اقتدار میں قائم رہنے کے فن میں ماہر ہے کنزروٹیو پارٹی

میگھناد دیسائی
p-11cسیاسی پارٹیاں عام طور پر نظریات پر مبنی ہوتی ہیں، خواہ وہ برطانیہ کی لیبر پارٹی کی طرح بائیں بازو کی ہو یا دائیں بازو کی۔سبھی سیاسی پارٹیوں کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے وژن کو نافذ کر سکیں۔ کنزروٹیو پارٹی دینا کی سب سے پارنی سیاسی پارٹیوں میں سے ایک ہے۔ اس کے ڈانڈے 1688پرامن انقلاب سے مل جاتے ہیں۔ حالانکہ تبدیلی مخالف پارٹی ہونے کے ناطے کنزرویٹو پارٹی شکست خوردہ فریق کے ساتھ تھی، لیکن اس کے باوجود اقتدار کے جد وجہد میں ایک فریق کے طور پر اس نے اپنا دعویٰ ہمیشہ قائم رکھا ۔
کنزروٹیو پارٹی نے گزشتہ کئی صدیوں تک پرانے نظام کو قائم رکھنے کی وکالت کی اور کسی انقلابی تبدیلی کی ہمیشہ مخالفت کی۔ لیکن اسے یہ احساس ہوگیا تھا کہ نئی تبدیلیوں کو زیادہ عرصہ تک روکا نہیں جا سکتا ہے۔ کسی بھی سیا سی جماعت کو اقتدار میں قائم رہنے کے لیے خود کو حالات کے موافق بدلنا پڑتا ہے۔ خواہ وہ بدلائو انقلابی نہ ہوں، لیکن وقت کے مطابق خود کو بدلنا ضروری ہوتا ہے۔
بہرحال، کنزرویٹو پارٹی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ وہ اقتدار میں قائم رہنے کے فن میں ماہر ہیں۔ یوروپی یونین کو لے کر پارٹی اندر گزشتہ 30سالوں سے اختلاف ہیں۔ پارٹی میں یہ اندرونی اختلاف وزیر اعظم جان میجر کے زوال اور ان کے بعد ہونے والے مسلسل تین انتخابات میں شکست کی وجہ بنا۔اس مد ت میں پارٹی قیادت میں تین بار بدلائو کئے گئے۔ سال 2010 میں 13سال بعد ایک مخلوط حکومت کے ساتھ کنزرویٹو پارٹی اقتدار میں آئی۔ 2015کے انتخابات میں اسے مکمل اکثریت حاصل ہوئی ،لیکن اندرونی تنازعہ جاری رہا۔ لہٰذا ڈیوڈ کیمرون نے یہ خیال کرکے ریفرنڈم (استصواب رائے) کرائی کہ ایسا کرنے سے یورپی یونین کو لے کر برطانیہ میں کھڑا تنازعہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا،لیکن قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ ریفرنڈم کے نتیجوں نے کیمرون کے کیئر کو تباہ کر دیا ۔ کل تک جس عہدے پر ان مضبوط قبضہ تھا ، اسے انہیں چھوڑنا پڑا۔ اپنے دور اقتدار کے آخری دن وہ پارلیمنٹ گئے اور وزیراعظم کے مخصوص سوالوں کے جواب میں انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ پارلیمانی سیاست مین انہیں کتنی مہارت حاصل ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کو بہت تیزی سے بدلا جا سکتا ہے۔ 24جون کو ریفرنڈم کے نتیجے کا اعلان ہوا، اسے کے فوراً بعد کیمرون نے یہ اعلان کر دیا کہ جیسے ہی آئندہ وزیراعظم منتخب ہو جائے گا وہ اپنا عہدے سے مستعفی ہو جائیںگے۔وزیراعظم منتخب کرنے عمل شروع ہوا۔ اس عمل میں کل پانچ امیدوار وں نے حصہ لیا۔ کنزرویٹو پارلیمانی پارٹی نے دو مرحلوں کی ووٹنگ کی۔پہلے مرحلے کے بعد پانچویں اور چوتھے نمبر کے امیدوار مقابلے سے باہر ہوگئے ۔ اگلے ہفتے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد صرف دو امیدوار میدان میں باقی رہ گئے تھے۔ اب پارٹی کے عام ارکین کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعہ مقابلے میں باقی بچی دو خواتین امیدواروں میں سے کسی ایک کو اپنا قائدمنتخب کرنا تھا۔ اس عمل کے تکمیل میں کل آٹھ ہفتے کا وقت لگ جاتا۔ اس دوران ایک امیدوار نے اپنے ایک سینئر مدمقابل کو چوٹ پہنچانے والا ذاتی نوعیت کا بیان جاری کرنے کی سنگین غلطی کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان سے اپنی امیدواری سے واپس لینے کی صلاح دی گئی۔ لہٰذا اس امیدوار کے مقابلے سے باہر جانے کے بعد انتخاب کروانے کی ضرورت نہیں رہی۔ تھریسہ مے کو فاتح قرار دے دیاگیا۔
11جولائی کو( ریفرنڈم کے 18دن بعد)ایک وزیراعظم نے دوسرے وزیراعظم کی جگہ لی۔
ڈیوڈ کیمرون اپنے دفتر کی سیل واپس کرنے رانی کے محل گئے۔ ان کے فوراً بعد نئی وزیر اعظم گئیں، جنہوں نے رانی کا ہاتھ چوما۔ میڈیا اور عوام کی بھیڑ 10ڈائوننگ سٹریٹ کے سامنے جمع تھی۔ سبکدوش وزیر اعظم ، انکی اہلیہ اور بچوں نے اپنے چھ سال کے قیام گاہ کو چھوڑ دیا اور نئی وزیراعظم اپنے شوہر کے ساتھ وہاں قیام کرنے کے لیے آگئیں۔
اس درمیان لیبر پارٹی دو حصوں میں منقسم دکھائی دے رہی ہے۔ ایک جانب وہ لوگ ہیں جو تبدیلی کے خواہشمند ہیںاور دوسری جانت انتخاب جیتنا چاہتے ہیں۔ لیبر پارٹی ایک دم مفلوج نظر آرہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ دو حصوں میں منقسم ہو جائے۔
یہاں ہندوستان کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ ہندوستان کی سب سے قدیم پارٹی(کانگریس) ایک خاندان کے تسلط کی وجہ سے اقتدار میں واپس نہیں آ سکتی۔نظریاتی پارٹی کو محتاط رہنے کی ضرورت رہتی ہے اور یہ پارٹیاں نظریہ کو اقتدار کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *