عراق و شام کے بعد لیبیا بن رہا ہے داعش کے لئے قبرستان

p-8bعراق اور شام کے علاوہ داعش نے جس ملک کو اپنا نشانہ بنایا وہ لیبیا ہے۔ان دونوں ملکوں یعنی عراق اور شام میں اب داعش سمٹنے لگا ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ جس طرح سے داعش عراق و شام میں سمٹ رہاہے اسی طرح لیبیا میں بھی اس کی طاقت کمزور ہوجائے۔ فی الوقت لیبیا میں اس کے تقریبا 6ہزار جنگجو ہیں جو مختلف وقتوں میں مختلف جگہوں پر دہشت گردانہ کارروائی کرتے رہتے ہیں اور ان سے اطراف کے علاقوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ پاؤلو جینٹیلونی نے سینیٹ (پارلیمان) کو یہ اطلاع دی تھی کہ لیبیا میں سخت گیر گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش ) فی الوقت لیبیا میں سرت کے علاقے تک ہی محدود ہیں لیکن وہاں سے وہ ہمسایہ ریاستوں میں دراندازی کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔بہر کیف اس صلاحیت کو ختم کرنے کے لئے امریکی طیاروں نے لیبیا میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے مرکزی رہنما کو نشانہ بنارہا ہے ۔مریکا کے لڑاکا طیاروں نے لیبیا میں پہلی مرتبہ داعش کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔امریکا نے لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کی درخواست پر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف اس نئی فضائی مہم کا آغاز کیا ہے۔ان فضائی حملوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت میں لیبیا کی قومی حکومت کے تحت فورسز داعش کے خلاف جنگ لڑرہی ہیں۔ان فورسز میں زیادہ تر کا تعلق مصراتہ سے ہے۔داعش اس شہر کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ادھر واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان پیٹر کْک نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما نے ان فضائی حملوں کی منظوری دی تھی۔ترجمان نے کہا کہ سرت میں داعش کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے جائیں گے اور یہ ہماری مقامی اہل فورسز کے ساتھ مل کر داعش کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے تحت کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سال کے اوائل میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ لیبیا میں داعش کے قریباً 6 ہزار مزاحمت کار موجود ہیں۔ان میں سے ایک معقول تعداد شام سے لیبیا لوٹی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد لیبیا میں داعش کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔یہ جنگجو گروپ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت اور مقامی ملیشیاؤں کے دباؤ میں ہے اور اس کی تعداد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے کہا ہے کہ لیبیا میں داعش کو ممکنہ شکست کا سامنا ہے ۔وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہوچکے ہیں اور انھیں بنغازی کے آس پاس کے علاقوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔یادرہے کہ امریکا کے ایک لڑاکا بمبار نے فروری میں تیونس کی سرحد کے نزدیک لیبیا کے دیہی علاقے میں داعش کے ایک تربیتی کیمپ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں چالیس سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ پینٹاگون سے جاری رپورٹ میں کہا گیاہے کہ امریکہ دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں کا ہر اس جگہ پیچھا کرے گا جہاں وہ سرگرم ہوں گے۔ خبر رساں اداروں نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ داعش کا لیڈر ابو نبیل اس حملے میں مارا جاچکا ہے۔پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک نے کہا ہے کہ ’نبیل کی موت لیبیا میں داعش کے لیے نئے کارکنوں کی بھرتی، نئے اڈوں کا قیام اور امریکی سرزمین پر حملوں جیسے اہداف کا حصول مزید مشکل بنا دے گی۔امریکہ نے لیبیا میں حکومت کی درخواست پر خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ لیبیا کے شہر سرت میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بناکر اسے کافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔عراق اور شام کے باہر سرت دولت اسلامیہ کا سب سے مضبوط گڑھ تسلیم کیا جاتا ہے۔لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے وزیراعظم فیاض السراج نے نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ فضائی حملوں سے دولتِ اسلامیہ کو بھاری نقصان ہوا ہے۔البتہ انھوں نے کہا کہ ملک میں امریکہ کی زمینی فوج نہیں آئے گی بلکہ امریکہ کی حمایت یافتہ لیبیائی حکومت کی فوج ہی زمینی سطح پر داعش کے جنگجوئوں کا مقابلہ کرے گی۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ اور پہلے کیے گئے ایکشن کی مدد سے دولت اسلامیہ کو لیبیا میں ان کی محفوظ پناہ گاہوں کو بننے سے روکنے میں مدد ملے گی جہاں سے وہ امریکہ اور دیگر اتحادیوں پر حملے کر سکتے ہیں۔ابھی کچھ دنوں پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ دولت اسلامیہ لیبیا کے لیے ایک نیا خطرہ ہے اور یہ ضروری ہے کہ اس کو روکا جائے۔اس سے پہلے لیبیا نے متنبہ کیا تھا کہ اگر دولت اسلامیہ کو نہ روکا گیا تو و پورے ملک پر قابض ہو جائے گی جبکہ امریکی صدر براک اوباما نے حال ہی میں اعتراف کیا تھا کہ لیبیا میں کرنل قدافی کو معزول کرنے کے بعد کی صورت حال کی پیش بندی نہ کرنا ان کے عہد صدارت کی سب سے بدترین غلطی تھی۔
لیبیا میں داعش کے خاتمے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس جہاں بھی سر اٹھائے گی امریکا اس کے پیچھے جائے گا اور اپنے اتحادیوں کے تعاون سے اس کا خاتمہ کر دے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام میں روسی کارروائیوں سے داعش کے خلاف جاری جنگ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس موقع پر ۔ صدر اوباما نے ری پبلیکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ مسلمانوں کے خلاف بیانات اور عوام کے جذبات بھڑکانے سے ٹرمپ کو ووٹ نہیں ملیں گے۔ صرف ٹرمپ ہی نہیں بلکہ صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل دیگر ری پبلیکن ارکان کا بھی ایسا ہی حال ہے۔ امریکا کا صدر بننا مشکل اور سنجیدہ کام ہے ۔بہر کیف دنیا کی سب سے خطرناک جنگجو تنظیم داعش تیزی سے سمٹنے لگی ہے۔ ایک طرف عراق و شام میں تیزی سے سمٹ رہی ہے تو دوسری طرف لیبیا کے سرت علاقے سے بھی اس کے قدم اکھڑ رہے ہیں۔ جس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ ظلم بہت دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا اور داعش کا خوفناک چہرہ اب دنیا کے منظر ہی عنقریب غائب ہونے والا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *