کشمیریوں کا درد گولی سے نہیں بولی سے سمجھنا ہوگا

ہارون ریشی
p-1وادی کشمیرشورش زدہ ہے۔ برہان وانی کے مارے جانے کے بعد بھڑکے تشدد میں 50 لوگ مارے گئے، سیکڑوں لوگ زخمی ہوئے اور جس طرح تناتنی بڑھی اس سے وادی میں یہ سوال تیزی سے اٹھا کہ کشمیر میں بیلیٹ بڑا ہے یا پیلیٹ۔ سری نگر کے دو سب سے بڑے میڈیکل انسٹی ٹیوٹس اور ہاسپٹل، شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیز (سورا، سری نگر) او رشری مہاراجہ ہری سنگھ ہاسپٹل (سری نگر) اس وقت زخمیوںسے بھرے پڑے ہیں۔ اس کے علاوہ وادی کے جو دوسرے ضلع اسپتال ہیں، وہاں بھی زخمیوںکا علاج چل رہاہے۔ زخمیوںمیںکم عمر کے لڑکے بھی ہیں، کچھ نوجوا ن بھی ہیں اور کچھ لڑکیاںبھی ہیں۔ یہ سبھی لوگ گزشتہ کچھ دنوں کے درمیان زخمی ہوئے ہیں۔ یعنی یہ سارا سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب 8 جولائی کی شام ساڑھے آٹھ بجے حفاظتی دستوں نے سری نگر سے 80 کلو میٹر دور، جنوبی کشمیر کے کوکرناگ علاقے میں کارروائی کرکے وہاں موجود تین دہشت گردوں کومار گرایا۔ حفاظتی دستوں کی ٹیم سری نگر سے ملی ایک خاص اطلاع کی بنیاد پر یہ آپریشن کرنے گئی تھی۔ مارے گئے تین دہشت گردوں میںایک برہان وانی بھی تھا۔ ا س کی عمر 22 سال تھی۔ اسے گزشتہ دو سال میںکشمیر میںبڑی شہرت ملی تھی، کیونکہ وہ کمپیوٹر کاماہر تھااور فیس بک پر سرگرم رہتا تھا۔ جب اس کے مارے جانے کی خبر وادی کشمیر میںپھیلی، تو شہر او رقصبے کے نوجوان سڑکوں پر اتر کر مظاہرہ کرنے لگے اوریہ سلسلہ دیر رات تک چلتا رہا۔ دوسرے دن اس کے جنازے میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ شریک ہوئے۔
دراصل مسئلہ یہ ہے کہ اس علاقے میں برہان کے ساتھ لوگوں کی ہمدردی رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ برہان کی عمر اس وقت 15سال تھی، جب اس کے بڑے بھائی خالد کو سیکورٹی والوں نے بہت پیٹا تھا۔ اس واقعہ سے اس کا دل ٹوٹ گیا تھا اور اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ ملیٹنٹ بنے گا۔ بعد میںاس کا بھائی خالد مارا بھی گیا۔ برہان کے والدین کا کہنا ہے کہ اسے فرضی مڈبھیڑ میںمارا گیا۔ وہ ملیٹنٹ نہیں تھا۔ وہ پوسٹ گریجویٹ لڑکا تھا۔ فیس بک پر برہان کی فین فالوئنگ بہت بڑی تھی۔ وہ اگر کوئی پوسٹ یا ویڈیو اَپ لوڈ کرتا تھا، تو اسے دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں لائکس آجاتی تھیں۔
بہرحال گزشتہ 26 سال سے کشمیر میں دہشت گردی جاری ہے۔ سیکورٹی فورسیز کے مطابق یہاں کئی دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔ لیکن برہان پہلا ایسا ملیٹنٹ ہے، جس کے مرنے پر اتنا وبال مچا۔ لوگوںکا کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد تھا، لیکن اصل میں وہ وکٹم بھی تھا اور اس کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔ ایک بچہ جس نے اپنی آنکھوںکے سامنے ایک بے گناہ بھائی کو پٹتے دیکھا تھا۔ بہرحال ابھی تک سرکار نے تصدیق کی ہے کہ 8 جولائی سے 27 جولائی کے بیچ 50 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ سرکاری طور پر 2500 لیکن غیر سرکاری طور پر 3500 لوگ زخمی ہیں، ان میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
لوگ تین طریقوں سے زخمی ہوئے ہیں۔ ایک سیکورٹی فوسیز کی فائرنگ سے ہوئے، دوسرے پیلیٹ گن کے استعمال سے اور تیسر ے پتھر بازی سے۔ پیلیٹ گن ایک ایسی گن ہوتی ہے،جس سے چھوٹے چھوٹے چھرّے نکلتے ہیں، جس سے آدمی مرتا نہیں ہے، لیکن جسم پر بہت زیادہ چوٹ لگتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 170 زخمی ایسے ہیں، جن کی سرجری ہوگی۔ ان میں سے بیس لوگوں کی آنکھیں متاثر ہوئی ہیں۔ بیس میںسے دس ایسے ہیں، جن کی ایک آنکھ خراب ہوچکی۔ ان میں سے چار لوگوں کو ایمس لے جایا گیا۔ سرکار نے علاج کا انتظام کیا۔ ان میںایک 14 سال کی لڑکی بھی ہے، جس کا نام انشا ملک ہے، جو جنوبی کشمیر کی رہنے والی ہے۔ اس کی ماں سے جب اس نمائندے نے بات کی، تو اس کا کہنا تھا کہ انشا گھر میںبیٹھی تھی جب باہر مظاہرے ہورہے تھے۔ سیکورٹی فورسیز کے پیلیٹ گن کی فائرنگ سے ایک چھرّا آکر اسے لگ گیا اور اس کی دائیںآنکھ چلی گئی۔ ریاستی سرکار نے ایمس سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی بلائی ہے، جو آنکھوں کا علاج کرے گی۔ ایمس کی ٹیم نے دیکھا کہ زخمیوں میں سے کچھ لوگوں کی حالت سنگین ہے، جن کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ اس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھنے کا بھی امکان ہے۔ پتھر بازی میں سیکورٹی فورسیز کے لوگوں کو بھی سنگین چوٹیں آئیں۔ سرکاری طور پر 15 سو سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جن میں 244 سیکورٹی اہلکاروں کو سنگین زخم آئے اور الگ الگ اسپتالوں میں ان کا بھی علاج چل رہا ہے۔
یہ معاملہ برہان وانی کے انکاؤنٹر سے شروع ہوا، جس نے سب کے سامنے یہ سوال چھوڑا کہ برہان کو اتنی مقبولیت کیوں ملی؟ پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی ملیٹنٹ کے جنازے میں دو لاکھ لوگ شامل ہوئے۔ اتناہی نہیں، دوسرے دن وادی کے الگ الگ علاقوں میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی، جس میں تقریباً پانچ لاکھ لوگوں شرکت کی۔ مانا جارہا ہے کہ ملیٹنسی اب نئی نسل میں منتقل ہوگئی ہے۔ اس وقت سڑکوں پر جو ہنگامے کررہے ہیں، زخمی ہورہے ہیں، ان کی عمر بھی بیس سال اور تیس سال کے بیچ ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تشدد کی جو لہر ہے،یہ نئی نسل میںٹرانسفر ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوںہوا؟ کیا وجہ ہے کہ گزشتہ 26 سال سے (1989 میںکشمیر میں ملیٹنسی شروع ہوئی تھی) ملیٹنسی کو ختم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، لیکن ایساہو نہیںپارہا ہے۔ برہان کے مرنے کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی، اس سے یہ ثابت ہوگیاکہ ملیٹنسی کو مکمل طور پر ختم کرنے میںسیکورٹی فورس ناکام ہیں۔ اس لیے اب یہ کہا جا رہا ہے کہ سرکار کو سیاسی پہل کرنی چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مرکزی سرکار اس موڈ میںنظر نہیں آرہی ہے۔ اس کی صاف وجہ ہے کہ مودی سرکار نے پورے ملک میںایک خاص ایجنڈا لے کر ہی ووٹ حاصل کیا ہے۔ وہ کشمیر کے لیے ہندوستان کے اپنے عوام کو ناراض نہیںکرسکتی۔ مثال کے طورپر ان کا ایک ہارڈ لائن اسٹینڈ ہے۔ ان کے الیکشن مینی فیسٹو میں لکھا تھا کہ کشمیر میںآرٹیکل 370 بھی ختم کردیں گے، رام مندر بنائیںگے، یونیفارم سول کوڈ نافذ کریںگے۔ ایسے میںاس بات کی بہت کم امید ہے کہ مودی سرکار کوئی پہل کرے گی۔ لیکن سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کا اسٹیٹمنٹ آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کو لے کر لوگوں کو بہت غلط فہمی ہے۔ وہ کشمیر کے حالات کو سمجھنے میںغلطی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی کا مطلب یہ نہیںہے کہ کشمیر کے لوگ ہندوستان سے کٹ جانا چاہتے ہیں یا پاکستان سے جڑ جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل کشمیر کے لوگ اپنیشناخت چاہتے ہیں، اپنی پہچان چاہتے ہیں۔ وہ ایسی صورت حال کو بحال کرنا چاہتے ہیں، جن حالات میںکشمیر کاہندوستان میں الحاق ہوا تھا۔ 1964-65 تک کشمیر کااپنا ایک پرائم منسٹر ہوا کرتا تھا، یہاںگورنر نہیں، بلکہ صدر ہوتا تھا،جسے صدر ریاست بولتے تھے۔ ڈاکٹر کرن سنگھ کشمیر کے صدر ریاست تھے۔ اس وقت ریاست کو خودمختاری حاصل تھی۔ گزشتہ 30-40 سال میںجموں و کشمیر میںمرکزی سرکار کے تین سو سے ساڑھے تین سو قانون لاگو ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے جو خودمختاری حاصل تھی، وہ تقریباً چھن چکی ہے۔ چدمبرم کا یہی کہنا تھا کہ یہ لوگ اپنی پہچان کی بحالی چاہتے ہیں یا یہ اس حالت پر آنا چاہتے ہیں، جس پر انھوںنے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔ الحاق دراصل مہاراجہ ہری سنگھ نے کیا تھا، لیکن وہ شرط پر مبنی الحاق تھا۔ شرط میںیہ تھا کہ ہندوستان کے اختیار میں صرف ڈیفنس، خارجہ پالیسی اور مواصلات رہے گا، باقی کے جتنے بھی معاملے ہیں، وہ سب جموں و کشمیر کی سرکار کے اختیار میںہوں گے۔ لیکن اس حالت کو رفتہ رفتہ ختم کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں علیحدگی کا جذبہ بڑھ گیا ہے۔ لوگوںکو لگ رہا ہے کہ ان سے ان کی پہچان چھینی جارہی ہے۔یہ ہندوستان کی واحد مسلم اکثریت کی ریاست ہے۔ یہاںکے لوگوںکو ایک خدشہ ہے کہ مسلم میجارٹی کیرکٹر کو بدلا جارہا ہے۔ آبادی کی ساخت کو بدلا جارہا ہے۔ اس کی بہت ساری مثالیںدیکھنے کو مل رہی ہیں۔ جب سے پی ڈی پی اور بی جے پی کی سرکار بنی ہے، اس کے بعد سے کچھ ایسے قدم اٹھائے گئے ہیں ، جن کی وجہ سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے ۔ مثال کے طور پر انھوںنے کہا کہ کشمیری پنڈتوںکو یہاں واپس بسانے کے لیے الگ سٹیز بسائیںگے۔ کشمیری پنڈتوں کے واپس آنے پر کشمیریوںکو کوئی اعتراض نہیں ہے، کیونکہ یہ ریاست جتنی کشمیری پنڈتوں کی ہے، اتنی ہی مسلمانوں کی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کشمیری عوام کو ایک الگ شہر بسانامشتبہ لگ رہا ہے۔
ہائی کورٹ کے ایک سابق جج جی ڈی شرما کی ایک کتاب ہے کشمیر کے بارے میں۔ اس کتاب میں شرما صاحب نے کہا کہ آرٹیکل 370 کوختم کرو۔ سبرامنیم سوامی نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیری پنڈتوں کو کشمیر میں بساؤ، لیکن ان کی سیکورٹی کے لیے دس لاکھ سابق فوجیوں کو بھی وہاں بھیجو، انھیں ہتھیار دے دو، تاکہ وہ ان کی حفاظت کریں۔ اس وقت اس بیان پر بڑا شور ہوا تھا۔ لوگوں نے سوچا کہ پنڈت تو یہاں کے باشندے ہیں، لیکن ان کے ساتھ اگر دس لاکھ سابق فوجیوں کو بھی بھیجا جا رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکار کی نیت ٹھیک نہیںہے۔ اس پر لوگوں کواعتراض تھا۔
دوسری بات یہ کہ حالیہ دنوںمیںجب ریاست میں گورنر رول تھا، جب سرکار بنانے کے معاملے پر پی ڈی پی اور بی جے پی کے بیچ بات چیت چل رہی تھی، اس وقت گورنر نے انڈسٹریل پالیسی پیش کی تھی۔ اس انڈسٹریل پالیسی میں انھوںنے ایک پروویژ ن رکھا تھا کہ یہاںباہر کے جو کاروباری ہیں،انھیں انڈسٹریل یونٹ قائم کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس پر بھی یہاںبہت شور اور ہنگامہ ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے تحت باہر کا کوئی بھی شخص یہاں زمین نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں بزنس کرسکتا ہے۔ اگرایسا کیا گیا، تو ایک طرح سے یہاں فلڈ گیٹ کھلے گا۔ باہرکے لاکھوں صنعت کار کشمیر آکر یہاںاپنی یونٹ چالو کرنے لگیں گے۔ دراصل کشمیر کے لوگوں کو خوف ہے کہ ان کی پہچان ختم کی جارہی ہے۔ اس مسئلے کا سیاسی حل نکالا جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا ہو نہیںرہا ہے۔ بلکہ یہاں کے جو دانشور ہیں، وہ یہ صاف طور پر کہتے ہیںکہ ہندوستان میںصرف دو لوگ پیدا ہوئے، جو اصل میںاس مسئلے کو اچھی طرح سمجھ پائے تھے اور جو سچے دل سے اس مسئلے کوسیاسی طور پر حل کرنا چاہتے تھے۔ ان میں پہلے مہاتما گاندھی تھے اور ان کے بعد اٹل بہاری واجپئی تھے۔ حالانکہ کارگل جنگ ہوئی تھی، پارلیمنٹ پر حملہ بھی ہوا تھا، ،لیکن اس کے باوجود واجپئی نے کئی قدم اٹھائے تھے،جس سے کشمیر میں ایک سچے امن کا ماحول بنا تھا۔ لوگوں کو لگ رہا تھا کہ واجپئی اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ حالانکہ اٹل بہاری واجپئی نے صاف الفاظ میںکہا تھا کہ سرحدوں کو بدلا نہیں جاسکتا ہے۔ یعنی وہ موجودہ نظام میںہی کوئی حل نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔ اتفاق سے اس وقت پاکستان میںجنرل پرویز مشرف حکمراں تھے۔ وہ ایک بے لگام شخص تھے۔ کسی سے ان کو پوچھنا نہیں تھا۔ شاید وہ بھی ان کو سپورٹ کررہے تھے۔ لیکن بعد میںمسئلہ یہ ہوا کہ پاکستان میںحالات خراب ہوئے۔مشرف کو ہٹا دیا گیا اور معاملہ ختم ہوگیا۔
یوپی اے سرکار نے اسے جاری رکھنے کی کوشش کی تھی۔ راہل گاندھی کو لانچ کرنا تھا،توانھیں لگا کہ اگر ہم کشمیر پر کوئی ڈھیل دیں گے، تو ملک میںہمارے خلاف بی جے پی وبال کھڑا کردے گی، تو ڈائیلاگ رک گئے۔ ا س کے بعد سے اس پر کوئی پہل نہیں کی گئی۔ سال 2010 میںبھی اسی طرح مظاہرے شروع ہوئے تھے، جیسے آج چل رہے ہیں۔ حالانکہ آج کے مظاہرے میںزیاد ہ تیزی ہے۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو کم وقت میںزیادہ لوگ مارے گئے ہیں،دوسرے ڈھائی ہزار لوگوں کا زخمی ہونا۔ اس لیے آج کی جوحالت ہے ، وہ زیادہ خطرناک ہے۔ لیکن2010 میں بھی 120 لوگ مارے گئے تھے۔ دراصل سرحد سے لگے کپواڑہ سے فوج نے تین لوگوں کو اٹھایا تھا، پھران کو مار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ دہشت گرد تھے۔ اس معالے کو لے کر بھی مظاہرہ شروع ہوا تھا اور پھر بہت سارے نوجوان مارے گئے تھے۔ مرنے والوںمیںآٹھ سال کے بچے بھی شامل تھے۔ اس وقت یوپی اے کی سرکار تھی۔ اس وقت ارکان پارلیمنٹ کا ایک وفد آیا تھا۔ کئی سیاستداں آئے تھے۔ اس وقت لگ رہا تھا کہ مرکزی سرکار سنجیدہ ہے۔ انھیںاس بات کا احساس تھا کہ لوگ مارے گئے ہیں۔ وہ یہاں آئے تھے اور انھوں نے بہت کوشش کی تھی یہاں کے لوگوںکو منانے کی۔ پی چدمبرم بھی خود دو تین بار یہاں آئے تھے۔ لوگوںکا غصہ اس وقت ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ بلکہ حکومت ہند نے اس وقت دلیپ پڈگانوکر کی صدارت میں دانشوروںکی ایک ٹیم بنائی تھی،جس میںرادھا کماری بھی شامل تھیں۔ آٹھ مہینے تک یہ ٹیم جموںو کشمیر میںرہی اور تمام وفود اور سماج کے ہر طبقے کے لوگوں سے ملی۔ اس کے بعد انھوںنے مرکزی سرکار کو رپورٹ پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں کمیٹی نے کچھ تجاویز دی تھیں کہ کیا کیا کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس رپورٹ پر عمل نہیں کیا گیا۔ وہ رپورٹ ابھی بھی وزارت داخلہ کے کسی نہ کسی ٹیبل پر دھول چاٹ رہی ہوگی۔کشمیر کے مبصرین کہتے ہیںکہ اگر ان مذاکرات کار کی رپورٹ کو پڑھا گیا ہوتا، تو شاید آج یہ حالت نہیں ہوتی۔ دوسری با ت یہ ہے کہ منموہن سنگھ وزیر اعظم رہنے کے دوران ایک بار ایک پروگرام میں کشمیر آئے تھے ۔ انھوںنے یہ اعلان کیا تھا کہ کچھ کمیٹیاں بنائی جائیں گی، جو یہ پتہ لگائیں گی کہ حالات کیوں خراب ہورہے ہیں۔ ان کمیٹیوں میں ایک کمیٹی تھی،جس کا کام تھا کہ مرکز اور ریاست کے رشتوں کو ٹھیک کرنے کے لیے راستہ تلاش کرنا۔ اس وقت حامد انصاری (موجودہ نائب صدر) کی صدارت میںایک ٹیم بنی تھی۔ ا س ٹیم نے بھی حکومت ہندکو ایک رپورٹ دی تھی۔ اس رپورٹ پر بھی کوئی عمل نہیںہوا۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہاںکے لیڈرس کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر 2010 کے حالات کے بعد جب امن کا عمل شروع ہوا تھا، تو کشمیری علیحدگی پسندوں نے حکومت ہند کو بہت تعاون دیا تھا۔ یہاںتک کہ میر واعظ عمر فاروق خفیہ طور پر دہلی گئے تھے۔ وہ ایک رات خان مارکیٹ گئے تھے، جہاںوہ چدمبرم سے ملے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ تیسرے دن پروین سوامی نے ’دی ہندو ‘ میں ایک آرٹیکل لکھا، جس میں انھوںنے اس کار کا نمبرتک کا ذکر کیا تھا، جس میںبیٹھ کر میر واعظ ، چدمبرم سے ملنے گئے تھے۔ یعنی جب یہ بات یہاںپھیل گئی، تو میر واعظ پر الزام لگا کہ وہ چوری چھپے حکومت ہند سے بات چیت کررہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میر واعظ کی امیج خراب ہوگئی اور ملیٹنس نے ان کے قریبی ساتھی فضل الحق قریشی پر حملہ کیا۔ فضل الحق قریشی کئی مہینوںتک کوما میںرہے۔
بالکل اسی طرح یاسین ملک کے ساتھ ہوا۔ یاسین ملک امریکہ گئے تھے۔ وہاں وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے خفیہ طور پر ملے۔ لیکن پھر اس چیز کو بھی لیک کیا گیا، تو ان کی بھی حالت بری ہوگئی۔ اسی طرح گیلانی کے بیٹے، جو گزشتہ دس سال سے پاکستان میں تھے، اس کو اے ایس دُلّت کی سفارش اور مدد سے واپس گھر لایا گیا، تو اس کی وجہ سے بھی گیلانی کو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ وہ ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ تمہارے بیٹے کو تو یہاںلے آیا گیا، لیکن جو باقی لڑکے سرحد کے اُس پار پھنسے ہوئے ہیں، ان کو یہاںنہیںآنے دیا جارہا ہے۔ یعنی لوگ سوچتے ہیں کہ حکومت ہند نے کشمیری لیڈروں کو بدنام کردیا۔ یہ سلسلہ 1953 سے شروع ہوا تھا، جب شیخ محمد عبداللہ کو جموں و کشمیر کے وزیر اعظم رہتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ چھٹی منانے گلمرگ گئے تھے۔ وہاں ایک ڈی ایس پی صاحب نے ان کے دروازے پر دستک دی اور شیخ عبداللہ سے کہا کہ ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ ہے۔ لوگوں کو لگا کہ وزیر اعظم کو گرفتار کرنے کے لیے ڈی ایس پی رینک کے افسر کو بھیجنا سراسر بے عزتی تھی۔ حالانکہ کشمیر میںیہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیخ محمد عبداللہ نے ہی کشمیر کو پلیٹ میں رکھ کر اسے حکومت ہند کو دے دیاتھا۔ شیخ عبداللہ خود کہتے تھے کہ پنڈت جواہر لعل ان کے دوست ہیں۔ اس کے بعد شیخ عبداللہ کو 11 سال تک جیل میں رکھا گیا۔ ان کی جگہ بخشی غلام محمد کو یہاںکا وزیر اعظم بنایا گیا۔ بخشی غلام محمد کے بعد صادق کو لایا گیا۔ ان کے ہاتھوں سے یہاںآئین میں ترامیم کرائی گئیں،جس کی وجہ سے آرٹیکل 370 کمزو ر ہوگیا اور جو آٹونومی تھی، وہ آہستہ آہستہ چھین لی گئی۔ یہ پس منظر لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ ان سے دھیرے دھیرے سب چھینا جارہا ہے۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہندوستانی میڈیا کا ایک بڑا حصہ خود ہی مس انفارمڈ ہے۔ اسے زمینی حقیقت کا پتہ نہیں ۔ مثال کے طور پر کچھ چینل کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے سو کروڑ روپے بھیج کر یہاںاتنا وبال مچادیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان یہی سو کروڑ روپے اترپردیش یا مہاراشٹر میںیا کسی دیگر ریاست میںبھیجتا، تو کیا وہاں بھی اتنا ہنگامہ ہوجاتا۔ نہیں،دراصل کشمیر میںہنگامے کی زمین تیارہے۔ یہ زمین خود حکومت ہند نے تیار کی ہے۔ لوگوںکو دھوکے میںرکھ کر، لوگوں کے حقوق چھین کر۔ ظاہر ہے ، پاکستان اس صورت حا ل کا فائدہ اٹھارہا ہے۔ 23 جولائی کو کشمیر معاملے پر پاکستانی پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن شروع ہوا۔ اس سے پہلے کیبنٹ کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے یوم سیاہ بھی منایا تھا۔ انھوںنے سرکاری طور پر برہان کو شہید کا درجہ دیا تھا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ میں انھوںنے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔ دراصل انھوںنے اسے بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے پاکستان صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔
پاکستان میں حافظ سعید ہے، جو دنیا بھر میںجانا پہچانا دہشت گرد ہے۔ وہ بھی اپنی اہمیت جتانے کے لیے کشمیر کے ساتھ خود کو جوڑ رہا ہے۔ بلکہ اس نے اس حد تک جھوٹ بولا کہ وہ برہان کے رابطے میں تھا۔ خود پاکستان کی حالت یہ ہے کہ وہاں لوگ مسجدوں میں دھماکے کرتے ہیں، امام باڑوں میںدھماکے کرتے ہیں، عید گاہوں میں دھماکے کرتے ہیں، سڑکوں پر ، بازار میں دھماکے کرتے ہیں۔ تو جو لوگ اپنی مسجدوں کو نہیںدیکھتے ہیں، وہ مندروںکو کیا دیکھیںگے۔ کشمیر پولیس کہہ رہی ہے کہ برہان کبھی پاکستان نہیںگیا تھا، بلکہ اس نے رسمی طور پر کبھی ٹریننگ بھی نہیں لی۔یہ تو ہیرو ٹائپ کا ملیٹنٹ تھا،جس نے ملیٹنسی کو گلیمرائز کیا تھا۔ دن بھر فیس بک پر رہتا تھا۔ راجیہ سبھا رکن مظفر بیگ نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں کہا بھی کہ برہان کوئی اوسامہ بن لادن نہیں تھا، اس کو زندہ بھی پکڑا جاسکتا تھا، اسے پکڑا کیوںنہیںگیا۔ اس کے سر پر دس لاکھ روپے کا انعام بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آیا۔
ابھی جو حالات ہیں، اس کو بہت سارے سیاستداں ہوا بھی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگوں کو شک ہے کہ اگر 20سے 25 دن تک یہ صورت حال بنی رہی، تو گورنر رول آجائے گا اور اس کے بعد وسط مدتی انتخاب ہوں گے۔ جب دوبارہ انتخاب ہوںگے،تو پھر نیشنل کانفرنس اقتدار میں آئے گی، کیونکہ پی ڈی پی کی حالت خراب ہوگئی ہے۔ پی ڈی پی کا مضبوط گڑھ ساؤتھ کشمیر تھا، وہاں اتنے لوگ مارے گئے،تنی تباہی ہوئی۔ ظاہر ہے جنوبی کشمیر کے لوگ اب پی ڈی پی کو ووٹ نہیں دیںگے۔ تو قیاس لگائے جارہے ہیںکہ اب تو عمر عبداللہ کی سرکار بنے گی۔ اب نیشنل کانفرنس والے بھی سرگرم ہوگئے ہیں۔ وہ بھی اپنی طرف سے چاہتے ہیں کہ مظاہرے کو اور لمبا کھینچ دیں، جتنی تباہی ہوجائے۔ کل ملاکر دیکھیں،تو کنفلکٹ زون میںکچھ خاص لوگوںکا خاص انٹرسٹ ہوتا ہے۔ اس میں عام لوگ تو بس کچا مال ہوتے ہیں، جو استعمال ہونے کے لیے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اب دیکھیے کہ منی پور میںبھی افسپا (آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ) نافذ ہے، لیکن وہاں کی کوئی بات نہیںکرتا۔ کیونکہ وہاںکی خبریں نہیں آتیں، وہاں کوئی سپورٹ نہیں ہے۔ پنجاب میںملیٹنسی کو ختم کیا گیا۔ لیکن کشمیر میں ایسا ہو نہیںسکتا، اس کی وجہ ہے اس کے پیچھے لگا ہوا پاکستان، جو اسے بھنانے کی ہر لمحہ کوشش کرتا ہے۔ پچاس لوگ مرے ،تو پوری دنیا میںکہرام مچ گیا، امریکہ اور چین کے بیان آچکے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری نے دو بیان دیے، ایران کی پارلیمنٹ میںاس مسئلے کو اٹھایا گیا، انٹرنیشنل ہیومین رائٹس نے اس پر اسٹیٹمنٹ دیا، انٹرنیشنل ہیومین رائٹس واچ نے کہا کہ جانچ ہونی چاہیے کہ پیلیٹ گن کیوںاستعمال کیا جارہی ہے۔ یعنی آپ کشمیر کو منی پور کے ساتھ لنک نہیںکرسکتے۔
کشمیر کے لوگ مانتے ہیںکہ بی جے پی کا تو ایجنڈا ہے کہ آرٹیکل 370 ختم کردیا جائے۔ کشمیر میںامن کیسے آئے گا، جب آرٹیکل 370ختم کرنے کی بات ہوگی۔ کشمیری چاہتے ہیںکہ پرانا نظام دوبارہ قائم ہو، جو 1953 میں نافذ تھا۔ یہ باتیںیہاں کے دانشوروں کی ہیں ۔ ایک ایڈیٹر ہیں،کشمیر میں ایک اخبارچلاتے ہیں،بہت ہی سینئر جرنلسٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیںکہ حکومت ہند کے لیے یہی موقع ہے کہ اگروہ کوئی سیاسی پہل کرتی ہے، نرمی کا برتاؤ کرتی ہے، تو حالات سدھر سکتے ہیں۔ حریت کانفرنس کے تین بڑے لیڈر ہیں، سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک۔ ان تینوںلیڈروں کو مہینوںسے نظربند رکھا گیا ہے۔ ان کے فون نہیںچل رہے ہیں،ان کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیںہے۔ ظاہر ہے ، ان کے یہاںسیکڑوںکارکن ہیں، وہ تو ہنگامہ کریںگے ہی۔ دبانے کی جتنی کوشش ہوگی، وہ اتنی ہی ابھر کر سامنے آئے گی۔ یہ سب کچھ صرف پاکستان کا کیا دھرا نہیںہے، حکومت ہند بھی پاکستان کے لیے زمین تیار کرتی ہے۔
ملک میںایسے لوگ بھی ہیں، جن کو زمینی حقیقت پتہ ہے۔ وجاہت حبیب اللہ کے حالیہ بیان کا لوگ حوالہ دیتے ہیںکہ کشمیریوں کو مجبور کیا گیا۔ یاسین ملک نے تو ہتھیار ڈال دیے تھے۔ جے کے ایل ایف پہلے ملیٹنٹ آرگنائزیشن تھی۔ یاسین ملک اس کے چیف تھے۔ پھر کلدیپ نیر، اروندھتی رائے، گوتم نولکھا، رام جیٹھ ملانی اور وجاہت حبیب اللہ جیسے بہت سارے لوگ اس سے ملتے رہے۔ یہ یقین دلایا کہ ہم نے حکومت ہند سے بات کی ہے، آپ ہتھیار ڈال دو،ملیٹنٹ آرگنائزیشن کو پولیٹیکل آرگنائزیشن میں بدلو۔ یاسین ملک نے ایسا ہی کیا۔ اس نے دوبارہ بندوق نہیں اٹھائی۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ اس کے بعد مرکزی سرکار نے کیا کیا؟ سرینڈر کرنے کے بعد بھی اس کے کئی لوگ مار دیے گئے۔ ایک لیڈر ہاتھ میں آگیا تھا، اسے بھی کھو دیا۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ 23 جولائی کو سری نگر آئے تھے، تو انھوںنے یہاں بہت سارے لوگوں سے بات کی۔ تاجروں کو بلایا گیا تھا۔ وہ ان سے ملنے نہیںآئے۔ لیکن عمر عبداللہ اپنی پارٹی کے دس لیڈروں کے ساتھ راجناتھ سے ملے۔ عمر عبداللہ نے انھیںایک میمورنڈم دیا۔ وہ میمورنڈم دوسرے دن نیشنل کانفرنس میںمقامی اخباروںمیں شائع بھی کرایا۔ اس میں مانگ کی گئی تھی، افسپا ہٹاؤ، سیکورٹی فورسیز کو کنٹرول میں رکھو، سیاسی عمل شروع کرو، حریت لیڈروں کو رہا کرو، ان کے ساتھ بات چیت کرو اور سیاسی قیدیوں کو رہا کریں۔ اسی طرح سرتاج مدنی کی قیادت میںپی ڈی پی کا ایک وفد ان سے ملاتھا۔ سرتاج مدنی نے بھی راجناتھ سنگھ سے کہا کہ یہ مسئلہ سیاسی ہے، ا س کو سیاسی طور پر حل کیا جائے۔ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے بھی وزیر داخلہ سے کہا کہ کشمیر کا سیاسی حل نکالنا ہوگا۔اسی طرح کمیونسٹ پارٹی کے محمد یوسف تاریگامی بھی ان سے ملے تھے۔ تاریگامی نے اس نمائندے کو بتایا کہ انھوںنے کشمیریوں کے ساتھ بنا شرط بات چیت کرنے کی بات کہی ہے۔ باقی کے جو لوگ ملے تھے، انھوںنے بھی یہی کہا تھا کہ پیلیٹ گن کا استعمال بند کرکے سیاسی عمل شروع ہونا چا ہیے۔ راجناتھ سنگھ کا یہ اہم دورہ تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔

کشمیریوں کا درد گولی سے نہیں بولی سے سمجھنا ہوگا

ڈاکٹر فرح
کشمیر میں کافی دنوں سے تنائو چل رہا ہے۔برہان وانی کے انکائونٹر میں مارے جانے کے بعد اس کی ابتدا ہوئی۔برہان وانی کے بارے میں یہ سامنے آیا ہے کہ وہ حزب المجاہدین کا کمانڈر تھا۔ وہ 22یا 23 سال کا ایک نوجوان لڑکا تھا جو جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے ترال کا رہنے والا تھا۔ گزشتہ تقریباً 26 سالوں سے ترال جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کا حساس علاقہ ہے۔ آج جو ملی ٹینسی ہم دیکھ رہے ہیں، اس کا آغاز زیادہ تر اسی علاقے سے ہوا ہے۔ آج بھی اس علاقے کو ملی ٹینسی کے لحاظ سے حساس مانا جاتا ہے۔ برہان وانی زیادہ تر پلوامہ، آننت ناگ اور پہلگام میں سرگرم عمل تھا۔ اسے آننت ناگ ضلع سے پکڑا گیا تھا یا اسے ٹریس کیا گیا تھا،جیسا کہ بعد میں فوج کی طرف سے رپورٹ آئی کہ اسے کئی دنوں سے ٹریس کرنے کی کوشش ہورہی تھی۔ سائبر سیل تقریباً ڈیڑھ مہینے سے سرگرم تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس کے پاس 5سے 6 موبائل نمبر تھے جس کو یہ روٹیشن پر استعمال کرتا رہتا تھا، جس کے ذریعہ یہ الگ الگ لوگوں کے رابطہ میں تھا۔ برہان وانی سوشل میڈیا پر بہت سرگرم تھا۔ اس کی عمر بہت کم تھی اور وہ تقریباً2010 سے ملی ٹینسی میں پوری طرح سے شامل تھا۔جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ پولیس کی بدسلوکی کی وجہ سے ناراض ہوکر اس نے ملی ٹینسی کا راستہ اختیار کیا تھا۔برہان وانی کافی مشہور ہوا۔ اس نے کبھی نقاب کا استعمال نہیں کیا اور کھلے عام اس نے فیس بک پر اپنی فوٹو ڈال دی۔ اس وجہ سے لوگوں کو وہ بہت بہادر لگا۔ اس کے دائیں بائیں آٹو میٹک ہتھیار بھی دیکھے گئے۔کہا جاتا ہے کہ اس نے آئی ایس آئی ایس کی طرح کلپس بھی بنائی۔انہی حرکتوں کی وجہ سے سرحد پار والوں نے اسے حزب المجاہدین کا کمانڈر بنا دیا تھا۔ بھائی کے مارے جانے کی وجہ سے بھی برہان میں کافی غصہ تھا۔ برہان وانی کے انکائونٹر پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ مقررہ پیمانے کے تحت برہان کو سرینڈر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ پولیس خود کہہ رہی ہے کہ تین منٹ میں ہی انکائونٹر ختم کر دیا گیا تھا۔ صرف تین منٹ کے اندر برہان وانی اور اس کے دونوں ساتھیوں کو مار ڈالا گیا۔ صاف ہے کہ مڈبھیڑ کے لئے برہان کی طرف سے کتنی تیاری تھی۔
سرکار کے پاس ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے، جس کے تحت یہ صاف ہو جائے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، کہاں سے ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے؟ برہان وانی کی موت کے بعد جیسا کہ طے تھا اور جیسا کہ گزشتہ 25سالوں سے ہوتا آرہا ہے، یہ طے تھا کہ کشمیر ایک بار پھر جل اٹھے گا۔ لوگ گزشتہ باتوں کو بھول جاتے ہیں اور کشمیر کو ایسی آفتوں کی طرف جان بوجھ کر دھکیل دیتے ہیں۔ برہان وانی حزب المجاہدین کا چہرہ بن چکا تھا۔اس کے ساتھ نوجوان تھے اور اس کے ساتھ لوگوں کی ہمدردی تھی۔ اس لئے اس کی موت کے اگلے ہی دن ہر جگہ پتھر بازی شروع ہوگئی۔پتھر بازی پر قابو پانے کے لئے ایک دو بار آنسو گیس کا استعمال ہوتا پھر اس کے بعد سیدھے گولیاں چلتیں۔ پیلیٹ گن کا استعمال تو موقع ملنے پر ہوتا ہے،نہیں تو عام طور پر سیکورٹی دستہ گولی ہی چلاتے ہیں۔ سرکار کے رویے پر ایک سوال یہ بھی ہے کہ برہان کے مارے جانے کے فوراً بعد کرفیو نہیں لگا۔ انٹر نیٹ سروسز بند نہیں کئے گئے۔ دو دن کے بعد کرفیو لگا۔ تب تک جنوبی کشمیر میں تشدد پھیل گیا تھا اور وہاں حالات بے قابو ہو گئے تھے۔ حالات پولیس کے کنٹرول سے باہر چلے گئے تھے ،کیونکہ جنوبی کشمیر کے ساتھ ساتھ پُر تشدد احتجاج کی اس لہر نے پورے کشمیر کو اپنی زد میں لے لیا تھا۔ برہان وانی کا جس طرح سے انکائونٹر کیا گیا، اس پر بہت سے لوگوں نے سوال اٹھائے۔کرفیو لگنے کے بعد کشمیر کی مین اسٹریم کی سیاست سے جڑے لیڈر یا حریت جس کا عام لوگوں پر دبدبہ ہے، انہوں نے بے قابو ہڑتال یاسول نافرمانی کا اعلان کر دیا جو آج تک چل رہی ہے۔ اس بار کی ہڑتال میں زبردست تشدد دیکھنے کو ملا۔ کشمیر میں گزشتہ 25 سال سے تشدد ہو رہا ہے۔ اس عرصے میں یہاں کئی لیڈر ایسے ہیں جو نوجوان سے بوڑھے ہو گئے، لیکن حیرانی یہ ہے کہ اتنے سالوں میں پالیسی نہیں بدلی ۔ آج بھی کشمیر کو لے کر رویہ ویسا ہی ہے جیسا 1990 کی دہائی میں تھا۔ لاکھوں لوگوں کے مرنے کے بعد بھی کوئی سرکار، کوئی سیاستداں یا کوئی اسٹیٹس مین ایسا نہیں ہے جو ایسا بندوبست کر سکے جس سے کشمیر سے تشدد کا ماحول ختم ہوجائے اور کشمیر کے لوگوں کو تھوڑا امن ملے۔اس سے کشمیر کے نوجوانوں، بچوں اور بزرگوں کو لگے کہ ان کے لئے کسی کے دل میں درد ہے۔ ان کی موتوں کو روکنے کے لئے پہل کی جارہی ہے، ان کی گھٹن کو کم کرنے کے لئے پہل کی جارہی ہے۔ لیکن ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں مل رہاہے۔ نوجوان مارے جاتے ہیں، لیڈر آتے ہیں اور ہمدردی کے دو چار الفاظ بول کر واپس چلے جاتے ہیں۔ یہی کہانی بار بار دوہرائی جارہی ہے، لیکن ایسا کب تک چلے گا۔ہر کوئی جانتا ہے کہ کشمیر ایک متنازع اور سیاسی مدعا ہے۔ کشمیریوں کو اس سے مطلب ہے کہ سرکار یہ قبول کرے کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے اور ان سے پوچھا جائے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ سرکار یہ کہہ کر کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، ان سے بات نہیں کر رہی ہے،لیکن کشمیریوں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ ایسا کہہ بھی رہے ہیں تو سرکار کو اس کو نزدیک سے دیکھنا اور سمجھنا چاہئے کہ یہ کون کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے۔ کشمیر میں کوئی سو دو سو لوگ نہیں رہتے ہیں، لاکھوں لوگ رہتے ہیں،کیا سرکار نے ان سے پوچھا ہے؟
اگر کشمیر کے ایک یا دو نمائندوں نے پاکستان کا نام لے لیا یا پاکستان کشمیریوں سے مذہبی نزدیکی کی وجہ سے پیار کا اظہار کیا ہے تو اس کا ہوّا کھڑا کرکے ہندوستان کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ کشمیریوں کو چھوڑ دیں گے تو وہ پاکستان چلے جائیں گے۔ کشمیریوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کیسا ملک ہے، انہیں معلوم ہے کہ پاکستان کتنا ڈیولپ ہے، کتنا اچھا ہے، کتنا برا ہے، امیر ہے یا غریب ہے،کشمیر میں بھی کچھ سوچنے سمجھنے والے لوگ ہیں جن کا دماغ کام کرتا ہے ۔یہ اندازہ لگانا ٹھیک نہیں ہے کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ کشمیر کی اپنی زمین ہے۔ اس کے پاس وسائل ہیں، انہیں پاکستان جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستانی سرکار کی ذمہ داری ہے کہ انہیں کچھ کرنے دے، انہیں ان کے وسائل کا استعمال کرنے دے، انہیں وہ چھوٹ دے، جس کے سہارے وہ زندہ رہنے کی کوشش کریں۔
حالیہ تشدد میںکشمیر میں پیلیٹ گن کا برا استعمال ہوا ۔ کسی کے پیٹ، کسی کے سینے تو کسی کے منہ پر چھرے لگے ہوئے ہیں۔ ایک بھی مریض ایسا نہیں ملے گا جس کی ٹانگ پر حملہ ہوا ہو۔ کئی لوگوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔ کیوں نہیں کشمیر سے افسپا کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ پتھر بازی کرنے والے پکڑے جاتے ہیں، جیل میں ٹھونس دیئے جاتے ہیں۔ کیا کوئی سی آر پی ایف والا بھی کبھی سسپینڈ ہوا؟ نہیں ،اتنے دنوں تک یہاں یہ سب ہوتا رہا، جب اپوزیشن کے لیڈر عمر عبد اللہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر بھیج دو تو دو چار ڈاکٹر آجاتے ہیں۔
جب وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو لگا کہ حالات بے قابو ہو رہے ہیں تو انہوں نے آل پارٹی میٹنگ بلائی۔ عمر عبد اللہ نے میٹنگ کا بائیکاٹ کر دیا۔ جب مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ آئے تو کانگریس نے بائیکاٹ کر دیا، لیکن پارلیمنٹ میں غلام نبی آزاد نے لمبا چوڑا بھاشن دے ڈالا۔ جب کشمیر کی سول سوسائٹی کے لوگ وزیر کے ساتھ بات کر رہے تھے تب کانگریس کے لوگوں نے اپنی بات کیوں نہیں رکھی؟وہی غلام نبی آزاد، جن کے اقتدار کے وقت یہاں 100 سے زیادہ لوگ مرے تھے، جب وہ پی ڈی پی کے ساتھ گٹھ بندھن سرکار بنائے ہوئے تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ بی جے پی کو تجربہ نہیں ہے۔ غلام بنی آزاد کو تجربہ ہے تو پھر ان کی کرسی کیوں چلی گئی تھی۔
کشمیر میں اس طرح کا سیاسی ڈرامہ خوب چلتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف نیشنل پارٹیاں کشمیریوں کے ساتھ ایسا کررہی ہیں۔یہاں کی مقامی پارٹیاں بھی اپنی باتیں کھل کر سامنے نہیں رکھ پارہی ہیں۔ راجیہ سبھا میں کانگریس سے غلام نبی آزاد اور بی جے پی سے ارون جیٹلی خوب جم کر بولے۔ کشمیر پر بہترین بھاشن بازی کے لئے انہیں دنیا بھر میں خوب واہ واہی بھی ملی ۔ ہر لیڈر کو یہ یاد ہے کہ کشمیر میں کس سال کتنا تشدد ہوا، کتنے نوجوان مرے، کتنی موتیں ہوئیں،کتنے دن کرفیو رہا،یہ سبھی اعدادو شمار سب کی انگلیوں پر ہیں، لیکن کسی نے بھی کشمیر مسئلے پر آج تک کوئی پہل نہیں کی۔ اعدادو شمار کو تو کوئی بھی یاد رکھ سکتا ہے، تاریخیں تو یہاں بھی لوگوں کو زبانی یاد ہیں۔ کشمیریوں کو بھی پتہ ہے کہ کس سیاسی پارٹی کے دور اقتدار میں یہاں کیا ہوا؟ کس وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے دور حکومت میں کشمیر میں کیسے حالات رہے؟ اگر کوئی تجربہ کار لیڈر ہے تو وہ کشمیر کے حق میں کوئی بہتر قدم اٹھائے، کشمیریوں کو جوڑنے کے لئے کوئی پہل کرے، ان باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہے کہ ان دو دہائیوں میں یہاں کتنی موتیں ہوئیں۔ یہ بھی بھول جانے کی بات ہے کہ یہاں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ کیا ہوا، اب تک جتنے لوگ بھی مرے، انہیں بھول جانا چاہئے، لیڈر کشمیریوں کے حق میں کوئی روڈ میپ لے کر آئیں، یہاں کے لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کریں، لیکن ایسا ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ کانگریس پارٹی بی جے پی کی غلطیوں کو یاد رکھتی ہے اور بی جے پی کانگریس کی غلطیوں کو۔ نیشنل کانفرنس (این سی)، پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) کے دور کے حادثوں کو یاد رکھتی ہے تو پی ڈی پی ،این سی کی غلطیاں رٹتی ہے۔ سبھی سیاستداں انگلیوںپر یہ گنا دیںگے کہ کس پارٹی کے دور اقتدار میں کتنی موتیں ہوئیں،لیکن پہل کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔کرسی کی محبت چھوڑ کر لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔
نیشنل کانفرنس کو کشمیر کے عوام نے تین موقع دیئے، لیکن پارٹی نے کوئی بھی بہتر کام نہیں کیا۔ آج محبوبہ کرسی سے اتر جائیں، عبد اللہ صاحب آجائیں تو کیا فرق پڑنے والا ہے؟ دونوں کرسی سے اتر جائیں، گورنر صاحب کرسی پر آجائیں تب بھی کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ چہرے بدل رہے ہیں، پارٹیاں بدل رہی ہیں، لیکن قانون وہی پرانے چل رہے ہیں۔ کشمیر کے لوگ بار بار کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک سیاسی ایشو ہے، اس سے انکار مت کیجئے، یہ بد قسمتی ہی ہے کہ آج تک کشمیر کی ترقی اور ڈیولپمنٹ کے ایشو پر سیاسی پارٹیاں متحد نہیں ہوئیں۔ یہ کبھی ریاست کے خصوصی درجے کو چیلنج دیتے ہیں تو کبھی آرٹیکل 370 ہٹانے کی بات کرتے ہیں، تو کبھی الگ فلیگ پر بھی سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔ اس سے ماحول سدھرنے والا نہیں ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر مفتی صاحب اور اٹل بہاری باجپئی نے سنجیدہ پہل کی تھی۔ لوگوں کو امید بندھی تھی کہ جلد کشمیر کا کوئی حل سامنے آئے گا۔ دراصل کشمیر کے عوام باجپئی میں قائدانہ مہارت کی صلاحیت کو کھلے دل سے قبول کرتے تھے۔ یہاں کے لوگ مانتے تھے کہ باجپئی کشمیر کو لے کر کبھی بھید بھائو کا نظریہ نہیں رکھتے تھے۔
بی جے پی کے ساتھ گٹھ بندھن کی سرکار چلا رہیں محبوبہ مفتی بھی سیکورٹی دستوں کے خصوصی اختیار واپس لینے اور پیلیٹ گن کے استعمال کو روکنے کی بات لگاتار کرر ہی ہیں۔ حال میں راجناتھ سنگھ کے دورے کے وقت بھی انہوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ تجربہ کے طور پر کچھ علاقوں سے افسپا کو ہٹایا جاسکتا ہے۔ محبوبہ نے راجناتھ سنگھ سے ملاقات کے دوران یہ مانگ کی کہ پاور ہائوسیز اور پاور پروجیکٹس کشمیر کو لوٹا دیئے جائیں۔ انہوں نے راجناتھ سنگھ سے کہا کہ آپ کشمیریوں کو یہ سگنل دے دیں کہ آپ ہمارے اپنے ہیں۔ آپ ان کے ہمدرد ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سمجھوتے کے تحت پاور پروجیکٹس کو بھی نہیں لوٹایا جارہا ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کبھی مرکزی سرکار نے فوج سے کہا کہ کسی دہشت گرد کو انکائونٹر میں مت مارو، انہیں زندہ پکڑو۔ کشمیر کے لوگوں کو یاد نہیں کہ کبھی میڈیا سے کہا گیا ہو کہ یہاں کے تشدد کو اتنا بڑھا چڑھا کر مت دکھائو جس سے یہاں کا نوجوان مشتعل ہوجائے، بہک جائے۔ دراصل ہو یہ رہا ہے کہ دہشت گردوں کو مار بھی رہے ہیں اور میڈیا کو بھی چھوٹ دے رہے ہیں، فوج کو بھی چھوٹ دے رہے ہیں۔اس کے بعد کچھ لوگوں کو کشمیریوں کے زخم پر نمک چھڑکنے کی چھوٹ بھی دی جارہی ہے۔
ابھی پتہ چلا ہے کہ کشمیری پنڈت کشمیر نہیں لوٹنا چاہتے ہیں۔ کیا ان20 سالوں میں کسی کشمیری ملازم یا کشمیر کے کسی پنڈت کو کسی نے ایک تھپڑ بھی مارا ہے۔ کشمیری پنڈت یہاں سب سے زیادہ محفوظ ہیں۔ انہیں سیکورٹی مہیا کرائی جاتی ہے۔ انہیں آنے جانے کے لئے گاڑیاں فراہم کرائی جاتی ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کو درجنوں پیکج دیئے گئے ہیں۔ ہندوستان کے ہر کونے میں کشمیری پنڈت عزت سے بسائے گئے ہیں۔ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ دھکے ہم لوگ کھاتے ہیں، ہم لوگ جو یہاں پریشانیاں جھیل رہے ہیں، وہ کسی کو نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ ہاں، یہ سچ ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی یہاں پر زمین ہے، مزے سے ان کو نوکریاں دی گئیں۔ اب یہاں کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ جولوگ اُن کے ساتھ کئی برسوں تک ایک تھالی میں کھاتے رہے، آج کہہ رہے ہیں کہ وہ کشمیر نہیں لوٹنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم انہیں دہشت گرد لگ رہے ہیں، جن کے ڈر سے وہ یہاں نہیں لوٹنا چاہتے ہیں؟ ان کے گھروں کی مقامی لوگوں نے رکھوالی کی، پیسے دے کر ان کی پراپرٹی خریدی۔ یہاں کسی کی پراپرٹی ہڑپی نہیں گئی، نہ ہی کسی نے ناجائز قبضہ کیا اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی غنڈہ گردی کی گئی۔ آج سرکار اس پراپرٹی کو ڈسٹریس ڈیلس (مجبوری یا حالت سے تنگ آکر بیچی گئی جائیداد) بتا رہی ہے۔ آج کوئی بھی کشمیری پنڈت واپس آکر اپنی زمین واپس لے سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آج یہاں کسی مائیگریٹ پراپرٹی کا لین دین نہیں ہونے دیتے ہیں۔ سرکار نے ان ڈیلس کو خارج کر دیا ہے۔ آج کشمیری پنڈت واپس لوٹ کر آرہے ہیں اور وہ مسلمانوں سے آج کے حساب سے پیسے مانگ کر زمین کے کاغذات دینے کی بات کررہے ہیں۔ تب اٹارنی دی تھی، آج کاغذ دینے کی بات کررہے ہیں تو کہہ رہے ہیں کہ آج کی ڈیٹ کے حساب سے ہمیں پیسے دو۔ لوگ یہاںآکر دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں کشمیری پنڈتوں کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ لیکن اب وہ جموں سکریٹریٹ سے چیخ چلا رہے ہیں کہ وہاں مجاہد ہیں، ہم وہاں نہیں جائیں گے۔ کیا کل تک وہ مجاہد نہیں تھے؟ کشمیر کے لوگ مانتے ہیں کہ 90 کی دہائی میں کچھ سیاسی پارٹیوں اور ملیٹینس نے ان کو نشانہ بنایا، جو غلط تھا۔لیکن اس کے بعد سے آج تک کسی نے کشمیری پنڈتوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا، جو لوگ یہاں ہیں، وہ بڑے ٓرام سے یہاں رہ رہے ہیں۔ اس وقت گورنر جگموہن نے راتوں رات کشمیری پنڈتوں کو یہاں سے کس طرح باہر نکلوایا، یہ پوری دنیا جانتی ہے۔
جب جب یہاں یاتراآئی، کبھی یاتریوں پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔2008-2010 میں جب وہاں تشدد کا دور جاری تھا،تب سرکار نے خود اندیشہ ظاہر کیا کہ شاید امر ناتھ یاتریوں پر حملہ ہو۔ ہر بار سرکار نے اندیشہ ظاہر کیا، لیکن کبھی امر ناتھ یاتریوں پر حملہ نہیں ہوا۔ سرکار نے ہمیشہ امر ناتھ یاتریوں کو سیکورٹی دی، لیکن کبھی ان پر حملہ نہیں ہوا۔ آج اتنی خراب حالت میں بھی یاترا چلی،لیکن کہیں کچھ بھی نہیں ہوا۔ مرکزی سرکار ہمیشہ حملے کی تشویش ظاہر کر کے ہائپ کریٹ کرتی ہے، لیکن ان پر کوئی حملہ نہیں ہوتا ہے۔ اس کے بدلے ان کے یہاں آنے سے ہمارے بازار میں کاروباری سرگرمیاں اور بڑھ جاتی ہیں۔ وہ مذہبی یاترا کے لئے یہاں آتے ہیں اور دو چار دن بعد یہاں سے چلے جاتے ہیں۔ یہاں سب سے زیادہ سیاح آتے ہیں، لیکن ان20 سالوں میں ایک بھی سیاح کو نہ تو وہاں لوٹا گیا اور نہ ہی ان پر حملہ ہوا۔ کیا یہاں سے ہر سیاح محفوظ واپس نہیں لوٹا ہے؟ ایک نے بھی ایسا نہیں کہا کہ ہندو ہونے کی وجہ سے اسے وہاں پریشان کیا گیا۔ لیکن دلی میں انٹرنیشنل ٹورسٹ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ دلی، ممبئی اور نہ جانے کتنی ریاستوں سے غیر ملکی سیاح کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ وہیں کشمیر میں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں، ان میں عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ وہ اکیلی آتی ہیں اور ہفتوں یہاں رہتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور بدسلوکی کا ایک بھی حادثہ سامنے نہیں آیا۔ دلی میں ہوٹل تو جانے دیں، سفارت خانے میں بھی سفیروں کے ساتھ بد تمیزی کے واقعات ہوتے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے اسرائیل کی کسی سیاح کے ساتھ عصمت دری ہوئی ہے، یہ کسی کو نہیں دکھائی دیتا ہے، لیکن کشمیر جیسے ٹورسٹ اسٹیٹ میں ایسا کوئی جرم نہیں ہے، جس سے سیاح ناراض ہوں، لیکن ٹورسٹ سیزن میں تمام ایئر لائنس کشمیر کے ریٹ دوگنی سہ گنی کردیتی ہیں۔ سرکار سے ہر سال یہ پوچھا گیاکہ اس سیزن میں ایئر لائنس ریٹ کیوں بڑھا دیتی ہیں؟ سردیوں کے موسم میں دو یا تین ہزار میں ٹکٹ ملتے ہیں،جبکہ اس سیزن میں 20 ہزار کا ٹکٹ ملتا ہے۔ مفتی محمد برابر ایئر پورٹ اتھارٹی سے اس بات کے لئے لڑتے رہے۔ وہ کہتے رہے کہ آپ ایسا کیجئے کہ پورے سال ایک ہی ریٹ میں ٹکٹ ملے، جیسا شملہ، ہماچل یا مسوری کے لئے ہوتا ہے۔ آپ یہاں کے ریٹس بڑھا کر سیاحوں کو لوٹتے ہیں۔ کشمیر کے لوگ ان سیاحوں کو لے کر فکر مند ہیں کہ ٹکٹ کے ریٹ بڑھا کر انہیں لوٹا جارہا ہے۔ پہلی برفباری کی خبر آتے ہی ٹیلی ویژن پر ہر جگہ ہماچل کی برفباری چھا جاتی ہے، لیکن کشمیر کی کوئی خبر نہیں آتی۔ گل مرگ میں اسپورٹرس ہونے پر شاید ہی کوئی چینل یہاں کی کوریج دیتا ہے۔ ہماچل میں ایک سینٹی میٹر برف ہوجائے تو چینل وہاں کی کوریج اس لئے دکھانے لگ جاتے ہیں ،تاکہ سیاح ہماچل جائیں، یہاں نہ آئیں۔ کشمیریوں کے ساتھ یہ تفریق پہلے سے ہوتی رہی ہے۔
کشمیر کے عوام سہہ فریقی بات چیت چاہتے ہیں، کیونکہ نصف کشمیر ہندوستان میں ہے تو نصف پاکستان میں۔ مرکزی سرکار کو ایک ٹیبل پر بیٹھ کر بات کرنی ہوگی اور اس میں کشمیریوں کی رائے بہت ضروری ہے۔ اگر یہاں کے بارے میں فیصلہ ہو رہا ہے، تو یہاں کے لوگوں سے پوچھا جانا ضروری ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ کشمیر کے لوگ کھل کر کہتے ہیں کہ مقامی پارٹیوں نے بھی ہمیں کچھ نہیں دیا ہے۔ ان کو جو بھی ملا دلی سے ہی ملا۔ جب محبوبہ اپوزیشن میں ہوتی ہیں، جب عمر صاحب اپوزیشن میں آتے ہیں تو خوب بولتے ہیں، لیکن یہ جیسے ہی اقتدار پر آجاتے ہیں، ویسے ہی دلی کی بولی بولنے لگتے ہیں۔ کشمیر کے عوام ہمیشہ مصیبتوں میں رہتے ہیں۔اسے اگر تھوڑی سی راحت ملتی ہے تو حریت سخت ہوجاتی ہے اور اگر حریت سے چھوٹ ملتی ہے تو پولیس والے سخت ہو جاتے ہیں یعنی یہ ایک طرح سے دوطرفی جنگ کی حالت ہے۔ یعنی اگر یہ چھوٹ دے رہا ہے تو وہ سختی کررہا ہے اور یہ چھوٹ دے رہا ہے تو وہ سختی کررہا ہے۔ یہ دونوں آپس میں بھڑے ہوئے ہیں، لیکن بیچ میں عام آدمی پس رہا ہے۔
برہان وانی کی موت کے اگلے دن 9جولائی کی صبح سے ہی گھاٹی میں ٹیلی فون سروس ٹھپ کر دی گئی۔ کیا آج لوگ ٹیلی فون کے بغیر رہ سکتے ہیں؟ بچے، رشتہ دار، مرنا جینا، تہوار، کون زندہ ہے، کس علاقے میں کون مر گیا، یہاں کے لوگوںکو کچھ پتہ نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ اپنے رشتہ داروں سے، باہر پڑھ رہے اپنے بچوں سے بات نہیں کر سکتے یا ان کے بچے اور رشتہ دار فون کر کے ان سے حال چال نہیں لے سکتے۔ ایسی حالت ہے یہاں پر۔ سرکار تشدد روکنے میں ناکام رہی ہے۔ دہشت گردوں کو، چاہے ان کی غلطی رہی ہو یا نہیں، مار دیا گیا، لیکن یہاں کے لو گ تو روز مر رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ کافی سختی میں رہ رہے ہیں، کافی مشکلوں میں جی رہے ہیں۔ گیلانی صاحب کو تو گھر میں بند کررکھا گیا، یاسین ملک نظر بند ہیں، میر واعظ نظر انداز ہیں، لیکن میڈیا یہ نہیں کہتا کہ ڈیڑھ کروڑ کشمیری بھی تو نظر بند ہیں۔ میڈیا یہ نہیں کہتا کہ ڈیڑھ کروڑ غریب، جس میں کتنے دہاڑی مزدور ہیں، ان کو بھی نظر بند کر رکھا گیا ہے۔ دہاڑی مزدور اور ان کے خاندان نے شام کو اپنے پیٹ میں دانا ڈالا یا نہیں؟ اس کی فکر کسے ہے؟ یہ لوگ کون سے دہشت گرد ہیں، کون سے ملی ٹینٹ ہیں؟ان کو تو پتہ بھی نہیں ہے کہ ہندوستان کیاہے، پاکستان کیاہے؟ یہ لوگ کتنی سزا جھیل رہے ہیں گزشتہ25 سالوں سے۔ ان دنوں کم سے کم ایک ہزار شادیاں کینسل ہوئیں۔ ہوئیں بھی تو بڑی سادگی سے۔ مطلب جو 20-25 سال کی لڑکی یا30 سال کے لڑکے کی شادی ہونی تھی، ان کے خواب، ان کے جذبات سب کچھ پر پانی پھر گیا۔ جب یہاں کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے، تب کیا وہ نئی شادی کریں گے؟ یہ جو خواب ٹوٹے ہیں، یہی لوگ ملی ٹینٹ بنتے ہیں۔ یہ جو خواب ٹوٹے ہیں، تو یہی اشتعال جمع ہوجاتا ہے جو وقت آنے پر پھوٹتا ہے ،چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔تبھی ہر کشمیری کی زبان سے غصہ والی بات نکلتی ہے۔ ہر کشمیری ملی ٹینٹ نہیں ہے، لیکن ہر کشمیری یہ سختی دیکھتے دیکھتے برداشت کرتے کرتے پک گیا ہے۔
گزشتہ ہفتہ اتوار کو یہاں کامن انٹرینس ٹیسٹ (نیٹ) تھا۔طلباء کے لئے مقامی انتظامیہ نے گاڑیاں مہیا کرا دیں۔5 بجے صبح بچے جمع ہو گئے اور سرکار نے الگ الگ سینٹرس پر لے جاکر ان کے کیریئر کا سب سے اہم ایگزام دلا دیا۔ ایگزام بہتر طریقے سے ہو بھی گیا، لیکن آج کل کون ایسا بچہ ہے جو انٹر نیٹ سے پڑھائی نہیں کرتا ہے۔ انٹر نیٹ فری ہے، دستیاب ہے، موبائل ہے۔ایک بچہ دو ہزار روپے کی کتاب نہ لاکر20 روپے کا نیٹ پیک ڈال کر پڑھائی کرسکتا ہے۔ اتنے دنوں سے نیٹ بند پڑا ہے اور دنیا کو دکھانے کے لئے بچوں کو ایگزام سینٹر پر بھیج دیا گیا۔ کیا لکھیں گے بچے وہاں پر؟ اس نے تو نیٹ کھولا ہی نہیں ہے اتنے دنوں سے، تو وہ کیا لکھے گا؟ بچوں کا ایڈمیشن کارڈ ڈائون لوڈ کرکے دے دیا گیا، آنے جانے کے لئے گاڑی دے دی، سینٹر پر پہنچا دیا ۔ انتظامیہ کی ڈیوٹی ختم ہو گئی۔ دنیا کو سرکار نے دکھا دیا کہ وہ لوگ بہت کیرنگ ہیں۔ لیکن یہ کہیں پر بات نہیں آئی کہ اس بچے نے تو 16-17 دنوں سے نیٹ ہی نہیں کھولا تو یہ لکھے گا کیا؟ ایک موبائل ایسے بچوں کے لئے لائف لائن ہے۔
ہر سیاسی پارٹی ،ہر چینل سے یہی کہا جاتا ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں کے جذبات کو سمجھئے، ان کو ایڈریس کیجئے۔ ان کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ کشمیر کے لوگ مانتے ہیں کہ یہ راتوں رات نہیں ہوگا۔ اس میں وقت لگے گا۔ اس کے لئے مرکزی سرکار کو اعتماد بحال کرنے کے لئے جتنی کوشش کرنی تھی، وہ کی جانی چاہئے ،کشمیری نوجوانوں کے ساتھ جڑ کر، پالیسی کے ساتھ جڑ کر، اقتصادی صورت حال کو بہتر کرکے سرکار کشمیریوں کے احساسات جیت سکتی تھی، لیکن ایسا نہیں ہورہا۔ 1988 میں جو لوگ ملی ٹینس تھے، وہی لوگ آج حریت کے لیڈرس ہیں، انہوں نے اپنی مایوسی کو ختم کرنے کے لئے مُف کے نام سے انتخاب لڑا تھا۔ مُف یعنی مسلم یونائٹیڈ فرنٹ ، ایم یو ایف ۔خبر تھی کہ پارٹی کے سبھی امیدوار جیت رہے ہیں، مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔ تب شام کو دور درشن پر آنے والی خبر میں سب کو ہارا ہوا بتا دیا گیا۔ 1988 میں حریت ہار گئی اور 1989 میں کشمیر میں ملی ٹینسی شروع ہو گئی۔ صرف اورصرف یہ حریت سے متاثر تھا اور سرکار سے بدلا تھا جو آج تک چل رہا ہے۔ انتخاب میں بد عنوانی کی گئی۔ اگر یہ نہیں ہوتا تو وہی لیڈر سیاست کے مین اسٹریم میں ہوتے۔ جن سے آج انتخاب لڑنے کی منتیں کی جارہی ہیں۔ جس طرح سے آج شرمیلا ایروم نے منی پور میں کہا ہے کہ افسپا نہیں ہٹ سکتا ہے، اب میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کرکے انتخاب لڑوں گی اور سیاست کے مین اسٹریم میں آکر لڑوں گی۔ یہی بات حریت کے لیڈروں نے تب کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم لوگ سیاست کے مین اسٹریم میں آکر اپنے مسائل کو دور کرنے کے لئے انتخاب لڑسکتے ہیں۔ تب ان کے ساتھ کیا کیا گیا تھا، تاریخ گواہ ہے۔ آج انہی حریت کے لیڈروں کے ہاتھ میں کشمیر کی لگام ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *