سرکاری پالیسی پر رائے زنی آر بی آئی گورنر کا کام نہیں ہے

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ختم ہو گیا۔مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گزشتہ سبھی سیشنوں کے مقابلے پارلیمنٹ کا یہ سیشن بہتر تھا۔ نہ صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کا ہنگامہ برائے نام ہوا، بلکہ قانون سازی کے بہت سارے کام بھی ہوئے۔ بیشک جی ایس ٹی بل سب سے اہم بل تھا، لیکن دوسرے بل بھی بغیر کسی ہنگامہ کے پاس ہوئے۔ یہ جمہوریت کے لئے خوش آئند ہے۔ نفاذ کے لحاظ سے جی ایس ٹی ایک مشکل بل ہے، کیونکہ اس کی کامیابی الگ الگ ریاستوں اور الگ الگ فارمولیشن اور ٹیکس ریٹ کے اوپر منحصر ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ریاستی سرکاریں اسے مناسب طریقے سے نافذ کریںگی اور مرکزی سرکار کے ساتھ تعاون کریں گی۔
دوسرا مدعا کشمیر کا ہے۔ بد قسمتی سے مرکزی سرکار کی غلطیوں کی وجہ سے ایک بار پھر کشمیر کے ساتھ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اب پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت ہوگی تو صرف پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے ) کے مسئلے پر ہی ہوگی۔ ایسا کہنا نظریاتی طور سے بالکل ٹھیک ہے۔ کیونکہ پارلیمنٹ نے کئی بار یہ تجویز پاس کی ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور کشمیر سے پاکستان کو اپنا قبضہ ختم کرنا چاہئے، لیکن سیاسی طور سے یہ راستہ ہمیں کسی حل کی طرف نہیں لے جاتاہے۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر یشونت سنہا کہتے ہیں کہ پاکستان کے سامنے بات چیت کی تجویز نہیں رکھنی چاہئے، کیونکہ وہاں فیصلہ لینے والی کوئی ایک اتھارٹی نہیں ہے۔وہاں فوج ہے، آئی ایس آئی ہے، سویلین گورمنٹ ہے اور مذہبی لیڈر ہیں، لہٰذا وہاں سے کچھ بھی نکل کر نہیں آئے گا، اور جب بھی سرکار بات چیت کرنے کی کوشش کرتی ہے، پٹھان کوٹ جیسا کوئی نہ کوئی حادثہ رونما ہوجاتاہے۔ یہ کہناکہ ہم صرف پی او کے پر بات کریں گے کا مطلب ہے کہ ہم آپ سے بات نہیں کریں گے، کیونکہ پاکستان کسی بھی حالت میں پی او کے پر بات چیت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ اصل مدعا یہ ہے کہ کشمیر میں کیسے امن قائم کیا جائے۔ اس کا حل یہ کہنے سے نہیں ملے گا کہ پاکستان کشمیر میں بدامنی پھیلا رہاہے۔چونکہ یہاں آپ کے اپنے لڑکے، ہندوستانی شہری غصے میں ہیں۔ جب تک ان کے غصے کو ٹھنڈا نہیں کیا جائے گا،میں نہیں سمجھتا ہوں کہ کشمیر پر بامعنی طریقے سے حکومت کی جاسکتی ہے۔
رگھو رام راجن 4 ستمبر کو اپنے عہدہ سے الگ ہورہے ہیں۔ لوگ یہ جاننا چاہیں گے کہ ان کا 3 سال کا دورکار کیسارہا؟ رگھو رام راجن بھی دیگر آر بی آئی گورنر وں کی طرح ہی تھے۔آر بی آئی کے گورنر کا کام سرکار کی پالیساں بنانا نہیں ہوتا۔ اس عہدہ کو تقرری کے ذریعہ بھرا جاتا ہے نہ کہ الیکشن کے ذریعہ۔ ان کی تقرری ایک خاص کام کے لئے ہوتی ہے، جس میں مانیٹری پالیسی، انٹریسٹ ریٹ، ڈالر اور روپے کا کورڈینیشن کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ رگھو رام راجن سے پہلے 22 گورنر ہوئے ہیں اور سب نے اچھا کام کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس میں سے ایک دو نے اچھا کام نہ بھی کیا ہو۔ ہر ایک گونر کو اپنا کام معلوم ہوتاہے۔ ریزرو بینک ایک ایسا ادارہ ہے جس کے کام کرنے کا طریقہ فکس(مقرر) ہے۔ رگھو رام راجن کے ساتھ مسئلہ یہ رہاہے کہ وہ پریس کے ساتھ بہت زیادہ بات چیت کرتے تھے۔ دراصل وہ میڈیا گورنر بن گئے تھے، جو اس عہدہ کے لئے صحیح نہیں تھا۔ اگر کسی کو بیان دینا ہو تو وہ بیان وزیر اعظم دے سکتے ہیں یا وزیر خزانہ دے سکتے ہیں،یہ سیاسی لوگ ہیں۔ یہاں تک کہ فنانس سکریٹری ، سی بی ڈی ٹی کے چیئر مین کوئی عوامی بیان نہیں دیتے، کیونکہ یہ نوکرشاہ ہیں۔ گورنر کا عہدہ اس سے تھوڑا سا الگ ہے۔ گورنر سال میں ایک یا دو بار پریس سے بات کرسکتے ہیں، انٹریسٹ ریٹ کا اعلان کرنے کے لئے وہ میڈیا میں آسکتے ہیں لیکن سرکار کی ہر ایک پالیسی پر رائے دینا گورنر کے عہدہ کی روایت کے مطابق نہیں ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ نئے گورنر اس بات کو سمجھیں گے اور آر بی آئی کی برسوں پرانی روایت کو آگے بڑھائیں گے۔ گورنر کو سیاست کرنے کے لالچ سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اگر سیاست کرنی ہے تو پہلے استعفیٰ دے اور تب سیاست میں آئے۔ بہت سارے ایسے شعبے ہیں جہاںسے لوگوں نے استعفیٰ دیا اور پھر سیاست میں شامل ہوئے۔ آربی آئی کے گورنر جیسے اہم عہدہ پر بیٹھے شخص کو ایسے معاملوں میں ہوشیار رہنا چاہئے۔ اگر بولنے سے تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو خاموش رہنا ہی زیادہ صحیح ہے۔ حال ہی میں رگھو راجن نے ایک بیان دیا کہ وہ اپنی سروس بڑھانے کے لئے تیار تھے، لیکن بہت سارے لوگوں نے ان کی تنقید کی۔ اس تنقید کو انہوں نے خود ہی مدعو کیا تھا۔ اب انہیں دوبارہ مقرر کیا جاتا یا نہیں،مجھے نہیں معلوم ،کیونکہ ایسا کرنا وزیر اعظم اور وزیرخزانہ کے دائرہ ٔ اختیار میں آتا ہے، لیکن رگھو رام راجن نے اپنے بیانوں کے ذریعہ کوئی اعتماد نہیں پیدا کیا ۔میں امید کرتا ہوں کہ اس عہدہ کے لئے سرکار کی نئی پسند زیادہ اچھی اور بہتر ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *