لوکیش راہل میں ٹیسٹ کرکٹر بننے کا دم

سید محمد عباس
انڈین کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر ہے۔ٹیم انڈیا کی نوجوان ٹیم ویسٹ انڈیز جیسی کمزور ٹیم کے سامنے رنوں کا پہاڑ کھڑا کر رہی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں وراٹ اور اشون کا جلوہ دیکھنے کو ملا تو دوسرے ٹیسٹ میں لوکیش راہل کا بلہ بھی خوب چلا۔ پہلی اننگز میں سنچری لگا کر راہل نے ٹیم انڈیا میں اپنی جگہ کو اور مضبوطی دی ہے،حال کے دنوں میں ان کا فارم غضب کا رہاہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں راہل کی ابتدا امید کے مطابق نہیں ہوئی تھی اور وہ کنگاروئوں کے خلاف سپر فلاپ رہے تھے۔ آسٹریلیا کے خلاف اس مقابلے میں راہل نے پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں ایک رن بنایا تھا۔ ان کی ا س کارکردگی کو لے کر کئی سوال کھڑے کئے گئے تھے۔ اتنا ہی نہیں راہل کے آسٹریلیا کے خلاف مقابلے میںشاٹ سلیکشن کو لے کر بھی انگلی اٹھی تھی، لیکن اس کے بعد لوکیش راہل ٹیسٹ کرکٹ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے اب تک تین سنچری لگا چکے ہیں۔ ان کی کارکردگی میں لگاتار سدھار ہورہا ہے ۔ یہ انڈین کرکٹ کے لئے بے حد اچھی خبر ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ان کی جگہ بنتی نہیں دکھائی دے رہی تھی، لیکن مرلی وجے کے زخمی ہونے کے بعد ان کو ٹیم میں جگہ دی گئی۔انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاندار سنچری لگاکر اپنے انتخاب کو صحیح بتایا ہے۔ راہل نے جب چھکے مار کر سنچری پوری کی تو انہوں نے ویرو کی یاد دلا دی۔ انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق سلامی بلے باز وریندر سہواگ بھی اکثر چھکا لگا کر سنچری پورا کرتے تھے۔ لوکیش راہل نے کیریئر میں اب تک تین سنچریلگائی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ تینوں سنچری بیرون ملک کی زمین پر لگا ئی ہیں۔ کنگسٹن کے وکٹ میں تھوڑی اچھال تھی، ایسے میں راہل کے بلے سے نکلی سنچری کافی اہم مانی جائے گی۔ لوکیش راہل کو بطور ٹیسٹ بلے باز کی شکل میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ لیکن حال کے دنوں میں وہ کرکٹ کے فارمیٹ میں اپنے بلے کا دم خم دکھا رہے ہیں۔ حال میں زمبابوے دورے کی ٹیم میں ان کو شامل کیا گیا تھا۔ یہاں انہوں نے ون ڈے اور ٹی 20 میں اچھی کارکردگی دکھائی ۔ اس کارکردگی کے بل پر انہیں ویسٹ انڈیز کے دورے پر جانے کا موقع ملا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی بلے بازی میں راہل دراوڑ کااثر دکھائی دیتا ہے لیکن ابھی اس کے بارے میں کہنا جلدبازی ہوگی۔
لوکیش راہل کے کیریئر پر نظر دوڑائی جائے تو اتنا صاف ہے کہ آنے والے وقت میں وہ ٹیم انڈیا کی بلے بازی کی وراثت کو سنبھال سکتے ہیں۔ لوکیش کو گھریلو کرکٹ میں اپنی بلے بازی کی دھاک جمانے کے بعد نیشنل ٹیم میں کھیلنے کا موقع ملا۔ دراصل لوکیش راہل کے والد کا خواب ہے کہ ان کا بیٹا سنیل گواسکر جیسا بڑا بلے باز بنے۔ والد کے خوابوں کو اڑان دینے کے لئے راہل نے بے حد کم عمر میں بلہ تھام لیا تھا۔ راہل کے کرکٹ کے پہلے اسکول کے گرو تھے سموئیل جے راج۔ سموئیل جے راج نے لوکیش کے ٹیلنٹ کو پہچاننا اور تراشنا شروع کردیا تھا۔ ان کی کرکٹ میں اتنی لگن تھی کہ وہ ابتدائی دور میں منگلور ٹیم کا حصہ بن گئے۔ راہل دراوڑ بھی ان کی بلے بازی سے کافی متاثر ہوئے۔لوکیش راہل نے قومی سطح کے کرکٹ کے مقابلہ میں شاندار کارکردگی دکھاکر انڈر19ٹیم کا ٹکٹ حاصل کر لیا ۔رن جی کے رن میں بھی ان کی ابتدا زبردست رہی۔ لوکیش نے2010-11کے سیزن میں 1033رن بناکر انڈین کرکٹ میں دستک دینا شروع کردی۔ 2014میں پہلی بار ٹیسٹ کھیلنے کاموقع ملا، لیکن یہ رن بنانے میں پوری طرح سے ناکام رہے ،لیکن اس کے بعد لوکیش نے ہار نہیں مانی اور دوسرے ٹیسٹ میں کنگاروئوں کو اپنے بلے سے خوب جواب دیا۔ انہوں نے سڈنی کی تیز پچ پر آسٹریلیائی گیند بازوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے سنچری لگائی ۔ یہ وہی دور تھا جب ٹیم انڈیا بدلائو کے دور سے گزر رہی تھی۔ اتنا ہی نہیں اس کے بعد لوکیش راہل کی مانگ آئی پی ایل میں بڑھ گئی تھی۔ حالانکہ 2013سے آئی پی ایل میچ میں دم دکھانے والے لوکیش راہل نے 2016کے سیزن میں 44.11کے اوسط سے397 رن بناکر ٹی 20 میں اپنا جلوہ دکھایا ۔لوکیش راہل ضرورت پڑنے پر وکٹ کیپر کارول بھی ادا کر سکتے ہیں۔ اس وقت انڈین کرکٹ میں نوجوان کرکٹروں کو بھی خوب مواقع مل رہے ہیں۔ سچن، سوربھ اور راہل دراوڑ کے جانے کے بعد سے ٹیم انڈیا کی بلے بازی حال کے دنوں میں کچھ موقعوں پر چل نہیں سکی ہے، لیکن وراٹ اور رہانے کے آنے کے بعد ٹیم کی بلے بازی مضبوط ہوئی ہے۔ایسے میں لوکیش راہل جیسے بلے بازوں کو ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرنے کا سنہرا موقع ملا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ابھی ٹیم انڈیا کو کچھ اور ٹیسٹ کھیلنا ہے ۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے وقت میں بلے باز لوکیش راہل کس طرح کی کارکردگی دکھاتے ہیں۔
ناکامیوں کے بیچ تمغہ کی امید
ریو اولمپک میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی شروعات امید کے مطابق نہیں رہی۔ کئی بڑے نام دنیا کے سب سے بڑے کھیل میلے میں گم ہوتے ہوئے نظر آئے۔ حالانکہ کچھ کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کرکے ہندوستانی جھنڈا بلند کیا ہے۔ اسٹار کھلاڑیوں میں پیس سے لے کر نشانے باز ابھینے نے ہندوستانی کھیل کے شائقین کو مایوس کیا ہے۔ پیس کیریئر کے آخر ی دور میں ہے، ایسے میں ریو اولمپک میں تمغہ جیتنے کا خواب اب ختم ہو گیا ہے کیونکہ پیس -بوپنا کی جوڑی پہلے دور میں ہار کر اولمپک سے باہر ہو گئیں۔ جبکہ ثانیہ- پرارتھنا کی جوڑی بھی کمال نہیں کرسکی۔ ابھینے بندرا کے فائنل میں انٹری کرنے کے بعد ا ن کا نشانہ بھی چوک گیااور تمغہ کی امید بھی دم توڑ گئی۔ اتنا ہی نہیں گگن کا نشانہ تو فائنل تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ حالانکہ گگن کو ابھی دیگر ایونٹ میں حصہ لینا ہے۔ویسے سابق تمغہ کا دعویٰ کرنے والے جیتو رائے کا نشانہ بھی ٹھکانے پر نہیں لگا۔ ہاکی میں مرد اور خاتون ٹیموں کی کارکردگی ابھی ملی جلی رہی ہے۔ مرد ہاکی میں انڈین ٹیم نے آغاز میچ میں شاندار کارکردگی کی، لیکن جرمنی کے خلاف دوسرے میچ میں آخری وقت میں شکست کھا گئی ۔ دراصل ہندوستانی ٹیم کی پرانی کمزوری ایک بار پھر سامنے آئی۔ آخری لمحوںمیں کوتاہی کرنا ایک بار پھر ٹیم پر بھاری پڑا۔ لیڈی ہاکی ٹیم کی کہانی بھی یہی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیبل ٹینس میں بھی ہندوستان کو بری خبر سننے کو ملی۔ تجربہ کار انچت شرت کمل ریو میں چمک نہیں سکے۔ موما داس، منیکا بترا اور سوبھے جیت گھوش کی کارکردگی بھی بے حد خراب رہی ۔ میر بائی ویٹ لفٹنگ میں ہندوستان کی امیدوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکی۔
دوسری طرف دیپا کرماکر نے تاریخ رچتے ہوئے جمناسٹک مقابلے کے فائنل میں اپنی جگہ پکی کرکے ہندوستان کا وقار ریو اولمپک میں بڑھا دیا ہے۔ حال کے دنوں میں دیپا نے کئی موقعوں پر ہندوستان کا ڈنکا بجایا ہے۔ دیپا بے حد غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اولمپک میں ہندوستان کی بیٹی دیپا جب پہلی بار جمناسٹک کی دنیا میں قدم رکھا تھا، تب اس کے پیروں میں جوتے تک نہیں تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر آپ میں کچھ کرنے کا حوصلہ ہو تو راستے خود ببخود کھلنے لگتے ہیں۔ دیپا کے ساتھ ایسا ہی ہے۔ دراصل دیپا ہندوستان کی طرف سے اولمپک میں جانے والی پہلی خاتون جمناسٹ ہیں۔ اس سے پہلے ہندوستان کی طرف سے 11 مرد جمناسٹ کھلاڑی اولمپک میں حصہ لے چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 52سال بعد دیپا کی شکل میں کوئی ہندوستانی کھلاڑی جمناسٹک میں دم خم دکھا رہا ہے۔ کل ملا کر کئی اور کھیل ہیں جن میں ہندوستان کو تمغہ مل سکتے ہیں ۔ان میں ابھی بیڈ منٹن اور کشتی سب سے اہم مانی جارہی ہے۔ ہندوستان کی کارکردگی کے بارے میں ابھی اندازہ لگانا جلد بازی ہوگی۔ کچھ بڑے کھلاڑیوں کے ہار جانے سے ہندوستان کی دعویداری تھوڑی کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے لیکن یہ اولمپک کا ابتدائی مرحلہ ہے۔
دوسری طرف کھلاڑی لگاتار ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ ریو اولمپک کے ابتدائی حالات پر غور کیا جائے تو امریکہ اور چین کے درمیان سخت ٹکر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تیراکی کے بے تاج بادشاہ مائیکل فلپس کا جلوہ خوب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ انہوں نے سنیاس کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے اعلیٰ تمغہ جیت کر نئی تاریخ بنائی ہے۔ دراصل تیراکی کی دنیا میں مائیکل فلپس کی بادشاہت چلتی ہے۔ اس کے ساتھ 31 سال کے فلپس 19تمغات کے ساتھ کل 23تمغے حاصل کر چکے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *