کسانوں کو نظر انداز کرہی ہیں بیج کمپنیاں

سورن شرما
p-11ایک طرف سرکار کسانوںکے مفادات کے لیے اسکیموں کا اعلان کرتی ہے، وہیںسرکاری عملہمنصوبہ بندی کے عمل میںنقب لگاکر لوٹ مچانے کی تیاری میںلگ جاتا ہے۔ مختلف ریاستی سرکاروں نے کسانوں کو بہتر کوالٹی کا بیج دینے کے لیے سیڈ سرٹیفکیشنایجنسیز تشکیل کی ہیں۔ لیکن بہار میںان ایجنسیوں کے ذریعہ کسانوں کے مفاد کو نظرانداز کرکے سیڈ سرٹیفکیشن کے عمل میں زبردست بے ضابطگیاںبرتی جارہی ہیں۔ تازہ معاملہ پٹنہ میں واقع بہار اسٹیٹ سیڈ سرٹیفکیشن ایجنسی کا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ اس ایجنسی کے افسر مدھیہ پردیش کے اجین میں واقع ایک نجی فرم میسرز مہا کال سیڈس سے ساز باز کر کے سرٹیفکیشن کے عمل کو فرضی ڈھنگ سے انجام دینے میں لگے ہیں۔
اس معاملے میںبہار اسٹیٹ سرٹیفکیشن ایجنسی سے آرٹی آئی کے تحت سبزی فصل کے خریف سال 2015-16 سے متعلقہ سرٹیفکیشن، رجسٹریشن کرانے والی کمپنیوں اور متعلقہ کسانوں کے بارے میں جانکاری مانگی گئی، تو محکمہ نے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ ابھی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے،اس لیے اطلاع نہیں دی جاسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اطلاع نہیں دیے جانے کی وجہ سے مذکورہ محکمہ کے طریقہ کار پر تو سوال اٹھتے ہی ہیں، اس کے ساتھ ہی اس کا عمل بھی مشکوک ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد جب مہاکال سیڈس، اجین کے ذریعہ فراہم کرائی گئی دستاویزوںکی جانچ کی گئی،تو کئی ایسے حقائق کا پتہ چلا،جن سے بیج کے سرٹیفکیشن کے عمل میںبے ضابطگیاں برتے جانے کی جانکاری ملی۔
مثلاً مہاکال سیڈس اجین نے بہار اسٹیٹ سیڈ سرٹیفکیشن ایجنسی سے لوکی، گلکی، تروئی،کریلا، بربٹی اور بھنڈی وغیرہ کا رجسٹریشن کرایا تھا۔ بیج کی بوائی سے لے کر پیکیجنگ ہونے تک کا وقت سیڈ سرٹیفکیشن ایجنسی نے 11 ماہ مقرر کیا ہے۔ بہار اسٹیٹ سرٹیفکیشن ایجنسی کے توسل سے مہاکال سیڈس اجین نے مذکورہ فصل کا محض چار ماہ میں ہی پیداوار سے متعلق تمام عمل مکمل کرکے سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا۔ اس کے بیج کے لاٹ نمبر پر مئی ماہ درج ہے،جو پوری طرح مشکوک ظاہر ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیسٹ اور پیکیجنگ کی تاریخ بھی مئی ماہ ہی درج کی گئی ہے، یعنی مذکورہ فرم نے بیج کی کٹائی، مڑھائی،سکھائی،صفائی اور پیکنگ جیسا تمام عمل مئی کے مہینے میںہی پورا کرلیا۔ اتنی بڑی تعداد میں سارے عمل جیسے نمونوں کا ٹیسٹ،پیکیجنگ وغیرہ کا ایک ماہ میں مکمل ہونا شبہ میںمبتلا کرتا ہے۔
نیشنل سیڈس کارپوریشن کے ذریعہ جاری سیڈس پروڈکشن بک کے مطابق لوکی، گلکی، تروئی،کریلا اور بھنڈی کی فصل سیڈس پروڈکشن کے لیے ربیع سیزن موزوں نہیں ہے۔اس کے مطابق بیج پروڈکشن کے لیے بوائی کا وقت شمالی ہند میںخریف سیزن میںجون جولائی اور زائد فصلوں کے لیے فروری مارچ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یہ فصلیںربیع سیزن میںسیڈ پروڈکشن کے لیے رجسٹریشن کے تئیں مناسب نہیں ہیں، جبکہ کمپنی نے اسے مئی مہینہ بتایاہے۔
یہ بھی جانکاری ملی ہے کہ بہار اسٹیٹ سرٹیفکیشن ایجنسی کے ذریعہ 1 او ر 2 مئی کو سرٹیفکیٹ دیاگیا۔ اس کے ساتھ ہی اسی مہینے میںبہار اسٹیٹ سرٹیفکیشن ایجنسی کے افسروں/ نمائندوں کے رکھ رکھاؤ میں مہاکال سیڈس نے بیجوں میںٹیگ لگاکر پیکنگ کی۔ مذکورہ فرم نے جوائنٹ ڈائریکٹر گارڈن، بھوپال کو دیے خط میں یہ بتایا کہ ان کا مصدقہ بیج 17-06-16 سے آرہا ہے۔ لیکن مذکورہ کمپنی آج تک اس بارے میںکوئی ثبوت نہیںدے سکی ہے کہ اس کا بیج بہارسے آیا ہے یاوہاں بیج پر ٹیگ لگاکر پیکیجنگ کی گئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ تو مذکورہ فرم کا کسی طرح کا بیج بہار اسٹیٹ سیڈ سرٹیفکیشن کے افسروں کی دیکھ ریکھ میںبہار میںپیک ہوا اور نہ ہی کوئی بیجبہار سے مدھیہ پردیش لایا گیا۔ اس پورے عمل کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشہ ہے کہ بہار اسٹیٹ سیڈ سرٹیفکیشن ایجنسی سے ملے ٹیگ کے سہارے مہاکال سیڈس نے گھٹیا سطح کے بیج اپنے گودام میں بھر دیے ہوں۔
ہندوستان جیسے ایک زراعتی ملک میںکسانوںکے مفادات میںچلائی جارہی اسکیموں میںاگر دھاندلی ہوتی ہے، تو اس سے کسانوں اور ملک کی معیشت کو کتنانقصان ہوگا، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ زیادہ منافع کمانے کے لیے بیج کمپنیاں سرکاری اداروں سے ساز باز کرکے کسانوں کے مفادات کونظر انداز کررہی ہیں۔ ظاہر ہے ، ایسی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے،تاکہ کسانوں کے مفادات نظرانداز نہ ہوسکیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *