کچھ صحافی ملک مخالف طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں

کچھ اخبار اور کچھ لوگ ملک کے خلاف سازش کرنے والی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں اور ان کی مدد بھی کررہے ہیں۔ انوسٹی گیٹیو جرنلزم کا جنہیں ’’اے ‘‘ بھی نہیں آتا، وہ ملک مخالف طاقتوں یا ہتھیاروں کے دلالوں سے اطلاعات لے کر اپنے کو کھوجی صحافی کہلا رہے ہیں۔

ایک چھوٹی سی مثال سامنے ہے۔ جب جنرل وی کے سنگھ ملک کے فوجی سربراہ تھے، تو انہوں نے ایک خفیہ یونٹ بنائی تھی، جس کا کام تھا فوج کی پہلی لائن میں لڑ رہے جوانوں کے اوپر ہونے والے کسی بھی طرح کے حملے کی پیشگی جانکاری حاصل کرنا یا فوج کو دینا۔ اس یونٹ میں فوج کے چنے ہوئے کمانڈو اور فوج کے چنے ہوئے سمجھدار لوگ تھے۔ بہت چھوٹی یونٹ تھی،لیکن وہ ممکنہ طور پر ہر اس جگہ جاتی تھی، جہاں فوج پر حملہ ہونے کا اندیشہ یا صورت بن رہی ہو۔ اس نے کتنا کام کیا، کتنا نہیں،یہ ایک الگ موضوع ہے،لیکن فوج پر ہونے والے حملوں کو روکنے میں اس نے بہتر نتیجہ دیا؟
جب جنرل وی کے سنگھ فوجی سربراہ کے عہدہ سے ہٹ گئے، تب وہ طاقتیں جو ان کے فوجی سربراہ رہتے ہوئے خاموش تھیں یا دبی ہوئی تھیں، وہ اچانک ابھر کر اوپر آگئیں اور انہوں نے سب سے بڑا کام یہ کیا کہ ٹیکنیکل یونٹ کی جانکاری سب سے پہلے اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ ایک اخبار نے سارا انوسٹی گیٹیو جرنلزم اس ٹیکنیکل سروسز یونٹ میں کون کون لوگ شامل تھے، اسے حاصل کرنے میں لگا دی۔ اس کام میں اس کا ساتھ ان سارے لوگوں نے دیا جو پاکستان کی آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرتے تھے۔ اس یونٹ کا سب سے زیادہ خوف پاکستان کو تھا۔ پاکستان نے، اس میں کون کون لوگ شامل تھے، کی جانکاری حاصل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور ہمارے ان عظیم صحافیوں نے آئی ایس آئی کی مدد میں کھل کر اسٹوریز اور رپورٹس کی۔
اس کے بعد ان مہمات کی جانکاری پاکستان کو دینے کے لئے ایسی طاقتوں میں ہوڑ سی مچ گئی۔ ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا گویا کہ ملک کے اقتدار کے اوپر کبھی فوج قبضہ کرنے والی تھی۔ایک اخبار کا ایڈیٹر ،جو اس گینگ کا قائد تھا، وہ پہلے دن سے اس کی سچائی جانتا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اس طرح کی ٹیم کے سربراہ سے اس کا بہت نزدیکی رشتہ رہا ہے۔ اس نے اس سارے جھوٹ کو اس طرح سے پیش کیا مانو وہ سچ ہو اور اس ٹیم کے قائد کو جانکاری مہیا کرانے میں بہت بڑا رول ادا کیا۔
ہتھیاروں کے دلال ابھی اس بات سے چوکنا ہیں کہ اس وقت کے فوجی سربراہ موجودہ وزیر اعظم کے سب سے زیادہ معتمد لوگوں میں سے ایک ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس وزارت دفاع سے جڑا کوئی محکمہ نہیں ہے،لیکن ان طاقتوں کو ڈر ہے کہ کہیں جنرل وی کے سنگھ وزیر اعظم مودی کو ان سارے لوگوں کے نام یا وہ تمام سرگرمی نہ بتا دیں، جو وزارت دفاع کے اندر ہتھیاروں کو خریدنے میں اپنائی گئی ہے اور جو بد عنوانی کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔ اس لئے جنرل وی کے سنگھ کی کردار کشی کی ایک بڑی سازش ہو رہی ہے اور اس کا آغاز نئے سرے سے ٹیکنیکل سروسز کے لوگوں کے نام جاننے اور انہیں عام کرنے کی کوشش کی شکل میں ہورہی ہے۔وزیر مملکت برائے امور خارجہ کی شکل میں جنرل وی کے سنگھ نے جس طرح جنوبی سوڈان ، یمن اور سعودی عرب میں جوکھم بھرا کامیاب ریسکیو آپریشن چلایا، اس سے جنرل وی کے سنگھ کی دنیا بھرکے ملکوں سے ستائش ہوئی۔ہندوستان میںآئی ایس آئی کی حمایت یافتہ کچھ صحافیوں نے جنرل وی کے سنگھ کے اس جوکھم بھرے ریسکیو آپریشن کی تعریف میں کچھ شائع تو نہیں ہی کئے ،الٹے ان کی کردارکشی کی سازشیں شروع کردی ہیں۔
جنرل وی کے سنگھ کے بعد آئے فوجی سربراہ کی بہو پاکستانی نژاد شہری ہے،جسے فوجی سربراہ بنایا گیا، اس کا سیدھا رشتہ پاکستان سے ہے، وزارت دفاع کا یہ فیصلہ آج تک سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کا مطلب ملک مخالف طاقتوں کا ہاتھ اتنا مضبوط ہے کہ انہوں نے ایک ایسا فوجی سربراہ بنوا دیا، جس کے گھر میں پاکستان سے جڑا ہوا ایک شخص 24 گھنٹے رہتا تھا۔ ان کے فوجی سربراہ کے عہدہ سے ہٹنے کے بعد جو شخص فوجی سربراہ بنے وہ ایسٹرن کور کے چیف رہتے ہوئے بہت سارے متنازعہ مہمات کے سربراہ تھے۔اسے نہ صرف فوج کی انٹلی جنس نے بلکہ سی بی آئی اور پولیس نے بھی اپنی جانچ میں قصوروار پایا تھا۔ لیکن اس وقت کی فوج نے ان کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ آج ان کے ذریعہ ملک مخالف طاقتیں اور خاص طور پر وہ جن کی پاکستان سے وابستگی ہے،تیزی کے ساتھ اپنی ادھوری مہم کو پوری کرنے میں لگ گئی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کوئی بھی ایسا مصنوعی موقع بنائو اور اس کا اس طرح سے پروپیگنڈہ کرو کہ وہ طاقتیں اور ان طاقتوں کا سربراہ جو ان ساری سرگرمیوں کے خلاف رہا ہے، اسے سزا دلائی جاسکے، یعنی وہ طاقتیں جو ملک مخالف طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہیں اور جن کا رشتہ سیدھے آئی ایس آئی سے ہے، وہ طاقتیں ملک حامی اور محب وطن طاقتوں کی گردن مروڑناچاہتی ہیں۔ سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ ان سب کے سینٹر میں جس آدمی کو سب سے زیادہ جانکاری ہے، ارون جیٹلی، وہ خاموش ہیں۔ ارون جیٹلی اگر چاہیں تو ایسی طاقتوں کے اوپر کنٹرول کیا جاسکتا ہے ،لیکن وہ کسی نامعلوم وجہ سے ان طاقتوں کو کنٹرول کرنے سے اپنے کو دور رکھے ہوئے ہیں۔مجھے یہ کہنے میں کوئی بھی تردد نہیں ہے کہ ارون جیٹلی ایک ایسے شخص ہیں جو فوج کی بد عنوانی کو نہ صرف سمجھتے ہیں، بلکہ کون لوگ بدعنوانی کررہے ہیں، اسے بھی جانتے ہیں۔ ارو ن جیٹلی کے سامنے ملک کے تئیں اپنا فرض ادا کرنے کا چیلنج ہے۔وہ وزیر اعظم مودی کے بھی نزدیک ہیں،وہ ہتھیاروں کے سوداگروں کو بھی جانتے ہیں،ساتھ ہی وہ انہیں بھی جانتے ہیںجو صحافیوں کے بھیس میں آئی ایس آئی کے لئے کام کر رہے ہیں یا آئی ایس آئی کا فائدہ کررہے ہیں۔کیا راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کو اپنی پارسائی میں ملک مخالف سازش دکھائی نہیں دیتی؟
یہ واقعہ میں اس لئے لکھ رہا ہوں کیونکہ ان میں سے ایک لکھی ہوئی بات پر ہم نے رپورٹ کی ہے۔ہمیں صحافیوں کے بھیس میں ملک مخالف طاقتوں کے ہاتھ کا کھلونا بنے کچھ صحافیوں کے بارے میں پوری جانکاری ہے۔ہم ملک کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ بہت زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔یہ لوگ سیدھے آئی ایس آئی اور چین کو وہ ساری اطلاعات مہیا کرانے کی کوشش کرتے ہیں جو ملک کے حق میں سب سے زیادہ ہیں،جو خفیہ ہیں۔دیکھتے ہیں،کون جیتتا ہے؟

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *