مگدھ میں بیماری کھا رہی ہے نونہالوں کو

سنیل سوربھ
p-10بہارکے مگدھ ڈویژن میںبرسات کاموسم جاپانی انسیفلائٹس اورایکیوٹ سنڈروم انسیفلائٹس بیماری یہاںکے نونہالوںکے لییقہر بن جاتاہے۔ ہر سال یہ بیماری درجنوں بچوں کی موت کا سبب بنتی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میںمگدھ کے پانچ ضلعوںمیںپانچ سو سے زیادہ بچوںکی موت جے ای اور اے ای ایس سے ہوچکی ہے۔ یہ اعدادو شمار بیمار ہونے پرسرکاری اسپتال پہنچے اور موت کی آغوش میںسماگئے بچوںکے ہیں۔ جو بچے بیمار ہونے پر اسپتال نہیں پہنچ پائے اور ان کی موت واقع ہوگئی، ان کے اعدادوشماور اس میںشامل نہیںہیں۔ گزشتہ دو مہینوں سے مگدھ کے دور دراز کے دیہی علاقوں سے نامعلوم بیماری میںمبتلا بچے، جب گیا میں واقع انوگرہ نارائن مگدھ میڈیکل اسپتال آنے لگے، تو ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہیں آیاکہ ان بچوں کو کون سی بیماری ہے؟ڈاکٹروں نے شروع میں جاپانی انسیفلائٹس سمجھ کر علاج شروع کیا، لیکن جانچ میں کچھ پتہ نہیںچل پارہا تھا کہ کون سی بیماری ہے؟ تب تک آٹھ بچوںکی موت واقع ہو گئی۔ میڈیکل کالج میں نامعلوم بیماری میںمبتلا بچوںکی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے گیا ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت نے اس بات کی جانکاری ریاستی سرکارکے محکمہ صحت کے سینئر افسروں کو دی۔ تب جاکر مرکزی اور ریاستی سرکار کی ٹیم نے گیا آکر مگدھ میڈیکل کالج اسپتال میں بھرتی بچوںکو دیکھا۔ پونے، دہلی اور پٹنہ سے آئی ماہرین کی ٹیم نے جب نامعلوم بیماری میںمبتلا بچوںکی جانچ کی، تو ایک نئی بیماری ہرپس سمپلیکس کا پتہ چلا۔ ماہرین کے مطابق ہرپس سمپلیکس دوسرے وائرس کی طرح ہی دماغ پر تیزی سے اثر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جسم کے کچھ حصوںکو معذور بھی بنادیتا ہے۔ جن بچوںکے جسم میںقوت مدافعت کم ہوتی ہے، ان کے لیے یہ بیماری بہت ہی خطرناک ہے۔ حالانکہ ایک ہفتہ کے اندر جن آٹھ بچوں کی موت ہوچکی ہے، ان بچوںکی موت کا سببپتہ نہیںچل پایا ہے؟اس نئی بیماری کا پتہ چلتے ہی مگدھ کے پانچ ضلعوں میں، جہاں اس بیماری میںمبتلا بچے علاج کے لیے گیا آچکے ہیں، وہیں دیہی باشندوں میں اس بیماری کی دہشت ہے۔ کیونکہ نامعلوم بیماری کا وائرس تو سرگرم ہے ہی، برسات کے شروع ہونے سے جاپانی انسیفلائٹس کا بھی خطرہ یہاں منڈلانے لگا ہے۔ گزشتہ سال مگدھ میڈیکل اسپتال میں جے ای اور اے ای ایس کے کل 124 معاملے سامنے آئے تھے، جن میں 25 بچوں کی موت ہوچکی تھی۔ہر سال مانسون شروع ہونے کے بعد ہی گیا ضلع کے فتح پور،ٹنکپّا، اتری،موہڑا، وزیر گنج، ڈومر یا ، امام گنج، موہن پور، بارہ چٹی،نوادہ ضلع کے کوواکول، پکریبراواں، اکبر پور،گووند پور، روہ، سردلا، رجولی ،ارول کے کرتھا، اورنگ آباد کے مدن پور، رفیع گنج، دیو،کٹمبا وغیرہ ڈویژنوں کے دیہی علاقوں کے غریب کنبوں کے لوگ جاپانی انسیفلائٹس بیماری کے امکان سے دہشت میں مبتلا رہتے ہیں۔ مگدھ ڈویژن میں گزشتہ نو سالوں میں ہی پانچ سو سے زیادہ بچوں کی موت اس بیماری سے ہوچکی ہے،جن میںصرف گیا ضلع کے دیہی علاقوں میںجاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم سے 310 بچوں کی موت ہوچکی ہے۔ ا س بیماری سے گیا ضلع میںسب سے زیادہ موت کی شرح 2012 میں رہی، جب مگدھ میڈیکل کالج اسپتال میں اس بیماری میںمبتلا 50 بچوںکی موت ہوگئی تھی۔ محکمہ صحت سے ملے اعدادوشمار کے مطابق2007 سے 2015 تک پوری ریاست میں جے ای اور اے ای ایس کے 4811 معاملے سامنے آئے،جن میں 1002 بچوں کی موت واقع ہوگئی۔ اس بیماری کا غضب دیہی علاقوں میںزیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان دونوں بیماریوںکے وائرس زیادہ تر مچھر، جانور،پرندوں اور دھان کے کھیتوںمیںپائے جاتے ہیں۔ معلومات کی کمی کے سبب اور جھولا چھاپ ڈاکٹروں کے زیر علاج رہنے کے سبب اس بیماری کے شکار بچوںکی موت زیادہ ہوتی ہے۔ گیا کے سول سرجن ڈاکٹر کرشن موہن اور مگدھ میڈیکل اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرسدھیر کمار سنہا نے کہا ہے کہ اگر مذکورہ دونوںبیماریوںکی علامت بچوںمیںنظر آئے، تو فوری طور پر میڈیکل کالج میںبیمار بچوں کو بھرتی کریں، جس سے کہ بروقت بچوںکی جان بچائی جاسکے۔ فی الحال میڈیکل کالج میں دو درجن سے زیادہ بچوںکا علاج چل رہا ہے۔ مرکز اور ریاست کی ٹیم میں شامل ڈاکٹر نگم پرکاش،ڈاکٹر ایس کے جیسوال، ڈاکٹر الکا، ڈبلیو ایچ او کے بہار چیف ڈاکٹر وشیش،بہار کے اسٹیٹ امونائزیشن آفیسر ڈاکٹر این کے سنہا کے علاوہ راجند رمیموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے کئی ڈاکٹروں نے میڈیکل کالج میںایسی بیمار بچوںکا علاج کررہے ڈاکٹروںکو ہدایت دی ہے،تاکہ زیادہ تر بچوںکی جان علاج سے بچائی جاسکے۔ گزشتہ ایک دہائی سے جے ای اور اے ای ایس زمرے کی بیماریوں نے ریاست کے سیکڑوں بچوں کی جان لیلی ہے۔ماہرین کا مانناہے کہ نئی بیماری کے وائرس کا علاج جلد سے جلد نہیں کھوجا گیا،تو یہ بیماری پوری ریاست کے لیے سب سے خطرناک ثابت ہوگی۔ماہرین نے کہا ہے کہ نئی بیماری ہرپس سمپلیکس کے شکار بچوںکوبھی اپنے گھروںکو پوری طرح صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ ہی، مچھر سے بچاؤ کے طریقے اختیارکرنے ہوں گے۔ ماہرین کا کہناہے کہ جو بچے اس بیماری کا شکار ہورہے ہیں، ان کا تعلق پسماندہ دیہی علاقہ سے ہے۔ اس لیے دیہی علاقوںکے لوگوں میںاس جان لیوا بیماری سے بچاؤ کے لیے بیداری مہم چلانا ضروری ہے، تا کہ مانسون آنے سے پہلے ہی گاؤںوالے محتاط ہوجائیں۔ 4 جولائی 2016 کو ہرپس سمپلیکس، جے ای، اے ای ایس بیماری کی جانچ کے لیے مرکز سے ایک ٹیم مگدھ میڈیکل کالج اسپتال پہنچی۔ بچوں کی بیماری کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر بابا صاحب ٹانگلے، ڈاکٹر ابھجیت شاہ نے، پچھلے ایک ہفتے میںجن آٹھ بچوںکی موت ہوچکی ہے، ان کی رپورٹ کو دیکھا۔ اس ٹیم کے ماہرین نے جن دیہی علاقوں سے بیمار بچے آئے تھے،ان گاؤوں کا بھی معائنہ کیا۔فی الحال میڈیکل کالج کے علاوہ مگدھ کے دیگر ضلعوں کے سرکاری اسپتالوں میں بھی دو درجن سے زیادہ مشتبہ بیماری میں مبتلا بچوںکا علاج چل رہا ہے۔ جن میں کئی کی حالت سنگین بتائی جارہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *