مدرسوں میں علماء اور نئی نسل جذبۂ آزادی سے ہنوزسرشار

p-11bیہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ تحریک آزادی میں مدارس اور ان کے علماء کا 1857 میں’’غدر‘‘ ، جسے تحریک جنگ آزادی اوّل یا دوئم بھی کہتے ہیں ، کے بعد سے ہی بنیادی رول رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ’’غدر‘‘ کے محض 9 سال کے بعد 1866 میں دور جدیدکا ہندوستا ن کا پہلا مدرسہ دارالعلوم دیوبند قائم کیا گیاتھا۔ جس کی غرض سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھی کہ تحریک آزادی کی مشعل یہاں سے اٹھے۔ عملاً ہوا بھی یہی۔ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے بعد پورے ملک کے مختلف گوشوںمیںمدارس کا جال بچھ گیا اور ہر جگہ سے تحریک آزادی کی آواز اٹھنے لگی۔ اس کاز میں لاکھوں علمائے کرام نے جام شہادت نوش فرمایا۔ 1857 کے واقعہ کے بعد مدارس میںجو جذبہ آزادی ابھراتھا، وہ 90 برس کے بعد بھی ہنوز اسی طرح زندہ و تابندہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہرسال 15 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر ملک کے تمام مدارس میں بڑی ہی شان وشوکت سے ترنگے جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، کھیل کود و دیگر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ یوم آزادی ایک قومی تیوہار کی شکل میں مدارس میں اختیار کرچکا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیںکہ اس سال 15 اگست کو یوم آزادی ملک کے مختلف مقامات پر مدارس میں کس طرح منایاگیا۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی دارالعلوم دیوبند میں جشن یوم آزادی انتہائی تزک و احتشام سے منایا گیا۔ اس موقع پر مادر علمی دارالعلو م کی مرکزی انجمن کا ترجمان دیواری پرچہ ’’البلاغ‘‘ بھی غلامی سے آزادی تک کی پوری تاریخ خود میں سمیٹے ہوئے ترنگے جھنڈے میں لپٹا ہوا نظرآرہا تھا۔ دیوبند کے دیگر مدارس ،دارالعلوم وقف دیوبند،جامعۃ الامام محمدانور، دارالعلوم زکریا، مدرسہ اصغریہ، دارالعلوم اشرفیہ، دارالعلوم فاروقیہ ،جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی، مدرسہ تدریس القرآن اور دیگر درس گاہوں میں بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ جشن یوم آزادی منایا گیا۔ دیوبندکے علاوہ مظاہرالعلوم سہارنپور، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، مدرسہ اشرف العلوم گنگوہ، مدرسہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ وغیرہ میںبھی جشن یوم آزادی بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔
بہار کی معروف درس گاہ جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سوپول میںمنعقدہ جشن آزادی کی تقریب میں جامعہ کے بانی ومہتمم حضرت مولانا مفتی محفوظ الرحمان عثمانی کا ایک تحریری پیغام پڑھ کر سنایا گیا، جس میں انھوںنے برادران وطن کو 70 ویں یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے مجاہدین آزادی کی خدمات کو یاد کیا اور انھیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہندوستان کی آزادی علمائے کرام اور مدارس اسلامیہ کی مرہون منت ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نے انگریزوں کے خلاف ایک فوج تیار کرکے شاملی کے میدان میںانگریزوں سے مقابلہ کیا تھا۔ شکست کھانے کے باوجود انھوںنے حوصلہ نہیںہارا، بلکہ مقابلہ جاری رکھا۔ ان کی تحریک سے حوصلہ پاکر علمائے کرام نے ایک دن انگریزوںکو یہاںسے جانے پر مجبور کردیا۔ اپنے پیغام میں انھوںنے مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لعل نہرو، مولانا ابوالکلا م آزاد، مولانا قاسم نانوتوی، شیخ الہند مولانا محمود حسن اور مولانا حسین احمدمدنی کا بھی تذکرہ کیا۔
دہلی کے مدارس اسلامیہ میںبھی 70 واں جشن آزادی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ مدرسہ اشاعت القرآن برہم پوری، جامعہ فیضان نبوت جامعہ نگر، مدرسہ اشاعت القرآن ابوالفضل انکلیو، مدرسہ تجوید القرآن بٹلہ ہاؤس، معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم جیت پور، دارالعلوم رحمانیہ سنگم وہار میں جشن یوم آزادی روایتی انداز میں جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔بارہ بنکی میںشہری اور دیہی علاقوں کی مختلف اسلامی درس گاہوں میںبھی یوم آزادی ایک قومی تیوہار کے طور پر منایا گیا اور اس موقع پر قومی ترانہ کے ساتھ ساتھ مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی تہذیبی و ثقافتی پروگراموں کا بھی انعقاد کیا گیا۔
ممبئی کے شہر و مضافات کے دینی مدارس میں یوم آزادی کے موقع پر پر چم کشائی کی گئی اور طلبہ و مدرسین نے مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ممبئی میں واقع پھول گلی کے دارالعلوم فیضان مفتی اعظم، دارالعلوم حنفیہ قلابہ ، وغیرہ میں پورے جوش کے ساتھ آزادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
میرٹھ ضلع کے تمام مدارس میں جشن یوم آزادی جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا ۔ اس موقع پر قومی ترانے اور حب الوطنی کی تقریروں سے ماحول گونجتا رہا ۔ کھتولی میںجامعہ عربیہ فیض القرآن، مدرسہ انعام العلوم، جامعہ رحمانیہ، دارالعلوم عزیزیہ، جامعہ اسلام ولی اللہ پھلت وغیر ہ میں ترنگا لہراکر جشن یوم آزادی کی تقاریب منعقدہوئیں۔
الغرض یوم آزادی ملک کے کونے کونے میں واقع دینی مدارس میں ایک قومی تیوہار کے طور پر بڑے جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر مدارس کے مہتمم حضرات نے ترنگے کی پرچم کشائی کی، قومی ترانہ گایا گیا، اساتذہ اور مہتمم حضرات نے تقاریر کیں اور تہذیبی و ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا، مٹھائیںتقسیم کی گئیں۔ اس دوران مدارس کے طلبہ میںجو جوش وخروش دیکھا گیا ، اس سے لگتا ہے کہ نئی نسل کے دل بھی یوم آزادی کے جذبے سے سرشار ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *