متاثرہ علاقوں کے لئے انٹی گریٹیڈ ایکسل پلان شروع کیا تھا۔ مگدھ کے نکسل متاثرہ علاقوں میں اس کا اثر کہیں نہیں دکھائی دے رہاہے۔ اس اسکیم کے تحت کرناٹک، چھتیس گڑھ، اڑیسہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، بہار، اتر پردیش اور مغربی بنگال کو شامل کیا گیا تھا۔ 2010 میں کرناٹک کو اس اسکیم سے الگ کر دیا گیا۔ 2011 میں 9 ریاستوں کے 83ضلعوں کو اس اسکیم میں شامل کیا گیا۔ گیا شروع سے ہی اس اسکیم میں شامل ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد نکسل متاثرہ دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بڑھانے والے پروجیکٹ کو لاگو کرنا اور پولیس تنظیم کو درست کرنا تھا۔ لیکن 7سال گزر جانے کے بعد بھی گیا ضلع کے نکسل متاثرہ علاقوں میں آئی اے پی اسکیم کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا ہے۔
نکسلی کے ساتھ مڈبھیڑ میں کوبرا کے 10 جوانوں کی ہوئی موت نے بہار پولیس کے ساتھ ساتھ بہار کی حکومت اور انتظامیہ کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھنے لگا ہے۔ سیاسی وجہوں سے نکسلیوں کو بالواسطہ طور سے مدد کرنے والے سیاست داں بھی اس حادثہ کے بعد سے خاموشی لگائے ہوئے ہیں۔ کسی پارٹی کے بڑے لیڈروں نے نکسلیوں کے خلاف کارگر کارروائی کی بات کھل کر اور تیز آواز میں کہنے کی ہمت ابھی تک نہیں کی۔ ایسے نیم فوجی دستوں کے جوانوں میں بہار پولیس اور انتظامیہ کے خلاف ناراضگی ہے۔ کیونکہ مقامی سطح پر پوری جانکاری رہنے کے باوجود تھانے کی پولیس نیم فوجی دستوں کو صحیح صحیح جانکاری نہیں دے پارہے ہیںجس کا خمیازہ نیم فوجی دستوں کے جوانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *