انکم ڈسکلوزر اسکیم فیل، سات لاکھ نوٹس بیرنگ واپس کالا دھن جیتا مہابلی ہارے

پربھات رنجن دین
p-1کالا دھن کو سامنے لانے کی مرکزی سرکار کی اسکیم ’انکم ڈس کلوزر اسکیم‘ ( آئی ڈی ایس ) فیل ہو گئی۔ اربوں روپے کا لین دین کرنے والے لوگوں کا پتہ فرضی پایا گیا ہے۔ 6لاکھ 90 ہزار نوٹسیں بیرنگ واپس لوٹ آئی ہیں۔ اسکیم کے ناکام ہونے سے پریشان سینٹرل ریونیو سکریٹری ہنس مُکھ آدھیا ریویو میٹنگ ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔ آئی ڈی ایس کی تشہیر کے لئے لگائی گئی ہورڈنگس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویریں ہٹانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ یہ تین اہم حقائق اس تفصیلی خبر کے ذریعہ ہیں۔
آئی ڈی ایس اسکیم کے تحت کالے دھن کا پتہ لگانے کی کوششوں میں یہ انکشاف ہوا کہ بینکوں کے ذریعہ بہت بڑی تعداد میں کالے دھن کا ٹرانزیکشن ہو رہاہے۔ سارے قائدے قانون کو طاق پر رکھ کر ملک کے مختلف بینک پین نمبر درج کئے بغیر کروڑوں، ر اربوں روپے کا لین دین دھڑلے سے کر رہے ہیں۔ مرکزی سرکار کو سمجھ میں ہی نہیں آرہاہے کہ ایسے میں کیا کیا جائے۔پین نمبر درج کے بغیر ہوئے کروڑوں اور اربوں روپے کے 7 لاکھ بڑے و گروپ لین دین (کلسٹر ٹرانزیکشن) سے متعلق لوگوں کو جو نوٹسیں بھیجی گئی تھیں، ان میں سے 6 لاکھ 90 ہزار نوٹسیں ’’ ایڈریسی ناٹ فائونڈ‘ لکھ کر واپس آگئیں۔ان 7 لاکھ بڑے ٹرانزیکشن میں جو پتے لکھائے گئے تھے، ان پتوں پر کوئی نہیں ملا۔ نہ نام کا پتہ چل پارہا ہے، نہ پتے پر کوئی پایا جارہا ہے اور نہ ان کے وائی سی(نو یور کسٹمر) کا ہی کوئی سراغ مل رہا ہے۔ 90 لاکھ بینک لین دین (ٹرانزیکشن ) پین نمبر کے بغیر ہوئے، جن میں 14 لاکھ بڑے (ہائی ویلیو) ٹرانزیکشن ہیں اور 7لاکھ بڑے ٹرانزیکشن ہائی رسک والے ہیں۔ انہی 7 لاکھ ٹرانزیکشن کے سلسلہ میں نوٹسیں جاری ہوئی تھیں جو لوٹ کر واپس آگئیں اور مرکزی سرکار کی انکم ڈس کلوزر اسکیم (آئی دی ایس) کی دھجیاں اڑا گئیں۔
کالا دھن پکڑنے کے نایاب فارمولے کی طرح پیش کی گئی انکم ڈس کلوزر اسکیم (آئی ڈی ایس) اپنی مقررہ مدت کے ڈیڑھ مہینے پہلے ہی سرکاری لیکن غیر اعلانیہ طور پر فیل مان لی گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے سسٹم کے ذریعہ غیرمعمولی مشتہر اسکیم آئی ڈی ایس قانونی اورعملی خامیوں کی وجہ سے آئی ڈی ایس کا بیچ راستے میں ہی بیڑا غرق ہو گیا۔ وزیر اعظم دفتر کی طرف سے فوراً ہدایت جاری ہونے لگی کہ آئی ڈی ایس اسکیم کی تمام ہورڈنگس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویریں ہٹا لی جائیں۔ آئی ڈی ایس کو مانیٹر کرر ہے سینٹرل ریونیو سکریٹری ہنس مکھ آدھیا نے 30جولائی کی ریویو میٹنگ ادھوری چھوڑ دی۔ پچھلے دو مہینے سے ہر سنیچر کو ہورہی ریویو میٹنگ کو اچانک بیچ میں چھوڑ کر چلے جانے سے آئی ڈی ایس اسکیم کو چلا رہا سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسیشن ( سی بی ڈی ٹی) اور اس کے تحت کام کرنے والا انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ حیران ہے۔ سینٹرل ریونیو سکریٹری کی ہدایت پر ہی 7 لاکھ بڑے ٹرانزیکشن سے متعلق لوگوں کو نوٹس بھیجی گئی تھی۔ واپس لوٹ ٓئی نوٹسوں کا اب انکم ٹیکس محکمہ کیا کرے؟ یہ سوال افسروں کو اور پریشان کر رہا ہے۔ جن بینکوں کے ذریعہ یہ ٹرانزیکشن ہوئے، ان بینکوں سے پوچھ تاچھ کرنے یا ان کے ملوث ہونے کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار سی بی ڈی ٹی یا انکم ٹیکس محکمہ کو نہیں ہے۔ یہ اختیار صرف ریزرو بینک آف انڈیا کو ہے۔ اے ڈی ایس اسکیم بنانے والے منصوبہ سازوں نے اسکیم لاگو کرنے کے عمل میں ریزرو بینک آف انڈیا کو شامل ہی نہیں کیا تھا۔ لہٰذا پین نمبر درج کئے بغیر ملک کے مختلف بینکوں کے ذریعہ ہوئے 7 لاکھ کلسٹر (گروپ میں کئے گئے ) ہائی رسک ٹرانزیکشن، 14لاکھ ہائی ویلیو ٹرانزیکشن اور 69 لاکھ مڈل ٹرانزیکشن کے لئے بینکوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوتے ہوئے بھی بینکوں کو قصوروار ٹھہرانا مشکل ہو رہا ہے۔ حکومت کو پتہ ہے کہ ملک کے مختلف بینکوں کے ذریعہ کالے دھن کا ٹرانزیکشن دھڑلے سے ہو رہا ہے،لیکن ملک کے پالیسی ساز بینکوں کے مشتبہ رول پر پردہ دالنے کا کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں آئی ڈی ایس جیسی اسکیمیں ملک کے ساتھ دھوکہ نہیں ہے تو کیا ہے؟ آئی ڈی ایس اسکیم بنانے والے وزیر اعظم دفتر اور وزارت خزانہ کے دانشوروں نے کالے دھن کا پتہ لگانے کی اسکیم میں ریزرو بینک آف انڈیا کو شامل کیوں نہیں کیا؟ یہ سوال سامنے ہے،لیکن وزیر اعظم دفتر اس سوال کا جواب نہیں دے پائے گا، کیونکہ اس اسکیم میں اتنی ڈھیر ساری خامیاں ہیں کہ پی ایم او کس سوال کا جواب دے اور کس کا نہیں۔ ان خامیوں پر چرچا ہم خبر کے ساتھ کرتے جائیں گے۔
6لاکھ 90 ہزار نوٹسیں جب منہ لٹکائے واپس آگئیں تو ریونیو سکرٹیری کا منہ لٹک گیا۔ ری ویو میٹنگ میں بھی سوال اٹھا کہ واپس آئے نوٹسوں کی بنیاد کا پتہ لگانے کے لئے سرکار کے پاس انتظام کیا ہے؟ بینکوں سے پوچھا نہیں جاسکتا۔ کسی سینٹرل ایجنسی سے مدد لی نہیں جاسکتی۔ ریاستی سرکاروں کو شامل کئے بغیر ریاست کے سسٹم اور تھانوں کو چھان بین میں لگایا نہیں جاسکتا۔ ان ساری اڑچنوں کا پہلے سے اندازہ لگائے بغیر اسکیم لانچ کر دی گئی اور یہ کسی کارگر نتیجے تک نہیں پہنچ پائی۔ واپس لوٹ کر آئی نوٹسوں کی اصلیت کا سراغ لگانے کے لئے اب انکم ٹیکس محکمہ کو ہی کہا جارہا ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ کا کہنا ہے کہ آئی ڈی ایس کے لئے مقررہ مدت کے اندر یہ پتہ لگایا جانا ناممکن ہے۔ اس کی گہری چھان بین کے لئے بری تعداد میں ٹرینڈ ہیومن ریسورسیز کی ضرورت پڑے گی، آئی ڈی ایس کی مقررہ مدت 30 ستمبر تک ہی ہے۔ ان حالات کے ایک ساتھ سامنے آتے ہی ریونیو سکریٹری نے ہتھیار ڈال دینا ہی بہتر سمجھا۔ قابل ذکر ہے کہ ریونیو سکریٹری کی قیادت میں ہی سی بی ڈی ٹی، آئی ڈی ایس کی نگرانی کررہی ہے۔ریویو میٹنگ میں ریونیو سکریٹری ہنس مکھ آدھیا، سی بی ڈی ٹی کے چیئر مین اتولیش جندل، ممبر ریونیو گوپال مکھرجی، ممبر انوسٹی گیشن سشیل چندرا اور ممبر آئی ٹی ایس کے سہائے کے ساتھ انکم ٹیکس محکمہ کے پرنسپل کمشنر اور ڈائریکٹر آف سسٹمس کے اعلیٰ آفیسر ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعہ شریک رہتے ہیں۔ اتولیش جندل کے لئے وہ ادھوری میٹنگ ہی آخری میٹنگ ثابت ہوئی،کیونکہ اگلے ہی دن وہ ریٹائر ہو گئے۔ جندل کے ریٹائر ہونے کے بعد رانی سنگھ نائر چیئر مین بنائی گئی ہیں۔ چیئر مین بننے کے پہلے رانی سنگھ نائر سی بی ڈی ٹی میں ہی لیجسلیشن اینڈ کمپیوٹرائزیشن محکمے کی چیف (ممبر، ایل اینڈ سی) کے عہدہ پر تعینات تھیں۔ آئی ڈی اسکیم بنانے میں رانی سنگھ نائر کا اہم کردار رہا ہے۔ پین نمبر کے بغیر کئے گئے 7 لاکھ ’ہائی ویلیو ٹرانزیکشن ‘‘ سے جڑے لوگوں اور گروپواں کو نوٹس جاری کئے جانے کے بارے میں سی بی ڈی ٹی سے متعلق انکم ٹیکس کمشنر میناکشی جے گوسوامی کا کہناہے کہ انکم ٹیکس محکمہ کی انٹرنل ٹکنالوجی کے ذریعہ ایسے تمام اکائونٹ کا پتہ لگا۔ انہوں نے مانا کہ گزشتہ 6 سال کے درمیان ایسے 90لاکھ ٹرانزیکشن ہوئے، جن میں 14 لاکھ ہائی ویلیو ٹرانزیکشن اور 7 لاکھ ہائی رسک ٹرانزیکشن والے لین دین پائے گئے۔ انہی 7 لاکھ ٹرانزیکشن سے متعلق لوگوں کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔
وزارت خزانہ کے ہی اعلیٰ افسران کہتے ہیں کہ کروڑوں اور اربوں روپے کے لین دین میں بینکوں کے ذریعہ پین نمبر کی لازمیت کا کوئی دھیان نہیں رکھا جانا اور کے وائی سی نومرس کا اہتمام نہیں کیا جانا بینکوں کی لاقانونیت اور ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ تکنیکی سسٹم لاگو ہے کہ ایک سال کی مدت میں بھی اگر 10 لاکھ روپے ڈیپازٹ ہوئے یا لین دین ہوا تو وہ مالی خفیہ اکائی کے سامنے خود بخود فلیگ کرنے لگے گا۔ لیکن وہ فلیگ نہیں ہوا،تو طے ہے کہ بینک کے وائی سی قانون اور پین نمبر انٹری کے قانون کو مکمل طور سے لاگو نہیں کیا جارہا ہے۔ بینکوں کے اوپر کے وائی سی کا کوئی دبائو بھی نہیں ہے۔ بینکوں پر کھاتہ کھولنے کا ٹارگٹ اور قرض بانٹنے کا ہدف پورا کرنے کا دبائو رہتا ہے۔ بینکوں کا یہ صاف کہنا ہے کہ وہ اپنا بنیادی کام کریں کہ کے وائی سی ہی بھرواتے رہیں۔ صاف ہے کہ بینک کے ذریعہ سے ہو رہا نان پین ٹرانزیکشن، منی لانڈرنگ کا اہم ذریعہ بنا ہوا ہے۔ پین نمبر درج کئے بغیر ہونے والے لین دین کے لئے سیدھے طور پر بینک قصوروار ہے،پھر بینکوں پر اس کی جوابدہی طے کی جائے گی کہ نہیں؟ اس سوال پر وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسرنے کہا کہ اس کی ذمہ داری کسی پر نہیں طے ہو رہی ہے۔ جن بینکوں نے وہ کام کیا ان بینکوں سے کون پوچھے گا؟ پوچھنے کا حق صرف آر بی آئی کا ہے، لیکن اس اسکیم کو لاگو کرانے میں آر بی آئی کو شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کو صرف وزارت خزانہ اور ریونیو ڈپارٹمنٹ مانیٹر کررہاہے۔ آر بی آئی کی شمولیت رہتی تو بینکوں سے پوچھا جاتا۔ بینکوں میں کے وائی سی نومرس کا اہتمام ہو رہا ہے کہ نہیں اسے دیکھنے کا اختیار بھی آر بی آئی ہی کے پاس ہے۔ کوئی دوسرا محکمہ اس کی جانچ نہیں کر سکتا ہے۔ آئی ڈی ایس لاگو کرنے کی ذمہ داری اکیلے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو دے دی گئی اور اسکیم کے فیل ہونے کا ٹھیکرا بھی اسی محکمہ کے سر پھوڑے جانے کی تیاری ہے۔ فنانس ڈپارٹمنٹ کے مذکورہ اعلیٰ آفیسر نے آئی ڈی ایس کے دھاگے کھول کر رکھ دیئے۔ انہوں نے کہا کہ بروز ہفتہ 30 جولائی کی ریویو میٹنگ کو ریونیو سکریٹری کے ذریعہ ادھوری چھوڑ کر چلا جانا اور ہورڈنگ سے پی ایم کی تصویرہٹانے کا حکم جاری ہونا ہی آئی ڈی ایس کے فیل ہونے کی سند ہے۔ اگر کامیابی ہو رہی ہوتی تو حکم آتا کہ وزیر اعظم کے فوٹو سے ہورڈنگیں بھر دی جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسکیم فیل ہو چکی ہے۔ دو چار ہزار کروڑ آ بھی گیا تو کیا فرق پڑ جائے گا؟ یہ سمندر میں ایک قطرے جیسا ہوگا۔ فارن ایسٹ ڈیکلیئریشن اسکیم میں ہی کتنا آگیا؟6 ہزار کروڑ آیا۔ کیا ہے یہ رقم؟ ہم لوگ آدھی اکانومی کی بات کرر ہے ہیں، کیونکہ آدھی اکانومی کالا دھن ہے۔ اس سلسلے میں 6 ہزار کروڑ کیا ہوتا ہے؟
بہر حال اندر کی بات یہی ہے کہ انکم ڈس کلوزر اسکیم وزیر اعظم دفتر میں بنی تھی۔ ٹی پی ایل ڈی سے مہر لگوانے کی صرف رسم نبھائی گئی تھی۔ سی بی ڈی ٹی میں ایک ڈویژن ہوتا ہے ٹیسک پالیسی اینڈ لیجسلیشن ڈویژن ( ٹی پی ایل ڈی) ، جو کسی بھی نئی تجویز کے قانونی پہلوئوں پر غور کرتا ہے اور وزارت قانون سے مشورہ کرنے کے بعد اسے اپنی منظوری دیتا ہے۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ ٹی پی ایل ڈویژن میں آئی ڈی ایس اسکیم کا مسودہ صرف تین دن رہا، اس پر ٹی پی ایل ڈی کی مہر لگانے کی صرف رسم پوری کی گئی اور پی ایم او بھیج دیا گیا۔ اس بھاگ دوڑ میں بڑی قانونی خامیاں رہ گئیں۔ آئی ڈی ایس میں پرانی غیر اعلانیہ جائیداد کی بھی ری شیڈولنگ کرکے اس کا ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دے دی گئی۔ اس کے لئے انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 148 کا حوالہ دیا گیا، جس میں یہ پروویژن ہے کہ جو شیڈولنگ (اسیسمنٹ) مکمل ہو گئی ہو اسے ری اوپن کیا جاسکتا ہے۔ اسیسمنٹ دو سال کے اندر پورا کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اسی انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 149 میں ری شیڈولنگ کا مقررہ وقت6 سال طے ہے ۔ آئی ڈی ایس بنانے والے لوگوں نے اس دفعہ کی طرف کوئی دھیان ہی نہیں دیا اور اسکیم لاگو کر دیا۔ آئی ڈی ایس کو زمین پر لاگو کرنے میں لگے ریونیو افسروں کو 6 سال سے زیادہ کی غیر اعلانیہ جائیداد کے ریفرنس کو کارروائی کے فریم میں لینے میں قانونی مشکلیں پیش آرہی ہیں۔ انکم ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملے یقینی طور پر عدالت میں جائیں گے اور وہاں سرکار کی ہار ہوگی۔ انکم ٹیکس اور مالی امور کے ماہرین مقررہ وقت سے آگے بڑھ چکی غیر اعلانیہ جائیدادوں پر ٹیکس وصولنے کے فیصلے کو دائرہ اختیار سے تجاوزبتاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اسکیم میں اس طرح کی کئی دیگر قانونی خامیاں بھی ہیں۔
انکم ڈس کلوزر اسکیم کو لاگو کرنے کے عمل میں یہ بھی سامنے آیا کہ فارم 60 اور 61 کی آڑ لے کر بھی اندھا دھند لین دین کئے جارہے ہیں۔ ان دو فارموں کی سہولت پین کارڈ نہیں ہونے پر متبادل بندوبست کے طور پر دستیاب کرائی گئی تھی، لیکن اس کا استعمال بڑے پیمانے پر انکم ٹیکس کی چوری میں کیا جا رہا ہے اور بینک اس چوری میں مدد گار ہیں۔ پرویژن یہ ہے کہ فارم 60اور 61 کا استعمال وہی کر سکتے ہیں جن کی آمدنی کا ذریعہ صرف زراعت ہے، لیکن انکم ٹیکس چور اس سہولت کا بے تحاشہ استعمال کررہے ہیں۔ فارم 60 اور 61 کے ساتھ راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ، آدھار کارڈ، بجلی بل یا رہائشی سرٹیفکیٹ دینے ہوتے ہیں،لیکن چھان بین کے دوران مختلف بینکوں میں بڑی تعداد میں فارم 60اور 61 کے خالی پڑے فارم پائے گئے، جن پر صرف دستخط ہیں،لیکن اس پر کوئی بیورا بھرا ہوا نہیں ہے اور ان پر خوب لین دین کئے گئے ہیں۔ بنگلہ دیش مہاجر بھی بھاری تعداد میں فارم 60اور 61 کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور انکم ٹیکس نہیں دے رہے ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں، مغربی بنگال، اڑیسہ ، بہار اور جھارکھنڈ میں ایسے ڈھیر سارے معاملے اجاگر ہوئے ہیں۔
اس بارے میں پوچھنے پر محکمہ مالیات کے اعلیٰ افسر نے کہاکہ ’ شہریت کا سوال چھوڑ دیجئے،جو یہاں رہتے ہیں انہیں ٹیکس دینا پڑے گا۔ اس کا کوئی قانون ہی نہیں بنا ہے۔ ہم ہندوستان رہنے والے لوگوں کی میپنگ چاہتے ہیں۔ آپ کہیں بھی بینک میں کھاتہ کھولیں، آپ کہیں بھی مالی لین دین کریں، آپ میپ میں رہیں۔ ہم امریکہ جاتے ہیں تو ٹیکس دیتے ہیں کہ نہیں۔ ملک کے لئے مالی انتظام کے عمل کو مضبوط کرنے کے لئے ہم کیسے کنسرن ہوں جب ٹیکس دینے میں بھی یہ رکاوٹ سامنے آ جائے کہ آپ ملک کے شہری ہیں کہ نہیں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کہاں کے شہری ہیں۔ آپ ہندوستان میں رہ رہے ہیں، یہاں کمائی کررہے ہیں، یہاں بینک میں پیسے جمع کررہے ہیں، لیکن ٹیکس نہیں دے رہے۔ آپ نے زمین خریدی، بینک ایف ڈی بنائی،کھاتہ کھولا ،نقد ٹرانزیکشن کیا، آپ نے شیئر خریدا یا سرمایاکاری میں پیسہ لگایا، آپ نے سونا خریدا ،لیکن اس کی شناخت نہیں ہو رہی۔ وہ ٹیکس بھی نہیں دے رہے‘۔ مذکورہ افسر نے کہا کہ ’ بینک اکائونٹ کھولنے جاتے ہیں اور بینک منیجر کو فارم 60اور 61 دے دیتے ہیں تو ٹیکس نہیں مانگا جائے گا۔ بینکوں میں صرف دستخط کئے ہوئے بنا بھرے ہوئے فارم 60اور 61 ڈھیروں پڑے ہیں اور اس پر ٹرانزیکشن ہوتا رہتا ہے۔ اس پر کوئی بیورا بھی نہیں رہتا کہ کتنا کھیت اور کہاں کھیت۔ فارم پر نہ ڈپازٹ کا نام ہے،نہ پتہ ہے ،نہ پیشہ ہے، نہ عمر ہے، ایسی تو اندھیر گردی ہے ۔پھر کیسے فیصلہ ہو کہ وہ کون ہے‘۔ ایسی مشکلوں سے ملک کا مالی سسٹم گزر رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی ہی اس پر تشویش اور حیرت ظاہر کرچکے ہیں کہ 120 کروڑ کی آبادی والے ملک میں 50 لاکھ کی آمدنی والے صرف ڈیڑھ لاکھ ایسے لوگ ہیں جو انکم ٹیکس دیتے ہیں۔ جبکہ 50لاکھ سے زیادہ آمدنی والے لوگوں کی آبادی کچھ شہروں میں ہی لاکھوں میں ہیں۔
انکم ٹیکس چرانے کے لئے فارم 60 اور 61 کے بے جا استعمال کے بارے میں بتاتے ہوئے وزارت خزانہ کے افسرنے کہا کہ سال 2011 میں زرعی آمدنی کے نام پر تقریباً 2 ہزار لاکھ کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ جائیداد اجاگر ہوئی تھی۔ یہ وہ رقم تھی جسے فارم 60اور 61 سے ملنے والی سہولت کی آڑ لے کر بچائی گئی تھی۔ تبھی اس کا باضابطہ طور پر خلاصہ ہوا تھا کہ کسانوں کے بھیس میں کالے دھن کا دھندہ کرنے والے لوگ سرگرم ہیں اور بینکوں کی ملی بھگت سے فارم 60اور 61 کا بے جا استعمال کر رہے ہیں۔ زرعی شعبے کے نام پر ہونے والی آمدنی کی اس بھاری رقم پر سرکار کا دھیان بھی گیا، لیکن پھر بھی ٹیکس چوری روکنے کا کوئی پختہ انتظام نہیں ہوا۔ زرعی آمدنی کے نام پر ہونے والے کالے دھن کے دھندے میں شامل بڑے لیڈروں اور نوکرشاہوں کے نام سرکار کو پتہ ہیں، لیکن ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت کسی میں نہیں ہے۔ کھیتی سے ہونے والی آمدنی پر انکم ٹیکس نہیں لگتا۔ اس سہولت کا ٹیکس چوروں نے اتنا فائدہ اٹھایا کہ 2004 میں کھیتی سے کمائی دکھانے والا محض ایک آدمی تھا، لیکن2008 میں یہ تعداد بڑھ کر اچانک 2 لاکھ سے زیادہ ہو گئی۔ یعنی سال 2008 میں 2 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے فارم 60 اور 61 دکھا کر ٹیکس چرا لیا۔ سال 2008 میں کھیتی سے کمائی گئی 17ہزار 116 کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ رقم کا خلاصہ ہوا تھا ، یہ رقم 2011 میں بڑھ کر 2000 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ۔ یہ رقم لگاتار بڑھتی ہی جارہی ہے، لیکن اسے روکنے کا کوئی بندوبست نہیں کیاجارہا۔ سرکار کہتی رہی کہ جانچ ہور ہی ہے۔ سی بی ڈی ٹی نے بھی کھیتی سے ہونے والی اس بے پناہ آمدنی کا راز پتہ لگانے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ایک کروڑ سے زیادہ کمائی والوں کی جانچ کی جائے گی۔ لیکن ہوا کیا؟ سال 2010 اور 2013 کے درمیان 1080 لوگوںکی جانچ ہوئی اور 2007 اور 2015 کے درمیان صرف 2746 لوگ ہی جانچ کے دائرے میں آئے، مطلب ڈھاک کے تین پات۔
ریونیو سکریٹری کی آٹو کریسی کے خلاف آئی آر ایسفیڈریشن
انکم ٹیکس محکمہ میں انسانی وسائل کی کمی کا حال یہ ہے کہ آئی ڈ ی اسکیم کی آخری تاریخ یعنی 30ستمبر تک کے لئے انکم ٹیکس محکمہ کے تمام عہدیداروں کی چھٹیاں رد کر دی گئی ہیں۔ انکم ٹیکس محکمہ کے عہدیدار گزشتہ یکم جون سے لگاتار کام کررہے ہیں۔ صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ سینٹرل ریونیو سکریٹری ہنس مکھ آدھیا کے جابرانہ طریقہ کار کے خلاف بھارتیہ ریونیو سروس کے افسران بہت ناراض ہیں۔ کئی ریاستوں میں انڈین ریونیو سروس فیڈریشن کی زیادہ تر اکائیاں ریونیو سکریٹری کی کھلی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ مخالفت اب منظم ہوتی ہوئی آئی اے ایس بنام آئی آر ایس میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کئی یونینوں نے مخالفت کی باقاعدہ تجویز پیش کر دی ہے۔ سینٹرل ریونیو سکریٹری کی ہدایتوں کو آئی آر ایس کے آفیسر اپنی خود مختاری پر حملہ مان رہے ہیں۔ آئی ڈی اسکیم کی ری ویو میٹنگ کو ادھوری چھوڑ دیئے جانے کے بعد سینٹرل ریونیو سکریٹری کے خلاف ماحول اور کشیدہ ہوگیا ہے۔
کالے دھن کے دھندے بازوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے پی ایم کا بیان
کالا دھن سامنے لانے کے لئے مرکزی سرکار نے یکم جون کو انکم ڈس کلوزر اسکیم لانچ کیا تھا جو کہ 30 ستمبر تک چلے گی۔ اس میں یہ چھوٹ دی گئی کہ غیر اعلانیہ آمدنی بتانے والوں کی پہچان پوشیدہ رکھی جائے گی اور مقررہ ٹیکس دینے کے بعد ان کی جائیداد قانونی ہو جائے گی۔ تکنیکی طور سے انکم ٹیکس اسکیم 2016 کو فنانس ایکٹ 2016کے نویں چیپٹر میں شامل کرکے اسے یکم جون 2016 سے لاگو کیا گیا۔ اسکیم 30 ستمبر 2016 تک لاگو رہے گی اور جرمانے کی ادائیگی 30 نومبر تک کر دینا ہوگا۔ آمدنی کا خلاصہ آن لائن یا ملک بھر میں چیف کمشنر کے سامنے داخل کیا جاسکے گا۔ بہر حال وزیر اعظم نریندر مودی نے آئی ڈی ایس کو لے کر ملک کے شہریوں کو جو باتیں کہی تھیں، اسے پھر سے پڑھیں تو پی ایم کی باتوں سے ہی اسکیم کے فیل ہونے کے آثار مل جائیں گے۔ پی ایم نے ملک کے لوگوں سے کہا کہ جو بھی پرانا غیر اعلانیہ آمدنی ہو ،اس کا اعلان کر کے نجات پالیں۔ ایسا کہنے کے پہلے پی ایم کو انکم ٹیکس کی دفعہ 149 کے بارے میں افسروں نے ٹھیک سے بریف نہیں کیا تھا۔ دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو وزیر اعظم کی وہ بات بھی پسند نہیں آئی کہ ’ غیر اعلانیہ آمدنی کے سلسلے میں سرکار کو جو لوگ جانکاری دیں گے، سرکار ان کے خلاف کوئی جانچ نہیں کرے گی۔اتنا پیسہ وہاں سے آیا اور کیسے آیا اس کے بارے میں بھی پوچھا نہیں جائے گا‘۔ اس بیان پر ان کا کہنا تھا کہ سرکار یہ رویہ لوگوں کو کالا دھن جمع کرنے اور کچھ عرصے بعد ٹیکس بھر کر کالے کو سفید کرلینے کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔خیر پی ایم کا وہ بیان دیکھیں:
’میرے پیارے ہم وطنوں، آج میں ایک بات کے لئے خصوصی اپیل کرنا چاہتا ہوں۔ ایک زمانہ تھا، جب ٹیکس اتنے زیادہ ہوا کرتے تھے کہ ٹیکس میں چوری کرنا عادت بن گیا تھا۔ ایک زمانہ تھا، غیر ملکی چیزوں کو لانے کے سلسلے میں کئی رکاوٹیں تھیں، تو اسمگلنگ بھی بڑھ جاتی تھی۔ لیکن دھیرے دھیرے وقت بدلتا گیا۔ اب ٹیکس دہندہ کو سرکار کے ٹیکس سسٹم سے جوڑنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے، لیکن پھر بھی پرانی عادتیں جاتی نہیں ہیں۔ ایک نسل کو ابھی لگتا ہے کہ بھائی، سرکار سے دور رہنا زیادہ اچھا ہے۔ میں آج آپ سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ قانون سے بھاگ کر کے ہم اپنے آرام و سکون گنوا دیتے ہیں۔ کوئی بھی چھوٹا موٹا آدمی ہمیں پریشان کر سکتا ہے۔ ہم ایسا کیوں ہونے دیں؟ کیوں نہ ہم خود اپنی آمدنی کے سلسلے میں، اپنی جائیداد کے سلسلے میں، سرکار کو اپنا صحیح صحیح بیورا دے دیں ۔ایک بار پرانا جو کچھ بھی پڑا ہو، اس سے نجات پا جائیے، اس بوجھ سے نجات پانے کے لئے میں ہم وطنوں سے گزارش کرتا ہوں کہ جن لوگوں کے پاس غیر اعلانیہ ٹیکس ہیں، ان کے لئے ہندوستان کی سرکار نے ایک موقع دیا ہے کہ آپ اپنی غیر اعلانیہ آمدنی کو اعلانیہ کیجئے۔ سرکا ر نے 30 ستمبر تک غیر اعلانیہ آمدنی کو اعلانیہ کرنے کے لئے خصوصی سہولت ملک کے سامنے پیش کیا ہے۔ جرمانہ دے کر ہم کئی طرح کے بوجھ سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ میں نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ رضاکارانہ طور پر جو اپنی ملکیت کے سلسلے میں، غیر اعلانیہ آمدنی کے سلسلے میں سرکار کو اپنی جانکاری دیں گے تو سرکار کسی بھی طرح کی جانچ نہیں کرے گی۔ اتنی دولت کہاں سے آئی، کیسے آ ئی ، اس بارے میں بھی پوچھا نہیں جائے گا اور اس لئے میں کہتا ہوں کہ اچھا موقع ہے کہ آپ ایک شفاف نظام کا حصہ بن جائیے۔ ساتھ ہی میں اپنے ہم وطنوں کو کہنا بھی چاہتا ہوں کہ 30 ستمبر تک کی یہ اسکیم ہے، اس کو ایک آخری موقع مان لیجئے۔ میں نے درمیان میں ممبران پارلیمنٹ کو بھی کہا تھا کہ 30 ستمبر کے بعد اگر کسی شہری کو تکلیف ہو، جو سرکاری قانونوں سے جڑنا نہیں چاہتا ہے، تو ان کی کوئی مدد نہیں ہو سکے گی۔ میں ہم وطنوں کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ 30 ستمبر کے بعد ایسا کچھ بھی نہ ہو، جس سے آپ کو کوئی تکلیف ہو، اس لئے بھی میں کہتا ہوں، اچھا ہوگا 30ستمبر کے پہلے آپ اس سسٹم کافائدہ اٹھائیں اور 30 ستمبر کے بعد ممکنہ تکلیفوں سے اپنے آپ کو بچا لیں۔
گزشتہ سال بھی کم ہوا تھا اعلان
مرکزی سرکار نے گزشتہ سال بھی ایسے ہی رضاکارانہ اسکیم کا اعلان کیا تھا ۔اس اسکیم میں محض 300 ایکنالوجمنٹ آئی تھیں اور3 ہزار کروڑ کی جائیداد کا اعلان ہوا تھا۔ ان میں صرف ایک آدمی نے دو سو کروڑ کی غیر قانونی جائیداد کا اعلان کیا تھا۔ اس بار بھی آئی ڈی اسکیم کے تحت ایکنالوجمنٹ کی تعداد حوصلہ افزا نہیں ہے۔ بین الاقوامی ادارہ گلوبل فنانشیل انٹی گریٹی انڈیا کی رپورٹ ہے کہ ملک سے ہر سال 45سے 50 بلین ڈالر کالا دھن غیرملک جاتاہے۔ اس حساب سے رضاکارا نہ اعلانات سے آنے والی رقم کچھ بھی نہیں ہے۔ کالے دھن کا دھندہ ملک میں گزشتہ کافی عرصے سے پھل پھول رہا ہے، لیکن اب جرات بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سال 1997 میں والنٹری ڈس کلوزر اسکیم کے تحت سرکار کے خزانے میں 7 ہزار8 سو کروڑ روپے جمع ہوئے تھے۔ آج یہ ایکنالوجمنٹ کم ہوکر نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہیں۔ جبکہ کالے دھن کا دھندہ غیر متوقع طور پر کافی بڑھ گیا ہے۔
ناکام رہی ہے غیر ملکوں میں رکھا کالا دھن نکالنے کی اسکیم
بیرون ملک میں رکھے کالے دھن کے تعلق سے ولنٹری ڈسکلوزر اسکیم بھی گزشتہ سال ناکام ہو گئی ۔ اس کے باوجود مرکزی سرکار اس اسکیم کو پھر سے لاگو کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ گزشتہ سال اس سلسلے میں صرف 638 انکشافات ہوئے جن میں بیرون ملک 3,770 کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ جائیداد کا ہی پتہ چل پایا، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ 6,500 کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ غیر ملک میں جمع جائیداد کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے بعد سرکار نے اعلان کیا تھا کہ جن لوگوں نے بیرون ملکوں میں جمع کالے دھن اور جائیدادوں کا انکشاف نہیں کیا ہے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، لیکن آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ لوک سبھا انتخاب کے درمیان نریندر مودی نے کہا تھا کہ 80 لاکھ کروڑ روپے کی رقم بیرون ملک میں جمع ہے، جسے وہ اقتدار ملنے کے 100 دن کے اندر ملک واپس لے آئیں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بیرون ملکوں میں جمع غیر اعلانیہ دھن سامنے آنے کے لئے گزشتہ سال لائی گئی اسکیم کے وقت بھی ریونیو سکریٹری ہنس مکھ آدھیا ہی تھے۔ انہوں نے بھی کہاتھا کہ سرکار اب ان لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کرے گی جنہوں نے بیرون ملک جمع کالے دھن یا جائیدادوں کا خلاصہ نہیں کیاہے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وزیر اعظم کے 6,500 کروڑ روپے کے دعوے کے برعکس ہنس مکھ آدھیا نے یہ قبول کیاتھا کہ 638 لوگوں نے اپنے بینک کھاتوں سمیت بیرون ملک سرمایا کاری یا غیر ملکی جائیدادوں کا اعلان کیا اور کل 3,770 کروڑ روپے کی رقم کاانکشاف ہوا۔
وزات مالیات کے ایک آفیسر نے کہا کہ بیرون ملک جمع کالا دھن واپس لانے کے لئے مرکزی سرکار نے گزشتہ سال جو سہ ماہی اسکیم چلائی تھی اس کا سارا زور ایک دبائو بنانے کو لے کر تھا۔ ملک کے اندر کالے دھن کی ایک متوازی معیشت چل رہی ہے۔ بیرون ملکوں میں بھی ہندوستانیوںکی بے پناہ جائیداد جمع ہے۔ یہ نقد رقم کی شکل میں بھی ہے اور ریئل اسٹیٹ کی شکل میں بھی ہے۔ مرکزی سرکار 2017 میں 90 ملکوں کے درمیان ہونے جارہے سمجھوتے کے تئیں کافی پُرامید ہے،جس میں شامل سبھی ملک کالے دھن کی اطلاعات کا تبادلہ کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ کالا دھن جمع کرنے کولے کر اہم ملکوں پر امریکہ کا بھی کافی دبائو ہے۔ عالمی سطح پر یہ تشویش پیدا ہورہی ہے کہ کالے دھن کا استعمال دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ہو رہا ہے۔
مذکورہ آفیسر نے کہا کہ غیر ملکی بینکوں میں جمع کالا دھن واپس ہندوستان لانا اس لئے بھی ممکن نہیں ہو پارہا ہے، کیونکہ کالا دھن جمع کرنے والے لوگوںمیں ملک کے بڑے برے لیڈر، بڑے بڑے نوکرشاہ ، برے بڑے صنعت کار اور برے بڑے قابل دلال شامل ہیں۔ کالا دھن جمع کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ سوئٹزر لینڈ ہے۔ وہاں کے بینکوں میں کھاتہ کھولنے کی کم سے کم رقم ہی 50کروڑ ڈالر ہوتی ہے۔اس سے ہندوستان سے کالا دھن لے جانے والوں کی اوقات کااندزہ لگایا جاسکتا ہے۔ حوالہ کے ذریعہ ملک کا پیسہ بے تحاشہ دوسرے ملکوں میں جارہاہے۔ فیما ( فارن ایکچنج منٹننس ایکٹ) آنے سے حوالہ کا دھندہ کرنے والوں پر فیرا ( فارن ایکسچنج ریگولیشن ایکٹ ) جیسے سخت قانون کا بھی خوف نہیں رہا۔ اب تو جرمانہ بھرو اور دھندہ کرو جاری ہے۔
آغاز میں سوئس بینک ایسو سی ایشن نے کہا تھا کہ خفیہ کھاتوں میں ہندوستان کے لوگوں کی 1,456 ارب ڈالر کی رقم جمع ہے، لیکن ہندوستان کی سرکار نے اسے حاصل کرنے کی کوئی کامیاب پہل نہیں کی۔ بتایا جاتاہے کہ ہندوستانی کرنسی میں 300لاکھ کروڑ روپے کا کالا دھن اکیلے سوئس بینکوں میں جمع ہے۔ اس وقت ایک تخمینہ بھی آیا کہ مذکورہ رقم ہندوستان کو واپس مل جائے تو ملک کے فی ضلع کو 50,000 کروڑ روپے مل جائیں گے۔
سرکار کا دعویٰ ہوا ہوا
مرکزی سرکار کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے درمیان 50 ہزار کروڑ روپے کی بالواسطہ ٹیکس چوری پکڑی گئی اور 21 ہزار کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ آمدنی کا بھی پتہ لگایا گیا ۔دو سال میں 3,963 کروڑ روپے کی اسمگلنگ کے سامان بھی ضبط کئے گئے۔ وزارت مالیات کی دلیل ہے کہ قابل نفاذ اقدامات بڑھانے اور عملی جامہ پہنانے سے 50 ہزار کروڑ روپے کی بالواسطہ ٹیکس چوری کا پتہ لگایا جاسکا اور 21 ہزار کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ آمدنی کا بھی سراغ حاصل ہو سکا۔ کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج ایم بی شاہ کی سربراہی میں بنی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم ( ایس آئی ٹی) کے ذریعہ بھی کافی کامیابی حاصل ہوئی اور 1,466 معاملوں میں استغاثہ کی کارروائی شروع کی جاسکی۔ اس پر مالی امور کے ماہرین نے سوال کیا کہ قابل نفاذ اقدام کو درست کرنے سے جب بالواسطہ ٹیکسوں کی اتنی بڑی چوری اور اتنی بڑی غیر اعلانیہ آمدنی کا پتہ لگایا جاسکتا ہے تو پھر انکم ڈس کلوزر جیسی خرچے والی اسکیمیں چلانے کا کیا جواز ہے؟

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *