انسانی لالچ کا انجام ہے سیلاب

چندن رائے
p-4پانی ۔۔۔پانی ۔۔۔ جہاں تک دیکھیے، ہر طرف ہلورے لیتا پانی کابہاؤ۔ سیلاب میں ڈوبتے ٹیلے کی طرح چمکتے گاؤں،پانی میںبہتے جانور اور دیگر جان و مال۔ سرپر گرہستی کا سامان رکھ کر کچھ بچالینے کی جدوجہد میںپانی کے تیز بہاؤ سے نبردآزما کسان۔ کم و بیش ملک کے کچھ حصوں میںہر سال سیلاب کا ایسا ہی دل دہلانے والا منظر ہوتا ہے، لیکن ان میں کچھ بدنصیب عورتیں بچوں کو گود میں لیے پانی میں سما جاتی ہیں۔ سیلاب کا پانی اترجانے پربھی مصیبت کم نہیں ہوتی، پانی سے پیدا ہونے والی وبائی بیماریاں، قحط او رنہ جانے کتنی ڈھیر ساری مصیبتیں۔
ہمارا ملک دنیا کے سب سے زیادہ سیلاب ممکنہ ممالک میں سے ایک ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق 35 ریاستوںاور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں سے 23 ریاستیںسیلاب کے نقطہ نظر سے بے حد حساس ہیں۔ اس بار آسام سے لے کر جموں تک سیلاب کی تباہی جاری ہے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش، بہار ، جھارکھنڈ، جموں اور ہماچل پردیش کے کئی علاقوں میں جم کر بارش ہورہی ہے۔ اس بار ملک کی 11 ریاستوں کے 33 کروڑ لوگوںنے سیلاب کی تباہی جھیلی ہے۔ صرف میدانی علاقے ہی نہیں، پہاڑی علاقے بھی پانی کی مار جھیل رہے ہیں۔ اتراکھنڈ میںبیستڑی جیسے کئی گاؤوں نے جل سمادھی لے لی ہے۔
مدھیہ پردیش میں23 سے زیادہ ضلعوںمیںنارمل سے زیادہ بارش ہونے سے لوگ سیلاب کی لپیٹ میںآگئے ہیں۔ سیکڑوں گاؤںزیر آب ہوگئے ہیں۔ ستناضلع میں300 گاؤوں کے قریب ڈیڑھ لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ وہیںبہار میں کوسی، مہانندا اور کملا بلان ندیوں کے پانی کی سطح بڑھنے سے ہر طرف تباہی کامنظر ہے۔ اندازہ ہے کہ سیلاب کے غضب سے یہاں 13 ضلعوں کے 31 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک 61 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ ریاست کے پورنیہ، کٹیہار، کشن گنج، ارریہ، دربھنگہ،مدھے پورہ، بھاگلپور، سوپول، سہرسہ، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، گوپال گنج سمیت مظفر پور ضلع کے69 ڈویژن سیلاب کی لپیٹ میںہیں۔سیلاب سے 13 ہزار سے زیادہ گھر وںکونقصان پہنچا۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں1.61 لاکھ ہیکٹیئر زمین میںلگی فصل برباد ہوگئی ہے۔ چھ لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں، جن میں سے قریب3.78 لاکھ لوگ راحت کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وہیںآسام میںسیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 31 تک پہنچ گئی ہے۔ ریاست کے 21 ضلعوںمیں2500 گاؤوں میں 17 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر کے مہاڑ میں برطانیہ دور کے ایک پل کے سیلاب میں ٹوٹ جانے سے کئی گاڑیاںبہہ گئیں، جن میںکئی لوگوںکے مرنے کا اندیشہ ہے۔ ناسک میںریکارڈ بارش ہونے سے شہر پانی پانی ہوگیا ہے۔
سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ایک انسان کی پیدا کی ہوئیخوفناک آفت ہے۔ سرکار کی دلیل ہے، صنعتی ترقی کے لیے توانائی ضروری ہے اور توانائی چاہیے تو پھر ندیوں کے قدرتی بہاؤ کو روکنے کے لیے بڑے بڑے باندھ بھی بنیںگے۔ ایسے میںندیاں اپنے قدرتی بہاؤ کوروکنے کا انتقام لینے کے لیے سیلاب کی تباہی کا روپ اختیار کرلیتی ہیں۔ دراصل ترقی اور تباہی ساتھ ساتھ ہی چلتی ہیں۔ ندی وادی کے علاقوںمیںجنگلوں کا تیزی سے کٹان ہورہا ہے۔ اس سے ندی کے کناروںکی مٹی کو پکڑ کر رکھنے کی صلاحیت کمزور ہوجاتی ہے اور مٹی و کیچڑ ندی کی تلچھٹ میںجمع ہونے لگتی ہے۔اس سے ندیوںکی بارش کے پانی کو سمیٹنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔تھوڑی سی بارش میںہی وہ باندھوںکو توڑتی ہوئی آس پاس کی انسانی آبادی کو اپنے آغوش میںلے لیتی ہیں۔ وہیںمیدانی علاقوںمیں آبپاشی کے لیے ندیوں سے کئی نہریںنکالی جاتی ہیں۔ ندیوںمیں پانی کم رہ جانے سے وہ گادکو سمندر تک ڈھوکر نہیںلے جاپاتی ہیں۔ ایسے میں سطحی اور سپاٹ ندیاں تھوڑی بارش میںہی خوفناک شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ ندیوںکے مہانے پر بسی رہائشی بستیاں اس مسئلے کو اور بڑھادیتی ہیں۔ اس سے ندیوں کا قدرتی بہاؤ گڑبڑ ہوجاتا ہے اور سیلاب کا پانی پشتوں کو توڑ کر شہروں میںداخل ہوجاتا ہے۔ سرکار کی کاہلی کے سبب اب شہر کے ایلیٹ لوگ بھی سیلاب جیسے حالات جھیلنے کو مجبور ہیں۔
ماحولیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بارش کے موسم میںندیوں میں پانی کے بہاؤ کو کم سے کم بنائے رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔لیکن اس کے برعکس سرکار ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کو فروغ دینے کے لیے ندیوںپر بڑے بڑے باندھ بنا کر پانی کی سطح کو اور بڑھا دیتی ہے۔ باندھوںمیں جب پانی کی سطح زیادہ ہوجاتی ہے، تو باندھ کے دروازوں پر بڑ ھ رہے پریشر کو کم کرنے کے لیے بغیر پیشگی اطلاع کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ ندیوںمیں پانی کا بہاؤ اچانک تیز ہونے سے وہ پشتوں کو توڑتی ہوئی اپنا راستہ بدل لیتی ہیں اور کنارے پر بسی انسانی آبادی پر آفت ٹوٹ پڑتی ہے۔ ماحولیات کے ماہرین او ر مقامی لوگوں کی مانگوں کو نظر انداز کرکے باندھ بناتے وقت باندھ بنانے والی کمپنیاں سیلاب سے حفاظت کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں، لیکن تباہی کے بعد ان دعووں کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ سرکار انسان کے ذریعہ پیدا کی جانے والی آفت کے لیے ان باندھ بنانے والی کمپنیوں کو کٹہرے میںکیوں نہیں کرتی؟ ان سے یہ کیوںنہیں پوچھاجاتاکہ آپ کے باندھ بناتے وقت والے حفاظتی دعووں کا کیا ہوا؟ لیکن جب سرکار خود ان باندھ بنانے والی کمپنیوں کی حفاظت میں بے قصور عوام پر لاٹھیاںبرسانے کو تیار ہو، تو عوام کے پاس راحت کیمپوں میںپناہ لینے کے علاوہ اور کیاطریقہ رہ جاتا ہے؟
کچھار یا ٹال کا علاقہ ندیوں کا گھر ہوتا ہے۔ زرخیز مٹی ہونے کے سبب اس کا استعمال کھیتی کے لیے کیا جانا چاہیے،نہ کہ کاروباری سرگرمیوں یا انسانی رہائش کے لیے۔ اگر آپ ندیوں کے گھر میںغیر قانونی طور پر گھسیںگے،تو وہ پھر اس تجاوز کو روکنے کے لیے اپنی توسیع کریںگی ہی۔ اس کے علاوہ ندیوں کے میدانی علاقوں میںپیڑ پودے لگانے چاہئیں۔ پیڑ پودوں میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہونے کی وجہ سے وہ بارش کے پانی کو روک کر رکھتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ، ساحلی علاقوں میںہریالی ہونے سے مٹی کا کٹاؤ کم ہوگا،جس سے ندیوںکی گہرائیقائم رہے گی اور بارش میں ان میں جلدی طغیانی نہیں آئے گی۔ سرکار کو بھی چاہیے کہ وہ اندھادھند بڑے باندھ بنائے جانے کی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ ندیوں کے قدرتی بہاؤ کو جہاں تک ہوسکے، رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ’ندی جوڑو‘ پروجیکٹ کے ذریعہ ایک ندی میں پانی کے بہت زیادہ بہاؤ کو دوسری معاون ندیوں کی طرف موڑا جاسکتا ہے، تاکہ پانی کا دباؤ کسی ایک جگہ پر پڑکر تباہی نہ لاسکے یا اس کے غضب کو کم کیا جاسکے۔
آئین ہند کے مطابق ندی،پانی و سیلاب کنٹرول کرنے کا کام ریاستوںکا ہے۔ اس کے باوجود مرکز نے 1990 میں ریاستوں کے تعاون سے قومی سطح پر فلڈ مینجمنٹ کا پروگرام شروع کیا۔ یہ کمیشن سیلاب فلڈ مینجمنٹ پروجیکٹس کی جانچ اور مانیٹرنگ کرتا ہے۔ لیکن سرکار کے ان پروجیکٹس اور مینجمنٹ کے باوجود سیلاب کو کنٹرول نہیں کیا جاسکا۔ رسمی طور پر سرکار ہر سال سیلاب سے نمٹنے کے لیے ٹھوس منصوبے اور پروگرام بناتی ہے، لیکن سیلاب آتے ہی یہ منصوبے پانی میںتیرنے لگتے ہیں۔ پائیدار اور طویل مدتی منصوبے بنا کر اور اَرلی وارننگ سسٹم ڈیولپ کرکے ہی سیلاب کی آفت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی میں اپنی برتری کا استعمال کرکے سیلاب آنے سے پہلے اَرلی وارننگ کا استعمال کرکے اس آفت کو کنٹرول میںکیا جاسکتا ہے۔ مشہور گاندھی وادی انوپم مشر کہتے ہیں، سیلاب مہمان نہیںہے، یہ کبھی اچانک نہیں آتا۔ دوچار دن کا فرق پڑجائے ، تو بات الگ ہے۔ اس کے آنے کی تاریخیںبالکل طے ہیں۔ لیکن جب سیلاب آتا ہے،تو ہم ایسا برتاؤ کرتے ہیں جیسے یہ اچانک آئی ہوئی مصیبت ہے۔ اس سے پہلے جو تیاریا ں کرنی چاہئیں، وہ بالکل نہیں ہوپاتی ہیں۔ اس لیے اب سیلاب کے ساتھ جینے کا فن سیکھ لیتے ہیں۔ سیلاب اپنی خوفناک شکل دکھا کر پھر اپنی جل دھارا میںلوٹ جاتا ہے۔ سرکار کچھ پروگراموں کا انعقاد کرکے ختم کردیتی ہے۔ میڈیا بھی موت کے اعدادو شمار کو گننے میںلگ جاتی ہے۔ ہر سال سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی یہی کہانی ہے۔ کچھ بھی نہیں بدلتا، بس پیچھے چھوٹ جاتی ہیںاپنوں کو تلاش کرتی ہوئیںکچھ نم آنکھیں،آہیںاور چیخیں۔
ریلیف کی فصل کی لوٹ
دراصل لیڈروں اور افسروں کے لیے سیلاب ایک سالانہ پروگرام کی مانند ہے،جو ہر سال مقررہ وقت پر آتا ہے۔ اس سیلاب ٹورزم کے دوران لیڈران اور افسران ہوائی دورے پر نکل پڑتے ہیں۔ راحت معاوضہ، بازآبادکاری کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ کسان ربیع او رخریف کے بعد ایک اور فصل ریلیف کی فصل کاٹے جانے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ کم وبیش ہر سال معصوم عوام اسی طرح سیلاب کی تباہی کا انتظار کرتی ہے۔ خیر انتظار تو لیڈروں اور افسروں کو بھی ہوتا ہے، ریلیف فنڈ کا۔ جتنا خوفناک سیلاب کا عذاب، اتنی ہی زیادہ رقم اندر۔
ہمالیہ سے چھیڑ چھاڑ آفت کو دعوت
ہمالیہ سب سے کم عمر کا پہاڑ ہے۔ اس کے بڑھنے کا عمل لگاتار جاری ہے۔ اس کے بڑے حصے میںچٹانیں نہ ہوکر، مٹی ہے۔ بارش میںجب یہاںکا پانی ڈھلان سے نیچے کی طرف بہتا ہے،تو مٹی اسے آسانی سے راستہ دے دیتی ہے۔ ا س کے علاوہ پیڑ پودوں کی کمی ہونے سے پانی تیزی سے میدانی علاقوں کی طرف بڑھتاہے۔ پہاڑی ڈھالوں پر جنگلات کے ہونے سے پتیوںکے سبب بارش کے پانی کا بہاؤ تیز نہیںہوتا ہے۔ اس سے مٹی کا بہاؤ بھی کم ہوتا ہے اورمیدانی علاقوں میں سیلاب کا خدشہ کم رہتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *