جھارکھنڈ: ’ بی جے پی پر تالا‘

Share Article

پرشانت شرن
p-10bbbbbبی جے پی کے ریاستی صدر تالا مرانڈی نے اپنی ہی سرکار کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ سی این ٹی،ایس پی ٹی ایکٹ میں ترمیم کو لے کر بی جے پی کے زیادہ تر آدیواسی ایم ایل اے متحد ہوگئے ہیں اور سرکار کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کر دیاہے۔ ایک طرح سے کہا جائے تو بی جے پی کے اقتدار اور اتحاد میں سب کچھ نارمل نہیں ہے، اقتدار سے اتحاد تک اختلاف کے سُر تیز ہو گئے ہیں۔ادھر ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور جھامومو لیڈر ہیمنٹ سورین نے یہ کہہ کر کہ بی جے پی کے 17ایم ایل اے ان کے رابطہ میں ہیں، بی جے پی کے سینئر لیڈروں کی نیند اڑا دی ہے، جبکہ سرکار کی اتحادی پارٹی آجسو نے بھی رگھور سرکار کے خلاف مہم چھیڑ کر سرکار کو ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ آجسو سپریمو سدیش مہتو نے کہا کہ سرکار نے مقامی پالیسی اور سی این ٹی ،ایس پی ٹی ایکٹ میں ترمیم کا جو فیصلہ لیا ہے، اس سے آدیواسی ناراض ہیں۔
ویسے بی جے پی کے ریاستی صدر تالا مرانڈی کے سرکار مخالف سُر سامنے آتے ہی پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ نے مرانڈی سے استعفیٰ مانگ لیا ہے۔ویسے شاہ کے اس فیصلے سے آدیواسی ایم ایل اے اور مشتعل ہو گئے ہیں۔ بی جے پی کے 28ایم ایل اے اس ایکٹ میں ترمیم کے خلاف ہیں۔ بی جے پی میں ابھی 43ایم ایل ہیں۔
سیاسی گلیاروں میں یہ چرچا بھی زوروں پر ہے کہ اچانک تالا مرانڈی کا آدیواسی پیار کیوں چھلک پڑا، کیا تالا کی چابی کسی اور کے پاس ہے؟ویسے یہ بھی چرچا ہے کہ ریاست کے ایک سابق وزیر اعلیٰ جو آج کل حاشئے پر ہیں، کے تالا سے اچھے تعلقات قائم ہوگئے ہیں، ویسے اسی لیڈر کی کاٹ کی شکل میں ریاست کے وزیر اعلیٰ رگھور داس نے تالا مرانڈی کو آگے کرکے ریاستی صدر بنایا تھا، لیکن اچانک تالا مرانڈی نے رگھور کے خلاف ہی مورچہ کھول دیا اور رگھور سرکار کو آدیواسی مخالف ثابت کرنے میں لگ گئے۔
ادھر سرکار کی اتحادی پارٹی آجسو نے بھی اس پالیسی کو لے کر سرکار پر حملہ تیز کر دیا ہے۔ آجسو لیڈروں کا بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ سے اچھے تعلقات ہیں۔ بی جے پی سینئر لیڈروں کو اپنی طرف راغب نہیں کیا گیا تو پارٹی کے اندر کسی بھی وقت اسے ایشو بناکر آدیواسی ایم ایل اے پارٹی سے بغاوت کرکے سرکار گرا سکتے ہیں۔ پارٹی کے زیادہ تر آدیواسی ایم ایل اے سابق وزیر اعلیٰ کے رابطے میں ہیں،جن کا ریاست کے وزیر اعلیٰ رگھور داس کے ساتھ چھتیس کا آنکڑا ہے۔ ویسے رگھور نے عہدہ قبول کرتے ہی رشتے میں مٹھاس لانے کی کوشش ضرور کی،لیکن دونوں کے درمیان اتنی کھٹاس ہے کہ مٹھاس آنا تقریباً ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔
اتحاد کے اندر لیڈروں میں خاصا غصہ ہے۔ریاستی صدر تالا مرانڈی کے ذریعہ نئی ورکنگ کمیٹی کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں نے تالا مرانڈی پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے ریاستی قیادت کی خلاف مہم چھیڑ دی ہے۔ ورکنگ کمیٹی کا اعلان ہوتے ہی متعدد لیڈروں نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ پارٹی کے اندر بغاوت ہونے کی وجہ سے پارٹی کے قومی لیڈروں نے تالا مرانڈی کو دلی بلا کر استعفیٰ لے لیا، لیکن اس سے بھی معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بجائے اور الجھتا چلا گیا۔ کچھ آدیواسی ایم ایل اے نے تالا کے استعفیٰ کولے کر سینئر لیڈروں کے خلاف حملہ بول دیا۔ مانڈر حلقے کی ایم ایل اے گنگوتری کاجور کی قیادت میں ایک وفد مرکزی وزیر جوئیل اورائوں سے مل کر آدیواسی مفاد کے تحفظ کے لئے وزیر سے مداخلت کرنے کی مانگ کی، ساتھ ہی کچھ ایم ایل اے نے تالا مرانڈی کو ہی ریاستی صدر بنے رہنے کی وکالت کی۔ اب پارٹی کے نیشنل لیڈروں کے سامنے متضاد صورت حال پیدا ہو گئی ہے، ایک طرف کنواں تو دوسری طرف کھائی۔ اگر ریاستی صدر کے عہدہ سے تالا مرانڈی کو ہٹاتے ہیں تو آدیواسی ایم ایل اے متحد ہوکر سرکار کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے ور اگر رہنے دیتے ہیں تو بھی آدیواسی ایشو کو لے کر سرکار پر حملہ کریں گے،جس سے پارٹی کی شبیہ تو خراب ہوگی ہی، اپوزیشن پارٹی اسے بھنانے کی پوری کوشش کرے گی۔اب پارٹی اور سرکار کے سامنے ایک ہی راستہ اپنی سرکار کو بچائے رکھنے کا ہے، وہ سی این ٹی، ایس پی ٹی ایکٹ کو واپس لے لیں۔
ادھر بی جے پی کے ریاستی صدر کا ماننا ہے کہ اگر اس ایکٹ میں ترمیم ہوئی تو آدیواسی کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔ سی این ٹی اور سی ایس ٹی ایکٹ کو سختی سے لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ ترقی اور بنیادی ڈھانچہ کے لئے تحویل اراضی ایکٹ کو اور موثر بنانے کی ضرورت ہے، نہ کہ سی این ٹی، ایس پی ٹی ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ اس نوٹیفکیشن کو ترمیم کے ساتھ صدر مملکت کے پاس منظوری کے لئے رگھور سرکار نے بھیج دیا، اس وجہ سے ریاست کے آدیواسی ایم ایل اے میں غصہ ہے۔ریاستی صدر مرانڈی نے بھی کہا کہ اس مسئلے پر گورنر ، رگھور داس اور مرکز کے سینئر لیڈروں کو ایم ایل ایز کے احساسات سے آگاہ کرا دیا گیا ہے۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ اس ترمیم کی مخالفت نہیں کرتے تو عوام تو سبق سکھا دیتے۔
ادھر اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے اپنی ترکش سے ایسا تیر چھوڑا کہ بی جے پی اعلیٰ لیڈروں کی نیند اڑ گئی ہے۔ خود رگھور داس اپنے کو مشکل میں گھرا محسوس کررہے ہیں۔ بی جے پی کے 43ایم ایل اے میں سے 28 ایم ایل اے اس نوٹیفکیشن میں ہوئی ترمیم کی مخالفت کررہے ہیں۔ ہیمنت سورین نے عوامی طور پر یہ بیان بھی دیا کہ بی جے پی کے 17 سے زیادہ ایم ایل اے ان کے رابطے میں ہیں اور وقت آنے پر اسے اجاگر کیا جائے گا۔ اس بیان کے بعد بی جے پی میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ یوم آدیواسی کے موقع پر ہیمنت سورین اور سابق وزیر اعلیٰ ارجن مونڈا کے تعلقات موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ ایسے چرچے ہیں کہ سابق وزیر اعلیٰ ارجن مونڈا رگھور داس سے شروع سے ہی ناراض چل رہے ہیںلیکن رگھور داس کی پیٹھ پر پارٹی کے نیشنل صدر امیت شاہ کی شفقت بنے رہنے کی وجہ سے رگھور اپنے عہدہ پر بنے رہنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ویسے اس بار بی جے پی کے اندر اٹھے آدیواسی ایم ایل اے کی مخالفت رگھور سرکار پر کتنا اثر ڈالتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا،لیکن اب اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اقتدار اور اتحاد میں سب کچھ نارمل نہیں ہے۔ سرکار پرگہرے کالے بادل کا خطرہ تو منڈلانے لگا ہے۔
پارٹی میں کھلے عام پیسہ لیاجاتاہے:تالا
ریاستی صدر کا تاج پہنتے ہی تالا مرانڈی کے لئے یہ تاج سچ مچ کانٹوں بھرا ثابت ہو رہاہے۔ تین ماہ کی مدت میںہی وہ تنازعات میں گھر گئے اور بالآخر انہیں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ویسے وہ حملہ کرنے سے چوک نہیں رہے ہیں اور یہ صاف طور پر کہہ رہے ہیں کہ اعلیٰ کمان انگلی اٹھائے لیکن انہیں برداشت نہیں۔ وہ اپنے عہدہ کو بڑا نہیںمانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ریاست اور حلقہ کے عوام ہمارے لئے سب سے اوپر ہیں۔وہ اپنے اوپر لگے سارے الزمات کو سرے سے خارج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارٹی کے دستور کے تحت ہی انہون نے کام کیا ہے۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ایسی چرچا ہے کہ آپ نے پیسہ لے کر پارٹی میں عہدہ تقسیم کیاہے تو انہوں نے کہا کہ اگر پیسہ لینے کا ہی کام کرتا تو میں بھیک نہیں مانگتا۔ جھارکھنڈ کے لوگ جانتے ہیں کہ کون پیسہ لے رہا ہے۔ کون کتنے میں بک رہاہے،یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ ہم لوگ خاموش رہتے ہیں مگر سیدھے سادے لوگوں پر ہی غاز گرتی ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ آپ نے خود استعفیٰ دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ میرے دل میں یہ آیا کہ جس پارٹی نے مجھے اتنی عزت دی ،اب میری وجہ سے پارٹی میں انتشار ہورہا ہے تو میں اس عہدے پر کیوں برقرار رہوں، میں نے اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دیا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *